| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فیصلہ: امریکی مخالفت
اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر نے اسرائیلی حکومت کو بتایا ہے کہ امریکہ فلسطینی رہنما یاسر عرفات کو جلا وطن کرنے کے اسرائیلی فیصلے سے متفق نہیں ہے۔ امریکی سفیر ڈین کرٹزنر نے اسرائیلی وزیر دفاع شول مفاذ سے ملاقات کی اور ان کو امریکی رائے سے آگاہ کیا۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اگر یاسر عرفات کو جلا وطن کیا گیا تو ان کو پوری دنیا میں فلسطینی جد و جہد کے لئے حمایت حاصل کرنے کا موقع مل جائے گا۔ اس کے علاوہ امریکہ کو خدشہ ہے کہ اگر یاسر عرفات کوجلا وطن کیا گیا تو مسلمانوں اور عرب دنیا کی طرف سے شدید غم وغصے کا رد عمل ہوسکتا ہے۔ امریکہ کا خیال ہے کہ ایسے رد عمل سے اس کی تمام خارجہ پالیسی متاثر ہو سکتی ہے خاص طور پر عراق میں۔ سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ امریکہ نے ماضی میں کبھی اتنے کُھلے انداز میں اسرائیلی پالیسی کی مخالفت نہیں کی ہے اور سفارتی طور پر یہ ایک تبدیلی معلوم ہوتی ہے۔ ادھر فلسطینی وزیر اعظم کے لئے نامزد ہونے والے رہنما احمد قریع نے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یاسر عرفات کو جلا وطن کیا گیا تو اس سے ان کے ایک فلسطینی کابینہ تشکیل کرنے کے امکانات بالکل ختم ہو جائیں گے۔ یاسر عرفات نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی علاقے چھوڑ کر نہیں جائیں گے اور ان کو نکالنے کا واحد طریقہ ان کو ہلاکت ہوگی۔ اسرائیلی فیصلے سے یاسر عرفات کی سیاسی ساکھ بہتر ہوئی ہے اور ان کی حمایت میں ہزاروں فلسطینی سڑکوں پر نکلے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق جمعہ کی نماز کے بعد یروشلم کے قبط السخریٰ میں فلسطینیوں اور اسرائیلی سکیورٹی کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |