پانچ بچیوں کو ڈبودیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں ایک مفلس باپ نے غریبی اور گھریلو جھگڑوں سے تنگ آ کر گزشتہ ہفتے اپنی پانچ بچیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ احمدآباد کے ضلع بھروچ میں سلیم نامی شخص نے اپنی پانچ بیٹیوں، سہانا، یاسمین ، شگفتہ، رخسار اور سمرن کو جن کی عمریں تین سے نو سال کے درمیان تھیں نرمدہ دریا میں پھینک دیا۔ سلیم اپنی پانچوں بیٹیوں کو ان کی ماں روشن بانو سے ایک درگاہ کی زیارت کرانے کے بہانے لے کر آیا تھا اور راستے میں انھیں ایک ایک کر کے نرمدہ دریا میں دھکیل دیا۔ سلیم اپنے دس ماہ کے لڑکے کو بھی ساتھ لانا چاہتا تھا لیکن روشن بانو نے اس کو بھیجنے سے انکار کر دیا۔ سلیم نے روش بانو سے انیس سو ترانوے میں اپنے گھروالوں کی منشا کے خلاف شادی کی تھی۔ روشن بانو کو اپنے شوہر کی پہلی بیوی رضیہ کا شادی کے چھ ماہ بعد پتا چلا۔ سلیم انیس سو ننانوے تک سورت کے علاقے میں ایک فیکٹری پر کام کرتا تھا، جب ہندو مسلم فسادات میں ان کی فیکٹری کو جلا دیا گیا۔
اس کے بعد اُس نے ایک جوئے کے کلب میں کام شروع کر دیا لیکن کلب بھی جلد ہی بند ہو گیا اور اس کے بعد اُس نے آٹو رکشا چلانا شروع کر دیا۔ دو سال پہلے گودرا میں فسادات کے بعد اس کے سسر نے اسے ورادیا گاؤں بلا لیا۔ اس نے اپنے سسر کے ساتھ سبزی کا کاروبار شروع کر دیا لیکن اس میں نقصان ہونے کے باعث اس نے پھر سے رکشا چلانا شروع کر دیا۔ میاں بیوی میں غربت کے باعث شدید تلخی رہنے لگی اور روش بانو نے پولیس کو بتایا کہ وہ کافی عرصہ سے شدید ذہنی دباؤ میں تھا۔ سلیم نے کہا کہ اس کی بیوی اس سے لڑتی رہتی تھی اور اس کا ناک میں دم کر رکھا تھا۔ پولیس کے مطابق لڑکیوں کو ہلاک کرنے کے بعد سلیم نے خودکشی کرنے کی کوشش کی اور وہ بھروچ ریلوے اسٹیش گیا جہاں وہ پٹری پر کھڑا ہوگیا لیکن ایک ریلوے اہلکار نے اس کی جان بچا لی۔ پولیس نے کہا کہ سلیم کافی عرصے سے گھریلو ناچاکی اور غربت سے پریشان تھا۔ سلیم نے سب سے پہلے بڑی لڑکیوں کو دریا میں پھینکا جس پر چھوٹی بچیوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔ سلیم بچیوں کے پیچھے بھاگا اور ان کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا۔ سلیم کو ایک بوڑھی عورت نے دیکھ لیا اور پولیس کو اطلاع کر دی۔ پولیس نے سلیم کو اس کے سالے کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||