بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح افراد کے حملے، متعدد شاہراہوں پر ٹریفک معطل

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سینیچر اور اتوار کی درمیانی شب مسلح افراد کے حملوں کے علاوہ بم دھماکوں کے واقعات پیش آئے ہیں۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں شاہراہوں پر مسلح افراد کی موجودگی کے باعث ٹریفک معطل ہونے کی اطلاعات ہیں۔

خلاصہ

  • حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ اتوار کو ان کی تنظیم نے اسرائیلی سرزمین پر 110 کلومیٹر اندر واقع ملٹری انٹیلی جنس کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
  • اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی کے سبب برٹش ایئرویز نے تلِ ابیب اور ایئر فرانس نے بیروت اور تلِ ابیب آنے جانے والی تمام پروزایں منسوخ کردی ہیں
  • پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیرِ داخلہ کے مطابق کراچی میں دو گروہوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ہیں
  • جرمنی کے شہر زولینگن میں جمعے کو ایک سٹریٹ فیسٹول کے دوران لوگوں پر چاقو سے حملہ کرنے والے مشتبہ شخص نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے اور اعترافِ جرم کر لیا ہے
  • حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے آج صبح سے اسرائیل پر 320 راکٹ داغے ہیں جو ملک کے شمالی حصے میں 11 فوجی مقامات کو نشانہ بنائیں گے۔ ادھر اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے میزائل اور راکٹ حملوں کے خدشے کے پیش نظر اپنے جنگی طیاروں کے ذریعے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
  • جرمن پولیس نے تین افراد کو چاقو سے قتل کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ دولت اسلامیہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
  • میسجنگ ایپ ٹیلی گرام کے سربراہ پاول دروف کو فرانس میں گرفتار کر لیا گیا ہے

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

  2. بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح افراد کے حملے، متعدد شاہراہوں پر ٹریفک معطل, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سینیچر اور اتوار کی درمیانی شب مسلح افراد کے حملوں کے علاوہ بم دھماکوں کے واقعات پیش آئے ہیں۔

    قلات شہر کے قریب ہونے والے حملوں میں اسسٹنٹ کمشنر قلات معمولی زخمی ہوئے جبکہ جیونی میں پولیس تھانے کے باہر تین گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔

    قلات میں نامعلوم مسلح افراد نے مہلبی میں لویز فورس کے ایک تھانے پر حملے کے علاوہ شہر کے قریب ایک ہوٹل اور گھر پر حملہ کیا۔

    ایس ایس پی قلات دوستین ڈومکی نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر قلات آفتاب لاسی حملے میں معمولی زخمی ہوئے ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    فون پر رابطہ کرنے پر قلات پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے مہلبی کے علاقے میں حملہ کیا جس کے بعد سیکورٹی فورسز کی ایک بھاری نفری اس علاقے میں پہنچ گئی ہے جہاں مسلح افراد اور سیکورٹی فورسز کے درمیان رات گئے تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔

    قلات کے علاوہ ضلع مستونگ کے علاقے میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے کھڈ کوچہ کے علاقے میں لیویز فورس کے ایک تھانے پر حملہ کیا ہے۔

    مستونگ انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو اس حملے کی تصدیق کی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ رابطوں میں مشکلات کی وجہ سے نقصانات کی اطلاع نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ اسی علاقے میں 12 اگست کو نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ڈپٹی کمشنر پنجگور ذاکر بلوچ ہلاک ہو گئے تھے۔

    اس کے علاوہ ضلع لسبیلہ میں سیکورٹی فورسز کے کیمپ پر مسلح افراد نے حملہ کیا ہے۔

    مقامی حکام کے مطابق سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں پانچ حملہ آور مارے گئے ہیں لیکن تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حملے میں سیکورٹی فورسز کو کوئی نقصان پہنچا ہے کہ نہیں۔

    ادھر ضلع گوادر میں جیونی کے علاقے میں سنٹ سر پولیس سٹیشن پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔

    مکران پولیس کے ایک سینیئر پولیس اہلکار نے بی بی سی کو اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے فون پر بتایا کہ حملہ آوروں نے تھانے کے باہر تین گاڑیوں کو نذرآتش کیا جن میں سے دو پولیس کی تھیں جبکہ تیسری گاڑی ایک مقدمے کے حوالے سے پولیس کی تحویل میں تھی۔

    پولیس اہلکار نے بتایا کہ حملہ آور تھانے سے پولیس اہلکاروں کا اسلحہ بھی لے گئے ہیں۔

    Abdul Malik

    ،تصویر کا ذریعہAbdul Malik

    ان حملوں کے علاوہ کوئٹہ، مستونگ، سبی، پنجگور، تربت اور دیگر شہروں میں بھی بم دھماکوں کے واقعات پیش آئے ہیں۔

    ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شاہراہوں پر مسلح افراد کی موجودگی کے باعث ٹریفک معطل رہی ہے۔

    ان حملوں کے حوالے سے کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن کی جانب سے ایک بیان بھی جاری کیا گیا ہے۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے تنظیم کے مجید بریگیڈ کے حملہ آوروں نے فورسز کے کیمپ پر حملہ کیا ہے جبکہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شاہراہوں کو بھی بند کیا گیا ہے۔

  3. حزب اللہ نے ڈرون حملوں میں اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کے اڈے کو نشانہ بنایا: حسن نصراللہ

    حزب اللہ، حسن نصراللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ اتوار کو ان کی تنظیم نے اسرائیلی سرزمین پر 110 کلومیٹر اندر واقع ملٹری انٹیلی جنس کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

    اپنی ایک تقریر میں حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ ملٹری انٹیلی جنس کا یہ اڈہ تلِ ابیب سے 105 کلومیٹر دور واقع ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر فواد شُکر کی موت کے جواب میں اسرائیل پر کیے گئے حملوں میں تاخیر کے پیچھے متعدد وجوہات تھیں، جن میں اسرائیلی اور امریکی افواج کا خطے میں متحرک ہونا بھی شامل ہے۔

    حسن نصراللہ کا مزید کہنا تھا کہ حزب اللہ فواد شُکر کی ہلاکت کا جواب عام لوگوں اور اسرائیلی انفراسٹکچر کو نشانہ بنا کر نہیں دینا چاہتی تھی۔

    خیال رہے اتوار کی صبح حزب اللہ اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر حملے کیے تھے۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے حملوں میں ان کا ’معمولی نقصان‘ ہوا ہے۔

    اسرائیل پر حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے حسن نصراللہ نے مزید کہا کہ حزب اللہ کے تمام ڈرونز کامیابی سے اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی تنظیم نے آج کے حملوں میں میزائلوں کا استعمال نہیں کیا، لیکن مستقبل میں ان میزائلوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    خیال رہے اس سے قبل حزب اللہ نے کہا تھا کہ انھوں نے اسرائیل پر 320 کاٹیوشا میزائل داغے ہیں، جبکہ حملوں میں ڈرونز کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس کے تقریباً 100 لڑاکا طیاروں نے تقریباً 40 مقامات پر ’حزب اللہ کے ہزاروں راکٹ لانچر بیرلز تباہ کیے ہیں۔‘

    حسن نصراللہ کون ہیں؟

    حسن نصراللہ ایک شعیہ رہنما ہیں جو کہ 1992 سے حزب اللہ کی قیادت کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس تنظیم کو ایک سیاسی اور عسکری قوت بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    ان کے ایران اور اس کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای سے قریبی روابط ہیں۔ حسن نصراللہ کو برسوں سے عوام کے درمیان نہیں دیکھا گیا ہے، شاید انھیں خود پر اسرائیلی حملے کا خدشہ ہے۔

    تاہم حزب اللہ میں انھیں ابھی بھی تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ہر ہفتے ان کی تقاریر نشر کی جاتی ہیں۔

  4. اسرائیل، حزب اللہ کشیدگی: متعدد ایئرلائنز نے تلِ ابیب اور بیروت کے لیے پروازیں معطل کر دیں

    اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی کے سبب برٹش ایئرویز نے تلِ ابیب اور ایئر فرانس نے بیروت اور تلِ ابیب آنے جانے والی تمام پروزایں منسوخ کردی ہیں۔

    برٹس ایئرویز کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ’مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں‘ اور انھوں نے اتوار اور بدھ کے درمیان اسرائیلی شہر تلِ ابیب آنے اور جانے والی تمام پراوزیں معطل کر دی ہیں۔

    ترجمان کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’کسٹمرز کی حفاظت ہماری پہلی ترجیح ہے اور ہم کسٹمرز کو ٹریول آپشنز کے بارے میں بتانے کے لیے رابطے کر رہے ہیں۔‘

    دوسری جانب ایئر فرانس کا کہنا ہے کہ وہ پیر تک بیروت اور تل ابیب آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر رہے ہیں۔

    خیال رہے اتوار کی صبح اسرائیل اور حزب اللہ نے ایک دوسرے پر حملے کیے تھے جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے تقریباً 100 لڑاکا طیاروں نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی کارروائی کے بعد حزب اللہ نے بھی شمالی اسرائیل پر میزائل اور راکٹ حملے کیے۔

    لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل فضائی حملوں سے جنوبی لبنان میں تین افراد ہلاک ہوئے۔

    دوسری جانب اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے حملوں سے اسرائیل میں ’بہت کم نقصان‘ ہوا ہے۔

  5. کراچی میں دو ’مذہبی گروہوں‘ میں تصادم: دو افراد ہلاک، مشتعل افراد نے گاڑیوں کو آگ لگا دی

    کراچی، گولیمار

    ،تصویر کا ذریعہScreengrab

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیرِ داخلہ کے مطابق کراچی میں دو گروہوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ہیں۔

    کراچی پولیس کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کے یہ واقعہ دو مذہبی گروہوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کراچی کے علاقے گولیمار میں پیش آیا۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ تصادم میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ایک لاش عباسی شہید ہسپتال، جبکہ دوسری بے نظیر بھٹو ٹراما سینٹر لایا گیا۔

    فائرنگ کے واقعے کے بعد علاقے میں بنائی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتعل افراد نے ایک بس، موٹر سائیکلوں اور ایک رکشے کو بھی آگ لگائی ہے۔

    دوسری جانب محکمہ داخلہ سندھ کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی وزیرِ داخلہ ضیا لنجار نے پولیس کو احکامات جاری کیے ہیں کہ ’شہریوں کا تحفظ کرنے کے لیے انتہائی ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’واقعے میں ملوث گروپوں کے کارندوں سمیت ان کے سرپرستوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔‘

  6. جرمنی میں چاقو حملہ: مشتبہ شامی حملہ آور نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا

    جرمنی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جرمنی کے شہر زولینگن میں جمعے کو ایک سٹریٹ فیسٹول کے دوران لوگوں پر چاقو سے حملہ کرنے والے مشتبہ شخص نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے اور اعترافِ جرم کر لیا ہے۔

    اتوار کو پروسیکیوٹرز اور ڈسلڈروف پولیس کا کہنا تھا کہ ’اس شخص کے (اس حملے میں) ملوث ہونے کی جامع تحقیقات کی جا رہی ہیں۔‘

    جرمنی کے فیڈرل پروسیکیوٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس شخص کے خلاف قتل، اقدامِ قتل اور ایک غیرملکی دہشتگرد تنظیم کے رُکن ہونے کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    پولیس کے مطابق زیرِ حراست شخص شامی شہری ہے جو دسمبر 2022 میں جرمنی آیا تھا۔

    خیال رہے جمعے کو جرمنی کے شہر زولینگن میں ایک سٹریٹ فیسٹول کے دوران ایک چاقو بردار شخص نے تین افراد کو قتل اور آٹھ کو زخمی کر دیا تھا۔

    جرمنی کے چانسلر اولاف شولز نے اس حملے کو ’ہولناک عمل‘ قرار دیا تھا۔

    سنیچر کو شدت پسند گروہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، تاہم ان کی جانب سے فوری طور پر یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اس کا حملہ آور کے ساتھ کیا تعلق ہے۔

    جرمنی میں حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں دو 56 اور 56 سالہ مرد اور ایک 56 سالہ خاتون شامل ہیں، جبکہ زخمی ہونے والے چار افراد کی حالت بھی تشویشناک ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ تمام افراد کی گردنوں پر حملہ کیا گیا تھا۔

    جرمن ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے وزیرِ داخلہ ہربرٹ ریول نے اے آر ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ’جس شخص کو ہم پورے دن سے ڈھونڈ رہے تھے اسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔‘

    جرمنی کی دو نیوز ویب سائٹس کے مطابق مشتبہ شخص نے جب خود کو پولیس کے حوالے کیا تو اس کے کپڑے خون آلود تھے۔

    پولیس نے اس حملے کے الزام میں 15 سالہ لڑکے کو بھی حراست میں لیا ہے جس کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ اسے اس حملے کا پہلے سے علم تھا۔

  7. اسرائیل اور حزب اللہ کے ایک دوسرے پر حملے: لبنان میں تین افراد ہلاک

    اسرائیل، حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل اور لبنانی عسکری تنظیم حزب اللہ کے ایک دوسرے کے خلاف حملوں نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ہوا دے دی ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اتوار کو اس کے تقریباً 100 لڑاکا طیاروں نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی کارروائی کے بعد حزب اللہ نے بھی شمالی اسرائیل پر میزائل اور راکٹ حملے کیے۔

    اگر اسرائیل کی جانب سے 100 لڑاکا طیاروں کے استعمال کی بات درست ہے تو پھر یہ 2006 کے بعد حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی جھڑپ ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے مقامی وقت کے مطابق 4:30 بجے حزب اللہ پر حملے کیے اور اس کا دعویٰ ہے کہ لبنانی عسکری تنظیم تقریباً آدھے گھنٹے بعد اسرائیل پر کسی بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔

    لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل فضائی حملوں سے جنوبی لبنان میں تین افراد ہلاک ہوئے۔

    دوسری جانب اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے حملوں سے اسرائیل میں ’بہت کم نقصان‘ ہوا ہے۔

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ یہ ان کی طرف سے اسرائیل پر کیے جانے والے حملوں کا ’فیز ون‘ تھا، جس میں اسرائیل پر 320 کاٹیوشا میزائل فائر کیے گئے اور 11 اسرائیلی مقامات کو ڈرونز سے بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

    حزب اللہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کے خلاف ان کا آج کا آپریشن مکمل ہوگیا ہے۔

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر حملے ان کے سینیئر کمانڈر فواد شُکر کی موت کا بدلہ لینے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

    اس کشیدگی کے سبب تقریباً 60 ہزار اسرائیلی افراد کو نقل مکانی کرنی پڑی ہے، جبکہ لبنانی سرحدی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے لبنانی شہریوں کی تعدد اس سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔

    اتوار کی صبح اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت ہزاروں افراد کو ان کے گھروں تک واپس بھیجنے کے لیے ’پُرعزم‘ ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں جو بھی نقصان پہنچائے گا، ہم اسے نقصان پہنچائیں گے۔‘

    دوسری جانب حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی تقریر بھی آج متوقع ہے، جس سے یہ اندازہ لگانا شاید آسان ہوجائے کہ عسکری تنظیم آگے کیا کرنے جا رہی ہے۔

    حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے تبادلے کے بعد لبنان کے عبوری وزیراعظم نجیب میقاتی نے کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا اور کہا کہ وہ ’اس کیشدگی کو روکنے کے لیے لبنان کے دوستوں سے رابطے کر رہے ہیں۔‘

  8. بریکنگ, کہوٹہ میں بس حادثہ، تمام 23 مسافر ہلاک, فرحت جاوید، بی بی سی اردو

    کہوٹہ میں بس حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہLocal admin

    راولپنڈی کے علاقے کہوٹہ میں ایک بس کھائی میں گِرنے سے تمام 23 مسافر ہلاک ہوگئے ہیں۔

    یہ بس راولپنڈی سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پلندری کی جانب جا رہی تھی جب آزاد پتن کے قریب یہ بس کھائی میں جا گری۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر پونچھ سردار وحید نے کہا ہے کہ بس میں ڈرائیور سمیت 23 افراد سوار تھے جن میں 19 مرد، تین خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔ ان کے مطابق تمام افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ان کی میّتیں کہوٹہ ہسپتال پہنچا دی گئی ہیں۔

    سردار وحید کے مطابق مسافروں میں سے بیشتر کا تعلق راولپنڈی کے مختلف علاقوں سے ہے جبکہ آٹھ افراد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے تھے۔

    ترجمان ریسکیو پنجاب فاروق احمد نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ اس حادثے کی اطلاع ملنے پر 12 ایمرجنسی وہیکلز اور 25 سے زائد ریسکیو ورکر نے ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا تھا۔

    یہ بھی پڑھیے

  9. لسبیلہ: مکران کوسٹل ہائی وے پر پاکستانی زائرین کی بس کھائی میں جا گِری، 10 افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    لسبیلہ: مکران کوسٹل ہائی وے پر پاکستانی زائرین کی بس کھائی میں جا گِری، 10 افراد ہلاک

    ،تصویر کا ذریعہRESCUE AUTHORITIES

    بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں ایک بس حادثے میں کم از کم 10 زائرین ہلاک اور 32 زخمی ہوگئے ہیں۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ پاکستانی زاہرین کی بس ایران سے واپس آ رہی تھی اور سرحدی ضلع گوادر میں داخل ہوئی تھی۔

    انھوں نے بتایا کہ یہ بس کوسٹل ہائی وے سے لسبیلہ کی جانب آتی ہوئی بوزی ٹاپ کے مقام پر حادثے کا شکار ہوئی اور ایک گہری کھائی میں جا گِری۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ حادثے میں کم از کم 10 زائرین ہلاک اور 32 زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے سات کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اوتھل جبکہ 25 کو جام غلام قادر ہسپتال حب منتقل کیا گیا ہے۔ زخمیوں میں سے سات کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

    یہ بھی پڑھیے:

    لسبیلہ: مکران کوسٹل ہائی وے پر پاکستانی زائرین کی بس کھائی میں جا گِری، 10 افراد ہلاک

    ،تصویر کا ذریعہRESCUE AUTHORITIES

    ان کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے اکثر افراد کا تعلق لاہور اور گوجرانوالہ سے ہے۔

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے مکران کوسٹل ہائی وے پر اس بس حادثے پر دلی رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو بہتر علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    ایک ہفتے کے دوران پاکستانی زائرین کی بسوں کو پیش آنے والا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل سندھ کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے زائرین کی بس کو ایران کے شہر یزد کے قریب پیش آنے والے حادثے میں کم ازکم 28 زائرین ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

    مکران کوسٹل ہائی وے پر پاکستانی زائرین کی بس کھائی میں جا گِری، 10 افراد ہلاک

    ،تصویر کا ذریعہRESCUE AUTHORITIES

  10. اسرائیل-حزب اللہ کشیدگی: ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

    اسرائیل، لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے اپنے دفاع کے لیے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے
    • اسرائیل نے ملک میں 48 گھنٹوں کے لیے ایمرجنسی نافذ کی ہے۔ شمالی اسرائیل میں سائرن بجائے گئے ہیں۔ تل ابیب سے آنے اور جانے والی بین الاقوامی پروازوں کو عارضی طور پر منسوخ کیا گیا تھا مگر اب انھیں بحال کر دیا گیا ہے۔
    • حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے آج صبح سے اسرائیل پر 320 راکٹ داغے ہیں۔ اس کے مطابق پہلے مرحلے میں فوجی بیرکس سمیت 11 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
    • حزب اللہ کے مطابق یہ کارروائی گذشتہ ماہ سینیئر کمانڈر فواد شکر کی ہلاکت کے جواب میں کی جا رہی ہے۔ لبنان کے عسکری گروہ کا کہنا تھا کہ اس نے اسرائیل میں آئرن ڈوم سمیت کئی فوجی اہداف کی نشاندہی کی ہے۔
    • امریکہ میں قومی سلامتی کے ترجمان کے مطابق صدر جو بائیڈن نے اپنے عملے کو ہدایت دی ہے کہ اسرائیل سے قریبی رابطے میں رہے اور اس کے حقِ دفاع کی حمایت جاری رکھے۔ پینٹاگون کا بھی یہی کہنا ہے کہ امریکہ دفاعی امور میں اسرائیل کی مدد کرے گا۔

    یہ بھی پڑھیے

  11. لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے: اسرائیلی فوج

    اسرائیل، لبنان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے مطابق اسے خدشہ تھا کہ لبنان سے اسرائیل پر میزائل اور راکٹ داغے جائیں گے اور اس حوالے سے بعض اقدامات کی نشاندہی کی گئی تھی۔

    ایک بیان میں اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) کے ترجمان نے کہا کہ ان خطرات سے نمٹنے اور اپنے دفاع کے لیے اسرائیلی فوج ’دہشتگردی پھیلانے والے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔‘

    یہ بھی پڑھیے

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان میں عام شہریوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان علاقوں سے فوری طور پر نکل جائیں جہاں سے ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسند گروہ حزب اللہ آپریٹ کرتا ہے۔

    اسرائیل، جنگی طیارہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    شمالی اسرائیل میں راکٹ حملوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے اور اس حوالے سے سائرن بجائے جا رہے ہیں۔

    کچھ دیر بعد حزب اللہ نے کہا کہ گذشتہ ماہ ایک سینیئر کمانڈر کی ہلاکت کے جواب میں وہ اسرائیل میں وسیع پیمانے پر ڈرون حملہ شروع کر رہا ہے۔ جولائی کے دوران بیروت میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں فواد شکر ہلاکت ہوئے تھے۔

    اب تک کسی شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے اپنی سکیورٹی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

    اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی غزہ جنگ کے دوران اسرائیل اور حزب اللہ نے کئی بار ایک دوسرے کو نشانہ بنایا ہے۔

  12. جرمنی میں تین ہلاکتوں کے بعد چاقو سے وار کرنے والا مبینہ حملہ آور گرفتار

    جرمنی، چاقو حملہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جرمن پولیس نے تین افراد کو چاقو سے قتل کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

    جمعے کی شب جرمنی کے شہر زولنگن میں اس چاقو کے حملے میں تین افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے تھے۔ جرمن چانسلر اولاف شولز نے اس واقعے کی مذمت کی تھی۔

    جرمن ریاست نورڈرائن ویسٹ فالن کے وزیر داخلہ نے بتایا ہے کہ ’جس شخص کو ہم گذشتہ روز تلاش کر رہے تھے اسے اب حراست میں لے لیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے اس حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں دی ہیں تاہم جرمن میڈیا کے مطابق خون آلود کپڑوں میں ملبوس اس شخص نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ اس شخص نے خود کو پولیس کے حوالے کیا۔

    جرمنی، چاقو حملہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جرمن حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے شخص کے خلاف شواہد موجود ہیں اور انھی پر ’سب سے زیادہ شک ہے۔‘

    اس سے قبل پولیس کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ کے قریب پناہ گزین کے ایک مرکز سے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حکام نے ایک 15 سالہ لڑکے کو بھی حراست لیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ اس حملے کے بارے میں معلومات رکھتے تھے۔

    دریں اثنا نام نہاد دولت اسلامیہ نے سنیچر کو اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس نے اس حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے اور یہ واضح نہیں کہ آیا حملہ آور کا اس سے کوئی قریبی تعلق تھا۔

    جرمن حکام کے مطابق زولنگن میں تین روزہ تقاریب جاری تھیں جب شہر کے مرکز میں اس ایک حملہ آور نے بظاہر جان بوجھ کر چاقو سے لوگوں کی گردن پر وار کیے تھے۔

  13. ٹیلی گرام ایپ کے ارب پتی سربراہ پاول دروف فرانس میں گرفتار

    پاول دروف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانسیسی پولیس نے پیرس کے قریب ایک ہوائی اڈے سے میسجنگ ایپ ٹیلی گرام کے سربراہ پاول دروف کو گرفتار کر لیا ہے۔

    فرانسیسی میڈیا کے مطابق پاول دروف نے اپنے نجی طیارے سے لے بوجیہ ایئرپورٹ پر لینڈ کیا تھا جس کے بعد انھیں حراست میں لے لیا گیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ 39 سالہ دورف کے خلاف ٹیلی گرام ایپ سے متعلق بعض الزامات کے تحت گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا تھا اور اسی بنیاد پر انھیں گرفتار کیا گیا ہے۔

    ادھر روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق فرانس میں روسی سفارتخانہ کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال کی وضاحت کے لیے ’فوری اقدام‘ کر رہا ہے۔

    یہ بھی پڑھیے

    فرانسیسی ٹی وی چینل ٹی ایف ون نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ دروف اپنے نجی طیارے پر سفر کر رہے تھے۔

    ٹیلی گرام روس اور یوکرین کے علاوہ سابقہ سوویت یونین کی ریاستوں میں ایک مقبول میسجنگ ایپ ہے۔

    روس میں اس ایپ پر 2018 کے دوران پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس سے قبل دروف نے صارفین کا ڈیٹا دینے سے انکار کیا تھا۔ مگر 2021 میں پابندی ہٹا دی گئی تھی۔

    فیس بک، یوٹیوب، واٹس ایپ، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور وی چیٹ کی طرح ٹیلی گرام کو بھی بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    دروف نے 2013 کے دوران ٹیلی گرام کی بنیاد رکھی تھی۔ انھوں نے 2014 میں روس چھوڑ دیا تھا جب حکومت نے ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’وی کے‘ پر حزب اختلاف کی سرگرمیوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی وہ کمپنی فروخت کر دی تھی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روسی کاروباری شخصیت دبئی میں رہائش پذیر ہیں اور ٹیلی گرام کمپنی کو بھی یہیں قائم کیا گیا ہے۔ دروف کے پاس فرانس اور متحدہ عرب امارات دونوں کی شہریت ہے۔

    میگزین فوربز کے مطابق دروف کے پاس 15.5 ارب ڈالر کے اثاثے ہیں۔

  14. پشین میں بم دھماکہ، دو بچے اور ایک خاتون ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    پشین

    بلوچستان کے شہر پشین میں بم دھماکے کے ایک واقعے میں دو بچے اور ایک خاتون ہلاک جبکہ 15 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

    کمشنر کوئٹہ ڈویژن حمزہ شفقات نے ٹراما سینٹر کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ دو بچے جائے وقوعہ پر ہلاک ہو گئے تھے تاہم زخمی خاتون کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن وہ جانبر نہیں ہو سکیں۔

    انھوں نے بتایا کہ دھماکہ آئی ای ڈی ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا اور اس کا پرائمری ٹارگٹ پولیس تھی۔ ’دھماکے میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔‘

    پشین پولیس کے ایک اہلکار صلاح الدین نے بتایا کہ دھماکہ پشین شہر میں واقع سرخاب روڈ پر ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق دھماکہ خیز مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا جس کے پھٹنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

    پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پشین منتقل کیا گیا۔

    فون پر رابطہ کرنے پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر وکیل شیرانی نے بتایا کہ دھماکے میں جن دو بچوں کی ہلاکت ہوئی ان کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی۔

    انھوں نے بتایا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے 13 کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد کوئٹہ منتقل کیا گیا۔

    پشین شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے شمال میں اندازاً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ضلع کوئٹہ سے متصل اس ضلع کی سرحد شمال میں افغانستان سے بھی لگتی ہے۔ اس ضلع کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔

    پشین میں اس سے قبل بھی بم دھماکوں اور پولیس اور لیویز فورس کے اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ تاحال پشین شہر میں بم دھماکے اس واقعے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم ماضی میں پشین اور بلوچستان کے دیگر پشتون آبادی والے علاقوں میں ایسے واقعات کی ذمہ داری مذہبی شدت پسند تنظیموں کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔

    ادھر بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں سندھ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہلاک ہوا۔

    سرکاری حکام کے مطابق ضلع نوشکی میں مل کے علاقے میں ہلاک ہونے والا شخص ٹوپیاں فروخت کرتا تھا۔

    دریں اثنا بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے پشین اور نوشکی میں ہونے والے واقعات کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سماج دشمن اور ریاست مخالف عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے معصوم اور بے گناہ افراد کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پشین بم دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

  15. امیر بالاج ٹیپو کے قتل کے ملزم احسن شاہ ’اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک‘، پولیس کا دعویٰ, ترہب اصغر، بی بی سی اردو

    امیر بالاج ٹیپو

    ،تصویر کا ذریعہFacebook/Ameer Balaj Tipu Trackanwala

    ،تصویر کا کیپشنامیر بالاج ٹیپو

    لاہور پولیس کے آرگنائزڈ کرائم یونٹ کے ڈی آئی جی عمران کشور کا دعویٰ ہے کہ ٹیپو ٹرکاں والے کے بیٹے امیر بالاج ٹیپو کے قتل کے مقدمے میں مرکزی ملزم احسن شاہ ’اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔‘ تاہم ان کے اہل خانہ نے اسے مسترد کیا ہے اور اس واقعے کو ایک ’ناجائز قتل‘ قرار دیا ہے۔

    فروری 2024 کے دوران امیر بالاج ٹیپو کو ایک شادی کی تقریب کے دوران فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ بالاج کے محافظوں کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور کی موقع پر ہلاکت ہوگئی تھی تاہم پولیس کا دعویٰ تھا کہ احسن شاہ نے شادی سے قبل ریکی کر کے حملہ آور کو معلومات فراہم کی تھی۔

    اب لاہور پولیس کے آرگنائزڈ کرائم یونٹ کا ایک بیان میں دعویٰ ہے کہ احسن شاہ جمعے کو ’اپنے بھائی علی رضا اور دیگر نامعلوم ساتھیوں‘ کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ ’ملزم کو برائے نشان دہی اور ساتھی ملزمان کی گرفتاری کے لیے تھانہ شاد باغ لے جا رہی تھی‘ جس دوران احسن شاہ کے ساتھیوں نے انھیں ’چھڑانے کے لیے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔‘

    ’ساتھیوں کی فائرنگ سے ملزم احسن شاہ شدید زخمی ہو گیا جس کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔‘

    آرگنائزڈ کرائم یونٹ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار معجزانہ طور پر محفوظ رہے جبکہ ہلاک ہونے والے ملزم کے دیگر ساتھی اندھیرے کا فائده اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔‘

    ’میرے بیٹے کو ناجائز قتل کیا گیا‘

    دوسری طرف احسن شاہ کی والدہ نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو ’ناجائز قتل‘ کیا گیا ہے۔

    صحافیوں کو دیے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی اپنے بیٹے سے ہر جمعے کو ملاقات ہوتی تھی اور وہ بتا چکا تھا کہ ’یہ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔‘

    انھوں نے پولیس کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’میری آنکھوں کے سامنے وہ اسے ڈالے میں بٹھا کر لے گئے تھے‘ اور جس دوسرے بیٹے پر فائرنگ کا الزام عائد کیا گیا ہے ’اس کا وہاں کوئی وجود نہیں تھا۔‘

    احسن شاہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو اس وقت تک دفن نہیں کریں گی جب تک انھیں انصاف نہیں ملتا۔ انھوں نے اس قتل کا الزام ’مخالف پارٹی‘ پر عائد کیا ہے۔

    مقامی ذرائع ابلاغ پر اس واقعے کے لیے ’مبینہ مقابلے‘ کے الفاظ استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں ہوگا کہ پولیس کی تحویل میں کسی ملزم کی ایک ’مبینہ پولیس مقابلے‘ میں ہلاکت ہوئی ہو۔

    سالہا سال سے پاکستان کے مختلف شہروں میں رپورٹ ہونے والے پولیس انکاؤنٹرز یا ’پولیس مقابلوں‘ پر درج مقدمات کی تحریر ہمیشہ سے ہی ملتی جلتی ہے جس میں عموماً مشتبہ ملزمان پہلے ’پولیس پر فائرنگ‘ کرتے ہیں اور بعدازاں ’اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ‘ بن کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔

    یوں ہائی پروفائل کیسز میں جرم ثابت کرنے اور سزا کے عمل سے گزرے بغیر ہی کیس بند ہو جاتے ہیں۔

  16. غزہ میں 25 سال بعد پولیو وائرس کی واپسی، 10 سالہ بچی کی ٹانگ مفلوج

    غزہ میں 25 سال بعد پولیو وائرس کی واپسی، 10 سالہ بچی کی ٹانگ مفلوج

    ،تصویر کا ذریعہREUTERS/Ramadan Abed

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں پولیو سے متاثرہ 10 سالہ بچی جزوی طور پر مفلوج ہوگئی ہے۔

    غزہ میں گذشتہ 11 ماہ سے جنگ جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہاں گذشتہ 25 سال سے پولیو کا کوئی کیس نہیں آیا تھا۔ جون کے دوران جب غزہ کے گندے پانی سے نمونے اکٹھے کیے گئے تو اس میں ٹائپ ٹو پولیو وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا ہے کہ انھیں اس صورتحال پر بہت تشویش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتوں کے دوران ویکسینیشن پروگرام شروع کیا جائے گا۔

    پولیو سے متاثرہ 10 سالہ بچی کو ویکسین نہیں مل سکی تھی۔ اس کی ایک ٹانگ مفلوج ہوگئی ہے اور اس کی حالت فی الحال بہتر ہے۔

    پولیو وائرس اکثر گندے پانی سے بہت تیزی سے پھیلتا ہے۔ یہ ایک جان لیوا بیماری ہے جس سے ایک شخص پوری زندگی کے لیے مفلوج ہوسکتا ہے۔ اس سے زیادہ پانچ سال سے کم عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔

    سماجی تنظیموں نے غزہ میں پولیو کیس کی تشخیص پر برہمی ظاہر کی ہے۔ انھوں نے اس کی وجہ ویکسینیشن پروگرام کی معطلی کو قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق جنگ کی وجہ سے پانی کی نکاسی کا نظام متاثر ہوا ہے۔

    پولیو وائرس کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ نے بارہا ایک ہفتے کے لیے لڑائی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے مطابق یہ 10 سال سے کم عمر چھ لاکھ 40 ہزار بچوں کی زندگی کا سوال ہے۔

    اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرس کا کہنا ہے کہ ’غزہ میں لاکھوں بچے خطرے میں ہیں۔‘ انھوں نے غزہ میں پولیو ویکسین کی مہم کے لیے ایندھن کی فراہمی، مالی وسائل، قابل اعتماد مواصلاتی نظام اور تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے غزہ کے لیے 16 لاکھ ویکسین کے نسخے منظور کیے ہیں۔

    ادھر یونیسیف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کیتھرن رسل کا کہنا ہے کہ غزہ میں 25 سال بعد پولیو وائرس کی واپسی ’یہ یاددہانی ہے کہ صورتحال کس قدر پریشان کن اور خطرناک بن چکی ہے۔‘

    ادھر اسرائیلی دفاعی فورسز کا کہنا ہے کہ غزہ میں ویکسینز بھیجی جا رہی ہیں۔

    18 اگست کو آئی ڈی ایف نے کہا کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک غزہ کو پولیو ویکسین کی 2,821,260 خوراکیں بھیجی گئی ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں دس لاکھ سے زیادہ بچوں کو اضافی 60,000 ویکسین فراہم کی جائیں گی۔

  17. ایران میں بس حادثے میں ہلاک ہونے والے زائرین کی میتیں پاکستان پہنچا دی گئیں

    پاکستانی زائرین، بس، ایران

    ،تصویر کا ذریعہIRIB/HANDOUT/EPA-EFE/REX/Shutterstock

    پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ایران میں ایک بس حادثے میں ہلاک ہونے والے 28 پاکستانی زائرین کی میتیں جمعے کی شب سی 130 طیارے کے ذریعے سندھ کے شہر جیکب آباد پہنچا دی گئی ہیں۔ اس خصوصی طیارے میں حادثے کے دوران زخمی ہونے والے 16 پاکستانی شہری بھی سوار تھے۔

    ایران کے شہر یزد میں بس حادثہ میں ہلاک 28 پاکستانی زائرین کی میتیں جیکب آباد کے شہباز ایئر بیس پر لائی گئیں جہاں سے انھیں ورثا کے حوالے کیا جائے گا۔ شہباز ایئر بیس پر اِن پاکستانی زائرین کی نماز جنازہ بھی ادا کی گئی جس میں صوبائی وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ، ایئر بیس پر موجود پاک فضائیہ کے افسران، جوانوں اور لواحقین نے شرکت کی۔

    یہ حادثہ ایرانی دارالحکومت تہران سے تقریباً 500 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع شہر تافت کے باہر پیش آیا ہے۔ حادثے کے وقت بس میں 51 افراد سوار تھے۔ یزد کے کرائسس مینجمنٹ کے شعبے کے ڈائریکٹر کے مطابق اس حادثے میں مرنے والوں میں 11 خواتین اور 17 مرد شامل ہیں۔

    لاکھوں شیعہ زائرین ہر برس اربعین کے سالانہ جلوس میں شرکت کے لیے عراق کا رخ کرتے ہیں۔

  18. ترنول میں پولیس پر فائرنگ کرنے کا الزام، پی ٹی آئی کے رہنما ارباب عامر ایوب سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور ایم این اے ارباب عامر ایوب سمیت دیگر کے خلاف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترنول میں پولیس پر فائرنگ اور پتھراؤ کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    ایس ایج او تھانہ ترنول کی مدعیت میں سی ٹی ڈی تھانے میں درج اس مقدمے میں نامزد کردہ 40 افراد کے خلاف انسداد دہشتگردی کے قانون (اے ٹی اے) کی دفعہ 11 کے علاوہ 16 دیگر دفعات بھی لگائی گئی ہیں۔

    مقدمے کے متن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مشتعل مظاہرین نے حکومت اور اداروں کے خلاف نعرے بازی کی، پولیس پر سیدھے فائر کیے اور زبردستی دکانیں بند کروائیں۔ اس میں یہ بھی الزام ہے کہ مظاہرین نے عوام میں خوف و ہراس پھیلایا اور پولیس اہلکاروں سے دست و گریباں ہوئے جس میں کچھ پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

    یہ بھی پڑھیے

    مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق ترنول میں تحریک انصاف کا جلسہ منسوخ ہونے کے باوجود ارباب عامر ایوب سمیت دیگر افراد نے یہاں کا رُخ کیا تھا جس کے بعد پولیس نے ان میں سے کئی افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔

    اپنی رہائی کے بعد جمعے کو ارباب عامر ایوب واپس پشاور پہنچ گئے تھے۔

    خیال رہے کہ تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ روز کہا تھا کہ انھوں نے 22 اگست کو اس لیے جلسہ ملتوی کیا کیونکہ انھیں انتشار پھیلنے کا خدشہ تھا۔

    اڈیالہ جیل میں قائم کمرہ عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران عمران خان نے کہا کہ ’مجھے معلومات دی گئی تھی کہ ختم نبوت کا معاملہ ہے اور دینی جماعتیں احتجاج پر ہیں، انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے اسی لیے اعظم سواتی اور بیرسٹر گوہر کو بلا کر ملاقات کی اور جلسہ ملتوی کرنے کی ہدایت کی۔‘

  19. نیپال میں انڈین مسافروں کو لے جانے والی بس دریا میں جا گِری، کم از کم 14 افراد ہلاک

    بس

    ،تصویر کا ذریعہANI

    نیپال میں انڈیا سے آئے مسافروں کو لے جانے والی ایک بس دریا میں گِرنے سے کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق یہ بس نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو جا رہی تھی جس میں قریب 40 افراد سوار تھے۔

    تاناہون میں دریا کے کنارے ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم اب تک حادثے کی وجہ یا متاثرین کی شناخت معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

    ایک سینیئر پولیس اہلکار دیپ کمار رایا نے خبر رساں اے این آئی کو بتایا ہے کہ ’ایک بس جس کی نمبر پلیٹ یو پی ایف ٹی 7623 ہے، دریا میں گِر گئی تھی۔ یہ بس اب دریا کے کنارے پر موجود ہے۔‘

    یہ بس انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش میں رجسٹرڈ ہے۔

    مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دویندرا فدنویس کے مطابق بعض متاثرین کا تعلق ان کی ریاست ہے۔ ’ہم لاشوں کی منتقلی کے لیے اتر پردیش حکومت سے رابطے میں ہیں۔ نیپال کی حکومت سے بھی بات چیت جاری ہے۔‘

    جائے وقوعہ کی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پہاڑی علاقے میں بس دریا کے کنارے پر موجود ہے۔ ریسکیو حکام تباہ حال بس کے ملبے میں زندہ بچنے والوں کو ڈھونڈ رہے ہیں۔

    نیپالی فوج نے حادثے کی جگہ پر مدد کے لیے ایک ہیلی کاپٹر بھیجا ہے۔

    انڈیا سے آنے والے زائرین اسی راستے سے آتے ہوئے بعض مذہبی مقامات کے دورے کرتے ہیں۔

    نیپال کے پہاڑی علاقوں میں تنگ راستوں اور خراب سڑکوں کی وجہ سے اکثر حادثے رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ جولائی میں دو مسافر بسیں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کھائی میں جا گری تھیں جس سے 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  20. جرمنی میں چاقو کے حملے سے تین افراد ہلاک

    جرمنی میں چاقو کے حملے سے تین افراد ہلاک

    ،تصویر کا ذریعہAP

    جرمنی کے شہر زولنگن کی پولیس کا کہنا ہے کہ چاقو سے کیے گئے ایک حملے میں تین افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔

    یہ حملہ جمعے کی شب ہوا جب شہر کے مرکز میں ایک تقریب جاری تھی۔ اطلاعات کے مطابق تاحال پولیس حملہ آور کو پکڑ نہیں سکی ہے۔

    جرمن میڈیا بیلت کے مطابق حملہ آور نے راہ چلتے لوگوں پر چاقو سے وار کیے۔ حملہ آور کی تلاش جاری ہے اور پولیس کے ہیلی کاپٹروں کو شہر کے اوپر اُڑتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    یہ صنعتی شہر اپنے قیام کا 650واں سال منا رہا تھا۔

    حکام نے لوگوں کو مرکز سے نکلنے کی ہدایت دی ہے اور پولیس نے جائے وقوعہ کے اطراف پر رکاوٹیں لگائی ہیں۔

    ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق ایمرجنسی ورکرز زخمی شہریوں کو طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔

    جرمنی چاقو حملہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پولیس نے حملہ آور کی تلاش کے لیے 40 ٹیکٹیکل وہیکلز تعینات کیے ہیں۔ ان گاڑیوں پر سپیشل ٹاسک فورس کے اہلکار سوار ہیں۔

    سڑکوں پر رکاوٹیں لگائی گئی ہیں اور شہریوں کو اس تلاش کے دوران گھروں میں رہنے کا کہا گیا ہے۔

    تقریب کے منتظمین میں سے ایک فلپ مولر نے کہا کہ نو لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں جنھیں ایمرجنسی ورکرز طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ ’لوگ حیران ہیں۔ لیکن وہ پُرامن طریقے سے مرکز سے چلے گئے۔‘

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انھیں معلوم تھا کہ کچھ گڑ بڑ ہے جب انھوں نے دیکھا کہ سٹیج پر موجود گلوکار کے چہرے کے تاثرات بدل گئے ہیں۔ لارس نامی عینی شاہد نے بتایا کہ ’مجھ سے صرف ایک میٹر دور ایک شخص گِر گیا تھا۔‘

    جرمن میڈیا کے مطابق حملہ آور نے بظاہر جان بوجھ کر چاقو سے لوگوں کو گردن پر وار کیے۔ پولیس ترجمان نے کہا ہے کہ اب تک کی معلومات کے مطابق صرف ایک حملہ آور تھا۔

    اس تین روزہ تقریب میں ہر رات 25 ہزار لوگوں کے اجتماع کی توقع تھی۔ مگر اب اسے منسوخ کر دیا گیا ہے۔