’نیم شفاف،نیم منصفانہ، نیم غیرجانبدار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جب کوئی حکمران ’شفاف، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ‘ انتخابات کا نعرہ لگاتا ہے تو وہ ایسے ہی ہے جیسے کبھی بسوں اور ٹرینوں میں کوئی قلفی فروش آواز لگاتا تھا ’ کھوئے والی، بدام والی تے پستے والی‘۔ قلفی والے کی ایسی آوازوں کو دفعہ ایک سو چوالیس کھا گئی اور انتخابات کو فوجی اور نیم فوجی حکومتیں۔ انگریزوں سے ورثے میں ملے ہوئے پاکستانی ضابطۂ فوجداری میں دفعہ بقول لاہوریوں کے ’سو چوالی‘، ایک ایسا قانون ہے جس کے دائرے میں پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے ایک ساتھ چلنے سے لے کر میلوں میں ہیجڑو ں کے ناچ گانوں اور مجروں سے لیکر سیاسی احتجاج اور مظاہروں ، برف کے گولے گنڈوں اور لاؤڈ سپیکروں کے استعمال تک اس کی پابندی کے دائرے میں آتے ہیں۔ اور یہ سب ہوتا تھا پہلے ڈپٹی کمشنروں اور اب شاید ڈی سی اوز یا جنرل مشرف کے تخلیق کردہ ناظموں کے ہاتھوں میں۔ ایسے سمجھیں کہ پورے بلوچستان کو سنڈیمن سے لیکر صمد لاسی تک سب نے دفعہ ’سو چوالی‘ کے تحت چلایا۔ ’منادی حکومت پاکستان کی، سب کو خبر ہونی چاہیے‘، میرے گاؤں کا میراثی اس چھوٹے سے شہر کے چوک پر آدمی کے سر سے تھوڑی اوپر کی جگہ پر کھڑے ہو کر پہلے ڈھول پیٹتا اور پھر دفعہ سو چوالی کا حکم پڑھ کر سناتا۔ تب میں نے پہلی بار لفظ ’ بحکم‘ سنا تھا۔ پھر میری عمر میں آج تک پاکستان میں سدا بہار فوجی راج اور د فعہ ایک سو چوالیس ’بحکم‘ اور ’ تا حکم ثانی‘ نافذ ہیں۔ وہ اتنے تاریخی تسلسل سے نافذ ہیں کہ جب ان کے نافذ ہونے کے وقتاً فوقتاً اعلانات ہوتے رہتے تو خود سے سوال پوچھتا کہ وہ ختم ہی کب ہوئے تھے؟ اب تو وردی ہے کہ پاکستان میں اترتی ہی نہیں اور جمہوری بھی کہلانے لگی ہے۔ مشرف کی وردی، اسٹالن یا صدام کی وردی ہے کہ ڈیگال اور آئزن ہاور کی وردی! پاکستان میں ایم آر ڈی تحریک کے دنوں میں سندھ میں منظور سولنگی کی یہ نظم بہت ہی مشہور ہوئی تھی: ’بابے بڈھے کو وہ مارے بندہ وردی میں اینی وے یا قصہ مختصر۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ’نیم شفاف، نیم غیر جانبدارانہ اور نیم منصفانہ‘ انتخابات اگر ہوئے تھے تو وہ الیکشن کمشنر جسٹس سجاد احمد جان (وسیم سجاد کے والد) کی زیر نگرانی انیس سو ستر میں ہوئے تھے۔ میں ان انتخابات کو’ نیم شفاف، نیم غیر جانبدارانہ اور نیم منصفانہ‘ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ سابقہ مشرقی پاکستان سے ان کے نتائج کو ماننے سے جب یحیٰی خان اور ان کے فوج ٹولے نے انکار کر دیا تو تب ملک ہی ’دو نیم‘ ہوگیا۔ باقی اس کی جو خونی تاریخ ہے اس کے لیئے تو بس فیض نے یہ کہہ کر قصہ مکا دیا کہ ’خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد‘۔ وہ وردی جو بیشمار بنگالیوں، بلوچوں ، سندھیوں، پشتونوں ، پنجابیوں اور مہاجروں کے خون سے رنگی ہوئی ہے اس پر سے دھبے دھونے کے لیئے کتنے بدیسی خوشبودار صابن اور انتخابات چاہییں شفاف، منصفانہ، ،غیر جانبدارانہ اور منصفانہ! بھاڑے کے سویلین وزرائے اعظم اور وزرائے اعلٰی تو ہر فوجی آمر کی بگھی کھینچنے کے لیئے انہیں مل جاتے ہیں۔ ’انتخابات فوج کی نگرانی میں کرائے جائيں‘، اب تو جماعت اسلامی بھی اپنا یہ مرغوب مطالبہ نہیں کرتی۔ اور الطاف حسین کبھی کبھی تو اس حد تک جاتے ہیں کہ ’انتخابات اقوام متحدہ کی نگرانی میں کرائے جائيں‘۔ پھر ایک اور اصطلاح بھی ہے، انتخابات کے’مثبت‘ نتائج۔ لگتا ہے پاکستان کے سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں شاید وہ مثبت نتائج الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جسٹس حمید ڈوگر نہیں دے سکے جو انہوں نے بلدیاتی انتخابات میں دیے تھے تو انہیں ہٹا کر اب ایک نئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس فاروق کو نامزد کر دیا گیا ہے۔ ’مثبت اور مطلوبہ نتائج‘جو سندھ میں جام صادق علی اور ارباب رحیم نے دیے۔جو انیس سو نوے میں اس وقت کے نگران وزیرِاعظم غلام مصطفٰی جتوئی نے اس قدر دیے تھے کہ انہیں قومی پریس میں اعتراف کرنا پڑا کہ سنہ نوے کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں ہوئی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ نوے کے انتخابات کے نتائج ایوان صدر میں جنرل رفاقت کی سربراہی میں بنائے گئے ایک خفیہ سیل کی ’تخلیقات‘ تھیں۔آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس اور آئی جے آئی کے مقتدرہ اتحاد اور یونس حبیب کے بی سی سی آئی یعنی ’مہران بینک‘ کی بدولت۔ انیس سو ستانوے میں نواز شریف کی بھاری مسلم لیگ کی ’بھاری مینڈیٹ‘ والی سائیکل کو بھی ایسی ہی کرامات نے آسمان پر اڑایا تھا اور انہوں نے ہی پھر اس کی ہوا نکال لی۔ یہ توسپریم کورٹ کے دو چیف جسٹس سجاد علی شاہ اور سعید الزمان صدیقی بتا سکتے ہیں کہ ریٹائرڈ ائر مارشل اصغر خان کی فوج کے خفیہ اداروں کی طرف سے سیاستدانوں میں بانٹی جانے والی قومی دولت کے متعلق دائر کی ہوئی آئینی درخواست آگے کیوں نہیں چل سکی؟ اور کل دیکھا کہ ایک مذاکرے میں پاکستان میں جمہوریت کے دوست اور دشمن ایک ساتھ بیٹھے تھے۔ ان میں امین فہیم بھی تھے تو پروفیسر غفور بھی، جنرل مرزا اسلم بیگ بھی (جو سایوں کے تعاقب کرنے کی عادی نہیں تھے!) تھے تو الہٰی بخش سومرو بھی، پروفیسر غفور احمد تو جسٹس سعید ازمان صدیقی بھی جن کے بارے میں چند لوگںوکا کہنا ہے کہ انہیں ایک فوجی کرنل نے بزورِ بندوق مشرف کے عبوری آئین کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کی تفریبِ حلف برداری تک سپریم کورٹ جانے سے روکے رکھا تھا۔ پاکستان میں لاٹھی اور گاجر کے اس دور پرآشوب میں دیکھیں کہ سندھ میں سینیٹ کے انتخابات کی نگرانی جاسوسی محکمہ سپیشل برانچ سنبھال لیتا ہے اور جنرل مشرف کی میزبانی وہ شہاب الدین شاہ جیسے نامی وڈیرے کرتے ہیں جن پر الزام ہے گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں انہوں نے اپنے بیٹےاور لٹھ برداروں کو ملا کر مٹیاری میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک کارکن کا منہ کالا کیا اور اسے ننگا کروا کے اس پر تشدد کروایا تھا ( یہ اور بات ہے کہ پی پی پی کے عظیم بھٹو کے دور حکومت میں انیس سو بہتر میں میرپور ماتھیلو میں کسان حقوق کے دو کارکنوں اللہ بچایو مرناس اور ماندھل شر کےساتھ بھی ایسی ہی کاروائی کی گئی تھی)۔ اور اب تو حال ہی میں اپنے دورۂ پاکستان کے موقع پر صدر بش نے یہ ’تاریخی فقرہ‘ کہا کہ ’دو ہزار سات میں ہونے والے انتخابات شفاف ہونے چاہییں‘۔ | اسی بارے میں ہیرو اور اینٹی ہیرو06 January, 2006 | قلم اور کالم جس روز شہر کا قتل ہوا۔۔۔30 September, 2005 | قلم اور کالم ’بھٹو ضیا کے پہلے قیدی تھے‘04 April, 2005 | قلم اور کالم جمہوریت کا ’میزائل‘18 March, 2005 | قلم اور کالم گوروں کی نہ کالوں کی۔۔۔18 February, 2005 | قلم اور کالم ’ پٹھان کے قرضئی‘11 February, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||