| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب میں انتخابات کا اعلان
سعودی عرب نے ملکی تاریخ میں پہلی بار بلدیاتی انتخابات منعقد کروانے کا اعلان کیا ہے جسے ملک میں حقیقی سیاسی اصلاح سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ کابینہ نے اپنے اعلان میں کہا ہے کہ نئی بلدیاتی کونسلیں ایک برس کے عرصے میں قائم کردی جائیں گی جن میں اراکین کی نصف تعداد منتخب جبکہ باقی نصف نامزد ہوگی۔ مشرق وسطٰی میں بی بی سی کے تجزیہ نگار روجر ہارڈی کے مطابق سعودی حکومت نے ایک پرانے بلدیاتی قانون کو نئے سرے سے متحرک کیا ہے تاکہ سعودی عوام کی انتظامی معاملات میں زیادہ شرکت کے وعدہ پر عملدرآمد کو یقینی بنایا سکے۔ سعودی عرب میں اب تک انتخابات صرف تجارتی اور کاروباری شعبے میں ہوتے تھے جہاں لوگ تجارتی اور کاروباری چیمبروں کے لیے ارکان منتخب کرتے تھے۔ لیکن اب حکام ایک وسیع عمل شروع کر رہے ہیں جس کا آغاز بالکل نچلی سطح سے کیا گیاہے لیکن جس میں آگے چل کر قومی سطح پر انتخابات کا انعقاد بھی ہو سکتا ہے۔ اگرچہ فی الحال یہ صرف ایک امکان ہی ہے۔ تاہم بلدیاتی انتخابات کا اعلان اور وہ بھی انسانی حقوق سے متعلق ایک کانفرنس کے موقع پر محض ایک اتفاق نہیں ہے۔ لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ تبدیلی کا متلاشی سعودی سماج کیا تازہ اقدامات کو کافی خیال کرے گا یا نہیں۔ اس سال کے آغاز سے اب تک ملک کے دانشوروں نے ولی عہد اور عملاً حکمران شہزادہ عبداللہ کو کئی عرضداشتیں پیش کی ہیں جن میں ملک میں آئینی اصلاحات اور ایک منتخب پارلیمان کے قیام کے مطالبات کیے گئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||