BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 July, 2004, 12:50 GMT 17:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اس میں عجیب کیا ہے

News image
غزہ میں فلسطینی گروہ آپس میں لڑ رہے ہیں۔ فلسطینی حکومت کرپٹ اور ڈانواڈول ہے۔ حالات بہتر ہو سکتے ہیں مگر یاسر عرفات تبدیلیوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ سب کچھ آپ کو عجیب سا لگے لیکن اس میں عجیب کچھ بھی نہیں ہے۔

جن لوگوں کے پیروں تلے زمین نہ رہنے دی جائے اور سر پہ سے آسمان کا سائبان بھی اتارنے کی کوشش کی جائے۔ایسے لوگوں کا مذاق اڑانا، انہیں گالی دینا اور آس پاس کی تمام خرابیوں کی جڑ قرار دینا ایک آسان سا کام ہے۔

مذاق، گالی اور الزام کا جواب دینے کے لئے تھوڑا سا وقت درکار ہوتا ہے۔ اور جو لوگ پچھلی چار نسلوں سے اپنا سر مسلسل پتھروں سے بچانے میں لگے ہوں ان کے پاس باقی باتوں کا وقت کہاں؟

آئیے اس بات کو ایک اور ڈھنگ سے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔

آپ ایک بھرے کنبے کے ساتھ اپنے آبائی گھر میں رہ رہے ہوں۔ ایک دن آپ کے خاندان سے بھی زیادہ بارسوخ خاندان آپ کے گھر پر قبضہ کر لے اور آپ کو مکمل طور پر بےدخل کرنے کی بھی کوشش کرے۔ معاملہ پنچایت میں جائے اور پنچایت یہ فیصلہ دے کہ جو ہونا تھا ہو گیا اب صرف یہی ہو سکتا ہے کہ آپ اسی گھر کے ایک کمرے میں کنبے سمیت منتقل ہو جائیں تا کہ آپ لوگوں کے سر پہ چھت بھی رہے اور یہ خلش بھی نہ ہو کہ یہ گھر آپ سے چھن گیا ہے۔

آپ پنچایت کے دباؤ کے تحت پورے گھر سے دستبردار ہو کر ایک کمرے میں منتقل تو ہو جاتے ہیں لیکن اس کے بعد کیا ہو گا۔

نہ تو آپ کے پاس باورچی خانہ ہے، نہ پچے صحن میں کھیل سکتے ہیں اور نہ ہی باہر آنے جانے کے لیے علیحدہ سے کوئی دروازہ۔

News image

ان حالات میں آپ اور آپ کا خاندان خود کو کتنے دن نفسیاتی مریض بننے سے روک سکتا ہے۔ آپ کو وقت بے وقت مایوسی کے دورے بھی پڑیں گے۔ اپنے گھر پر قابض لوگوں سے ہر دوسرے تیسرے روز کسی نہ کسی بہانے جھگڑا بھی ہوگا۔ مار پٹائی بھی ہوگی اور جب آپ کا باہر زور نہیں چلے گا تو پھر آپس میں معمولی معمولی باتوں پر دست وگریبانی رہے گی اور آپ ایک دوسرے کو نوچ کھانے کو دوڑیں گے۔

ان حالات میں آپ سے اکثر یہ بھی کہا جائے گا کہ آس پڑوس کی نیندیں حرام نہ کرو، رہنا ہے تو سکون سے رہو ورنہ یہ کمرہ بھی چھین لیا جائےگا۔

اب سے چھپن برس پہلے تک فلسطینی بھی اسی طرح کے انسان شمار ہوتے تھے جیسے کوئی اور عرب، ہندوستانی ، چینی یا ایرانی ہوتا ہے۔ لیکن انیس سو اڑتالیس کے بعد ان فلسطینوں کو Sub human یا نیم انسان کےدرجے تک پہنچانےکی بھرپور کوششیں کی گئیں اور آج ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ مہذب لوگوں کی طرح رہنا سیکھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد