ورلڈ ٹریڈ سینٹر: پہلی موشن فلم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’درد تمہارا دوست ہے۔ جس کا مطلب ہے تم زندہ ہو‘۔ یہ مکالمہ یہاں امریکہ میں تازہ ریلیز ہونے والی فلم ’ورلڈ ٹریڈ سینٹر‘ کا ہے جو میں بدھ کی شام سنیما میں دیکھنے گیا۔ یہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے دہشتگردانہ حملوں کے موضوع پر پانچ برس بعدہالی ووڈ کی طرف سے بنائی جانے والی پہلی موشن فلم ہے۔ فلم کی کہانی پورٹ اتھارٹی نیویارک کے دو پولیس والوں سارجنٹ جان میکلین (اداکار نکولس کیج) اور ڈان پیزولو (جان ہرنینڈیز) کی شروع ہونے والی صبح سے شروع ہوتی ہے جو کچھ دیر بعد اپنے باقی ساتھی پولیس والوں کے ساتھ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشتگردوں کی طرف سے پہلے طیارے ٹکرانے پر امدادی ڈیوٹی پر گئے تھے لیکن دونوں ملبے تلے زندہ دب گئے۔ باقی کہانی ان ملبے تلے دبے پولیس والوں کے زندہ نکالے جانے تک ان کی اور ان کے اہل خانہ کی اذیت اور حوصلے کی ہے۔ یہ فلم نیویارک میں پیدا ہونے والے ڈائریکٹر اولیور سٹون نے بنائي ہے جو اپنی فلموں ’جے ایف کے‘ اور ’نیچرل بارن کلر‘ کی وجہ سے مشہور ہیں۔ فلم ’ورلڈ ٹریڈ سینٹر‘ کے ایک نقاد نے لکھا: ’ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ملبے تلے دو پولیس والے ہی نہیں دب گئے بلکہ گیارہ ستمبر کی تاریخ بھی دب گئی ہے‘۔ جبکہ ایک اور نقاد کا تبصرہ تھا: ’یہ ایک امریکی نواز، حب الوطنی نواز، عقیدہ نواز، فیملی نواز، جھنڈا لہراتی فلم ہے اور اس فلم کو بش اپنی فلم سمجھے گا‘۔
اس فلم میں ایک اور مکالمہ تھا: ’پتہ نہیں تمہیں معلوم ہے کہ نہیں، یہ ملک اب حالت جنگ میں ہے‘۔ جب فلم دیکھ کر واپس گھر لوٹا، ٹی وی آن کیا تو اس پر جو کچھ دکھایا جارہا تھا پہلے تو میں نے سمجھا کہ شاید گيارہ ستمبر کی برسی ایک مہینے پہلے ہی شروع ہوگئي ہے اور اس کی یاد میں ری رن چل رہے ہیں، لیکن ایسا نہیں تھا۔ یہ ایک اور گیارہ ستمبر کی لندن میں ناکام سازش کے پکڑے جانے کی خبریں تھیں۔ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو میں شکاگو میں تھا اور اس دن میری باس کی سالگرہ تھی۔ جب آفس پہنچا تو میری ساتھی ورکر حسب معمول کوئی گمنام مقامی کرسچن ریڈیو آن کیئے اپنے کام میں مشغول تھی اور ریڈیو پر ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کی خبریں آرہی تھیں۔ پہلے تو میں سمجھا کہ ریڈیو شاید انیس سو ترانوے کی بات کر رہا ہے جب رمزی یوسف نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت میں بموں کے دھماکے کیئے تھے۔ شروع میں کرسچن ریڈیو کہہ رہا تھا ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ سیاہ فام مسلمانوں ’نیشن آف اسلام‘ کی کارستانی لگتی ہے۔ جہاں میں کام کرتا تھا وہ ایک کنڈر گارٹن سے لے کر بارہویں جماعت تک معذور بچوں کا سکول اورگھر تھا جو گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد اخراجات میں کٹوتی کی مد میں بند ہوگیا۔
ہم آٹھ ستمبر کو جمع ہوئے تھے اور ہم نے مائیکل جیکسن کے گانے ’ہیل دی ورلڈ‘ پر سکول پر ایک پریزینٹیشن بھی بنائي تھی۔ ہم نے اور بچوں نے اس دن سفید فاختہ کا دن منایا تھا۔ یہ سکول شکاگو کے کسی وقت ’خطرناک‘ علاقے ویسٹ میں واقع تھا جسے میں جب ’ان دی لش اینڈ لیفی ویسٹ آف ونڈی سٹی کہتا‘ تو میری باس ، ساتھی اور بچے بہت ہنسا کرتے۔ بچوں کی ہنسی گم ہوگئی جب گیارہ ستمبر ہوئی۔ وہ اب سنجیدہ رہنے لگے۔ وہ امریکی جھنڈا بناتے۔ وہ آگ اور دھویں میں گھرے ٹوئين ٹاوروں پر ٹکراتے ہوائی جہاز کی کاپیوں پر ڈرائنگز بناتے۔ میں انکے لیئے ایک کہانی لکھنا چاہتا تھا ’درندے اور ہوائي جہاز‘۔ ان میں سے بڑ ے بچے کامن ہال میں ٹی وی پر خبریں دلچسپی سے دیکھتے جن میں پشاور اور کراچی میں داڑھی والے ہجوموں کے ہاتھوں امریکی جھنڈا جلتے دیکھتے۔ ’پاکستان، اسلام، بیڈ گائيز، بن لادن‘ جیسے نئے الفاظ بچوں کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ بنے۔ اور ان کے ٹیچروں سے سوالات میں یہ بھی کہ پاکستان پر دکھائے جانے والے مناظر اور مساجد میں عورتیں نظر کیوں نہیں آتیں! بچے انہیں ہاتھوں سے گورنر رائین کے خلاف پوسٹر بھی بنانے لگے کہ ان کا سینٹر بند کیا جارہا تھا۔ گیارہ سمتبر سے مجھے دو اور ذاتی نقصانات بھی ہوئے۔ ایک کہ میں ان بچوں سے پرے ہوگیا اور دوسرا کہ وہ شہر نیویارک جس نے مجھ پر اپنے دل کے دروازے کھول دیئے تھے، پھر وہ پہلے والا نیویارک نہیں رہا تھا۔ مجھے گیارہ ستمبر پر نیویارک شہر میں ہونے والی دہشتگردی کا اتنا ہی دکھ اور غصہ ہے جو مجھے اپنے شہر حیدرآباد سندھ پر تیس ستمبر کو ہونے والی دہشتگردی پر ہوا تھا۔ ’وہاں میرا بیٹا کام کرتا تھا لارنس۔ میں نے ٹاورز کو ایسا گرتے دیکھا جیسے پین کیک گرتا ہے‘۔ فلم میں ایک عورت کہہ رہی ہوتی ہے۔ میں جب بھی ہوائی سفر کرتا ہوں تو محمد عطا کو بہت ہی برا کہتا ہوں۔ آج سے ایک سو ایک سال قبل، انیس سو پانچ میں جب دو امریکیوں رائٹس برادران نے ہوائی جہاز ایجاد کیا ہوگا تو ان کے فرشتوں کے بھی وہم و گمان میں نہیں ہوگا کہ انسانی سہولیات کیلیئے بنائی ہوئی ان کی یہ ایجاد وسیع تباہی کے ہتھیار میں بدل دی جائے گي۔ اور بقول شخصے، نہ ہی ماڈرن اربن آرکیٹیکچر کے پڑھانے والوں نے سوچا ہوگا کہ اس کا پڑھنے والا محمد عطا اربن آرکیٹیکچر کے ایک بہت بڑے مظاہر کو تین ہزار انسانوں سمیت راکھ کے ڈھیر میں بدل دے گا۔ ہمارا بش کی تازہ اصطلاح ’مسلم فسطائیت پسندی‘ پر غم وغصہ بجا لیکن ہم نے اپنے ایمان کے جلوے تو اپنے ہندو پڑوسی کے گھر کے آگے گائے ذبح کرنے سے دکھائے تھے نہ! اس وقت کونسی برطانیہ کی فارن پالیسی ہمیں غصہ دلاتی تھی!
’بن لادن ایک ذہنی حالت کا نام ہے‘۔ اس دن نیویارک ٹائيمز میں انیس سو نناوے میں آنے والی کتاب ’اسامہ بن لان‘ کے مصنف ریو سائمن کہہ رہے تھے۔ میں نے بھی انیس سو نناوے میں یہ کتاب نیویارک کے ولیج اور چیلسی میں ٹھیلوں پر بکتے دیکھی تھی۔ اب ایسی ’ذہنی حالت‘ پر بڑے بڑے امریکی کیمیادان حیرت میں ہیں۔ پانی یا مشروب کی بوتل سے ماس مرڈرز کیئے جاسکتے ہیں! ایسے بم بنانے والےاپنی اس ایجاد کو ’شیطان کی ماں‘کہتے ہیں، ایک اخبار نے لکھا ہے۔ یہ مذہبی جنونیت کا بوتل سے نکلا ہوا جن ہے جو بہاولپور میں بیٹھ کر بحرالکاہل پر اڑتے طیارے تباہ کرنے کی سازش کرسکتا ہے۔ کل (ہفتے) کے اخبارات میں تھا برطانیہ کے راشد رؤف کا مبینہ تعلق جیش محمد اور بہاولپور سے ہے۔ | اسی بارے میں گیارہ ستمبر: پہلی وڈیو دیکھیں16 May, 2006 | آس پاس گیارہ ستمبر: پہلی وڈیو ٹیپ ریلیز16 May, 2006 | آس پاس مسلمان ’فاشِسٹوں` کے خلاف جنگ:بش10 August, 2006 | آس پاس ’طیارے سازش‘ کے ایک ملزم کی رہائی12 August, 2006 | آس پاس القاعدہ: کب، کیا اور کیسے22.12.2001 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||