BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 December, 2005, 11:48 GMT 16:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تنظیم کواقتصادی بنیاد فراہم کیجئے

شاہ عبداللہ
اسلامی کانفرنس کا تیسراغیرمعمولی سربراہی اجلاس جمعرات کو اعلان مکہ اور کانفرنس کی تنظیم نو کے متعلق ایک دس سالہ منصوبے کی منظوری کے بعد اختتام کو پہنچا۔

اجلاس کے شرکاء نے اس اعلامیے اور کانفرنس کی تنظیم نو کے دس سالہ منصوبے کی منظوری اتفاق رائے سے دیتے ہوئے اس اجلاس کو انتہائی اہم اور تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ اسلامی ممالک کا یہ اجلاس بڑی اہمیت کا حامل تھا اور اس میں بعض فیصلے ایسے کئے گئے ہیں جن پر اگر عمل کیا گیا تو نہ صرف یہ تنظیم دنیا کی ایک بڑی بااثر تنظیم بن کر ابھر سکتی ہے بلکہ اس کے رکن ممالک عالمی سیاست میں ایک نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات بجائے خودایک بڑی کامیابی ہے کہ تنظیم کے رکن ملکوں کے سربراہوں کو یہ احساس تو ہوا کہ انہیں اپنے ملکوں کی اقتصادی پسماندگی اور عالمی برادری میں بے حقیقتی کو دور کرنے کی کوشش مل جل کر کرنی چاہیے۔

دوسری اچھی بات میری نظر میں یہ ہے کہ اخباری اطلاعات کے مطابق اہم مسئلوں پر اسلامی نقطۂ نظر سے غور کرنے کے لئے اسلامی فقہ اکیڈمی میں اصلاحات کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں ضرورت کے مطابق اہم امور پر تمام ملکوں کے باہمی مشورے سے ایک متفقہ موقف اختیار کرنے میں مدد ملے گی۔

اس طرح کم از کم اہم اور متنازعہ سیاسی اور اقتصادی مسائل کے بارے میں کسی مرکزی اسلامی ادارے سے رجوع کیا جاسکے گا اور ایک متفقہ موقف اختیار کیا جاسکے گا۔

فی الحال تو عالم یہ ہے کہ خواتین کی تعلیم ہو یا انسانی عضو کا عطیہ مولوی ڈنڈا لے کر کھڑا ہوجاتا ہے اور اس کے سامنے کوئی منطق کام کرتی ہے نہ کوئی عالم ٹھہر سکتا ہے۔

اب کم از کم یہ تو ہوگا کہ جہاں مذہبی عقائد کسی معاملے میں متصادم ہوتے نظر آئیں گے تو اس اکیڈمی سے رجوع کیاجاسکے گا۔

تاہم میرے نزدیک اس اجلاس کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور اس کے لئے رکن ملکوں کے درمیان آزادانہ تجارت کے فروغ اور دنیا کے مختلف مالی اداروں اور تجارتی بلاکوں سے روابط قائم کرنے کےلئے ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کر نے کےلئے کہا گیا ہے۔

یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ان ممالک کی مجموعی آبادی دنیا کی آبادی کے بیس فی صد کے برابر بتائی جاتی ہے اور توانائی کے مجموعی وسائل کا کوئی 70 فیصد یہاں دستیاب ہے اور خام مال کا کوئی 40 فیصد ان ملکوں میں پیدا ہوتا ہے لیکن ان ملکوں کا مجموعی جی ڈی پی عالمی جی ڈی پی کا صرف پانچ فیصد ہے۔

تعلیم کا یہ عالم ہے کہ اخباری اطلاعت کے مطابق ان ملکوں میں مجموعی طور پر سال میں پانچ سو پی ایچ ڈی نکلتے ہیں جبکہ برطانیہ میں پانچ ہزار اور ہندوستان میں تین ہزار۔

اسلامی کانفرنس کے رکن ملکوں کی زبوں حالی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اپنے چھتیس سالہ وجود کے دوران اس میں رکن ملکوں کے اسلامی تشخص پر ساری توجہ مرکوز رکھی گئی اور اقتصادی اور سیاسی حقائق کو نہ صرف نظر انداز کیا گیا بلکہ کو شش کی گئی کہ تنظیم کو اس سے جتنا ممکن ہو دور رکھا جائے۔

جبکہ تاریخ کے ایک ادنیٰ طالب علم کو بھی اس کا اندازہ ہے کہ آج تک کوئی اتحاد یا مختلف ملکوں کی تنظیم محض مذہب کی بنیاد پر کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں جتنے بھی عظیم مذاہب آئے وہ اپنے وقت کی سماجی اور اقتصادی نا انصافیوں اور زیادتیوں کے خلاف ایک تحریک بن کر ابھرے اور جب تک اس تحریک کی شکل میں برقرار رہے اتحاد اور اتفاق کے ساتھ آگے بڑھتے رہے۔

جب ترقی کے اس مقام پر پنچ گئے جہاں اقتدار کا حصول اور اسکی بقاء ساری باتوں پر حاوی ہوجاتی ہے تو آپس میں گروہی، علاقائی اور قبائلی اختلافات شروع ہوگئے بلکہ اقتدار کو بچانے کے لئے مذہبی بنیاد پر فرقہ بندیاں بھی شروع ہوگئیں چنانچہ جو مذاہب انسانی معاشروں میں بے انصافیوں کے خلاف تحریک بن کر ابھرے تھے ان کے ماننے والے دیکھتے دیکھتے معمولی اختلافات کی بنا پر مختلف فرقوں کی شکل میں آپس میں ہی دست وگریبان ہوگئے۔

ایک مثال تو یورپ کے عیسائی ملکوں کی ہے، بیت المقدس کو آزاد کرانے کی خاطر صلیب کے سائے میں متحد ہوئے اور پھر ایسے بکھرے کے اپنی اپنی صلیبیں اپنے ہی شانوں اٹھائے ہوئے واپس آنا پڑا۔

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں مسلمان متمدن دنیا پر چھاگئے تھے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ پہلے عرب تھے بعد میں مسلمان چنانچہ انہوں نے اپنی حوس ملک گیری میں اپنے مخالف مسلمانوں کا بھی وہی حشر کیا جو غیر مسلم مخالفین کے لئے روا رکھا تھا۔

یہی ترکوں نے عربوں کے ساتھ اور عربوں نے ترکوں کے ساتھ کیا۔ جس کی تاریخ میں قریب ترین مثال پہلی جنگ عظیم میں ترکی کی شکست ہے۔

تیمور بھی اللہ کے فضل سے مسلمان تھا اور اس نے چودہویں صدی میں بحیرہ روم سے تا بخاک ہند اپنے جھنڈے گاڑ دئے تھے، لیکن اسے اپنے دشمنوں کی کھوپڑیوں کے مینار بھی لگانے کا شوق تھا اور اس شوق کو پورا کرنے کے جوش میں وہ یہ نہیں دیکھتا تھا کہ کھوپڑی مسلمان کی ہے یا غیر مسلم کی۔

ان تاریخی حقائق کا ذکر کرنے سے میرامطلب قطعی طور پر یہ نہیں کہ اسلامی ملکوں کا اتحاد ممکن نہیں ہے، میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ محض مذہب کی بنیاد پر تاریخ میں آج تک کوئی بین المملکتی تنظیم یا بلاک کامیاب نہیں ہوا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی ملکوں کی تنظیم یا اتحاد کو ایک مضبوط سیاسی اور اقتصادی بنیاد فراہم کی جائے جس کی ان ملکوں میں بڑی گنجائش ہے۔

صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ جو فیصلے کئے گئے ہیں ان پر اسی جزبے سے عمل کیا جائے جس جزبے کا مظاہرہ سربراہان مملکت و حکومت نے اجلاس کے دوران اپنی اپنی تقریروں میں کیا ہے۔

اسی بارے میں
کشمیر: پاکستان کی سفارتی یلغار
26 November, 2005 | قلم اور کالم
اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو . . .
19 November, 2005 | قلم اور کالم
زلزلے سے کیا سیکھا جا سکتا ہے
05 November, 2005 | قلم اور کالم
بالا کوٹ: ایک بڑی سی قبر
10 October, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد