آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جینز: دنیا بھر میں مقبول وہ منفرد کپڑا جو ناکام تجربے میں حادثاتی طور پر بنا
آزربائیجان سے زمبابوے تک، شمال میں گرین لینڈ سے جنوب میں چلی تک۔۔۔ جینز دنیا میں ہر جگہ نظر آتی ہے۔ اگرچہ چند مقامات پر جینز پہننے پر پابندی ہے۔
گلوبل ڈینم پراجیکٹ، جس نے جینز کی تاریخ اور معاشیات پر اثرات کا جائزہ لیا ہے، کے مطابق سال کے کسی بھی دن دنیا کی آبادی کی اکثریت جینز یا ڈینم زیب تن کیے ہوتی ہے۔
جینز کہاں اور کب وجود میں آئی؟ اس سوال پر مؤرخین اب تک بحث کر رہے ہیں تاہم اکثریت کی رائے میں جینز سب سے پہلے فرانس میں بنی تھی۔
اور یہ ایک حادثاتی جنم تھا کیوں کہ فرانس کے شہر نمز میں جولاہے کچھ اور کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ وہ جین فسٹیئن نامی سوتی کپڑے کا متبادل بنانے کی کوشش کر رہے تھے جو قدیم زمانے میں جینوا میں بنایا جاتا تھا۔
اس کوشش میں تو وہ ناکام ہوئے لیکن ان کو احساس ہوا کہ انھوں نے اس ناکام کوشش کے دوران ایک منفرد قسم کا کپڑا ایجاد کر لیا ہے۔
اس سوتی کپڑے کو بنانے کے عمل کے دوران جولاہوں نے ایک قدیم رنگ کا استعمال کیا تھا جس نے اسے ایک جانب تو منفرد قسم کا نیلا رنگ دیا لیکن اس کپڑے کی دوسری سمت سفید ہی رہی۔
اس کپڑے کو ’سرج ڈی نمز‘ کہا جاتا تھا جس سے بعد میں 17ویں صدی میں انگریزی کا ’ڈینم‘ لفظ نکلا۔
واضح رہے کہ ڈینم سے ملتا جلتا کپڑا اس سے قبل بھی دنیا میں موجود تھا، خاص طور پر انڈیا میں۔ لیکن آج کی دنیا میں ہم جس جینز کو جانتے ہیں، اس کا جنم ایک جرمن اور ایک لٹوین باشندے کی ملاقات کا نتیجہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جیکوب جوفس اور لوب سٹراس 19ویں صدی میں متعدد افراد کی طرح امریکہ پہنچے جہاں انھوں نے اپنے نام بدل لیے۔
جیکوب ڈیوس بن گئے اور لوب نے اپنا نام لیوی سٹراس رکھ لیا۔
سنہ 1870 میں ڈیوس، جو پیشے کے اعتبار سے درزی تھے، کو ایک مضبوط اور پائیدار قسم کی پتلون بنانے کا کام ملا۔
انھوں نے اندازہ لگایا کہ اگر وہ اس پتلون کی سلائی میں ایک چھوٹے سے پیچ کا استعمال کر لیں تو اس کی پائیداری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کا یہ اندازہ درست ثابت ہوا۔
اس پتلون کی شہرت جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے جیکوب کو متعدد گاہک مل گئے جو بلکل ایسی ہی پتلون بنوانا چاہتے تھے۔
مانگ اتنی بڑھی کہ جیکوب نے سین فرانسسکو میں کپڑا فراہم کرنے والے لیوی سٹراس سے رابطہ کیا جنھوں نے کوئی موقع ضائع کیے بنا جیکوب کو اپنے شہر بلا لیا جہاں دونوں نے مل کر دنیا کی پہلی باقاعدہ جینز تیار کی۔
یہ بھی پڑھیے
آغاز میں انھوں نے دو رنگ کی جینز متعارف کروائی، ایک بھوری اور ایک نیلی۔ تاہم بھوری جینز کی زیادہ مانگ نہیں تھی۔
مؤرخ لن ڈاونی نے ’شارٹ ہسٹری آف ڈینم‘ میں لکھا کہ ’اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ نیلے رنگ کی جینز پہننے والوں نے مشاہدہ کیا کہ ہر بار جب پتلون کو دھوایا جاتا تو یہ پہلے سے زیادہ آرام دہ ہو جاتی تھی۔‘
اس کے باوجود اس بات کی وضاحت نہیں ہو سکتی کہ انھوں نے وہی رنگ کیوں استعمال کیا جو نمز کے جولاہوں نے کیا تھا۔
پہلی ڈینم انڈیگو فیرا نامی پودے کے رنگ سے رنگی گئی تھی۔ تاہم دیگر رنگوں کے برعکس جو زیادہ درجہ حرارت پر کپڑے کے اندر تک سرایت کر جاتے ہیں، یہ رنگ دھاگوں کے بیرونی حصوں تک ہی محدود رہا۔
جب ایک ڈینم کو دھویا جاتا ہے تو اس ڈائی یا رنگ کے ذرات بھی دھاگوں کے ساتھ ساتھ دھلتے ہیں لیکن یہ اتنا مضبوط کپڑا ہے کہ چند ذرات کی دھل جانے سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
الٹا یہ پہلے سے بہتر ہو جاتا ہے کیوں کہ آپ اسے جتنا زیادہ دھوئیں گے، یہ اتنا ہی نرم ہو گا۔ اور مزدوروں کے لیے ایک ایسا کپڑا نہایت اہم ہو گیا جو آرام دہ تھا لیکن نازک نہیں۔
اس کپڑے کی اسی خصوصیت نے، کہ یہ ہر کسی کے جسم کے حساب سے خود کو ڈھال لیتا ہے اور ایک طرح سے جسم کی دوسری جلد بن جاتا ہے، اسے دنیا بھر میں مقبول بنا دیا۔
ایک ایسا کپڑا جو عمر کے ساتھ ساتھ پہلے سے بہتر ہو جاتا ہے شاید ایک بہترین ایجاد تھی۔