| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انتخابات کا سال، انٹرنیٹ سے ووٹِنگ
سن دوہزار چار انتخابات کا سال ہوگا۔ اس سال پہلی بار امریکی انتخابات میں ووٹِنگ کے لئے انٹرنیٹ کا استعمال بھی کیا جائےگا۔ امریکہ، ہندوستان اور یورپی یونین سمیت دنیا کے بیشتر بڑے ممالک میں عوام ووٹ دیں گے۔ تاریخ میں عوام الناس نے اتنے بڑے پیمانے پر ایک سال کے اندر حقِ رائے دہی کا استعمال کبھی نہیں کیا ہوگا۔ دنیا کی نظر امریکہ میں ہونیوالے صدارتی انتخابات پر مرکوز ہوگی، جہاں صدر جارج ڈبلیو بش کی حکومت کے دوران چھبیس لاکھ لوگ بےروز گار ہوئے ہیں اور حزب اختلاف انتخابی مہم کے دوران ’عراق یا نوکری‘ کے نعرے لگانے کا سوچ رہی ہے۔ لگ بھگ دس کروڑ امریکی ووٹ دیں گے۔ اب تک تقریبا ہر پانچویں امریکی ووٹر یعنی ڈیڑھ سے دو کروڑ لوگوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ کس جماعت کو ووٹ دیں۔ لیکن امریکی انتخابات میں اہم بات یہ ہوگی کہ پہلی بار ووٹِنگ کے لئے انٹرنیٹ کا استعمال کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت لگ بھگ ساٹھ لاکھ امریکی جو فوج کے ساتھ بیرون ملک کام کرتے ہیں، ووٹِنگ کے لئے انٹرنیٹ کا استعمال کریں گے۔ اس منصوبے پر امریکی حکومت بائیس کروڑ ڈالر صرف کررہی ہے۔ امریکہ میں ایک تجربے کے تحت سن دوہزار میں صرف اسی لوگوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹ دیا تھا۔ ہندوستان میں جو کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، پینسٹھ کروڑ عوام ووٹ دیں گے۔ ان میں کم سے کم پانچ کروڑ وہ ووٹر ہیں جن کی عمر اٹھارہ سال سے کچھ زیادہ ہوگی اور انہوں نے ماضی میں کبھی ووٹ نہیں دیا ہے۔ وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کا سیاسی اتحاد مستحکم ہے لیکن ہندوستان کے انتخابات ماضی میں غیرمتوقع نتائج فراہم کرتے رہے ہیں۔ فروری میں ایران میں پارلیمانی انتخابات منعقد ہونگے۔ ایران کی آبادی سات کروڑ ہے جس میں ستر فیصد نوجوان ہیں۔ ووٹروں کی تعداد چارکروڑ دو لاکھ سے زائد ہے۔ حال ہی میں ایرانی حکومت پر امریکی دباؤ، طلباء کے مظاہرے، ایٹمی تنازعہ اور بام کا زلزلہ عوام کی ترجیحات پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
پہلی مئی سے یورپی یونین میں رکن ممالک کی تعداد پندرہ سے پچیس ہوجائے گی۔ اور جون میں یورپی پارلیمان کے لئے ان پچیسوں ملکوں میں چونتیس کروڑ ووٹر حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ان عام انتخابات کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے علاقے انگلینڈ میں علاقائی اسمبلیوں کے لئے ریفرنڈم بھی ہوگا۔ یہ بھی امید ہے کہ برطانوی حکومت یورپی کرنسی یعنی یورو کو اپنانے کیلئے برطانیہ میں ریفرنڈم کروائے۔ اس کے علاوہ مارچ میں اسپین میں پارلیمانی انتخابات اور روس، انڈونیشیا اور تائیوان میں صدارتی انتخابات منقعد ہونگے۔ مئی میں جرمنی، سلواکیہ، فلپائن اور ڈومِنک ریپبلِک میں بھی صدارتی انتخابات ہوں گے۔ افغانستان میں جہاں لویا جرگہ نے آئین کی منظوری دیدی ہے، جون میں عام انتخابات متوقع ہیں۔ اقوام متحدہ ساڑھے سات کروڑ ڈالر کے خرچ سے ایک کروڑ سے زائد افغان ووٹروں کے اندراج کا کام کررہا ہے۔ اسی سال عراق میں امریکی انتظامیہ ایک نئے آئین پر ریفرنڈم بھی کرانے والی ہے۔ ان دونوں ملکوں میں امریکی حملوں کے بعد حکومتیں تبدیل ہوئی ہیں۔ یہ سال جنوبی افریقہ کے لئے اپارتھیڈ یعنی نسلی امتیاز کی پالیسی کے خاتمے کے بعد جمہوری نظام کے قیام کا دسواں سال ہے۔ اس سال منعقد ہونیوالے عام انتخابات میں جنوبی افریقہ کے لگ بھگ تین کروڑ شہری حقِ رائے دہی کا استمعال کریں گے۔ اس کے علاوہ مشرق بعید کے ممالک انڈونیشیا اور فلپائن میں بھی اس سال عام انتخابات ہونیوالے ہیں۔ انڈونیشیا میں چودہ کروڑ سے زائد ووٹر پارلیمان، صدر اور نائب صدر کے انتخاب کے لئے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ جبکہ فلپائن میں لگ بھگ چار کروڑ تین لاکھ لوگ ووٹ ڈالیں گے۔ ہانگ کانگ میں جہاں انیس سو ستانوے میں برطانوی سامراج کے خاتمے کے بعد مغرب حامی اور چین حامی سیاست دان متحرک ہیں، اس سال بھی انتخابات ہوں گے۔ ہانگ کانگ چین کے کنٹرول میں ہے اور یہاں کی قانون ساز اسمبلی کی ساٹھ نشستوں میں سے صرف چوبیس کے لئے براہ راست ووٹ دیے جاتے ہیں۔ تاریخ میں سن دوہزار چار کو اس لئے یاد رکھا جائےگا کہ اتنے بڑے پیمانے پر عوام نے انتخابات کے دوران حقِ رائےدہی کا استمعال کبھی نہیں کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||