آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نان بائنری ڈے: ’میں غیر روایتی جنسی کردار اپنانے میں اپنی والدہ پر گئی، عورت کا لیبل مجھ پر فٹ نہیں بیٹھتا تھا‘
10 سال قبل کیٹیا وان لون نے ایک بلاگ پوسٹ لکھی جس میں انھوں نے 14 جولائی کو نان بائنری ڈے منانے کی تجویز دی جو مردوں اور خواتین کے عالمی دنوں کے عین بیچ کی تاریخ بنتی ہے۔
نان بائنری کا لفظ ایسے افراد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو اپنی شناخت بطور مرد یا عورت نہیں کرتے۔ بی بی سی نامہ نگار میگھا موہن کے ساتھ انٹرویو میں کیٹیا نے بیان کیا کہ اس دن کا خواب، حقیقت بن جانا کتنا اہم ہے۔
ایک میم ہے جس کا مرکزی کردار ایک ایسا پرندہ ہے جس کو ساری زندگی پینگوئن کہہ کر پکارا جاتا ہے۔
ایک دن یہ پرندہ ڈاکٹر سے ملتا ہے جو اسے بتاتا ہے کہ ’تم پینگوئن نہیں ہو تم تو راج ہنس ہو۔‘ اس پرندے کو ایک دم سکون مل جاتا ہے اور اچانک اس کو اپنی زندگی کی سمجھ آ جاتی ہے۔
سنہ 2011 میں میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب میری عمر 20 کے لگ بھگ تھی۔
میری دادی کا انتقال ہوا تو ایک دن میں ان کے اپارٹمنٹ میں ان کی چیزیں سنبھال رہی تھی۔ اپنی توجہ کچھ دیر ہٹانے کے لیے میں نے انٹرنیٹ پر یوں ہی ادھر ادھر دیکھنا شروع کیا تو میں ایک ایسے وکی پیڈیا پیج پر جا پہنچی جو جنسی شناخت سے متعلق تھا۔
یہاں میں نے پہلی بار نان بائنری کی اصطلاح پڑھی۔ اس تحریر میں مجھے معلوم ہوا کہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو عام جنسی شناخت نہیں رکھتے، جو خود کو مرد اور عورت کے طور پر نہیں بلکہ اس شناخت سے باہر تصور کرتے ہیں۔
میں نے سوچا کہ یہ تو میں ہوں۔ میں نان بائنری ہوں اور مجھے آج تک معلوم ہی نہیں تھا کہ اس کیفیت کو کن الفاظ سے پکارا جاتا ہے۔ میں نے رونا شروع کر دیا۔ میں جانتی تھی کہ اب مجھے اپنے بوائے فرینڈ کو بتانا ہو گا۔
ہائی سکول میں ڈرامہ میرا سب سے پسندیدہ موضوع تھا۔ مجھے اس سے جڑی ہر چیز پسند تھی، حتیٰ کہ کلاس کے آخر میں ہیوی لفٹنگ بھی۔ مجھے ’ڈرامہ روم کی سب سے مضبوط لڑکی‘ کہا جاتا تھا اور سیٹ کی سب سے بھاری بھرکم اشیا کو اٹھانے کی ذمہ داری لڑکوں کے ساتھ مجھے سونپی جاتی تھی۔
تو بس لڑکوں کے ساتھ یہ کام کرتے میری شناخت وہاں موجود لڑکیوں سے کچھ مختلف انسان کے طور پر کر دی گئی لیکن حیران کن طور پر میرے لیے الگ ہونا اس وقت میں شرم سے زیادہ فخر کی بات تھی۔
کسی حد تک میں اپنی والدہ جیسی تھی۔ لوگ میری ماں کو ہینڈسم کہہ کر پکارتے تھے۔ مجھے کافی بعد میں سمجھ آئی کہ یہ تو ان کی تذلیل تھی کیوںکہ لوگ سمجھتے تھے کہ ان میں نسوانیت کی کمی ہے۔
وہ ایک اکیلی خاتون تھیں، جو وکیل بھی تھی اور پڑھائی کے پیشے سے بھی تعلق رکھتی تھیں۔ وہ سکول کی دیگر ماؤں جیسی نہیں تھیں۔ وہ گھر کے کام کاج اتنے ہی آرام سے کر لیتی تھیں جیسے وہ اپنے طلبا کو پڑھاتی تھیں یا پھر جیسے میرا خیال رکھتی تھیں۔
غیر روایتی جنسی کردار کو اپنانے میں، میں بالکل اپنی والدہ پر گئی لیکن میں کہیں اور ہی زندہ تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ مجھے صرف اپنا آپ لڑکی نما نہیں لگتا تھا یا میں لمبی تھی اور مجھ میں نسوانیت کی کمی تھی۔ معاملہ اس سے بڑا تھا، عورت کا لیبل مجھ پر فٹ نہیں بیٹھتا تھا۔
کینیڈا کے وینکوور کے مضافات اور اس کے بعد ہوائی میں پلتے بڑھتے میں ارسلا لیگوئن جیسی لکھاریوں کی تصوراتی کتابوں میں بسی خیالی دنیا کے ان کرداروں میں کھو گئی جن کی کوئی مخصوص جنسی شناخت نہیں ہوتی تھی۔
12 سال کی عمر میں خود میں نے بھی لکھنا شروع کر دیا اور میں اپنے خیالی سیارے تخلیق کرتی تھی۔ تقریبا ایک دہائی بعد میری ایک تحریر ایک سائنس فکشن ناول میں شائع ہوئی۔ ان تخیلاتی سلطنتوں کی تحریروں کے اندر میں کرداروں کی جنس سے کھیلا کرتی تھی اور ایسے کردار تخلیق کرتی تھی جن کی جنس مرد اور عورت کے درمیان تبدیل ہوتی رہتی تھی۔
میں ایک طرح سے آن لائن ہی بڑی ہوئی ہوں۔ چیٹ رومز میں مجھے ایسے لوگ ملے جو جنس پر بات کرتے تھے اور پھر 14 سال کی عمر میں بائی سیکشوئل کے طور پر کھل کر سامنے آئی۔ ایل جی بی ٹی کمیونٹی نے مجھے خوش آمدید کہا اور مجھے محسوس ہوا کہ میں انہی میں سے ایک ہوں۔
20 برس کی عمر میں مجھے اپنے بوائے فرینڈ نیتھن سے پیار ہو گیا لیکن اس کی ایک قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔ میرے خیال میں ایل جی بی ٹی کمیونٹی کسی بھی ایسے فرد کو باہر نکالنے میں دیر نہیں کرتی جو بائی سیکشوئل کے طور پر شناخت رکھتا ہو اور کسی مرد سے تعلق رکھے۔ لوگ پھر فرض کر لیتے ہیں کہ آپ کی شناخت تو روایتی ہے اور وہ آپ کو ایک ایسے فرد کے طور پر سمجھتے ہیں جو ان کی مشکلات کو نہیں سمجھتا اور ان کی تقریبات میں آپ کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔
جب میں نے اس وکی پیڈیا پیج پر نان بائنری شناخت کی تعریف پڑھی تو میں سب سے پہلے نیتھن کو بتانا چاہتی تھی لیکن مجھے ڈر لگ رہا تھا۔
جب میں اس دن ان سے ملی تو میں نے جلدی سے کہا کہ ’میں نان بائنری ہوں۔‘
پھر ایک وفقہ تھا۔
اس نے سوال کیا ’تو پھر کیا تبدیل ہو رہا ہے؟‘
ایک اور وقفہ۔
میں نے جواب دیا ’شاید کسی وقت میں مختلف نام سے پہچانی جاؤں۔‘
اس نے پوچھا کہ کیا میں ٹرانس جینڈر ہوں۔ کیا میں جسمانی ہیئت میں تبدیلی کے بارے میں سوچ رہی ہوں؟
میں نے کہا ’نہیں ایسا نہیں۔‘
اس نے کہا کہ ’چلو پھر میں سمجھنے کی کوشش کروں گا لیکن میری یادداشت اتنی اچھی نہیں۔‘
ہم دونوں ہنس دیے تھے اور تناو کم ہو گیا تھا۔ میں نے اس کو سمجھایا کہ کس طرح مجھے ہمیشہ ایک دوسرے شخص کا درجہ دیا گیا اور اب میرے پاس اپنے لیے ایک لفظ ہے اور میں بہتر محسوس کر رہی ہوں۔
اس کے کچھ ہی وقت کے بعد ہماری منگنی ہوئی اور سنہ 2015 میں ہماری شادی ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیے
بہت عرصے تک میں مختلف طریقے سے شناخت کرتی رہی۔ یہ ایسے الفاظ تھے جو صنفی اعتبار سے نیوٹرل تھے جن کو آن لائن استعمال کیا جا رہا تھا۔
میں ’ان‘ کا یا ’انھوں‘ کے لفظ کا استعمال پسند کرتی تھی لیکن پھر میں اس کا استعمال ناپسند کرنے لگی۔ ایک مصنف کے طور پر میں زبان کو بہت سنجیدہ لیتی ہوں اور میں نے بہت سی تحریریں پڑھی ہیں جن میں لوگوں نے انھوں کا لفظ استعمال کیا لیکن اس سے یہ سمجھ نہیں آتی کہ وہ کسی فرد کی بات کر رہے ہیں یا پھر گروہ کی۔ کچھ نے مؤقف اپنایا ہے کہ شیکسپیئر نے بھی ایسے ہی الفاظ کا باقاعدگی سے استعمال کیا، جس پر میرا جواب ہوتا ہے کہ بہت کم لوگ ہی شیکسپیئر جتنا اچھا لکھ سکتے ہیں۔
بلاآخر بچپن کا تصوراتی تحریروں سے لگاؤ میرا کیریئر بن گیا اور یہ صنفی شناخت سے باہر ایک تخیل کی دنیا بھی تھی۔ ’سٹرینجر سکائیز‘ نامی کتاب میں، میں نے ایک ایسی دیوی کے بارے میں لکھا جو ایک ایسے سیارے پر آن گرتی ہے جہاں فزکس یا بائیولوجی کے اصول موجود نہیں۔
یہ دیوی دریافت کرتی ہے کہ اس دنیا میں یا تو آپ مرد ہیں یا عورت لیکن کوئی بھی فرد ایک مذہبی تقریب کے ذریعے اپنا جسم بدل سکتا ہے۔ اس سے ہم جنس افراد بچے پیدا کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ اپنی تحریروں میں ایسے خیالات سے کھیل کر میں بہت محظوظ ہوتی ہوں۔
جس سال میں نے بطور نان بائنری اپنی شناخت کی، میں نے 153 الفاظ پر مشتمل ایک بلاگ پوسٹ لکھی جس میں ایک عالمی نان بائنری دن کی ضرورت پر زور دیا۔ میں نے لکھا کہ اسے جولائی میں ہونا چاہیے تاکہ یہ مردوں اور عورتوں کے عالمی دن کے بیچ میں ہو۔ اس وقت اس بلاگ پر چند ہی تبصرے ہوئے تھے۔
پھر میں اس کو بھول گئی اور مجھے اس وقت یہ یاد آیا جب میں نے دیکھا کہ عالمی نان بائنری دن 14 جولائی کو ہی منایا جا رہا ہے، وہی دن جس کا مشورہ میں نے دیا تھا۔ اسے ہیومن رائٹس کییمپین سٹون وال، برطانیہ کی پارلیمنٹ کی ویب سائٹ اور ڈکشنری ڈاٹ کام پر بھی منایا جا رہا تھا۔ کچھ لوگوں نے میرے بلاگ کا حوالہ دیا لیکن صرف نان بائنری وکی پیڈیا پیج پر اس تاریخ کا سہرا مجھے دیا گیا۔ اس سے مجھے افسوس ہوا۔ کچھ تھوڑا سا میرے بلاگ کا اعتراف کر لیا جاتا تو اچھا ہوتا۔
اب میری زندگی میں تبدیلی آ چکی ہے۔ میں اپنے آپ سے آرام دہ ہوں۔ اب مجھے اس بات سے کم فرق پڑتا ہے کہ لوگ مجھے کس نام سے پکارتے ہیں۔ میں پہلے اس بات کے حق میں تھی کہ شناختی کارڈ یا ڈرائیور لائسنس پر کوئی ایسی تیسری جنسی شناخت ہونی چاہیے جیسے ارجنٹائن، آسٹریلیا اور انڈیا میں ہے یا جیسا جنوبی افریقہ میں تجویز کیا گیا۔
لیکن اب مجھے اتنا یقین نہیں۔ کیا میں یہ چاہوں گی کہ ایک جنسی اقلیت کی معلومات کسی ایسی جگہ اکھٹی کی جائیں جہاں سے حکومتیں اسے آرام سے حاصل کر سکیں؟ بالکل نہیں۔ مجھے بیوروکریسی پر اعتماد نہیں۔ میں دیکھ سکتی ہوں کہ کچھ ممالک میں ایسا چند لوگوں کے لیے کیوں اہم ہو گا لیکن میرے لیے نہیں۔
میں اب آن لائن بھی بہت کام وقت گزارتی ہوں۔ میں انٹرنیٹ کے بہت آزاد خیال یا پھر نہایت قدامت پسند کونوں کھدروں میں اچھا محسوس نہیں کرتی۔ وہ خود کو کھا رہے ہیں، وہ انتظار میں ہوتے ہیں کہ کوئی غلط بات کرے۔ ہم اسے کال آؤٹ کلچر کہتے تھے لیکن اب اس کے اور سر نکل آئے ہیں، یہ تو حیوان بن چکا ہے جس سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔ ان لوگوں کو تو بالکل بھی نہیں جو کمزور ہیں اور کسی جگہ سے جڑنا چاہتے ہیں لیکن وہ جانتے ہیں کہ وہ کچھ بھی غلط کہیں گے تو ان کو باہر نکال دیا جائے گا۔
میں سوچ سکتی ہوں کہ آپ کیا سوچ رہی ہیں۔ نان بائنری ہونے کا مقصد کیا ہے اور کیا اس کا عالمی دن ہونا ضروری بھی ہے؟
بالکل ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں خود کو پوشیدہ محسوس کرتے ہیں جس کو اب تک یہ سمجھ ہی نہیں کہ ہم کون ہیں۔ تو ایک ایسا دن جو ہماری موجودگی کا احساس دلاتا ہے، بہت اچھا لگتا ہے۔ کیا ہمیں اس دن گلیوں میں نکل کر مارچ کرنا چاہیے؟ نہیں۔۔۔ لیکن اگر کوئی مجھے پھول دے گا تو مجھے اچھا لگے گا۔
میرے خیال میں نان بائنری کہلانا اپنے لیے بہت ضرروی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ میرے پاس یہ لفظ ہو جس سے میں اپنی شناخت کروا سکوں اور خود کو جاننے سے میں بہتر محسوس کر سکتی ہوں۔
میں چاہتی ہوں کہ لوگ بھی اپنے آپ سے خوش رہیں اور اگر ایک دن منانے سے آپ کو خوشی ملتی ہے تو بہت اچھی بات ہے۔ دس سال پہلے ایک بلاگ کا اس سے اچھا نتیجہ اور کیا ہو سکتا تھا۔