BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 January, 2006, 14:42 GMT 19:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تب کیا ملا

حیرت کی بات یہ ہے کہ جن نتائج پر اسرائیل کو بغلیں بجانی چاہییں ان پر بظاہر وہ صدمے میں ہے۔

اسرائیل کو اپنی بقا کے جواز اور اقدامات کی تاویل کے لئے ہمیشہ ایک دشمن درکار تھا اور شائد رہے گا۔

اسرائیل چودہ مئی انیس سو اڑتالیس کو خطہ فلسطین میں اس لئے وجود میں لایا گیا تھا کیونکہ ہٹلر کے ستائے ہوئے یہودیوں کو ایک ایسی پناہ گاہ درکار تھی جہاں وہ آئندہ زندگی نسل کشی کے خوف سے آزاد ہوکر گزار سکیں۔

اپنے وجود کے روزِ اول سے پانچ جون انیس سو سڑسٹھ کے درمیان انیس برس کے عرصے میں اسرائیل کو اس بنیاد پر امریکہ اور یورپ کی سیاسی، اقتصادی، اخلاقی، فوجی اور ایٹمی امداد ملتی رہی کیونکہ اسرائیل مغرب کو مسلسل باور کراتا رہا کہ چالیس لاکھ آبادی والے چھوٹے سے ملک کو بیس کروڑ عرب نگلنا چاہتے ہیں۔

پانچ جون انیس سو سڑسٹھ کو اسرائیل نے گولان، غربِ اردن اور جزیرہ نما سینا پر یہ کہہ کر قبضہ کرلیا کہ اسے انیس سو چھپن کی طرح عرب ممالک کے پیشگی اجتماعی حملے کا خطرہ تھا اور خود کو قائم رکھنے کے لئے اسے اسٹریٹیجک ڈیپتھ درکار ہے۔

لیکن جب اقوامِ متحدہ کے ارکان کی اکثریت نے اسرائیل کو مظلوم کے بجائے جارح قرار دیا تو اسرائیل نے یہ نیا خطرہ بتایا کہ اسے عرب ممالک کے علاوہ پی ایل او سمیت فلسطینی دھشت گردوں سے خطرہ ہے جو کھلم کھلا اسرائیل کو نیست و نابود کرنے کے وکیل ہیں۔

چنانچہ اس خطرے کا سدباب کرنے کے لئے لبنان پر فوج کشی کرکے بیروت سے انیس سو بیاسی میں پی ایل او کا ہیڈ کوارٹر ختم کیا گیا اور فلسطینی مہاجر کیمپوں میں دوہزار کے لگ بھگ پناہ گزینوں کا قتلِ عام ہوا اور اسکے بعد تیونس میں بھی پی ایل او کے نئے ہیڈ کوارٹر پر بمباری ہوئی۔

جب پی ایل او کا براہ راست خطرہ کم ہوا تو پھر یہ بات سامنے آئی کہ اسرائیل کو آئیت اللہ خمینی، صدام حسین، معمر قذافی اور حافظ الاسد جیسے حکمرانوں سے خطرہ ہے جو اسرائیل دشمن دہشت گردوں کے کھلے پشت پناہ ہیں۔

انیس سو اٹھاسی میں جب پی ایل او نے اسرائیل کا وجود تسلیم کرلیا اور اسکے چار برس بعد اسرائیل کو اوسلو سمجھوتے کے تحت ایک فلسطینی ریاست کا اصول تسلیم کرتے ہوئے بادلِ نخواستہ یاسرعرفات کو فلسطینی اتھارٹی کا سربراہ ماننا پڑا تو پھر یہ کہا گیا کہ اسرائیل کو دھشت گردوں پر ہاتھ نہ ڈالنے کی یاسرعرفات کی کمزور پالیسی سے خطرہ ہے۔

جب یاسرعرفات کو تادمِ مرگ رملہ میں انکے ہیڈ کوارٹر میں قید کردیا گیا۔ صدام حسین پنجرے میں بند ہوگئے، کرنل قذافی امریکہ کے اچھے بچے بن گئے اور شام کے بشار الاسد نے لبنان سے اپنی فوجیں نکال لیں تو پھر نئے خطرے کی تلاش شروع ہوئی۔

اب اسرائیل کی بقا کو ایران کے ایٹمی پروگرام اور حماس جیسی دھشت گرد تنظیم کی انتخابی جیت سے خطرہ ہے۔

پی ایل او کی جانب سے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے اور مسلح جدوجہد سے تائب ہونے کا فائدہ اسرائیل پچھلے اٹھارہ برس سے اٹھا رھا ہے۔ حماس کی جانب سے غیر مسلح ہونے سے انکار کا فائدہ بھی جب تک اٹھا سکتا ہے اسرائیل ہی اٹھائے گا۔

رہی بات فلسطینوں کی تو انہیں کل ایسا کیا مل گیا جو آج کھوجانے کا ڈر ہے۔

58 برس میں5ویں بار
تین سردار کون؟: وسعت اللہ خان کا کالم
کامیاب حکمرانی
کیا قیادت کا کلر بلائنڈ ہونا ضروری؟ وسعت اللہ
کیسی آئینی ضمانت
آئینی ضمانت اور وہ بھی کتنے دن کی: وسعت اللہ
ماضی آڑے آ رہا ہے
بنگلہ دیش کا قیام، تنگ نظر سیاست: وسعت اللہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد