کارٹون تنازع میں نقصان کس کا ہوا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں پیغمبر اسلام کے کارٹونوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں دو افراد ہلاک ہوگئے، اکتالیس افراد زخمی ہوئے اور ہنگامے اتنےشدید تھے کہ شہر میں رینجرز طلب کرنا پڑی۔ پچھلے ہفتے افغانستان میں اسی سلسلے میں بارہ افراد ہلاک ہوئے۔ اور دنیا بھر میں مسلمانوں نے احتجاج کےدوران اپنے ہی ملکوں میں کروڑوں روپے کی املاک کو جلا ڈالا یا نقصان پہنچایا۔ اس لیئے کہ مسلمانوں کو ڈنمارک کے ایک اخبار میں چھپنے والے کارٹونوں پر اعتراض ہے اور ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ آخر ایک ڈنمارک کے اخبار سے لاہور کے ایک کے ایف سی یا میکڈونلڈ چلانے والے کا کیا تعلق۔ کیا وجہ ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک میں عوام کا جب بھی کسی مغربی ملک سے نظریاتی اختلاف ہوتا ہے اس کی قیمت انہی کے ملک میں دکانداروں، محنت کرنےوالوں اور روزی روٹی کمانےکے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کی گاڑی کو آگے بڑھانے والوں کو دینی پڑتی ہے؟ مغربی ذرائع ابلاغ کے لیئے مذہب پر طنزیہ یا مزاحیہ تنقید ایک عام بات ہے۔ خصوصًا رات گئے ٹی وی پر ان کے کمیڈین یا مزاحیہ فنکار اپنے اپنے مذاہب پر چوٹ کرتے سنائی دیتے ہیں۔ جبکہ پاکستان جیسے ملک میں پیغمبرِ اسلام پر تنقید کرنے والا موت کا حقدار ٹھہرایا جاتا ہے۔ مغرب کی اپنی اقدار ہیں اور مسلمان ممالک کی اپنی۔ یہ سچ ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کی مذہبی روایات کا احترام کرنا چاہیے مگر یہ احترام پیدا ہوتا ہے باہمی روابط، بات چیت، ایک دوسرے کو سمجھنے اور اپنی بات دوسروں کو سمجھانے سے، نہ کہ ڈنڈے برسانے سے۔ آزادیِ اظہار کا احترام دراصل کہتے ہی اس کو ہیں کہ اگر کسی کی بات بُری بھی لگے تو اسے کہنے کا حق دیا جائے۔ آپ اس سے بے شک بحث کریں، اسے اپنے دلائل سے قائل کرنے کی کوشش کریں، اور اگر بات قومی یا بین الاقوامی سطح پر ہورہی ہے تو اپنے دلائل بھی سب سے سامنے پیش کریں۔ لیکن مشتعل ہو کر ڈنڈے اٹھا کر سڑک پر نکل آنا تہذیب نہیں بلکہ جہالت اور عدم تحفظ کی علامت ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ مسلمان تحمل سے اپنی صحیح بات دوسرے کی بات کے مقابل لانے کے بجائے یہ کیوں سمجھنے لگتے ہیں کہ اگر انہوں نے اشتعال انگیزی سے کام نہ لیا تو اسلام خطرے میں پڑ جائے گا۔ حالانکہ ہوتا یہ ہے کہ ان ہنگاموں اور توڑ پھوڑ کے باعث نہ صرف ایک بہتر دلیل ضائع ہو جاتی ہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کا یہ امیج بن جاتا ہے کہ اس مذہب اور اس کے ماننے والوں میں برداشت کا مادہ نہیں، جس سے اسلام کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچتا ہے۔ مصنف سلمان رشدی کا نام دنیا میں مشہور نہ ہوتا اگر آیت اللہ خمینی نے ان کے حق میں موت کا فتوٰی نہ دیا ہوتا۔ اب دنیا کی تقریبًا ہر لائبریری میں نہ صرف ان کی متنازع کتاب ’دی سیٹینک ورسز‘ بلکہ ان کی دیگر تصانیف بھی موجود رہتی ہیں۔ اسی طرح یہ کارٹون ڈنمارک کے اخبار کے بعد نہ صرف دیگر یورپی اخباروں میں شائع ہوئے بلکہ کئی انٹرنیٹ بلاگ لکھنے والوں نے آزادی اظہار کے حق میں اپنی اپنی ویب سائٹوں پر بھی انہیں شائع کر دیا۔ اور اب یہ دنیا میں کہیں سے بیٹھ کر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ڈنمارک ہی کے ایک مسلمان رکن پارلیمان نے پبلک ریڈیو انٹرنیشنل کے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کارٹونوں پر ہونے والے ہنگامے دراصل ڈنمارک کے کچھ مذہبی رہنماؤں کی کارستانی ہے جو جان بوجھ کر نہ صرف یہ کارٹون بلکہ ان سے زیادہ اشتعال انگیز ایسے کارٹون جو اس اخبار میں شائع بھی نہ ہوئے تھے خصوصی طور پر عرب ممالک کے دورے پر لے کر پہنچے اور عرب رہنماؤں سے ملاقات کی تاکہ اس معاملے کو ہوا ملے۔ اگر ڈنمارک کے رکن پارلیمان کی یہ بات سچ ہے تو پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے عوام ہمیشہ کی طرح اس بار بھی انجانے میں کسی اور کے سیاسی مفاد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ اس بات کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو یہ سوال تو پھر بھی باقی ہے کہ احتجاج تو یورپ اور امریکہ میں بھی ہوتا ہے مگرپر امن، کہیں قلم کے ذریعے، کہیں ریڈیو اور ٹی وی پر ای میلز بھیج کر، کہیں اخباروں میں خطوط لکھ کر اور کہیں قراردادیں پیش کر کے۔ نہ دکانیں جلتی ہیں نہ روزگار تباہ ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کو جان سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ تو پھر کہنے والے کیوں نہ کہیں کہ اگر مغرب میں ’احترام‘ کا فقدان ہے تو مسلم دنیا میں برداشت کا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||