’پاکستان بہانے نہ بنائے، تمام ٹیموں کو تحفظ دیں گے‘
بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری جنرل انوراگ ٹھاکر نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان سمیت تمام ٹیموں کو سکیورٹی مہیا کرے گا اور پاکستان کو سیاست کرنے کی بجائے اپنی ڈھیلی پرفارمنس پر دھیان کرنا چاہیے۔
بی بی سی اردو کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’دنیا بھر کے لوگوں سے میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ یہاں 26 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اور بھارت صرف ایک ٹیم کے لیے نہیں بلکہ ان سب ٹیموں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہی میں پاکستان کرکٹ ٹیم اور پاکستان کرکٹ بورڈ سے کہنا چاہتا ہوں کہ جس طرح ہر ٹیم ہمارے لیے اہم ہے اسی طرح سے آپ کی ٹیم بھی ہے۔‘
اس سے قبل پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ دھمکیوں کے سائے میں کرکٹ نہیں ہو سکتی اور اگر بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے تحفظ کی ضمانت نہ دی گئی تو ٹیم کو ورلڈ ٹی 20 مقابلوں کے لیے نہیں بھیجا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہa thakur
پاکستان وزیر داخلہ نے کہا کہ دھمکیاں کسی اور ٹیم کے حوالے سے نہیں پاکستان کے حوالے سے دی گئی ہیں لہذا سکیورٹی کی ضمانت بھی خصوصاً پاکستان کے حوالے سے دی جانی چاہیے۔
بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری نے کہا کہ ’اس معاملے پر سیاست نہیں کی جانی چاہیے۔ جس طرح سے ہم نے تیاریاں کی ہیں، وہ ہر ٹیم کے لیے کی ہیں، اور کسی کو ٹورنامنٹ میں حصہ نہ لینے کے لیے کوئی بھی بہانہ نہیں ڈھونڈنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ایشیا کپ میں اپنی ڈھیلی پرفارمنس پر دھیان دے نہ کہ سیاست پر۔‘
انھوں نے کہا کہ ساؤتھ ایشیئن گیمز ہوئی تھیں ان میں پاکستان کے پانچ سو سے زائد ایتھلیٹ آئے تھے اور سب کو سکیورٹی دی گئی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہر ریاست اپنی اپنی ٹیموں کے میچوں کے لیے سکیورٹی فراہم کرنے کی پابند ہے، اور وفاق نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ پختہ تیاریاں کی جائیں جو کہ کی گئی ہیں، اور پاکستان کو فکر نہیں کرنی چاہیے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ پاکستان کی سکیورٹی صورت حال دوسرے ملکوں سے مختلف ہے تو انھوں نے جواب میں کہا کہ ’ایسا آپ کو لگتا ہے لیکن ایسا ہے نہیں۔ اگر پاکستان کے پانچ سو کھلاڑی یہاں آ کر کھیل سکتے ہیں تو 15 کھلاڑی بھی کھیل سکتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب انوراگ ٹھاکر سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی اس بات سے یہ سمجھا جائے کہ بھارت پاکستان کو اب تحریری ضمانت نہیں دے گا تو انھوں نے جواب میں کہا کہ ’دیکھیں، ہم جیسے لوگوں کے لیے تو زبان ہی کافی ہوتی ہے۔ اور جب ایک ملک نے ورلڈکپ کے انعقاد کی حامی بھری ہے تو وہ ملک پوری طرح سے سکیورٹی کا خیال رکھنے کی تیاری کرتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی توجہ صرف اچھی تیاری کرنے پر ہونی چاہیے اور بھارت میں میں لوگ اچھے میچز دیکھنا چاہتے ہیں۔ بی سی سی آئی کے سیکریٹری سے جب یہ سوال کیا گیا کہ ہماچل پردیش کی حکومت نے پاکستان کو سکیورٹی دینے سے انکار کردیا تو اس پر انھوں نے کہا کہ ’ہماچل پردیش کی ریاست نے وہاں کا ماحول خراب ہونے کی وجہ سے وہاں میچ کھیلنے سے منع کیا اور اس کے عوض دوسری ریاست کے چیف منسٹر نے پاکستان ٹیم کو مدعو کیا اور کہا کہ وہ یہاں آکر کھیلیں۔
انھوں نے کہا کہ اس سے بڑی کیا بات ہوسکتی ہے کہ چیف منسٹر خود ٹیم کو مدعو کررہے ہوں۔ پاکستان کو اب فکر نہیں کرنی چاہیے اور اگر فکر کرنی ہے تو صرف اپنی کارکردگی کی فکر کریں۔’آپ یہاں آئیں آپ کا سواگت ہے۔‘







