| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی: کچھ یاداشتیں
لارڈ ہٹن رپورٹ کے نتیجے میں بی بی سی کے چیئرمین گیوین ڈیوس، ڈائریکٹر جنرل گریگ ڈائک اور رپورٹر انڈریو گلیگن جن کی رپورٹ پر یہ ہنگامہ کھڑا ہواتھا اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گۓ ہیں اور خیال کیا جارہا ہے کہ کچھ اور اہم عہدیدار بی بی سی سے علیحدگی اختیار کرلیں گے۔ بعض حلقوں کی جانب سے ہٹن رپورٹ کو یکطرفہ قرار دیا جارہا ہے ، خود سبکدوش ہونے والے ڈائریکٹر گریگ ڈائک نے کہا ہے کہ وہ ہٹن رپورٹ کے بعض نتائج سے متفق نہیں ہیں اور اس سلسلے میں اپنا موقف بعد میں اور تفصیل سےبیان کریں گے۔ یہ بحث تو خاصے دنوں تک چلے گی کہ یہ واقعہ اصل میں ہے کیا اور اس کے پس پردہ کون سے جذبے یا طاقتیں کام کر رہی ہیں یا پورے واقعہ میں کون کتنا قصوروار ہے۔ کوئی قصوروار ہے بھی یا محض، وقتی طور پر، کروٹ لیتی ہوئی تاریخ کی لپیٹ میں آگیا ہے۔ مگر اس واقعہ سے میرے ذہن کے نہاں خانے میں چھپے ہوۓ بعض واقعات کچھ اس طرح اچھل کر سامنے آگۓ ہیں کہ ان کا ذکر کۓ بغیر چارہ نہیں۔ غالباً 1971 کے اواخر کی بات ہے، ہم لوگ اس زمانے کے مشرقی پاکستان میں پھنسے ہوۓ تھے۔ ابھی پاکستان نے ہندوستان کے خلاف اعلان جنگ نہیں کیا تھا۔ پی آئی اے کی پروازوں کا سلسلہ جاری تھا اور مغربی پاکستان سے اخبارات بھی بڑی باقاعدگی سے آرہے تھے۔ ریڈیو پاکستان اور ٹیلی ویژن سے خبریں بھی بڑی باقائدگی سے نشر ہوتی تھیں اور سب میں ایک ہی بات کہی جاتی تھی اور بڑے وثوق سے کہی جارہی تھی کہ پاکستانی افواج نے مکتی باہنی کو ملیا میٹ کردیا ہے اور ہندوستانی افواج کا منہ پھیر دیا ہے۔ اس زمانے میں بی بی سی اردو سروس کی خبریں اور تجزئے ریڈیو پاکستان کی خبروں سے اتنے متضاد ہوتے کہ یقین کرنے کو جی نہیں چاہتا بلکہ میرے بعض دوستوں نے تو فیصلہ دیدیا تھا کہ بی بی سی کی خبریں سرے سے سنی ہی نہ جائیں کہ اچانک ایک دن شائد 3 دسمبر کو معلوم ہوا کہ پاکستان نے ہندوستان کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا۔ پی آئی اے کی پروازیں بند ہو گئیں۔ مغربی پاکستان سے اخبارات کا سلسلہ بند ہو گیا لیکن ریڈیو پاکستان سے خبروں کا سلسلہ جاری تھا جن کے لب ولہجے کی تیزی اور تندی میں اور اضافہ ہو گیا تھا۔ بی بی سی کی خبریں ہمارے نزدیک اور مطعون ہوگئیں اور پھر ایک دن ،غالباً 16 دسمبر یا 17 دسمبر تھا کسی نے اطلاع دی کہ ہندوستانی ٹینک اور بکتربند گاڑیاں ڈھاکہ کی سڑکوں پر رینگ رہی ہیں۔ اس دن کے بعد سے پھر ہم لوگوں نے بی بی سی کی نشریات سننی شروع کردیں۔ یہ غالباً ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا دورِحکومت تھا۔ روز ریڈیو اور ٹی وی سے کچھ اس طرح کی خبریں آتیں کہ فلاں فلاں سیاسی رہنماء اپنے اتنے سو یا ہزار ساتھیوں سمیت حکمراں جماعت یعنی پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوگۓ۔ اس زمانے کے ایک معمر صحافی نے اپنے کالم میں اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ اگر حکمراں جماعت کے ان دعووں کو صحیح تسلیم کرلیا جاۓ تو اسکا مطلب یہ ہوگا کہ ہمارا وہ پوتا جو ابھی پیدا نہیں ہوا وہ بھی حکمراں جماعت میں شامل ہو چکا ہے۔ اس زمانے میں بھی ہم لوگ بی بی سی سننے پر مجبور تھے۔ جولائی 1977 میں جب پاکستان میں ضیاءالحق کا مارشل لاء نافذ ہوا تو بعض اخبارات اور رسالوں پر پابندی عائد کردی گئی۔ صحافیوں اور اخباری کارکنوں کی یونین نے احتجاجی مظاہرے کۓ اور گرفتاریاں پیش کیں۔ ان میں ، میں بھی شامل تھا اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب بی بی سی کی نشریات کا وقت ہوتا تو جیل میں ہم سب ریڈیو کےگرد گھیرا ڈال کر بیٹھ جاتے اور پوری بیرک میں اس وقت تک سناٹے کی سی کیفیت رہتی جب تک بی بی سی کی اختتامی موسیقی نہ بج جاتی۔ غالباً 1980 کی ابتداء تھی میں ایک نجی دورے پر ہندوستان گیا ہوا تھا ۔وہاں جنتا دل کی حکومت باہمی اختلافات کی بناء پر ناکام ہوگئی تھی اور قبل از وقت انتخابات کراۓ جا رہے تھے۔ اندرا کانگریس جو 1975 کی ایمرجنسی کی بناء پر عوام میں اتنی غیرمقبول ہو گئی تھی کہ اسے پہلی مرتبہ 1977 کے انتخابات کے نتیجے میں اقتدار سے محروم ہونا پڑا تھا۔ وہ جنتا دل میں شدید اختلافات کے نتیجے میں ایک بار پھر عوام میں بڑی تیزی سے مقبول ہورہی تھی۔ میں اتفاق سے بنارس میں تھا جہاں دو بڑے سیاسی رہنماء انتخاب میں حصہ لے رہے تھے۔ ایک کانگریس کے کملا پتی ترپاٹھی اور دوسرے جنتا دل کے راج نرائین جنہوں نے اندرا گاندھی کے خلاف انتخابی بدعنوانیوں کے الزام میں الہ آباد ہائی کورٹ سے مقدمہ جیتا تھا، اور حقیقی معنوں میں یہ مقدمہ ہی ایمرجنسی کے نفاذ کا سبب بنا تھا۔ میں کبھی کبھی شام کو ٹہلنے نکل جاتا تو چاۓ خانوں اور پان کی دکانوں پربی بی سی کی خبریں سننے کے لۓ لوگوں کی بھیڑ لگی ہوتی۔ ایک اور واقعہ کا ذکر میں یہاں ضروری سمجھتا ہوں جس سے بی بی سی کی مقبولیت اور احترام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ فروری 1992 میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی طرف سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول پار کرنے کا اعلان کیا گیا۔ ساری دنیا کے اخبارات، ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے نمائند ے پہنچ گۓ۔ جلوس جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما امان اللہ خا ن کی قیادت میں شام کے وقت چناری پہنچا اور دوسرے دن اسے لائن آف کنٹرول پار کرنے کے لۓ چکوٹی کی جانب روانہ ہونا تھا۔ سارے اخبار اور ریڈیو والے اپنی خبریں اپنے اداروں کوبھیجنے کے لۓ مظفرآباد بھاگے۔ میں بی بی سی ریڈیو کی طرف سے اس واقعہ کی رپورٹنگ کے لۓ گیا تھا۔ ہماری ہندی اور اردو سروس کی نشریات کا وقت ہو رہا تھا اور مظفرآباد جانے کا مطلب یہ ہوتا کہ اس روز خبر نہیں جا سکتی۔ میں چناری کے ٹیلی فون ایکسچینج میں گیا جہاں ایک لالٹین ٹمٹما رہی تھی اور جلوس میں آنے والوں کا اژدہام تھا جو ٹیلی فون کے ذریعے اپنے اپنے گھر والوں کو اپنی خیریت کی اطلاع دینا چاہتے تھے۔ میں نے ایک بڑی ہی موہوم سی امید کے ساتھ دور سے آپریٹر کو آواز دی اور اپنا تعارف کرانے کی کوشش کی۔ پتہ نہیں آپریٹر نے سنا یا نہیں لیکن لوگ جو ایک دوسرے پر ٹوٹے پڑ رہے تھے وہ خاموش ہوگۓ اور مجھے راستہ دینے کے لۓ دو رویہ اس طرح کھڑے ہوگۓ جیسے میں بی بی سی کا نمائندہ نہیں بلکہ ان کے معائنے پر آیا ہوں۔ میں نے کھڑکی پر جا کر آپریٹر سے کہا کہ اگر تم بی بی سی پر چناری کا نام سننا چاہتے ہو تو کسی طرح ہمارا نمبر ملا کے دو۔ سارے مجمع نے باآواز بلند آپریٹر سے مطالبہ شروع کردیا کہ بی بی سی کے نمائندے کو ٹیلی فون ملا کر دیا جاۓ۔ اور جہاں آ پریٹر کو مظفرآباد اور میرپور کا نمبر ملانے میں دقت ہورہی تھی وہاں اس نے ایک ذرا سی تگ ودو کے بعد بی بی سی لندن سے ہمارا رابطہ کرا دیا اور میں اپنی اردو، ہندی اور انگریزی سروس کے لۓ اپنی رپورٹ ریکارڈ کرانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس طرح کے کئی واقعات ہیں جو پتہ نہیں کیوں لارڈ ہٹن کی رپورٹ کی اشاعت کے بعد ماضی کے دھندلکوں سے نکل کر ایک نہ ختم ہونے والی قطار میں کھڑے ہو گۓ ہیں۔ اگر میں ان کا یہاں ذکر کرنا بھی چاہوں تو ممکن نہیں ہوگا اس لۓ کہ اس کی ضخامت بھی شائد اتنی ہو جاۓ جتنی لارڈ ہٹن کی رپورٹ کی ہے جسکی کی کم از کم آن لائن کے صفحات پر تو گنجائش نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||