’پارکور‘ کے ذریعے امن کا پیغام

جنگ زدہ افغانستان میں جسمانی پھرتی اور مہارت سے امن پھیلانے کی کوشش

دہائیوں سے جنگ اور تشدد کا نشانہ بننے ملک افغانستان میں کچھ نوجوان ایک انوکھے طریقے سے دنیا کو امن کا پیغام دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ (تصاویر آریہ احمدزئی، بی بی سی)
،تصویر کا کیپشندہائیوں سے جنگ اور تشدد کا نشانہ بننے ملک افغانستان میں کچھ نوجوان ایک انوکھے طریقے سے دنیا کو امن کا پیغام دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ (تصاویر آریہ احمدزئی، بی بی سی)
یہ نوجوان ملک کی واحد ’پارکور‘ ٹیم کے ارکان ہیں۔
،تصویر کا کیپشنیہ نوجوان ملک کی واحد ’پارکور‘ ٹیم کے ارکان ہیں۔
اس فن کی تربیت کے لیے ان کے پاس کوئی مخصوص مقام نہیں اور یہ اکثر کابل کے جنگ زدہ کونوں کا رخ کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس فن کی تربیت کے لیے ان کے پاس کوئی مخصوص مقام نہیں اور یہ اکثر کابل کے جنگ زدہ کونوں کا رخ کرتے ہیں۔
امان محل بھی انھی مقامات میں سے ہے جہاں یہ نوجوان اس پرخطر کھیل میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنامان محل بھی انھی مقامات میں سے ہے جہاں یہ نوجوان اس پرخطر کھیل میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
پارکور کا کھیل دراصل جسمانی پھرتی اور مہارت کے مظاہرے کا نام ہے جس میں کھلاڑی بغیر کسی آلات کی مدد سے انتہائی تیزی اور مستعدی سے رکاوٹیں عبور کرتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپارکور کا کھیل دراصل جسمانی پھرتی اور مہارت کے مظاہرے کا نام ہے جس میں کھلاڑی بغیر کسی آلات کی مدد سے انتہائی تیزی اور مستعدی سے رکاوٹیں عبور کرتا ہے۔
اس کھیل میں دوڑنا، بلند مقامات پر چڑھنا، جھولنا، بلندی سے چھلانگیں اور ہوائی قلابازیوں سمیت بہت سے کرتب شامل ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس کھیل میں دوڑنا، بلند مقامات پر چڑھنا، جھولنا، بلندی سے چھلانگیں اور ہوائی قلابازیوں سمیت بہت سے کرتب شامل ہیں۔
بنیادی طور پر پارکور کا پروگرام فرانس میں فوج کی تربیت کے لیے تیار کیا گیا تھا لیکن بعد میں اس نے ایک جسمانی کھیل کی شکل اختیار کر لی۔
،تصویر کا کیپشنبنیادی طور پر پارکور کا پروگرام فرانس میں فوج کی تربیت کے لیے تیار کیا گیا تھا لیکن بعد میں اس نے ایک جسمانی کھیل کی شکل اختیار کر لی۔