| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’جوہری ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں‘
امریکی صدر بش نے کہا ہے کہ انہیں اعتماد ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں کے جوہری ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ صدر بش نے یہ بیان امریکی ریاست ٹیکساس میں اس سوال کے جواب میں جاری کیا جس میں پاکستانی صدر پرویز مشرف کے خلاف قاتلانہ حملوں کے تناظر میں پاکستان کی سیکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کےخیال میں صدر مشرف پر کئے گئے قاتلانہ حملے ملک کے جوہری ہتھیاروں کے تحفظ پر اثر انداز نہیں ہوئے ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف پر گزشتہ ماہ دو قاتلانہ حملوں کی کوشش کی گئی تھی۔ صدر بش نے مزید کہا کہ اگرچہ دہشتگرد واضح طور پر صدر مشرف کو نشانہ بنانا چاہتے تھے لیکن ٹیلیفون پر بات چیت کے دوران پاکستانی صدر پُر اعتماد معلوم ہوتے تھے اور ان کا کہنا تھا ’حالات پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے مکمل کنٹرول میں ہیں اور ملک کے جوہری ہتھیار بھی محفوظ ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف اور بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی جنوبی ممالک کی علاقائی تنظیم سارک کے اجلاس سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے باہمی تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ صدر بش نے صدر مشرف کو ’دہشتگردی کے خلاف کوشاں‘ شخصیت قرار دیا اور کہا کہ ان کے تعاون سے القاعدہ تنظیم کے خلاف کارروائیوں میں بہت مدد مل رہی ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ اس اجلاس کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی دہشتگردی سے نمٹنے کے اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔ سارک سربراہ اجلاس اتوار چار جنوری سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں شروع ہورہا ہے۔ سارک کے رکن ممالک کے وزراء خارجہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں شروع ہوچکا ہے جس کے دوران وہ اجلاس کے اعلامیے کا متن تجویز کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||