BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 April, 2004, 06:08 GMT 11:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملتان میں بنگلہ دیش

News image
انضمام اپنے شہر میں کسی یادگار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے سے محروم رہے
انڈیا نے بالآخر ملتان مار لیا اور پاکستانی ٹیم پہلے انڈین بلے بازوں کے سکور کے احسان تلے دبی اور بعد میں کمبلے اور پٹھان کی بولنگ کے بوجھ نے تو جیسے اس کی کمر ہی توڑ دی۔ یوں انڈیا نے باون سال بعد پاکستان کو ایک اننگز سے شکست دی۔

انڈیا نے پاکستان کو دونوں ملکوں کے مابین 1952 کو فیروز شاہ کوٹلہ میں ہونے والے پہلے کرکٹ ٹیسٹ میں ایک اننگز سے شکست دی تھی۔

ملتان ٹیسٹ اور کوٹلہ ٹیسٹ میں بظاہر کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ یہ بھی ملتان میں انڈیا کا پہلا اور دونوں ملکوں کے درمیان تقریباً پندرہ سال کے وقفے کے بعد ہونے والا پہلا ٹیسٹ میچ ہے۔

ملتان میں ویسے بھی کوئی زیادہ میچ نہیں کھیلے گئے اور جو میچ کھیلے گئے ہیں ان کا نتیجہ بھی کچھ ایسا ہی ہے جیسا کہ پاک انڈیا سیریز کے اس پہلے ٹیسٹ میچ کا آیا ہے۔

ملتان میں پہلا ٹیسٹ میچ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 02/2001 کو ہوا تھا۔ اس میں پاکستان نے بنگلہ دیش کی ٹیم کو ایک اننگز اور 264 سے شکست دی اور بہت کڑا ٹیسٹ یعنی امتحان لیا۔

اس میچ میں پاکستان کی طرف سے پانچ کھلاڑیوں نے سنچریاں بنائیں۔ سعید انور 101، توفیق عمر 104، انضمام الحق 105، یوسف یوحنا 102 ناٹ آؤٹ اور عبدالرزاق 110 ناٹ آؤٹ۔

بنگلہ دیش کی ٹیم بالترتیب 134 اور 148 بنا پائی اور اس طرح پاکستان یہ میچ ایک اننگز اور 264 رنز سے جیت گیا۔

انڈیا کی اس سیریز کی اننگز بھی پاکستان کی بنگلہ دیش کے ساتھ اننگز سے کوئی زیادہ مختلف نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پاکستان کے پانچ کھلاڑیوں نے سنچریاں بنائی تھیں اور انڈیا کے دو کھلاڑی ہی یہ کام کر گئے۔ سہواگ 309 اور تندولکر194 ناٹ آؤٹ۔ لیکن اس میچ میں اور 2001 میں ہونے والے میچ میں فرق یہ ہے کہ اب بنگلہ دیش کی جگہ پاکستان نے لے لی ہے اور اس میں سعید انور کے علاوہ وہ تمام کھلاڑی کھیل رہے تھے جنہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف سنچریاں بنائی تھیں۔

پہلی اننگز میں انڈیا کے بڑے سکور کے بعد کہا گیا کہ یہ پچ بیٹنگ کے لئے ساز گار ہے اور بولروں کی کوئی مدد نہیں کر رہی۔ لیکن جب پاکستان کی باری آئی تو یہ وکٹ خود بخود بولروں کے لئے بہتر ہو گئی اور پاکستانی کھلاڑی یکے بعد دیگرے آؤٹ ہوتے گئے۔ یہاں تک کے عبدالرزاق تو ایک ہی دن میں دو مرتبہ آؤٹ ہو گئے۔ عرفان پٹھان کا شاید نام ہی کچھ ایسا ہے کہ اگر آؤٹ نہ ہوئے تو پھر۔۔۔

لیکن کمبلے کا نام تو ایسا خطرناک نہیں کہ ان کے آگے گھٹنے ہی ٹیک دیں۔ ہاں ان کی بولنگ سے پاکستانیوں کی ٹانگیں ضرور کانپتی ہیں۔ اور جب بھی کوئی کھلاڑی انہیں کھیلنے لگتا ہے تو اسے 1999 میں دلی میں کھیلا جانے والا وہ میچ یاد آ جاتا ہے جس میں کمبلے نے ایک ہی اننگز میں کسی اور انڈین بولر کو یہ موقعہ ہی نہیں دیا تھا کہ وہ بھی کسی پاکستانی کھلاڑی کو آؤٹ کرنے کی سعادت حاصل کرے۔ انہوں نے دس کے دس کھلاڑی آؤٹ کر کے انگلینڈ کے جم لیکر کا ریکارڈ برابر کر دیا تھا۔ افسوس ہے کہ بارہواں کھلاڑی آ کر بیٹنگ نہیں کر سکتا نہیں تو شاید وہ اسے بھی آؤٹ کر کے جم لیکر کا ریکارڈ توڑ دیتے۔

ملتان میں بھی قریب قریب انہوں نے یہ ہی کیا۔ دوسری اننگز میں انہوں نے 71 رنز دے کر چھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ وہ اب 400 وکٹوں سے صرف 10 وکٹوں کے فاصلے پر ہیں۔ اس طرح وہ 400 وکٹیں حاصل کرنے والے انڈیا کے دوسرے اور دنیا کے نویں بولر بن جائیں گے۔

ملتان ٹیسٹ میں انہوں چوبیسویں مرتبہ ایک اننگز میں پانچ سے زیادہ کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

پاکستان نے اس میچ سے کیا حاصل کیا یہ میں نہیں جانتا پر ماضی میں اس ٹیم کی کارکردگیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میں یہ اندازہ ضرور لگا سکتا ہوں کہ کچھ حاصل نہیں ہوا ہوگا۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اس میچ سے اگر حاصل نہیں بھی ہوا تو کم از کم کچھ کھونا ضرور چاہیئے چاہے وہ کھلاڑیوں کی شکل میں ہو چاہے کوچ کی شکل میں۔ اگر کوچ پولین میں اچھلتا رہے گا اور پریکٹس کے دوران اپنے کھلاڑیوں کو کچھ نہ سمجھا سکے گا تو ایسے کوچ کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر کوئی کھلاڑی درجنوں ٹیسٹ کھیل کر بھی میچ کا پریشر نہیں لے سکتا تو اس کو بھی میچ کھیلنے کی بجائے صرف دیکھنا چاہیئے۔

ایک میچ ہارنے کے بعد ٹیم میں سے کیڑے نکالنا کوئی عقل کی بات نہیں لیکن میں صرف اس بات زور دے رہا ہوں کہ نہ تو ہمیں کل ٹیسٹ سٹیٹس ملا ہے اور نہ ہی ہم خالد محمود کی ٹیم ہیں۔ ویسے ہم عالمی کپ میں تو ان سے بھی شکست کھا چکے ہیں۔

ایسا کیوں ہے کہ ہم کھیلنا بھول جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انڈین ہم سے بہت بہتر ہے لیکن اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہیئے کہ ہماری ٹیم میں ان سے زیادہ سینیئر کھلاڑی موجود ہیں۔ ہمارے کوچ جان رائٹ نہ سہی میانداد تو ہیں۔

اب لاہور کی باری ہے اور اگلا میدان اب لاہور میں لگے گا۔ لاہور کے لوگ میچ بڑے اطمینان سے دیکھتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں لینا چاہیئے کہ انہیں ہمیشہ ہار ہی دکھائی جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد