لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ میں اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران اس کے آٹھ فوجی مارے گئے ہیں۔ دوسری جانب ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے امریکہ سمیت کچھ یورپی ممالک پر خطے میں کشیدگی اور جنگ مسلط کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب اس خطے سے نکل جائے تاکہ یہاں موجود ممالک امن سے رہ سکیں۔

خلاصہ

  • بحیرہ احمر میں دو مال بردار بحری جہازوں پر حوثیوں کا حملہ
  • ایران کے اسرائیل پر حملے کے بعد عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ
  • اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر حملہ کر کے ایک بڑی غلطی کی ہے اور اب اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔
  • اسرائیل نے منگل کی رات ہی جوابی حملے کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق ایران نے اسرائیل پر منگل کی شب ہونے والے حملے میں تقریباً 180 میزائل داغے ہیں۔
  • ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے منگل کی شب اسرائیل پر ایران کے میزائل حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی خطرے کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔

لائیو کوریج

  1. ایران جنگ کا خواہاں نہیں ہے مگر اسرائیل ہمیں ردعمل پر مجبور کر رہا ہے: صدر مسعود پزشکیان

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا ہے مگر اسرائیل ہمیں جواب دینے پر مجبور کر رہا ہے۔

    قطر کے دارالخلافہ دوحہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے گذشتہ روز کے میزائل حملوں کا جواب دیا تو پھر ایران کا ردعمل بہت شدید ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل خطے میں کشیدگی بڑھانا چاہتا ہے۔ انھوں نے اسرائیل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ امن کا خواہاں نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کشیدگی کو روکنا اور تشدد کا خاتمہ چاہتا ہے۔

  2. خدا کی مدد سے ہم مل کر اس جنگ میں فتح حاصل کریں گے: اسرائیلی وزیراعظم

    Israel

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ آج لبنان میں ہلاک ہونے والے آٹھ فوجیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ نیتن یاہونے کہا کہ انھوں نے ہلا ہونے والے فوجیوں کے خاندانوں کو بھی تعزیتی پیغامات بھیجے ہیں۔

    ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت ہم ایران کی شیطانی طاقت کے محور جو ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے کے خلاف ایک مشکل جنگ میں ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہوگا کیونکہ ہم سب متحد ہیں اور خدا کی مدد سے ہم مل کر اس جنگ میں فتح حاصل کریں گے۔

  3. ایران کے نیوکلیئر سائٹس پر حملوں کی حمایت نہیں کرتے: امریکی صدر جو بائیڈن

    اسرائیل پر میزائل حملوں کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ ایران میں نیوکلیئر سائٹس کو ہدف بنانے کی حمایت نہیں کرتے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ وہ اسرائیل سے بات کریں گے کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تمام جی 7 ممالک اس پر متفق ہیں کہ اسرائیل کا جواب متناسب یعنی برابری کا ہونا چاہیے۔

    امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

  4. مشرق وسطیٰ میں کہیں بھی حملہ کر سکتے ہیں: اسرائیلی فوج کے سربراہ

    فوج

    ،تصویر کا ذریعہIDF

    اسرائیل کی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہرزئی ہیلوی کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل ڈیفنس فورسز مشرق وسطیٰ میں کسی بھی جگہ تک رسائی حاصل کرنے اور وہاں حملہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے وہ دشمن جو ابھی تک اس حقیقت کا ادراک نہیں کر سکے ہیں اب وہ جلد جان جائیں گے۔‘ آرمی چیف نے یہ بیان اپنے تل ابیب کے قریب واقع تل نوف کے فضائی اڈے کے دورے کے موقع پر دیا۔

    ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’ہم اس کا جواب دیں گے۔ ہمیں معلوم ہے کہ کیسے اہم اہداف کو تلاش کرنا ہے۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ کیسے بہت درست اور بھرپور طاقت سے حملہ کرنا ہے۔‘

    اسرائیلی فوج کے سربراہ نے منگل کے روز ایران کی طرف سے 200 سے زائد میزائل حملوں سے متعلق بتایا کہ اس میں بہت معمولی نقصان ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنی ان افواج کو مزید طاقت فراہم کریں گے جو پہلے ہی خطے میں کارروائیوں میں مصروف ہے۔

  5. مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال اور اقوام متحدہ کا انتباہ

    António Guterres

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے دستے لبنان کے اندر 400 میٹر اندر داخل ہو چکے ہیں۔
    • اسرائیلی افواج نے یہ اعلان کیا ہے کہ لبنان میں داخل ہونے کے بعد اس کے اب تک آٹھ فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
    • لبنان کی قومی نیوز ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں واقع ایترون کے قصبے پر اسرائیلی حملے میں چھ افراد مارے گئے ہیں۔
    • اس سے قبل اس نیوز ایجنسی نے یہ خبر جاری کی تھی کہ صبح کے وقت اسرائیلی کی سرحد کے قریب واقع دیبل گاؤں میں اسرائیلی حملے میں تین افراد مارے گئے ہیں۔
    • مشرق وسطی کی صورتحال پر بحث کے لیے اس وقت اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا اجلاس جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس نے اپنے جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’وقت تیزی سے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے۔‘
    • غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ خان یونس کے علاقے میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 51 افراد مارے گئے ہیں۔
  6. جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے میں پیرا میڈیکل سٹاف سمیت چھ افراد ہلاک

    لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے (این این اے) کے مطابق جنوبی لبنان کے قصبے عیترون میں ہونے والے اسرائیلی حملے کے نتیجے میں مقامی افراد اور طبی عملے کے چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    این این اے کے مطابق ان ہلاکتوں کے علاوہ ایک شخص لاپتہ بھی ہے۔

    لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے نے اس حملے کو ’قتل عام‘ قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے قصبے میں اسلامک ہیلتھ اتھارٹی کے مرکز کو نشانہ بنایا اور اسے ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دیا۔

    این این اے نے یہ بھی کہا ہے کہ جب ایمبولینس ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں تو انھیں ’دشمن کی جانب سے ڈرون حملے کا سامنا کرنا پڑا۔‘

    اسرائیل نے ان دعووں پر ابھی تک کوئی ردعمل نہیں دیا۔

  7. ایرانی میزائل حملے میں اسرائیلی فضائی اڈوں کو معمولی نقصان پہنچا: اسرائیلی فوج

    اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ گذشتہ رات ہونے والے ایرانی فضائی حملوں میں اگرچہ اِس کے فضائی اڈے نشانہ بنے تاہم وہاں موجود طیاروں، ڈرونز اور اہم تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    اسرائیلی میڈیا نے ملک کی فوج کا حوالہ دیتے ہوئے گذشتہ رات ہونے والے حملے کے اثرات کی کچھ مزید تفصیلات شیئر کی ہیں۔

    اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق فوج کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں میزائلوں کے ٹکڑے لگنے سے دو شہری معمولی زخمی ہوئے۔

  8. بریکنگ, لبنان میں لڑائی کے دوران ہمارے آٹھ فوجی مارے گئے: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج نے اب سے کچھ دیر پہلے اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران اس کے ساتھ فوجی مارے گئے ہیں۔

    بی بی سی اس بارے میں مزید تفصیلات جمع کر رہا ہے۔

  9. اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی سکیورٹی سربراہان سے ملاقات

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہMa'ayan Toaff

    اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے آج سہ پہر تل ابیب میں سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے سربراہان سے مشاورت کی ہے۔

    تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نیتن یاہو وزیر دفاع یوو گلانت اور دیگر کے ساتھ ایک میٹنگ میں بیٹھے ہیں۔

    وزیر اعظم نے اس سے قبل ایران پر جوابی حملہ کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران کو اسرائیل پر حملے کی ’قیمت چکانا ہو گی۔‘

  10. اسرائیلی فوج کی لبنان میں اپنے پہلے فوجی کی ہلاکت کی تصدیق

    کیپٹن ایتن اوستر

    ،تصویر کا ذریعہIDF

    اسرائیلی فوج نے لبنان میں زمینی حملے کے بعد اپنے پہلے فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ 22 برس کے کیپٹن ایتن اوستر بدھ کے روز لبنان میں مارے گئے ہیں۔

    بیان کے مطابق ایتن ایگوز یونٹ میں ٹیم کمانڈر تھے، ایک ایسا کمانڈو یونٹ جو گوریلا جنگ میں مہارت رکھتا ہے۔

  11. آج کی جھڑپیں ’جنگ کے پہلے دور‘ کا حصہ ہیں: حزب اللہ

    حزب اللہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ آج جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے ساتھ ہونے والی جھڑپیں ’جنگ کے پہلے دور‘ کا حصہ ہیں۔

    روئٹرز اور این بی سی کے مطابق حزب اللہ کے محمد عفیف نے صحافیوں کا بتایا کہ ’ہماری افواج اور مزاحمتی جنگجو دشمن کا مقابلہ اور مزاحمت کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج کے ساتھ لڑائی کے لیے وہ اچھی طرح سے مسلح ہے۔

    واضح رہے کہ حزب اللہ اور اسرائیلی فوج، دونوں کی جانب سے بدھ کے روز لبنان کے اندر زمینی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

  12. لبنان میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری

    لبنان کے قصبے مارون الراس میں ’داخلے‘ کے بعد اسرائیلی فوجیوں کی حزب اللہ کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    یہ قصبہ اسرائیل اور لبنان کی سرحد سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

    حزب اللہ کے مطابق اسرائیلی فوجی مشرقی جانب سے قصبے میں داخل ہوئے اور گزشتہ ایک گھنٹے سے لڑائی جاری ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں اس کا ’قریب سے تصادم‘ ہوا ہے۔

    بیان کے مطابق ’کمانڈو بریگیڈ کی افواج اور ایگوز یونٹ کے اہلکاروں نے حزب اللہ کی جانب سے حملے کے بنیادی ڈھانچے کو تلاش کر کے تباہ کر دیا۔ فوجیوں نے اسرائیلی فضائیہ کی مدد سے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’حالیہ فضائی حملوں سے دہشت گردی کے 150 سے زیادہ انفراسٹرکچر تباہ ہوئے۔‘

  13. اسرائیل میں منگل کی رات سات اسرائیلی شہریوں کو ہلاک کرنے والے حملہ آور کون ہیں؟

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی حکام نے منگل کے روز تل ابیب میں ہونے والے فائرنگ اور چاقو حملے کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب ایران کا اسرائیل کے خلاف میزائل حملہ جاری تھا۔

    اسرائیلی پولیس اور شین بت سکیورٹی سروس کے مشترکہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں سات اسرائیلی ہلاک جبکہ 16 زخمی ہوئے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ابتدائی تفتیش کے مطابق دو دہشتگرد ٹرین کی ایک بوگی سے اترے، مسافروں پر فائرنگ شروع کی جبکہ راہ چلتے افراد کو بھی نشانہ بنایا۔‘

    مشترکہ بیان کے مطابق ’یہ دہشتگرد 19 برس کے محمد مسک (جو موقع پر ہی مارے گئے) اور 25 برس کے احمد ہیمانی (جو شدید زخمی ہیں) تھے۔‘

    بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’دونوں حملہ آور بیت الخلیل کے رہائشی تھے اور ان کے پاس ایک M16 رائفل، متعدد میگزین اور ایک چاقو تھا۔‘

  14. اسرائیل کی ایران کے خلاف انتقامی کارروائی کیسی ہو سکتی ہے؟, فرینک گارڈنر، بی بی سی نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    اسرائیل کی موجودہ حمکت عملی کے دو پہلو ہیں: اپنے دشمنوں کو قتل اور فضائی حملوں میں مارا جائے، دوسرے یہ کہ ایران اور اس کی پراکسیز کو یہ بتایا جائے کہ اسرائیل پر ہونے والے ہر حملے کا بھرپور طاقت سے مقابلہ کیا جائے گا۔

    اسرائیلی انٹیلجنس کے سابق اہلکار اوی ملیماد کا کہنا ہے کہ ایرانی حملہ ’اسرائیل کو جوابی حملے کے لیے اکسائے گا ممکنہ طور پر ہم ایرانی اہداف کے خلاف اسرائیل کی طرف سے ایک اہم اور فوری ردعمل دیکھیں گے۔‘

    تو یہ انتقامی کارروائی کیسی ہو سکتی ہے؟

    اسرائیل کے پاس طویل عرصے سے ایران پر حملوں کے منصوبے موجود ہوں گے۔ اس کے دفاعی چیفس اب اندازہ لگا رہے ہوں گے کہ ایران کو کب اور کتنی شدت سے نشانہ بنانا ہے۔

    سب سے واضح فوجی اہداف ایران کے وہ زمینی اڈے ہیں جہاں سے اس نے منگل کو اسرائیل کی جانب بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔

    اسرائیل ایران میں موجود اپنے ایجنٹس کو متحرک کر کے یہ جاننے کی بھی کوشش کرے گا بیلسٹک میزائل حملے کس کے حکم پر کیے گئے۔ اس کے علاوہ اسرائیل ایران کے جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

    اور اس کے بعد ایران کی جانب سے جوابی حملہ بھی تقریباً ناگزیر ہو جائے گا کیونکہ دونوں ملک حملے اور انتقام کا یہ عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  15. ’تل ابیب میں جلی ہوئی گاڑیاں ایرانی حملے کی شدت کے بارے میں بتاتی ہیں‘, جان ڈونیسن، تل ابیب

    تل ابیب

    ہم اسرائیل کے سب سے بڑے شہر تل ابیب کے شمال میں آئے ہیں۔ یہ ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملوں کا نشانہ بننے والا ایک مقام ہے۔

    ہم ایک تجارتی مرکز کے باہر موجود ہیں۔ یہاں دو یا تین انتہائی بری طرح سے تباہ کاریں موجود ہیں اور ان کے پاس ہی ملبے کا ڈھیر ہے۔

    کل رات یہاں ایک بہت بڑا گڑھا تھا، جو شاید 8 سے 10 میٹر گہرا تھا۔ اس گڑھے کو اب بھر دیا گیا ہے تاہم اس سے آپ دھماکے کی طاقت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔

    اسرائیل کے دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے آنے والے بہت سے راکٹس کو ناکارہ بنا دیا لیکن اس کے باجود بہت سے راکٹ یہاں پہنچنے میں کامیاب رہے۔

    اگر 200 بیلسٹک میزائلوں میں سے کوئی ایک بھی کسی رہائشی عمارت، کھیلوں کے سٹیڈیم یا شاپنگ مال سے ٹکرا جاتا تو سینکڑوں افراد نشانہ بن سکتے تھے۔

    اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا ہیڈکوارٹر یہاں سے کافی قریب ہے تو ممکن ہے کہ ایران کا ہدف وہ ہی ہو۔

  16. بریکنگ, ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کا مغرب پر خطے میں کشیدگی اور جنگ مسلط کرنے کا الزام

    ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے امریکہ سمیت کچھ یورپی ممالک پر خطے میں کشیدگی اور جنگ مسلط کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

    ایران کے رہبر اعلیٰ نے کہا کہ ’یہ ممالک جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ خطے میں امن لانا چاہتے ہیں۔‘

    ایران کے ایک سینیئر اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ منگل کی رات اسرائیل کی جانب میزائل داغنے کا حکم آیت اللہ خامنہ ای نے دیا تھا، جو ایک محفوظ مقام پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔

  17. اسرائیل اور لبنان میں ہونے والے نقصانات کی تصویری جھلکیاں

    بی بی سی نے اسرائیل اور لبنان میں ہونے والے فضائی حملوں کا تصویری جائزہ لیا ہے۔

    بدھ کی رات ایران نے اسرائیل پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغے تھے جن کی وجہ سے وسطیٰ اسرائیل میں نقصان ہوا تھا جبکہ میزائل کے ٹکڑے لگنے سے مقبوضہ ویسٹ بینک میں ایک فلسطینی شخص مارا گیا تھا۔

    دوسری جانب اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہShutterstock

    ،تصویر کا کیپشنایک خاتون وسطیٰ اسرائیل میں ایرانی میزائلوں کا نشانہ بننے والی عمارت کو دیکھ رہی ہیں
    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنلبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے ایک اسرائیلی فضائی حملے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے
    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنبیروت ایئرپورٹ کے چیک ان کاؤنٹرز پر مسافروں کا رش۔ بیروت پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد سے بہت سے پروازیں منسوخ کی گئی ہیں
    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنبدھ کی صبح شمالی اسرائیل کے علاقے سے لبنان کی جانب گولہ باری کی گئی ہے
  18. بیروت پر اسرائیلی فضائی حملے اور شہریوں میں خوف و ہراس, نفیسہ کوہ نورد، بی بی سی بیروت

    تصویر

    منگل کے روز ہم بیروت پر ہونے والے ایک اسرائیلی فضائی حملے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے۔

    وہاں بہت زیادہ ٹریفک تھی کیونکہ وہ عمارت جس کو اس حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا اُس کا ملبہ بیروت کے رفیق الحریری انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی طرف جانے والی شاہراہ پر آن ِگرا تھا۔

    متاثرہ عمارت بیر حسن نامی ایک گنجان آباد رہائشی علاقے میں واقع ہے۔ عمارت کو دیکھ کر یہ واضح تھا کہ اسرائیل نے اسے ایک ٹارگٹڈ حملے میں نشانہ بنایا تھا کیونکہ 11 منزلہ اس عمارت کی صرف دو فلورز کو بُری طرح نقصان پہنچا تھا۔

    عمارت سے دُھواں اٹھ رہا تھا جبکہ عمارت میں جن دو فلورز کو نشانہ بنایا گیا تھا وہاں آگ لگی ہوئی تھی۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس حملے میں کس کو نشانہ بنایا گیا یا اس واقعے میں کتنے افراد مارے گئے۔ حزب اللہ یا اس کے دیگر اتحادی گروپوں کی جانب سے بھی اس ضمن میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    جائے وقوعہ پر موجود حزب اللہ کے ایک سکیورٹی اہلکار نے ہمیں بتایا کہ عمارت پر ڈرون سے دو میزائل داغے گئے جن میں سے ایک دھماکے سے پھٹ گیا جبکہ دوسرا نہیں پھٹ سکا۔ انھوں نے بتایا کہ جس وقت حملہ ہوا اس وقت بہت سے لوگ اس عمارت میں اور اس کے ارد گرد واقع گھروں میں موجود تھے۔

    حملے کا نشانہ بننے والی یہ عمارت الزہرہ ہسپتال کے بالکل ساتھ واقع ہے۔ الزہرہ ہسپتال کو حزب اللہ سے منسلک ہسپتال سمجھا جاتا ہے اور گذشتہ ماہ پیجر دھماکوں اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں زخمی ہونے والے حزب اللہ کے بہت سے اراکین کو علاج معالجے کے لیے اسی ہسپتال لایا گیا تھا۔

    اس علاقے میں گذشتہ روز اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے کیا گیا یہ واحد حملہ نہیں تھا۔ اسی سٹرک پر قریب ہی واقع ایک اور عمارت کی بالائی منزل کو بھی اسی انداز میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ بیر حسن میں موجودہ ان متاثرہ عمارتوں سے محض پانچ منٹ کی مسافت پر بہت سے سکول بھی واقع ہیں جہاں اب وہ ہزاروں پناہ گزین رہ رہے ہیں جو جنوبی لبنان اور دحیح میں ہونے والی اسرائیلی فضائی کارروائیوں کے باعث نقل مکانی اور اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔

    جب ہم ان سکولوں میں موجود پناہ گزینوں سے ملنے گئے تو انھوں نے ہمیں بتایا کہ قریب واقع عمارتوں میں ہونے والے دھماکوں نے انھیں، خاص طور پر بچوں کو، خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا تھا۔

  19. اسرائیل کا لبنان میں زمینی کارروائی کے لیے اضافی فوج بھیجنے کا اعلان

    Israel

    ،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ لبنان میں بھیجی جانے والی ’اضافی فورسز‘ جنوبی علاقوں میں حزب اللہ کے خلاف ’محدود اور ٹارگٹڈ زمینی کارروائی‘ میں حصہ لیں گی۔

    اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ ان اضافی دستوں کا انتخاب 36ویں ڈویژن اور دیگر فوجی یونٹوں سے کیا جائے گا۔

    اس سے قبل بدھ کو حزب اللہ نے اعلان کیا تھا کہ اس نے جنوبی لبنان کے ایک سرحدی گاؤں میں اسرائیلی زمینی حملے کا جواب دیا ہے، تاہم اسرائیلی فوج کی جانب سے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

    اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ’زمینی کارروائی‘ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن اس سے متعلق اب تک محدود معلومات سامنے آئی ہیں۔