BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 March, 2004, 12:59 GMT 17:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ کا ایک اور ویٹو

حماس
امریکہ نے شیخ یاسین کے قتل کی مذمت میں پیش کی جانے والی قرارداد کو ویٹو کیا ہے
حماس کے بانی رہنماء شیخ یاسین اور ان کے سات ساتھیوں کی ہلاکت کی مذمت میں پیش کی جانے والی قرارداد کو امریکہ نے ویٹو کر دیا اس لئے کہ اس میں حماس کی دہشت گردی کی مذمت نہیں کی گئی تھی ۔ قرارداد الجزائر اور روس نے پیش کی تھی اور اسے سلامتی کونسل کے مستقل اور غیر مستقل اراکین میں سے اکثریت کی حمایت حاصل تھی۔

میں اس معاملے میں امریکہ سے اتفاق کرتا ہوں۔ اس لئے کہ اقوام متحدہ جیسے ادارے کو، جس کی ایک بین الاقوامی اہمیت ہے، کسی بھی مسئلہ کے بارے میں کوئی فیصلہ دینے سے پہلے صورتحال کا بڑا معروزی جائزہ لینا چاہئے اور اس کے کسی بھی فیصلے سے یہ تاثر پیدا نہیں ہونا چاہئے کہ وہ کسی فریق کی طرفداری یا کسی کی مخالفت کر رہا ہے۔

میرا تو خیال ہے کہ قرارداد میں نہ صرف حماس بلکہ ہر اس تنظیم کی مذمت کی جانی چاہئے تھی جو دہشت گردی میں یقین رکھتی ہے اور ہر اس ملک کی مذمت کی جانی چاہئے تھی جو دہشت گردی کی کسی بھی شکل میں سرپرستی کرنے کے جرم کا مرتکب ہو۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ خود امریکہ کا ہمیشہ سے رویہ یہ رہا ہے کہ اس نے دہشت گردی ہی نہیں بلکہ کسی بھی معاملے میں کبھی کوئی اصولی موقف اختیار نہیں کیا۔ اس کی حمایت اور مخالفت کی بنیاد ہمیشہ اس کے قومی مفاد کے تابع رہی اور اس سلسلے میں اس نے اپنے ارادوں کی کبھی کوئی پردہ پوشی کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔

اگر دیکھا جائے تو اقوام متحدہ کے قیام سے اب تک سب سے زیادہ ویٹو امریکہ نے استعمال کئے ہیں اور ان میں سے بیشتر اس نے ان قراردادوں کے خلاف استعمال کئے ہیں جو اسرائیل کے خلاف پیش کی گئیں۔ اس کے بعد اس کی طرف سے یہ اعتراض کہ قرارداد میں حماس کی مذمت نہیں کی گئی، انتہائی صائب ہونے کے باوجود انتہائی کمزور محسوس ہوتا ہے۔

بندہ کام کا ہے کہ نہیں
گزشتہ دنوں اخبارات میں ان دس سربراہان حکومت اور مملکت کے ناموں کی فہرست آئی ہے جنہوں نے گزشتہ بیس سال میں اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے۔ ان میں بیشتر وہ ہیں جنہیں امریکہ اور مغربی ملکوں کی حمایت حاصل تھی۔

بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے ابتک افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں بیشتر نو آزاد ملکوں میں قوم پرست رہنماؤں اور جمہوریت اور سیکولرزم میں یقین رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی امریکہ اور مغربی طاقتوں کی جانب سے حوصلہ شکنی کی جاتی رہی ہے اور ان کے مقابلے میں آمروں اور مذہبی جماعتوں کی سرپرستی کی گئی ہے۔

ابھی گزشتہ دنوں اخبارات میں ان دس سربراہان حکومت اور مملکت کے ناموں کی فہرست آئی ہے جنہوں نے گزشتہ بیس سال میں اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے۔ ان میں بیشتر وہ ہیں جنہیں امریکہ اور مغربی ملکوں کی حمایت حاصل تھی۔

اس میں سر فہرست انڈونیشیا کے سابق صدر جناب سوہارتو ہیں جو انڈونیشیا کی جنگ آزادی کے رہنما سوئکارنو کا تختہ الٹنے کے بعد اقتدار میں آئے تھے۔

دوسرے نمبر پر فلپائن کے سابق صدر مارکوس ہیں جن کی بیگم ایملڈہ مارکوس کے ذاتی جوتوں کی تعداد تین ہزار تھی۔

غور کیجئے اتنے جوتے تو شائد منیلا میں جوتوں کی کسی دکان سے بھی مشکل سے ہی نکلیں گے، یعنی اگر وہ روز ایک جوتا پہنتی ہونگی تو پہلے جوتے کا نمبر کوئی دس سال کے بعد آتا ہوگا جبکہ ان کے اقتدار کی مجموعی مدت کوئی 14 سال تھی۔

تیسرے نمبر پر کانگو کے جناب موبوتو تھے ۔ وہ کوئی 35 سال اقتدار میں رہے اور اگر موت ان کا راستہ نہیں روکتی تو پتہ نہیں اور کتنے دن اپنی لوٹ کھسوٹ جاری رکھتے۔

انہوں نے قومی دولت تو لوٹی ہی بین الاقوامی مالی اور خیراتی اداروں سے بھی خوب رقم وصولی اور جب ان کے کالے کرتوتوں پر ان اداروں کی جانب سے شکوک و شبہات ظاہر کئے جاتے تو وہ انگولا کی بائیں بازو کی حکومت کے بڑھتے ہوئے اثرات کا خطرہ ظاہر کردیتے اور ان پر سات خون معاف کر دیئے جاتے۔

میرے کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ایک طرف تو جمہوریت، انسانی حقوق ، آزادئ اظہار ،عدلیہ اور انصاف اور مساوات کی باتیں کی جاتی ہیں اور دوسری جانب صرف ایک بات دیکھی جاتی ہے کہ بندہ کام کا ہے یا نہیں۔

دور کیوں جائیں ابھی گزشتہ دنوں پاکستان کے صدر پرویز مشرف اس لئے معتوب تھے کہ انہوں نے ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھااور اس بنیاد پر دولت مشترکہ میں پاکستان کی رکنیت معطل کردی گئی تھی، جو اب تک ہے ، لیکن چونکہ انہوں نے دہشت گردی سے متعلق امریکی پالیسی اور حکمت عملی کی غیر مشروط حمایت کا یقین دلادیا ہے اس لئے معاہدہ اقیانوس سے باہر قریب ترین دوست کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ جبکہ خود معاہدہ اقیانوس کے اندر بعض دیرینہ دوست، مثلاً فرانس اور جرمنی، اب تک معتوب ہیں اس لئے کہ وہ اقوام متحدہ کی دوسری قرارداد کے بغیر عراق پر حملے کے خلاف تھے اور اب بھی ان کا مطالبہ ہے کہ جب عراق کے معاملات اقوام متحدہ کے حوالے کئے جائیں گے تب وہ تعاون کریں گے۔

صدام حسین نے جب ایران پر حملہ کیا تو مغربی دنیا میں واہ واہ ہوگئی اور جب کویت پر حملہ کیا تو بدترین دشمن قرار پائے۔

اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ کو اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کے تحفظ کے لئے بعض ایسی پالیسیاں اختیار کرنی پڑتی ہیں جو بےانصافی پر مبنی نظر آتی ہیں لیکن امریکہ کو اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ برطانیہ سے آزادی کے تقریباً سوا دو سو سال بعد اسے پہلی مرتبہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت بننے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ ایسی طاقت جس کا کوئی مد مقابل ہی نہ ہو۔ اب اسے سفارتی میدان میں دہرے معیار اختیار کر نے کی کیا ضرورت ہے وہ جو چاہے کرسکتا ہے اور جس ملک سے جو بات چاہے منوا سکتا ہے۔ اسے اپنی اس حیثیت کو نہ صرف عراق اور پاکستان سے بلکہ اسرائیل سے بھی منوانا چاہئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد