حکمرانوں کارنج و غم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے حکمرانوں کو آئے روز رنج و غم برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جب بھی کوئی ٹریفک حادثہ ہو جس میں زیادہ تعداد میں لوگ مارے جائیں، دہشت گردی کی کارروائی میں ہلاکتیں ہوں یا ٹرینوں کا تصادم یا حادثہ ہو اور لوگ مر جائیں تو حکمرانوں کو اس کا بہت دکھ اور افسوس ہوتا ہے۔ بدھ کے روز گھوٹکی کے پاس تین ریل گاڑیوں کی ٹکر میں تقریبا ڈیڑھ سو لوگوں کے مرنے پر بھی ایسا ہی ہوا۔ واقعہ ہوتے ہی سب سے پہلے حکومت کی طرف سے یہ بیانات آنے شروع ہوئے کہ اس واقعہ کی اعلی سطح پر تحقیقات کا حکم دے دیاگیا ہے جیسے اس سے مرنے والے زندہ ہوجائیں گے یا ریلوے کا بوسیدہ انجن اور سگنل کا خراب نظام خود بخود درست ہوجائیں گے۔ حکام سے پوچھا جا سکتا ہے کہ ریلوے کے قانون میں لکھا ہے کہ وفاقی حکومت کا ایک انسپکٹر آف ریلوے ہوتا ہے جس کی ذمہ داری ہے کہ ریل گاڑی کے کسی حادثے کے بعد خود بخود اس واقعہ کی تحقیق کرے۔ اگر صدر، وزیراعظم، ریلوےکے وفاقی وزیر اس بات کا اعلان نہ بھی کرتے تو ایسا کرنا تو ریلوے کے قانون کا تقاضا ہے۔ ماضی میں جب ریلوے ایک اچھا ادارہ سمجھا جاتا تھا ریلوے کے سب سے قابل اور سینئر افسر کو فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلویز لگایا جاتا تھا۔ اب ایسے لوگوں کو اس عہدہ پر تعینات کیا جاتا ہے جو حکمرانوں کے پسندیدہ ہوں چاہے وہ اس کے اہل ہوں یا نہیں۔ جہاں تک نام نہاد انکوائری رپورٹوں کا تعلق ہے تو ستمبر دو ہزار دو میں ملکوال میں جو ٹرین کا بڑا حادثہ ہوا تھا اس کی انکوائری رپورٹ تو آج تک عوام کے سامنے نہیں لائی گئی۔ کیا یہ بھی کوئی دفاعی نوعیت کا راز ہے جس کا پتا دشمن کو نہیں لگنا چاہیے؟ اب تک ٹرینوں کے جتنے بھی حادثہ ہوئے ہیں ان میں زیادہ تر سگنل کے نظام کی خرابی کو ذمہ دار قرار دیا گیا لیکن کبھی یہ نظام ٹھیک نہیں کیا جاتا۔ تاہم صدر، وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ کو ہر حادثہ کے موقع پر خاصا رنج و غم سہنا پڑتا ہے اور اخباروں کو ان کے دکھ بھرے بیانات صفحہ اول پر شائع کرنا ہوتے ہیں۔ حادثہ کی صورت میں چند گھنٹے بھی نہیں گزرتے کہ حکام مرنے والوں اور زخمیوں کے لیے مالی امداد کا اعلان کردیتے ہیں جس کی مالیت عموما ایک لاکھ یا دو لاکھ روپے ہوتی ہے۔ اس بات کو میڈیا اس سانحہ کے ساتھ ساتھ نشر کرتا ہے جیسے مرنےوالوں کا مقصد اس مالی امداد کا حصول تھا اور حکومت نے یہ ذمہ داری احسن طریقے سے انجام دے دی۔ حکومت کتنی رحم دل اور عوام پرور ہے! انسانی جان کے نقصان پر ایک پورا خاندان اور بعض اوقات کئی خاندان ایک ناقابل برداشت دکھ اور صدمہ کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے دکھوں پر اظہار ہمدردی کرنے کے لیے دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں مالی امداد کی رقم دینے کا اس فحش انداز میں طرح ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہو جیسے پاکستان میں کیا جاتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حکومت کے پاس کراچی ائرپورٹ بنانے کےلیے پانچ ارب روپے تھے، لاہور میں ائرپورٹ کا نیا ٹرمینل بنانے کے لیے دس ارب روپے سے زیادہ خرچ کر دیے گئے اور اب اسلام آباد میں اس سے بھی زیادہ رقم خرچ کرکے نیا ائرپورٹ ٹرمینل بنایا جارہا ہے۔ ہوائی جہاز پر زیادہ تر امیر لوگ سفر کرتے ہیں اور ائر پورٹ سال بھر میں چند لاکھ لوگ استعمال کرتے ہیں انہیں بہتر بنانے کے لیے حکومت کے پاس اربوں روپے ہیں جبکہ ریل گاڑی سے ایک سال میں ساڑھے چھ کروڑ عام پاکستانی سفر کرتے ہیں لیکن اس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کے پاس پیسے نہیں۔ ایک فوجی جرنیل تین سال تک ریلوے کے پہلے چیئرمین اور پھر وزیر رہے اور انہوں نے اس کو بہتر بنانے کے بڑے دعوے کیے تھے۔ انہوں نے ریلوےکے تجربہ کار ملازمین اور افسروں کی بڑے پیمانے پر چھانٹی کی تاکہ اسے مستعد ادارہ بنایا جاسکے۔ اس جرنیلی اصلاحات کے بعد سے اب تک ریلوے کی تاریخ میں سب سے زیادہ حادثے ہوئے ہیں اور اس دور میں جو انجن منگوائے گئے وہ خراب نکلے۔ اگر یہ کام کسی سیاسی دور میں ہوا ہوتا تو قومی احتساب بیورو اس کا ضرور مقدمہ درج کرواتا۔فی الحال حکام کو ڈیڑھ سو خاندانوں کی تباہی پر بہت رنج و غم ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||