اسرائیل ایران کے حملے کے جواب میں ایرانی تیل تنصیبات پر حملے کی بجائے ’متبادل اہداف‘ کے بارے میں سوچے: بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ اگر وہ اسرائیل کی جگہ ہوتے تو وہ ایرانی تیل کی تنصیبات پر حملہ کرنے کی بجائے ’متبادل اہداف ‘ کے بارے میں سوچتے۔ ادھر پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر علی فدوی کا کہنا ہے کہ ’اگر اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ پر حملہ کیا تو ایران اسرائیلی توانائی اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔‘

خلاصہ

  • اسرائیل کی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں جاری ہیں۔ بیروت کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب بمباری کے نتیجے میں دھماکے ہوئے ہیں۔
  • لبنان کی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب میں اس کے دو فوجیوں کی ہلاکت ہوئی ہے
  • اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے سرحد کے قریب حزب اللہ کے جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔ جبکہ حزب اللہ کے مطابق اس نے سرحد کے دونوں جانب اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

لائیو کوریج

  1. قطر میں العدید ایئر بیس سمیت امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں کہاں اور کیوں موجود ہے؟

  2. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

  3. امریکی فوج کے یمن میں حوثی اہداف پر حملے, سیبستین اشر اور میکس میتزا، بی بی سی نیوز

    USA

    ،تصویر کا ذریعہDVIDS

    امریکہ کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے یمن میں ایرانی حمایت یافتہ گروپ حوثی باغیوں پر حملے کیے ہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں فوج نے ’ایئرکرافٹس‘ اور جنگی طیاروں کی مدد سے یہ حملے کیے تا کہ سمندری جہازوں کے لیے آبی رستوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    دارالخلافہ صنعا سمیت یمن کے چند اہم شہروں میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔

    خیال رہے کہ نومبر سے حوثی بحیرہ احمر میں 100 کے قریب سمندری جہازوں پر حملے کر چکے ہیں۔ ان حملوں میں دو جہاز ڈوبے بھی ہیں۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے جواب میں وہ ایسا کر رہے ہیں۔

    مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والی سنٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں حوثیوں کے ہتھیاروں، اڈوں اور حوثیوں سے متعلقہ دیگر اثاثہ جات کو ہدف بنایا گیا ہے۔

    حوثیوں کے حمایت یافتہ میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکہ نے جن شہروں پر حملے کیے ہیں ان میں ملک کا دارالخلافہ صنعا بھی شامل ہے۔

    پیر کے روز حوثیوں نے کہا کہ انھوں نے یمن پر پرواز کرنے والے ایک امریکی ساختہ ایم کیو-9 ڈرون کو مار گرایا ہے۔ امریکہ نے اپنے ایک ایسے ڈرون کے کھو جانے کی تصدیق کی ہے۔

    Houthis

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    گذشتہ ہفتے پینٹاگون کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے خطے میں امریکی بحریہ کے جہازوں پر ’ایک پیچیدہ حملہ‘ کیا تاہم اس حملے کو ناکام بنا دیا گیا اور حوثیوں کی طرف سے فائر کردہ تمام ہتھیاروں کو ہدف کو نشانہ بنانے سے قبل ہی مار گرایا گیا۔

    یمن میں گذشتہ دو برس سے متعدد متحارب گروہوں کی لڑائی کے بعد سے صنعا پر بمباری میں ایک وقفہ چلا آ رہا تھا۔ واضح رہے کہ بحیرہ احمد میں سمندری جہاوزوں پر حملوں کے علاوہ ان حوثیوں نے براہ راست اسرائیل پر میزائل اور ڈرون سے حملے بھی کیے۔

    جولائی میں یمن سے تل ابیب پر فائر کیے گئے ایک میزائل سے ایک شخص کی ہلاکت ہوئی اور اس حملے میں دس افراد زخمی بھی ہوئے۔ گذشتہ ماہ اس گروپ نے اسرائیل پر متعدد میزائل بھی فائر کیے، جن میں سے ایک حملے میں اسرائیل کے نمایاں ائیرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔

    اسرائیل نے دونوں بار یمن میں اہداف کو نشانہ بنا کر ان حملوں کا جواب دیا۔

    اس برس کے آغاز میں امریکہ اور برطانیہ سمیت بارہ ممالک نے بحیرہ احمر میں جہازوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے حوثیوں کے خلاف ’آپریشن پراپیئرٹی گارڈیئن‘ شروع کیا۔ حوثی مشرق وسطیٰ میں ایک ایسا مسلح گروہ ہیں جنھیں ایران کے علاوہ حزب اللہ اور حماس کی حمایت بھی حاصل ہے۔

    بحیرہ احمر: اہم راستہ کیوں؟

    حوثی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بحیرہ احمر تیل اور مائع قدرتی گیس کے ساتھ ساتھ اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل کے لیے دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔

    کنسلٹنگ کمپنی ’ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس‘ کے ایک حالیہ تجزیے سے پتا چلا ہے کہ ایشیا اور خلیج سے یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں درآمد کی جانے والی تقریباً 15 فیصد اشیا بحیرہ احمر کے راستے بھیجی جاتی ہیں۔ ان میں 21.5 فیصد ریفائنڈ تیل اور 13 فیصد سے زیادہ خام تیل مصنوعات شامل ہیں۔

    حوثی باغی آبنائے ماندب سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے لگے ہیں جسے ’گیٹ آف ٹیئرز‘ (یعنی اشکوں کا دروازہ) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ 32 کلومیٹر چوڑا چینل ہے اور یہ جہاز رانی کے لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

    یہ جزیرہ نما عرب میں یمن اور افریقی ساحل پر جبوتی اور اریٹیریا کے درمیان واقع ہے۔

    یہ وہ راستہ ہے جس سے بحری جہاز جنوب سے نہر سویز تک پہنچ سکتے ہیں، جو ایک اہم سمندری راستہ ہے۔

  4. اسرائیل فوری یہ فیصلہ نہیں کرے گا کہ ایرانی حملوں کا جواب کیسے دیا جائے: بائیڈن

    بایئڈن

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ اگر وہ اسرائیل کی جگہ ہوتے تو وہ ایرانی تیل کی تنصیبات پر حملہ کرنے کی بجائے ’متبادل اہداف ‘ کے بارے میں سوچتے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس بریفنگ میں منگل کی رات ایران کی جانب سے اسرائیل پر تقریباً 200 بیلسٹک میزائل داغے جانے کے بعد اسرائیلی حکومت نے کیا کہا ہے کے سوال کے جواب میں صحافیوں کو بتایا کہ انھوں (اسرائیل) نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ کس طرح کا جواب دیں گے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ جب وہ اپنا فیصلہ کر لیں گے کہ انھیں اس حملے کا کیسے جواب دینا ہے تو اس کے بعد ہم سے بات ہو گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ اسرائیل ’فوری طور پر کوئی فیصلہ نہیں کرنے والا ہے۔‘

  5. بریکنگ, یمن میں حوثیوں کے 15 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا: امریکی فوج

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جمعے کو یمن کے حوثی باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں 15 اہداف پر حملے کیے ہیں۔

    مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کے لیے ذمہ دار ملٹری کمانڈ نے سوشل میڈیا پر کہا، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی فورسز نے آج یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے زیر انتظام علاقوں میں 15 ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔‘

  6. برطانیہ یمن میں فضائی حملوں میں شریک نہیں ہے: برطانوی وزرات دفاع

    برطانوی وزارت دفاع کا کہنا ہے برطانیہ جمعے کو یمن میں حوثیوں پر کیے گئے فضائی حملے میں شریک نہیں ہے۔

    اس سے قبل یہ خبریں سامنے آئیں تھیں کہ یمن میں حوثیوں پر فضائی حملوں میں امریکہ کے ساتھ ساتھ برطانیہ بھی شریک ہے تاہم برطانوی وزارت دفاع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ برطانیہ ان حملوں میں شریک نہیں ہے۔

    جمعے کو امریکہ یمن کے دارالحکومت صنعا سمیت مختلف علاقوں پر فضائی حملے کرتے ہوئے مبینہ طور پر حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں بحری جہازوں پر باغیوں کے حملوں کے جواب میں جنوری سے یمن میں حوثی اہداف کو امریکہ اور برطانیہ نے نشانہ بنایا ہے۔

    حوثیوں نے نومبر کے بعد سے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی بحری جہازوں کو بار بار نشانہ بنایا، دو بحری جہازوں کو تباہ کیا ہے جبکہ ایک کو قبضے میں لے لیا جس میں عملے کے کم از کم چار ارکان کی ہلاکت ہوئی تھی۔

    حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں فلسطینیوں کی حمایت میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ صرف اسرائیل، امریکہ یا برطانیہ سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    منگل کو حدیدہ کی بندرگاہ کے قریب میزائلوں اور ایک سمندری ڈرون سے دو جہازوں کو نقصان پہنچا تھا۔

  7. بریکنگ, امریکہ کے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے

    امریکہ نے جمعے کے روز یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔

    ایک امریکی اہلکار نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کو تصدیق کی ہے کہ جمعے کے روز یمن میں حوثی باغیوں کے ایک درجن سے زیادہ اہداف کو امریکی فوج نے نشانہ بنایا ہے۔

  8. مزید فوجی ہلاکتیں اسرائیل کی فوج کی حمایت کو کیسے متاثر کر سکتی ہیں؟, نک بیکی، بی بی سی نیوز شمالی اسرائیل

    israel

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل جانتا تھا کہ حزب اللہ کے علاقے میں زمینی حملہ کرنا اسرائیلی فوج کے لیے جانی نقصان کا باعث بنے گا۔ اسرائیلی فوجیوں کو پہلا جانی نقصان بدھ کو اٹھانا پڑا تھا جب اس کے آٹھ ایلیٹ فوجی مارے گئے تھے۔ ۔

    اس کے بعد جمعے کو تازہ ہلاکتوں میں دو فوجی مارے گئے ہیں جن کے بارے میں کچھ دیر قبل اعلان کیا گیا ہے۔ یہ فوجی لبنان میں کارروائی کے دوران نہیں بلکہ مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے علاقے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    عراق سے داغے گئے دو ڈرونز کے ذریعے ان کو نشانہ بنایا گیا، جو خود اس تنازعے کے مختلف محاذوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ جنگ پھیل رہی اور شدید ہو رہی ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسے کئی سمتوں سے خطرہ اور حملوں کا سامنا ہے، جسے کوئی دوسرا ملک برداشت نہیں کرے گا اور اس لیے اسے جوابی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اپنے اقدامات سے مشرق وسطیٰ کو تباہ کن وسیع جنگ کے دہانے پر لا رہا ہے۔

    اسرائیلی جو فوج میں خدمات انجام دیتے ہیں، اور بعد میں وہ جو ریزرو فوجیوں کے طور پر فرائض سنبھالتے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ آبادی کی اکثریت کا فوج سے مضبوط رشتہ ہے۔ لبنان پر حملہ شروع ہونے کے بعد سے ہم نے یہاں جن خاندانوں سے بات کی ہے ہمیں بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کچھ فوجی ہلاکتیں ہوں گی۔

    لیکن اگر آنے والے دنوں میں اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو عوامی حمایت میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اور پھر ایک بار اسرائیل میں اس مسئلے کے حل کرنے کا مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے۔

  9. اسرائیلی حملے کے باوجود لبنانی شہریوں کی شام کی طرف نقل مکانی

    lebanon

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جیسا کہ ہم نے رپورٹ کیا ہے کہ لبنان اور شام کی سرحد کے درمیان ایک اہم شاہراہ اسرائیلی فضائی حملے کی زد میں آ گئی ہے۔

    اس شاہراہ پر گڑھوں اور ملبے کے باوجود بے گھر ہونے والے لبنانی شہریوں نے اپنے سامان کے ساتھ شام کی طرف نقل مکانی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

    Lebanon

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشناسرائیلی حملے کے بعد سڑک پر بکھرے ہوئے ملبے کی وجہ سے گاڑیوں کے ذریعے رسائی نہ ہونے کے باعث، لبنانی شہری پیدل ہی سرحد پار شام نقل مکانی کر رہے ہیں
    Lebanon

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  10. اسرائیل نے امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں جانے پر حملے کی دھمکی دی ہے: لبنانی سول ڈیفنس کا الزام, رامی روہیم بی بی سی عربی

    Lebanon

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کے محمکہ شہری دفاع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے دھمکی دی ہے کہ اگر لبنانی کی ریسکیو اور سرچ آپریشن کی امدادی ٹیمیں ملبے کے نیچے پھنسے لوگوں کی مدد کے لیے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں جاتی ہیں تو وہ ان پر حملہ کر دے گا۔

    لبنان کے محکمہ شہری دفاع کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ رات بھر دحیہ کے رہائشی علاقے پر اسرائیل کے بڑے پیمانے پر حملے کے بعد، وزارت داخلہ کے زیر انتظام شہری دفاع کو ایک کال موصول ہوئی جس میں کہا گیا کہ حملے کے 72 گھنٹوں کے اندر علاقے کی طرف جانے والی کسی بھی ٹیم کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نجیب میقاتی نے غیر ملکی حکام کو متعدد کالیں کی ہیں اور ان سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ امدادی ٹیموں کو اپنا کام کرنے دیں۔

    اسرائیل نے جنوبی لبنان اور بیروت میں امدادی ٹیموں اور صحت کے کارکنوں کو نشانہ بنایا ہے جس سے درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ گذشتہ روز لبنانی وزیر صحت نے کہا تھا کہ اسرائیل نے اب تک 97 طبی عملے کے ارکان اور امدادی کارکنوں کو ہلاک اور 188 کو زخمی کیا ہے۔

    ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر کا تعلق حزب اللہ کی اسلامی صحت تنظیم سے ہے۔ یہ تنظیم بے گھر ہونے والوں کو صحت کی خدمات فراہم کر رہی ہے اور امدادی کارروائیاں کر رہی ہے۔

    لبنانی وزیر کے مطابق، لبنانی ریڈ کراس، لبنانی محمکہ شہری دفاع، اسلامی رسالہ سکاؤٹ ایسوسی ایشن، اور امیل ایسوسی ایشن انٹرنیشنل کی ٹیموں کو بھی اسرائیل نے نشانہ بنایا ہے۔

    بی بی سی نے اسرائیلی فوج سے اس الزام پر اپنا تبصرہ دینے کا کہا ہے تاہم اب تک کوئی جواب نہیں موصول ہوا ہے۔

  11. لبنان میں زمینی لڑائی میں مزید دو اسرائیلی فوجی ہلاک: اسرائیلی ڈیفنس فورسز

    اسرائیل ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ جمعے کو لڑائی میں مزید دو اسرائیلی فوجی مارے گئے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ مزید دو زخمی ہوئے ہیں جنھیں طبی امداد کے لیے ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس کے آٹھ فوجی جنوبی لبنان میں پیر کے روز زمینی حملے کے آغاز کے بعد سے مارے جا چکے ہیں۔

  12. اسرائیل کی انخلا کی ہدایات، لوگوں کو دریائے عوالی کے شمال کی طرف جانے کا حکم

    اسرائیلی فوج نے جمعے کو جنوبی لبنان کے لوگوں کو انخلا کے احکامات جاری کرتے ہوئے دریائے عوالی کے شمال کی طرف جانے کی ہدایت دی ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’حزب اللہ کے عناصر، تنصیبات اور جنگی سازوسامان کے قریب کوئی بھی شخص اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ جنوب کی جانب نقل مکانی شہریوں کو مزید خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

    48 کلومیٹر طویل دریائے عوالی باروک کے پہاڑی سلسلے سے نکلتا ہے اور جوون جھیل میں بہتہ ہوا بحیرہ روم میں جا کر گرتا ہے۔

    اسرائیل اور لبنان کی سرحد کے قریب اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائیاں جاری ہیں۔

  13. ’حسن نصراللہ کو عارضی طور پر ایک خفیہ مقام پر امانتاً دفن کیا گیا ہے‘, بی بی سی عربی سروس

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے جمعہ کے روز فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیلی دھمکیوں کے نتیجے میں حسن نصراللہ کی نماز جنازہ میں مشکلات کا سامنا تھا، لہذا انھیں عارضی طور پر ایک خفیہ مقام پر امانتاً دفن کیا گیا ہے۔

    ذرائع نے اپنی شناخت نہ ظاہر کرنے کی درخواست کی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’حسن نصر اللہ کی اجتماعی تدفین کے لیے مناسب حالات کا انتظار کیا جا رہا ہے کیونکہ اسرائیلی دھمکیوں کے بعد سوگواروں اور ان کی تدفین کی جگہ کو نشانہ بنائے جانے کا خطرہ ہے۔

  14. پاسداران انقلاب:حملے کی صورت میں ایران اسرائیل کی توانائی اور گیس تنصیبات کو نشانہ بنائے گا, بی بی سی عربی سروس

    جمعے کے روز ایرانی سٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورک (ایس این این) نے پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر علی فدوی کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ’اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو ایران اسرائیلی توانائی اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔‘

    فدوی نے کہا ’اگر اسرائیل نے ایسی غلطی کی تو ہم توانائی کے تمام ذرائع اور سہولیات، تمام ریفائنریز اور گیس فیلڈز کو نشانہ بنائیں گے۔‘

  15. آئی ڈی ایف کا حالیہ دنوں میں حزب اللہ کے 250 اراکین کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    آئی ڈی ایف نے ایک بیان میں پچھلے چار دنوں کے دوران حزب اللہ کے 250 ارکین کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    بیان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 21 کمانڈر شامل ہیں اور دو ہزار سے زیادہ فوجی اہداف پر حملے کیے گئے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ اب حزب اللہ کی سرگرمیوں کا مرکز جنوبی لبنان ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق لبنان میں گزشتہ رات ہونے والے حملوں کا ایک اہم ہدف حزب اللہ کے نئے ممکنہ سربراہ ہاشم صفی الدین تھے۔

    اب تک حزب اللہ نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

  16. اسرائیلی حملوں کے دوران ایرانی وزیر خارجہ بیروت پہنچ گئے, نفیسہ کوہنورد، بی بی سی بیروت

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بیروت میں ہیں۔ شہر کے جنوبی مضافات پر بڑے پیمانے پر اسرائیلی فضائی حملوں کے چند گھنٹے بعد ہی وہ بیروت پہنچے ہیں۔

    اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کو نشانہ بنانے اور ہلاک کرنے کے بعد سے کسی اعلیٰ ایرانی عہدیدار اور سیاستدان کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔

    جہاز سے نکلنے کے بعد انھوں نے کہا کہ اگر حزب اللہ جنگ بندی چاہتی ہے تو ایران لبنان میں جنگ بندی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور اس کے ساتھ غزہ میں بھی جنگ بندی ہونی چاہیے۔

    عراقچی ایک ایسے وقت میں بیروت میں ہیں جب حالات ایران کے حق میں نظر نہیں آتے۔

    بیروت میں کچھ لوگ ایران پر الزام لگاتے ہیں کہ سات اکتوبر کے بعد اسرائیل کے ساتھ حماس کی لڑائی میں حصہ لینے کے لیے ایران نے مبینہ طور پر ’حزب اللہ پر دباؤ ڈالا‘ لیکن اس گروپ کو وہ مدد فراہم نہیں کی جس کی ضرورت تھی۔

    اگرچہ ایران کے اسرائیل پر حالیہ حملے نے تہران اور حزب اللہ کے حامیوں کے لیے جوش و خروش پیدا کیا تھا لیکن وہ عارضی ثابت ہوا اور اب ایک بار پھر میڈیا پر لوگ ایران پر تنقید کر رہے ہیں۔

    دوسری طرف حزب اللہ مخالف جماعتیں اسے ایک ایسی جنگ سمجھتی ہیں جو ایران کے باعث ان پر مسلط ہوئی ہے۔

    لبنانی وزیر اعظم نجیب میقاتی کے ساتھ ملاقات کے دوران عراقچی کا کہنا تھا ’ایران لبنان کی حمایت کے لیے سفارتی مہم شروع کرے گا۔‘

    لیکن ایسی مہم چلانے کے لیے ہاتھ میں کوئی کارڈز ہونے چاہییں۔ برسوں سے حزب الہہ جیسے گروہ ایران کے کارڈز تھے۔ اس وقت یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ایران ایسی مہم کیسے چلائے گا جب کہ وہ خود جنگ کے دہانے پر ہے۔

  17. مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: خامنہ ای نے خطاب کے ذریعے یہ دکھانے کی کوشش کہ وہ اسرائیلی حملوں سے خوفزدہ نہیں ہیں, شایان سدریزادہ اور گونچے حبیب زاد، بی بی سی مانیٹرنگ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    آیت اللہ خامنہ ای کا آج کا خطبہ ان کے آخری جمعہ کے اس خطبے سے ملتا جلتا تھا، جو چار سال قبل امریکہ کے ہاتھوں ایران کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور اس کے نتیجے میں عراق میں امریکی فوجی اڈے پر ایران کے میزائل حملے کے بعد دیا گیا تھا۔

    اس وقت بھی امریکہ کے ساتھ براہ راست جنگ کا خدشہ تھا۔

    بظاہر خامنہ ای نے تہران کے مرکز میں دیے گئے اس خطاب سے باہر کی دنیا کے سامنے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور ملک میں موجود عوام کو پرسکون رکھنے کی کوشش کی ہے۔

    انھوں نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے کہ وہ اسماعیل ہنیہ اور حسن نصر اللہ کے قتل کے بعد عوام کے سامنے آنے سے خوفزدہ تھے۔

    یہ خطبہ بیرونی دنیا کو ایرانی حکومت میں اتحاد دکھانے کی ایک کوشش بھی تھی۔ خطبے کے دوران نو منتخب صدر مسعود پیزشکیان اور ایرانی اسٹیبلشمنٹ کی دیگر اعلیٰ شخصیات موجود تھیں۔ پیزشکیان کو حال ہی میں اس تجویز کہ ایران اور اسرائیل کو کبھی نہ کبھی دشمنی ختم کرنا ہو گی، پر سخت گیر افراد کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایسی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا کہ خطے میں ایران کی اپنی پراکسیوں جنھیں وہ ’مزاحمت کا محور‘ کہتا ہے، کے لیے ایران کی حمایت اسرائیل کی حالیہ کارروائیوں سے متاثر ہو گی۔

    انھوں نے ایک بار پھر اسرائیل کے خلاف حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کا دفاع کیا ہے۔ خطے میں دیگر مسلم ممالک کے کئی رہنماؤں نے ایسا کرنے سے انکار کیا ہے۔

    رہبرِ اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسماعیل ہنیہ اور حسن نصراللہ کے قتل کے باوجود ایران اپنی پراکسیوں کے ذریعے اسرائیل کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  18. حزب اللہ کے ممکنہ نئے سربراہ ہاشم صفی الدین کون ہیں؟

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ہاشم صفی الدین 1964 میں جنوبی لبنان کے علاقے صور کے قصبے دیر قنون النہر میں پیدا ہوئے، انھوں نے حسن نصر اللہ کی طرح اپنی تعلیم نجف اور قم میں حاصل کی اور 1982 میں حزب اللہ کے بانیوں میں سے تھے۔

    ہاشم صفی الدین نصراللہ کے کزن ہیں اور ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کے رشتہ دار ہیں۔

    ان کی شکل و صورت، باڈی لینگویج اور یہاں تک کہ ان کے بولنے کا انداز حسن نصراللہ سے مماثلت رکھتا ہے۔

    انھیں پارٹی کے سیکرٹری جنرل کا عہدہ سنبھالے ابھی دو سال ہوئے تھے کہ اسرائیل نے ایک ہیلی کاپٹر حملے میں عباس الموسوی کو قتل کر دیا جس کے بعد 1994 میں صفی الدین سے نصر اللہ کے جانشین کے طور پر حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کی صدارت سنبھالنے کے لیے کہا گیا۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ ایرانی شہر قم میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1994 سے انھیں پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔

    انھیں حزب اللہ کی سیاسی، سماجی، ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں کی نگرانی کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔

    وہ حزب اللہ کی حکمران شوریٰ کونسل کے سات منتخب اراکین میں سے ایک ہیں اور خیال کیا جاتا تھا کہ وہ نصر اللہ کے جانشین کے طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔

    ہاشم صفی الدین کے ایران کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں کیونکہ ان کے بھائی اور تہران میں حزب اللہ کے نمائندے عبداللہ صفی الدین نے شیعہ عالم محمد علی الامین کی بیٹی سے شادی کی ہے جو ملک میں شیعہ اسلامی کونسل کے رکن تھے۔

    ہاشم صفی الدین کے بیٹے رضا نے بھی 2020 میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی بیٹی زینب قاسم سلیمانی سے شادی کی تھی جو اسی سال کے آغاز میں بغداد میں ایک امریکی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

    ہاشم صفی الدین ممکنہ طور پر حزب اللہ کے اگلے سربراہ ہو سکتے ہیں لیکن لبنان کے اخبار ’النهار‘ سے منسلک صحافی ابراہیم بیرام کے مطابق سب سے بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ ’کیا وہ حسن نصراللہ کی طرح پارٹی کو سنبھال سکیں گے۔‘

    روئٹرز کے مطابق ہاشم صفی الدین کو امریکی محکمہ خارجہ نے 2017 کے دوران دہشتگرد قرار دیا تھا۔ ان کے ماضی کے بیانات سے واضح ہے کہ وہ فلسطینی مزاحمت اور عسکری کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

  19. حزب اللہ کے ممکنہ رہنما کو نشانہ بنانے کی کوشش، ایک اہم لمحہ؟, جوئل گنٹر، بی بی سی بیروت

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    گذشتہ رات بیروت پر بڑے پیمانے پر کیے گئے اسرائیلی فضائی حملوں میں مبینہ طور پر حزب اللہ کے سابق رہنما حسن نصر اللہ کے کزن اور ممکنہ جانشین ہاشم صفی الدین کو نشانہ بنایا گیا۔

    اسرائیلی حکام نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ صفی الدین الضاحیہ کے نیچے ایک بنکر میں حزب اللہ کے سینیئر رہنماؤں سے میٹنگ میں شرکت کر رہے تھے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں اسرائیلی فوج نے گذشتہ ہفتے حسن نصراللہ کو ہلاک کیا تھا۔

    جب اسرائیل اس جگہ اپنی حملہ کرنے کی صلاحیت کا بار بار مظاہرہ کر رہا ہے، ایسے میں یہاں سینئر قیادت کا اجلاس بلانا ایک خطرناک عمل ہے۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے سینئر لبنانی تجزیہ کار ڈیوڈ ووڈ کا کہنا ہے کہ اس گروپ کے پاس ممکنہ طور پر بہتر آپشنز نہیں ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ اسے سمجھنے کے لیے آپ کو حزب اللہ کے پیجرز پر ہونے والے حملوں پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ اسرائیل کی حزب الہہ کے اندر غیر معمولی انٹیلی جنس نیٹ ورک کا مطلب ہے کہ اب حزب اللہ کے رہنماؤں کو آمنے سامنے ملاقاتیں کرنے کی ضرورت ہے اور وہ الضاحیہ کے علاوہ اور کہاں جا سکتے ہیں؟

    خیال کیا جاتا ہے کہ اس محلے کے نیچے حزب اللہ کے بنکر ہیں۔ لیکن یہ بنکر ایک ایسے وقت میں بنائے گئے تھے جب حزب اللہ کا خیال تھا کہ اسرائیل کو اس کی سینئر قیادت پر حملہ کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    مگر ان کا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔

    اب تک اس بات کی سرکاری طور پر کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ اسرائیلی حملے میں صفی الدین کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ووڈ کا کہنا ہے کہ اہم بات یہ نہیں ہے کہ اسرائیل ایک کے بعد دوسرے حزب اللہ رہنما کو نشانہ بنا رہا ہے بلکہ یہ کہ اسرائیل نے ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں لیڈروں کو نشانہ بنایا ہے۔

  20. اسرائیلی فوج کا حزب اللہ کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ

    اسرائیل کی فوج کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ روز بیروت پر کیے گئے حملے میں حزب اللہ کے کمیونیکیشن کمانڈر محمد راشد سکفی کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    ایک بیان میں اسرائیلی دفاعی افواج نے دعویٰ کیا کہ سکفی سنہ 2000 سے حزب اللہ میں تھے اور گروپ کے سینئر رہنماؤں کے قریب سمجھے جاتے تھے۔حزب اللہ نے ان کی ہلاکت کے حوالے سے اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔