اسرائیل کا لبنان میں ’محدود زمینی کارروائی‘ کا منصوبہ، امریکہ کو مطلع کر دیا گیا

ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے لبنان میں محدود زمینی کارروائی کے منصوبے کے بارے میں امریکہ کو مطلع کیا ہے جو پیر سے شروع ہوسکتی ہے۔

خلاصہ

  • لبنان میں حکام کے مطابق اتوار کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 105 افراد ہلاک اور 359 زخمی ہوئے۔
  • سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل پر پنجاب میں الیکشن ٹربیونلز سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
  • سپریم کورٹ کے جج جسٹس منیب اختر نے سپریم کورٹ میں آئین کے ارٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیلوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں شمولیت سے انکار کردیا ہے۔
  • لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے مسلسل فضائی حملوں کی وجہ سے لبنان بھر میں دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    29 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. لبنان کے حوالے سے امریکہ کی ’طویل مدتی حکمت عملی‘ کیا ہے؟

    امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے اپنی پریس کانفرنس میں بار بار مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔

    انھوں نے ایک سوال کے جواب پر کہا کہ امریکہ کی توجہ 21 روزہ جنگ بندی کی سفارتی کوششوں پر ہے۔

    ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل کے لیے یہ درست ہوگا کہ وہ سفارتی سطح پر بات چیت کے دوران فوجی مہم جاری رکھے۔

    میتھیو ملر نے جواب دیا کہ ’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بعض اوقت فوجی دباؤ سفارتکاری میں آسانی پیدا کرتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ فوجی دباؤ سے غلطی سرزد ہوسکتی ہے اور انچاہے نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔‘

    ’یہ وہ فیصلے ہیں جو انھیں (اسرائیل کو) کرنے ہیں۔‘

    لبنان سے متعلق امریکہ کی طویل مدتی حکمت عملی کے بارے امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ لبنان کے اقتدار میں خلا ہے کیونکہ حزب اللہ کے پاس نئے صدر کے انتخاب کے لیے اثر و رسوخ ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ حزب اللہ کے اسی اثر و رسوخ کی بدولت ملک آگے نہیں بڑھ پایا۔ انھوں نے اقوام متحدہ کی قرارداد کا حوالہ دیا جس میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    میتھیو ملر کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ لبنان کے عوام اپنے مستقبل کا خود انتخاب کریں اور ’ایک دہشتگرد تنظیم کے ہاتھوں یرغمال نہ بنیں۔‘

    میتھیو ملر سے پوچھا گیا کہ آیا امریکہ نے لبنان میں اسرائیل کی زمینی کارروائی کے منصوبے کے خلاف ’سرخ لکیر‘ کھینچی ہے یا انھیں اس کی کامیابی کے حوالے سے کوئی اندازہ ہے۔

    اس پر انھوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ فوجی کارروائی سے متعلق امریکہ کی ’نجی گفتگو‘ بیان نہیں کر سکتے۔

    انھوں نے زور دیا کہ امریکہ اس لڑائی کا سفارتی حل چاہتا ہے۔

  3. اسرائیل کا لبنان میں ’محدود زمینی کارروائی‘ کا منصوبہ، امریکہ کو مطلع کر دیا گیا

    اسرائیل نے لبنان میں ’محدود زمینی کارروائی‘ کے بارے میں امریکہ کو مطلع کر دیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے لبنان میں محدود زمینی کارروائی کے منصوبے کے بارے میں امریکہ کو مطلع کیا ہے جو پیر سے شروع ہوسکتی ہے۔

    دوسری طرف واشنگٹن ڈی سی میں پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ لبنان میں اسرائیل کی محدود زمینی کارروائی کے منصوبے سے آگاہ اور مطمئن ہیں؟ اس پر بائیڈن نے جواب دیا کہ ’میں آپ کی سوچ سے زیادہ آگاہ ہوں اور میں ان کے رُکنے پر مطمئن ہوں گا۔ ہمیں فوراً جنگ بندی چاہیے۔‘

    امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا ہے کہ امریکہ دہشتگردی کے خلاف اسرائیل کے حق دفاع کی حمایت کرتا ہے مگر مشرق وسطیٰ کے بحران کا ’سفارتی حل‘ چاہتا ہے۔

    اسرائیل کی لبنان میں محدود زمینی کارروائی سے جڑے سوال پر ملر نے کہا کہ اسرائیل سے اس کی کارروائیوں پر ’بات چیت ہوئی ہے‘۔ انھوں نے تصدیق کی کہ اسرائیل نے لبنان سرحد کے قریب ’محدود کارروائیوں‘ کے بارے میں امریکہ کو مطلع کیا ہے۔

    تاہم انھوں نے کہا کہ اسرائیل خود اپنی فوجی کارروائیوں پر بات کرے گا۔

    ادھر عسکری تنظیم حزب اللہ کے نائب سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کی زمینی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ جبکہ یمن میں حوثیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے خلاف عسکری کارروائیاں تیز کی جائیں گی۔

    اسرائیل کے وزیر دفاع نے لبنان سرحد پر اسرائیلی فوجی دستوں کو بتایا ہے کہ وہ اپنی افواج کو ’فضا، سمندر اور زمینی‘ راستے سے استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    لبنان میں حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ایک ہزار سے زیادہ ہلاک ہوئے ہیں جبکہ قریب 10 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

  4. بلوچستان میں سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر کے لیے فنڈز ’وفاق نے اپنی جیب میں رکھ لیے‘: بلاول کا دعویٰ, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    ،ویڈیو کیپشنسنہ 2022 کے سیلاب متاثرین اب بھی مدد کے منتظر: ’دن میں دس مرتبہ اپنے گھر کے لیے روتے ہیں‘

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے بلوچستان میں سیلاب متاثرین کے مکانات کی تعمیر کے لیے ملنے والی رقوم ’اپنی جیب میں رکھ لیں۔‘ انھوں نے تاحال بلوچستان میں سیلاب متائثرین کے گھروں کی تعمیر کے لیے اقدامات نہ ہونے پر ناراضی کا اظہار کیا۔

    پیر کے روز اپنے دورۂ کوئٹہ کے موقع پر وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں سیلاب متاثرین میں امدادی چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے ایڈووکیسی کر کے ورلڈ بینک سے بلوچستان میں سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر کے لیے چار سو ملین ڈالر کا قرض لیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ’یہ ڈالر اپنے جیب میں رکھ کر بلوچستان کو روپے کی شکل میں دینے کا کہا اور یہ بھی کہا کہ وہ یہ رقم خود خرچ کرے گی۔‘

    تاحال وفاقی حکومت کی طرف سے اس الزام پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا ہے۔

    بلاول کا دعویٰ ہے کہ وفاقی حکومت نے 2022 سے لے کر اب تک بلوچستان میں ’ایک گھر بھی نہیں بنایا لیکن یہ کہا جاتا ہے کام نہ ہونے پر میں یہاں آ کر واہ واہ کروں۔‘

    انھوں نے بلوچستان حکومت کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکومت سے جا کر بات کرے اور انھیں کہے کہ وہ یہ رقم دیں تاکہ حکومت بلوچستان گھروں کی تعمیر کا کام پہلی ترجیح کے طور پر شروع کرے۔

    ،ویڈیو کیپشنبلوچستان میں سیلاب کے اثرات: ’قرض واپس نہ کر سکے تو بیٹی کو بیچ دیا‘

    بلاول نے وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں متاثرین کی کم تعداد کو دیکھ کر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں تھوڑے سے لوگوں کو چیک دے رہے ہیں۔ ’گوادر میں اور نصیرآباد میں جو بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ان کا کیا ہوگا؟‘

    انھوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت موسمیاتی تبدیلی کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’اگر پہلے ملنے والی رقم خرچ ہوتی اور اس بین الاقوامی امداد کے ساتھ وفاقی اور بلوچستان کی حکومتیں بھی اپنا حصہ ڈالتے تو ہم بین الاقوامی اداروں سے مزید امداد حاصل کرتے۔‘

    یہ بھی پڑھیے

    بلاول بھٹوزرداری نے تسلیم کیا کہ پاکستان کے وسائل ’کم ہیں اور بلوچستان کے اس سے بھی کم ہیں۔ اس لیے متاثرین کے گھر ایسے بنا دیے جائیں تاکہ وہ دوبارہ پھر امداد کے لیے کھڑے نہیں ہوجائیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ وفاق کو خبردار کرتے ہیں کہ آئندہ جب بھی کوئی آفت آئے گا اور ہم جب بین الاقوامی اداروں کے پاس جائیں گے تو ’ہمارا ماضی کا ریکارڈ دیکھیں گے لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ ہمارا ماضی کا ریکارڈ اتنا اچھا نہیں رہا۔‘

    خیال رہے کہ بلاول کی جماعت پیپلز پارٹی کو شہباز شریف حکومت کی اتحادی جماعتوں میں شمار کیا جاتا ہے مگر یہ کابینہ کا حصہ نہیں ہے۔

  5. ’مجھے یقین ہے وہ زندہ ہیں‘: حسن نصراللہ کی موت کے بعد حزب اللہ کے حامی صدمے کا شکار, نفیسہ کہناوارد، بی بی سی فارسی

    حزب اللہ، اسرائیل

    ہم بیروت میں اپنی کوریج میں مصروف تھے کہ ایک شخص نے ہمیں ٹوکا اور حزب اللہ کے ہلاک ہونے والے سربراہ حسن نصراللہ کی تصویر دکھا کر کہنے لگا ’ہمارے پاس کہنے کو بچا کیا ہے، ہمارے رہنما چلے گئے اور ہم یتیم ہوگئے۔‘

    جب میں نے ان سے ان کا نام پوچھا تو انھوں نے جواب دیا: ’ہم شیعوں کا اب کوئی نام نہیں ہے۔‘

    لیکن حسن نصراللہ کے تمام حامی یہ نہیں مانتے کہ وہ مارے جا چکے ہیں اور اس حوالے سے لبنان میں سازشی نظریات بھی گردش کر رہے ہیں۔

    جنوبی لبنان سے اپنا گھر چھوڑ کر بیروت کے ایک سکول میں پناہ لینے والی 55 سالہ خاتون جہان کہتی ہیں کہ ’مجھے یقین ہے کہ وہ (حسن نصراللہ) زندہ ہیں۔ یہ سب جنگی حکمت عملی ہے اور وہ دشمن کو دھوکہ دے رہے ہیں۔‘

    ان کی پڑوسی امل بھی ایسے ہی خیالات رکھتی ہیں۔ ہم نے انھیں بتایا کہ حزب اللہ نے حسن نصراللہ کی موت کی تصدیق کر دی ہے اور سوگ کا اعلان کیا ہے، لیکن اس کے باوجود بھی یہ لوگ اپنی رائے پر قائم ہیں۔

    ان کا ماننا ہے کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ اسرائیل نے حسن نصراللہ کو ہلاک کر دے اور حزب اللہ اور اس کا حامی ایران فوراً کوئی ’بڑا انتقام‘ نہ لے۔

  6. ’اسرائیل آپ کے ساتھ کھڑا ہے‘: وزیراعظم نتن یاہو کا ایرانی عوام کو پیغام

    اسرائیل، ایران

    ،تصویر کا ذریعہIsraeli government

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے ایک ویڈیو میں ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے رہنما غزہ اور لبنان کے دفاع پر تقریریں تو کر رہے ہیں لیکن ’ہر گزرتے دن کے ساتھ (ایرانی) حکومت ہمارے خطے کو گہری تاریکی اور گہری جنگ میں دھکیل رہی ہے۔‘

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی تین منٹ کی ویڈیو میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں اسرائیل نہیں پہنچ سکتا، کوئی ایسا مقام نہیں جہاں ہم اپنے لوگوں اور ملک کی حفاظت کے لیے نہیں جا سکتے۔‘

    انھوں نے ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’ہر گزرتے لمحے کے ساتھ (ایرانی) حکومت معزز فارسی عوام کو تباہی کے قریب لے جا رہی ہے۔‘

    نتن یاہو نے مزید کہا جب ایران ’بالآخر آزاد ہوجائے گا‘ تو سب کچھ بدل جائے گا اور دونوں قومیں امن سے رہ سکیں گے۔

    اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’جنونی ملاؤں کو اپنی امیدیں اور خواب کچلنے نہ دیں، آپ بہتری کے مستحق ہیں۔‘

    ’ایرانی عوام جان لیں کہ اسرائیل آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم ساتھ مل کر خوشحال اور پُرامن مستقبل دیکھیں گے۔‘

  7. سحمر میں اسرائیلی حملے میں چھ پیرامیڈکس ہلاک ہوئے، لبنانی وزرات صحت

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ سحمر میں اسرائیلی حملے میں طبی عملے کے چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مغربی البقاع کے علاقے سحمر میں اسرائیل نے ایمبولینسوں کو نشانہ بنایا تھا۔

    وزارت صحت نے ایک اور بیان میں کہا ہے کہ ہرمل کے علاقے میں گذشتہ رات ہونے والے حملے میں 12 افراد ہلاک جبکہ 20 زخمی ہوئے ہیں۔

  8. اسرائیل حزب اللہ کو زمینی حملے پر سوچنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے, پال ایڈمز کا تجزیہ

    اس کے اشارے گذشتہ کچھ دنوں سے مل رہے تھے۔

    اسرائیلی ٹینک لبنانی سرحد کے قریب موجود تھے، اگرچہ محدود تعداد میں فوج کے ریزرو دستوں کو بھی بلا لیا گیا تھا اور اسرائیل کے اعلیٰ جرنیلوں نے فوجیوں کو کہہ دیا تھا کہ حزب اللہ کے مضبوط گڑھ پر حملہ کرنے کی تیاری کر لیں۔

    اسرائیلی فوج کی شمالی کمان کے سربراہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے اندر ایک بفر زون کے قیام کے حامی ہیں، تاکہ حزب اللہ کے جنگجوؤں اور انفراسٹرکچر کو سرحد سے دور کیا جا سکے اور اسرائیل کی تقریباً ایک سال قبل بے دخل کیے گئے 60,000 شہریوں کو گھروں میں واپس جانے کی اجازت دی جائے۔

    پیر کو اسرائیلی وزیر دفاع، یوآو گیلانٹ نے شمال میں فوجیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ’ہوا، سمندر اور زمین سے دستیاب تمام وسائل‘ استعمال کرے گا۔

    وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی سپیشل فورسز کی چھوٹی ٹیمیں ممکنہ طور پر کئی مہینوں سے سرحد کے پار چھوٹی کارروائیاں کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ عرصے سے افواہیں گردش کر رہی ہیں۔

    کچھ عرصہ قبل الجزیرہ نے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیلی فورسز نے العباسیہ، حروف اور بیداس پر کارروائیاں کی ہیں، یہ تمام آبادیاں جنوبی لبنان کے اندر ہیں اور اسرائیل کے ساتھ ملحقہ سرحد سے بہت دور ہیں۔

    ابھی تک اسرائیلی توپ خانے کے سرحد پار کرنے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ الجزیرہ نے جن کارروائیوں کی اطلاع دی ہے وہ ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے مارے گئے تھے۔

    لیکن اسرائیل واضح طور پر یہ چاہتا ہے کہ حزب اللہ یہ سوچنے پر مجبور رہے کہ زمینی حملے ہونا والا ہے۔

  9. بریکنگ, ’ہم فضائی، بحری اور بری ہر طاقت کا استعمال کریں گے‘: اسرائیلی وزیر دفاع

    Israel

    ،تصویر کا ذریعہIDF

    اسرائیلی وزیر دفاع یوآوو گیلانٹ کا کہنا ہے کہ ’حزب اللہ کے سربراہ کا خاتمہ بہت اہم پیش رفت ہے لیکن بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔‘

    پیر کو لبنانی سرحد کے قریو اسرائیلی فوجی جوانوں سے ملاقات کے دوران اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’ہم شمالی اسرائیل کے بے گھر شہریوں کو دستیاب تمام وسائل و اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے واپس ان کے گھروں میں بھیجیں گے۔‘

    ان کے دورہ کی ایک مختصر ویڈیو میں انھیں فوجی جوانوں کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’ہم تمام وسائل استعمال کریں گے اور اگر دوسری جانب کوئی یہ نہیں جانتا کہ تمام وسائل کیا ہیں تو اس کا مطلب تمام دستیاب وسائل ہیں۔‘

    انھوں نے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اور آپ لوگ اس جدوجہد کا حصہ ہیں اور ہمیں آپ کی صلاحیتوں پر یقین ہے کہ آپ کچھ بھی کامیابی سے حاصل کر سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر سب کچھ کرنے کی ضرورت پڑی تو ہم کریں گے، اور ہم زمین، فضا اور سمندر میں موجود تمام قوت کو استعمال کریں گے۔‘

  10. حزب اللہ اسرائیل کے زمینی حملے کے لیے تیار ہے: حزب اللہ کے نائب سربراہ

    نعیم قاسم

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حزب اللہ کے نائب سربراہ نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ تنظیم جلد ہی حسن نصراللہ کی جگہ اپنے نئے سربراہ کو منتخب کر لے گی۔

    حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ جمعے کو ایک اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔

    نعیم قاسم کا کہنا تھا کہ اب حزب اللہ اسرائیل کے زمینی حملے کے لیے تیار ہے اور ہم اسرائیل کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ حزب اللہ کے نائب سربراہ کا کہنا ہے کہ گروہ اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا تاہم انھوں نے ان حملوں کو فی الوقت ’محدود‘ قرار دیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ جنگ طویل ہو گی۔

    انھوں نے اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے کہا ’صبرو تحمل‘ کا مظاہرہ کریں۔

  11. اسرائیل کے ’مجرمانہ اعمال‘ کا جواب دیا جائے گا: ایران

    ایران، اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے ’مجرمانہ اعمال‘ کا جواب دے گا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تہران میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دروان ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی کا کہنا تھا کہ ایران جنگ تو نہیں چاہتا لیکن وہ اس سے ڈرتا بھی نہیں ہے۔

    خیال رہے جمعے کو جنوبی بیروت میں اسرائیلی حملوں میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ سمیت تنظیم کی متعدد نمایاں شخصیات ہلاک ہوئی تھیں۔ اسی حملے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک سینیئر افسر بھی ہلاک ہوئے تھے۔

    اس حملے کے بعد ایرانی رہبرِ اعلیٰ نے بھی کہا تھا کہ اسرائیل سے ’انتقام‘ لیا جائے گا۔

  12. توشہ خانہ کا نیا کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی درخواستِ ضمانت مسترد, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کے نئے کیس میں درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی ہے۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت پر سماعت سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کی۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی اور عمیر مجید اپنی ٹیم کے ساتھ پیش ہوئے جبکہ عمران خان اور بشری بی بی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر، انتظار پنجوتھہ اور خالد یوسف چودھری پیش ہوئے۔

    پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان نے سعودیہ سے ملنے والا 7 کروڑ مالیت کا قیمتی سیٹ 29 لاکھ میں حاصل کیا۔

    پراسیکیوشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ نیب نے فارن آفس کے ذریعے سعوریہ سے بلغاری سیٹ کی اصل قیمت حاصل کرلی ہے، اس سیٹ میں نیک لیس، ایئر رنگز، بریسلٹس اور انگوٹھی شامل ہیں۔

    ایف آئی اے پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ’ریکارڈ کے مطابق دونوں آئٹمز کی قیمت 7 کروڑ 15 لاکھ روپے ہے۔ ملزمان نے بلغاری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کرایا۔ ملزمان نے پرائیویٹ فرم سے بلغاری سیٹ سمیت چار اشیا کی قیمت صرف 58 لاکھ روپے لگوائی، جس میں اٹھائیس لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کروائے گئے۔‘

    ایف آئی پراسیکیوشن ٹیم نے عدالت سے ملزمان کی درخواست ضمانت خارج کرنے کی استداء کی انھوں نے کہا کہ ملزمان پہلے بھی دو مقدمات میں سزا یافتہ ہیں اور اس میں جو گواہان پیش کیے گئے اور انھوں نے جو بیان دیے انھیں جھٹلایا نہیں گیا۔

    وکلاء صفائی نے درخواست ضمانت خارج کرنے کی استداء کی مخالف میں دلائل دئیے۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    ایک مختصر وقفے کے بعد عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کی درخواست ضمانت خارج کردی۔

    عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر دو اکتوبر کو توشہ خانہ کے نئے کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

    جرم ثابت ہونے پر اس مقدمے میں 25 سال قید کی سزا ہے۔

  13. آرٹیکل 63 اے کی تشریح: جسٹس منیب اختر کا سماعت کرنے والے بینچ میں شمولیت سے انکار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس منیب اختر نے سپریم کورٹ میں آئین کے ارٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیلوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں شمولیت سے انکار کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے ان اپیلوں کی سماعت کرنے والے بینچ نے پیر کے روز سماعت نہیں کی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں ان اپیلوں کی سماعت کے لیے پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔ تاہم پیر کے روز جب ان اپیلوں کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس منیب اختر کمرہ عدالت میں نہیں آئے اور ان کی کرسی خالی تھی۔

    چیف جسٹس نے بتایا کہ رجسٹرار آفس کو جسٹس منیب اختر کا خط موصول ہوا ہے۔ جس میں انھوں نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم کے بعد مقدمات کی سماعت کے لیے بینچز کی تشکیل کے لیے کمیٹی کی تبدیلی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’یہ نہ سمجھا جائے کہ میں نے بینچ سے علیحدگی اختیار کی ہے بلکہ میں اس بارے میں جواب دینے کا مکمل حق رکھتا ہوں۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’جسٹس منیب اختر سپریم کورٹ میں ہی ہیں اور ہم ان سے درخواست کریں گے کہ وہ اس بینچ میں شامل ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگر جسٹس منیب اختر اس بینچ کا حصہ نہیں بنتے تو پھر پریکٹس اینڈ پروسیجر کے تحت سپریم کورٹ کی تین رکنی کمیٹی دوبارہ بیٹھے گی اور نیا بینچ تشکیل دینے سے متعلق فیصلہ کرے گی۔

    ان اپیلوں کی سماعت اب منگل کو ہوگی۔

  14. حماس کی لبنان میں اپنے رہنما کی ہلاکت کی تصدیق

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس نے کہا ہے کہ لبنان میں اُن کے رہنما فتح شریف ابو الامین جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں اپنے خاندان کے کچھ افراد سمیت ہلاک ہو گئے ہیں۔

    حماس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فتح شریف ابو الامین جنوبی لبنان میں الباس کیمپ میں واقع اپنے گھر پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہوئے۔

    لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے نے جنوبی شہر صور کے قریب واقع کیمپ پر فضائی حملے کی اطلاع دی ہے۔ اگرچے غزہ کو حماس کا مرکز سمجھا جاتا ہے تاہم لبنان میں عسکریت پسند گرو حزب اللہ کے ساتھ بھی اس کا الحاق ہے۔

    یاد رہے کہ غزہ میں عسکریت پسند گروہ حماس اور لبنان میں موجود حزب اللہ دونوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مشرقی لبنان کے علاقے بیکا میں رات گئے فضائی حملے کیے ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں درجنوں راکٹ لانچرز اور عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ لبنان میں اب جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے وہاں حزب اللہ کی جانب سے ہتھیاروں کو ذخیرہ کیا جاتا تھا۔

  15. بیروت میں اسرائیلی حملے میں 105 افراد ہلاک، تین سو سے زائد زخمی

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 105 افراد ہلاک اور 359 زخمی ہوئے۔

    لبنان کے وزیر اعظم نے اتوار کے روز کہا تھا کہ موجودہ تنازعے نے پہلے ہی ملک بھر میں دس لاکھ افراد بے گھر ہو چُکے ہیں۔

    رات گئے بیروت کے ضلع کولا میں ایک کثیر منزلہ عمارت کو نشانہ بنایا گیا، یہ بیروت کے وسط میں پہلا اسرائیلی حملہ معلوم ہوتا ہے، اس سے قبل جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین (پی ایف ایل پی) کا کہنا ہے کہ اس حملے میں اس کے تین رہنما ہلاک ہوئے۔ (واضح رہے کہ پی ایف ایل پی جسے امریکہ اور یورپی یونین ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں، لیکن یہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی رکن بھی ہے، جو اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کے سرکاری نمائندے کے طور پر تسلیم شدہ اتحاد ہے)۔

    اتوار کے روز اسرائیل نے یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملے بھی کیے تھے۔ حوثی جنگجوؤں کے زیرِ انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ حدیدہ کی بندرگاہ پر فضائی حملوں میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 29 زخمی ہوئے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملے حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر کیے جانے والے حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

  16. الیکشن کمیشن کی درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ: حاضر سروس ججز کی الیکشن ٹربیونل میں تعیناتی کا نوٹیفکیشن کالعدم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل پر پنجاب میں الیکشن ٹربیونلز سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے 8 حاضر سروس ججز کی بطور الیکشن ٹربیونل تعیناتی کے نوٹیفکیشن کو بھی کالعدم قرار دے دیا ہے۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ جب الیکشن کمیشن اور لاہور ہائیکورٹ کے درمیان اس ضمن میں معاملات طے پاچکے ہیں تو پھر ایسے فیصلوں کی ضرورت نہیں رہتی۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ اگر یہ مشاورت پہلے ہوجاتی تو بہتر ہوتا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئینی اداروں میں باہمی احترام کا رشتہ ہونا چاہیے اور عوام ان اداروں میں بیٹھے ہوئے افراد سے یہی توقع کرتے ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک پانچ رکنی لارجر بینچ نے پیر کو متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ فیصلے کی روشنی میں لاہور ہائی کورٹ کے 8 ججز کی بطور الیکشن ٹربیونل تعیناتی کے نوٹیفکیشن کو بھی کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کو عدالتی نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔

    الیکشن کمیشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یاد رہے کہ 12 جون سنہ 2024 کو اس وقت کے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ملک شہزاد خان نے الیکشن کمیشن سے مشاورت کیے بغیر چھ مذید ججز کو الیکشن ٹربیونلز میں تعینات کیا تھا۔ ان میں جسٹس انوار حسین کو لاہور، جسٹس شاہد کریم کو گوجرانوالہ، گجرات، منڈی بہاوالدین، نارووال اور حافظ آباد کے الیکشن کے معاملات دیکھنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

    جسٹس چوہدری محمد اقبال کو چنیوٹ، ٹونہ ٹیک سنگھ، پاک پتن، اوکاڑہ سرگودھا اور خوشات جبکہ جسٹس مرزا وقاص رؤف کو روالپنڈی، جہلم، اٹک اور چکوال میں الیکشن کے معاملات دیکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ جسٹس سلطان تنویر کو قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور سیالکوٹ کے انتخابی حلقوں کے معاملات دیکھنا تھے جبکہ جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر ڈیرہ غازی خان، لیہ، مظفر گڑھ اور راجن پور کے انتحابی حلقوں کے معاملات نمٹانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے سے پہلے وفاقی حکومت نے ایک آرڈیننس کے تحت الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرکے الیکشن کمیشن کو الیکشن ٹربیونلز کی تعیناتی کا اختیار دیا تھا۔

  17. آرٹیکل 63 اے کی تشریح: سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی اپیل پر سماعت آج ہوگی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل کی سماعت آج کرے گا۔

    اس پانچ رکنی بینچ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے علاوہ جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل ہیں۔

    سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے مئی 2022 میں آئین کے ارٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلہ سنا دیا جس میں کہا گیا ہے کہ منحرف رکن اسمبلی کا پارٹی پالیسی کے برخلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں ہوگا جبکہ تاحیات نااہلی یا نااہلی کے معیاد کا تعین پارلیمان کرے۔

    سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے 17 مئی 2022 کو آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلہ 2 کے مقابلے میں 3 کی برتری سے سنایا۔

    یہ اکثریتی فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا تھا سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال،مستعفی ہونے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر نے اپنے اکثریتی فیصلے میں کہا کہ منحرف رکن کا دیا گیا ووٹ شمار نہیں کیا جائے جبکہ اس پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے فیصلے سے اختلاف کیا۔

    سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اس وقت کی پی ڈی ایم حکومت میں شامل جماعتوں نے نظرثانی کی اپیل دائر کی تھی جو ایک سل سے بھی زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی۔

    سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے فلور کراسنگ کو روکنے کے لیے سپریم کورٹ میں آئین کی دفعہ 63 اے کی تشریح کے لیے فروری 2022 میں صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔ جس میں 4 سوالات اٹھائے گئے تھے۔

    اس صدارتی ریفرنس میں سوال نمبر ایک یہ تھا کہ آئین کی روح کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انحراف کو روکنے اور انتخابی عمل کی شفافیت اور جمہوری احتساب کے لیے آرٹیکل 63 اے کی کون سی تشریح قابل قبول ہوگی۔

    اس صدارتی ریفرنس میں یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ ایسی تشریح جو انحراف کی صورت میں مقررہ طریقہ کار کے مطابق رکن کو ڈی سیٹ کرنے کے سوا کسی پیشگی کارروائی سے بھی روک سکے۔

    اس صدارتی ریفرنس میں یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ وہ مضبوط بامعنی تشریح جو اس طرح کے آئینی طور پر ممنوع عمل میں ملوث رکن کو تاحیات نااہل کر کے منحرف ووٹ کے اثرات کو بے اثر کر دیا جائے تاکہ س طرزِ عمل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

    سپریم کورٹ میں دائر کیے گئے اس صدارتی ریفرنس میں یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ کیا ایک رکن جو آئینی طور پر ممنوع اور اخلاقی طور پر قابل مذمت اقدام میں ملوث ہو تو ایسی صورت میں اس کا ووٹ شمار کیا جائے گا یا اس طرح کے ووٹوں کو خارج کیا جاسکتا ہے؟

    اس کے علاوہ اس صدارتی ریفرنس میں یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ رکن جو پارلیمانی لیڈر کی ہدایات سے انحراف کا مرتکب ہو اسے ایماندار، نیک اور سمجھدار نہیں سمجھا جاسکتا اور کیا وہ تاحیات نااہل ہوگا؟

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ اس وقت ہوا تھا کہ جب پی ٹی آئی کے متعدد رکن قومی اسمبلی سندھ ہاؤس اسلام آباد میں پناہ لیے ہوئے تھے اور وہ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر اس وقت کی اپوزیشن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرچکے تھے۔ یہ ریفرنس فروری 2022 میں دائر کیا گیا تھا اور اس صدارتی ریفرنس پر فیصلہ آنے سے پہلے ہی عمران خان کی حکومت تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے بعد ختم ہوگئی تھی اور اس تحریک عدم اعتماد میں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین نے ووٹ نہیں ڈالے تھے۔

    اس صدارتی ریفرنس کی سماعت کرتے ہوئے اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئین کے ارٹیکل 63 اے کی تشریح آنے والی نسلوں کی لیے ہوگی اور اس ضمن میں سیاست دانوں کو قربانیاں دینا ہوں گی۔

    سپریم کورٹ میں اس صدارتی ریفرنس پر معاونت کے لیے تمام صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹسز جاری کیے گئے تھے اور اس صدارتی ریفرنس کی۔

    سماعت کے دوران اس وقت کے اٹارنی جنرل خالد جاوید نے مؤقف اپناتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف پر تاحیات نااہلی ہونی چاہیے۔

    آرٹیکل 63 اے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے آئین کے آرٹیکل 63 ’اے‘ کی تشریح کے لیے دائر صدارتی ریفرنس پر اپنے اپنے تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروائے تھے۔ پاکستان تحریک اصناف کے سینیٹر علی ظفر نے بھی اس صدارتی ریفرنس پر دلائل دیے تھے۔

    ارٹیکل 63 اے میں پہلے کیا تھا؟

    اس صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے سے پہلے ارٹیکل 63 اے میں اگر کوئی رکن پارلیمان وزیراعظم یا وزیر اعلیٰ کے انتخابات کے لیے اپنی پارلیمانی پارٹی کی طرف سے جاری کردہ کسی بھی ہدایت کے خلاف ووٹ دیتا ہے یا عدم اعتماد کا ووٹ دینے سے باز رہتا ہے تو اس سے نااہل قرار دیا جاسکتا ہے۔

    اس آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں پارٹی سربراہ کو تحریری طور پر اعلان کرنا ہوگا کہ متعلقہ رکن اسمبلی منحرف ہوگیا ہے لیکن اعلان کرنے سے قبل پارٹی سربراہ 'منحرف رکن کو وضاحت دینے کا موقع فراہم کرے گا'۔ اس ارٹیکل میں یہ کہا گیا تھا کہ اراکین کو ان کی وجوہات بیان کرنے کا موقع دینے کے بعد پارٹی سربراہ اعلامیہ اسپیکر کو بھیجے گا اور وہ اعلامیہ چیف الیکشن کمشنر کو بھیجے گا۔

  18. لبنان اور یمن میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 50 سے تجاوز کر گئی

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اتوار کے روز مُلک پر اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 50 سے زائد ہو گئی ہے تاہم درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے مسلسل فضائی حملوں کی وجہ سے لبنان بھر میں دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

    تاہم لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق جنوبی علاقے عین الدلب میں سیدون کے قریب ہونے والے حملوں میں کم از کم 32 افراد ہلاک جبکہ مشرقی بالبیک ہیمل کے علاقے میں مزید 21 افراد ہلاک ہوئے۔

    رات گئے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی فضائی حملے میں شہر کے کولا ضلع میں ایک کثیر منزلہ عمارت کے بالائی حصے کو نشانہ بنایا گیا تاہم اس کی وجہ سے کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں۔

    لبنان کے وزیراعظم نجیب میقاتی نے اتوار کے روز کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کا ’خیرمقدم‘ کریں گے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا اطلاق لبنان اور اسرائیل دونوں پر ہونا چاہیے۔

    جب ان سے اس تنازع کو ختم کرنے کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کا ’سفارتی حل کے علاوہ کوئی دوسرا حل موجود نہیں۔‘

    اس سے قبل لبنانی وزیرِ اطلاعات نے حکومتی کابینہ کے اجلاس میں کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ لبنان میں جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں ’جاری ہیں۔‘

    دوسری جانب اتوار کے روز یمن میں حوثیوں کے زیرِ انتظام میڈیا کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ الحدیدہ کی بندرگاہ پر اسرائیلی فضائی حملے میں چار افراد ہلاک اور 33 زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں شہر کے شمال میں واقع الحلی پاور پلانٹ میں بندرگاہ کا ایک کارکن اور تین انجینئر شامل ہیں۔

    اتوار ہی کے روز اسرائیلی انتظامیہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ جمعے کو جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے ہیڈکوارٹر پر کیے گئے فضائی حملوں میں حسن نصراللہ کے ساتھ تنظیم کی دیگر 20 سینیئر شخصیات بھی ہلاک ہوئیں۔

    تاہم حزب اللہ نے حسن نصراللہ، علی کرکی اور نبیل قاووق سمیت متعدد شخصیات کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ انھوں نے حسن نصراللہ کے سکیورٹی یونٹ کے سربراہ ابراہیم حسین جزینی اور حزب اللہ کے سربراہ کے ’مشیر اور قریبی ساتھی‘ سمیر توفیق دیب کو بھی ہلاک کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جنوبی بیروت میں حزب اللہ کا ہیڈکوارٹر رہائشی عمارتوں کے نیچے واقع تھا۔

    اتوار کی شام خبر رساں ادارے روئٹرز کی جانب سے خبر سامنے آئی کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی لاش بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں ایک مقام سے ملی ہے جہاں جمعے کے روز اسرائیلی فضائی حملے ہوئے تھے۔

    طبی اور سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے روئٹرز نے اطلاع دی کہ حسن نصر اللہ کے جسم پر ’براہِ راست کسی زخم‘ کا نشان نہیں۔

  19. آئی ڈی ایف کا لبنان بھر میں ’وسیع حملے‘ میں حزب اللہ کے 120 ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اب سے کچھ دیر قبل اس نے لبنان بھر میں ایک ’وسیع حملہ‘ کیا جس میں ’درجنوں‘ جنگی طیاروں سے حصہ لیا۔

    آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ اس نے جنوبی لبنان اور ملک کے اندر ’حزب اللہ کے تقریباً 120 فوجی اہداف‘ کو نشانہ بنایا ہے۔

    آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ ان مقامات میں ’اہم‘ ہیڈکوارٹر، فوجی عمارتیں اور ڈھانچے شامل ہیں جو حزب اللہ اسرائیل پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کر رہا تھا۔

  20. لبنان کے مشرق میں اسرائیلی حملے میں 21 افراد ہلاک، 47 زخمی

    لبنان کے مشرق میں اسرائیلی حملے میں 21 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    لبنان کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ مشرقی وادی بیکا میں بعلبک ہرمل کے علاقے میں ہونے والے حملے میں 21 افراد ہلاک اور 47 زخمی ہوئے ہیں۔

    اس سے قبل لبنانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ زبود میں فضائی حملوں میں ایک ہی خاندان کے کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔