ملک دشمنوں سے کوئی بات نہیں ہو گی، دہشت گردی کو ختم کرنے کا وقت آ پہنچا، شہباز شریف

منگل کو وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد پاکستان اور چین میں فاصلے پیدا کرنا چاہتے ہیں، دہشت گردوں کے لیے ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے، اس دہشت گردی کو ختم کرنےکا وقت آپہنچا ہے اور اس کے لیے تمام وسائل مہیا کیے جائیں گے۔

خلاصہ

  • پاکستان کے صوبے بلوچستان میں شدت پسندوں کی جانب سے کئی مقامات پر کیے جانے والے حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جوابی کارروائی میں اب تک 12 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
  • انڈیا کی حکومت نے لداخ میں پانچ نئے اضلاع بنانے کا اعلان کیا ہے۔
  • یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے خلاف ملازمین کے ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر اسلام آباد انتظامیہ نے کنٹینرز رکھ کر ڈی چوک سیل کر دیا۔
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سینیچر اور اتوار کی درمیانی شب مسلح افراد کے حملوں کے علاوہ بم دھماکوں کے واقعات پیش آئے ہیں۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں شاہراہوں پر مسلح افراد کی موجودگی کے باعث ٹریفک معطل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
  • حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ اتوار کو ان کی تنظیم نے اسرائیلی سرزمین پر 110 کلومیٹر اندر واقع ملٹری انٹیلی جنس کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
  • اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی کے سبب برٹش ایئرویز نے تلِ ابیب اور ایئر فرانس نے بیروت اور تلِ ابیب آنے جانے والی تمام پروزایں منسوخ کردی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کی گمشدگی کا معاملہ: جیل انتظامیہ کو اپنے افسر کا ہی نہیں پتا، جیل میں قیدی سمیت عملہ بھی غیر محفوظ ہے، لاہور ہائیکورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    لاہور ہائیکورٹ میں سابق ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل محمد اکرم کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ ’جیل انتظامیہ کو ابھی تک پتہ نہیں کے انکا افسر جیل سے غائب کیسے ہوگیا۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ اڈیالہ جیل میں قیدی سمیت عملہ بھی غیر محفوظ ہے۔‘

    آج لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ میں سابق ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ جیل محمد اکرم کی مبینہ گمشدگی سے متعلق ہونے والی سماعت جسٹس مرزا وقاص رؤف نے کی۔

    سابق ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ محمد اکرم کی اہلیہ اپنے بیٹے اور وکیل ایمان مزاری کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔

    دورانِ سماعت سابق ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ جیل محمد اکرم کی وکیل ایمان مزاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’محمد اکرم 14 اگست سے لاپتہ ہیں پولیس اور کوئی بھی اورسکیورٹی ادارہ اُن سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کررہا۔ ہمیں شک ہے کہ محمد اکرم خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں۔‘

    اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ سابق ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل محمد اکرم کون سے خفیہ ادارے کے پاس ہیں؟ عدالت کسے ہدایات جاری کرے؟ ہم مفروضوں پر تو کسی کو کوئی ہدایات جاری نہیں کرسکتے۔

    اس معاملے سے متعلق ہونے والی سماعت کے دوران 19 اگست کو وزارتِ دفاع کو رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا گیا تھا جس پر عمل کرتے ہوئے متعلقہ وزارات کی جانب سے ڈپٹی سپرینڈنٹ محمد اکرم سے متعلق اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔

    وزارتِ دفاع کی جانب سے منگل کے روز عدالت میں جمع کروائی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’محمد اکرم وزارت دفاع کے ماتحت کسی ادارے کی تحویل میں نہیں۔ محمد اکرم سے متعلق انٹیلیجنس ایجنسیز سے بھی معلومات حاصل کی گئیں اور وزارت دفاع کی حد تک سابق ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل محمد اکرم سے متعلق درخواست نمٹائی جائے۔‘

    عدالت کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ ’یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جیل انتظامیہ کو ابھی تک پتہ نہیں کے ان کا افسر جیل سے غائب کیسے ہوگیا۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ اڈیالہ جیل میں قیدی سمیت عملہ بھی غیر محفوظ ہے۔‘

    عدالتی ریمارکس میں مزید کہا گیا کہ ’رٹ آف دی سٹیٹ کہاں گئی؟ ہر کوئی اپنا فریضہ ادا کرے تو کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہوسکتی۔ جیل حساس جگہ ہے جیل کا افسر غائب ہے پولیس کا کام ہے اسکو ڈھونڈے۔‘

    اسی کے ساتھ عدالت نے سی پی او راولپنڈی کو 29 اگست کو پھر طلب کرتے ہوئے سماعت 29 اگست تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ محمد اکرم چند روز پہلے مبینہ طور پر لاپتہ ہو گئے تھے۔ تاہم محکمہ جیل خانہ جات کے مطابق مذکورہ جیل افسر سکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں اور محمد اکرم سابق وزیر اعظم عمران خان کی سکیورٹی پر تعینات تھے۔

    محمد اکرم کی اہلیہ نے اپنے شوہر کی بازیابی کے لیے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں درخواست دائر کر رکھی ہے جس پر عدالت نے وزارت دفاع سے جواب طلب کرنے کے ساتھ ساتھ اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ کو ذاتی حثیت میں پیش ہونے کا حکم دے رکھا ہے۔

  2. آئی ایس پی آر: وادیِ تیراہ میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن، 25 شدت پسند اور چار فوجی ہلاک

    پاکستان
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو: وادیِ تیراہ

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی وادیِ تیراہ میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں اب تک 25 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف 20 اگست سے ضلع خیبر کی وادیِ تیراہ میں جاری سکیورٹی فورسز کی متعدد کارروائیوں میں اب تک 25 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 20 اگست سے ضلع خیبر کے مختلف علاقوں میں خفیہ اطلاعات پر کی جانے والی کارروائیوں میں 25 شدت پسندوں ہلاک جبکہ 11 زخمی ہوئے۔ تاہم ان چھڑپوں میں 4 سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

    واضح رہے کے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے منگل کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کہا تھا کہ ’ملک دشمنوں کے ساتھ کوئی بات نہیں ہوگی، دہشت گرد پاکستان اور چین میں فاصلے پیدا کرنا چاہتے ہیں، دہشت گردوں کے لیے ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے، اس دہشت گردی کو ختم کرنے کا وقت آپہنچا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اس سلسلے میں دی گئی قربانیاں رائیگاں نہیں جائے گی، اس سلسلے میں پاکستان کی فوج کے سربراہ سے بات ہوئی ہے اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے تمام وسائل مہیا کیے جائیں گے۔‘

  3. دہشت گردوں نے چھپ کر حملہ کیا، یہاں کسی آپریشن کی ضرورت نہیں یہ ایک ایس ایچ او کی مار ہیں: محسن نقوی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے ملاقات اور ایک اہم اجلاس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے چھپ کر حملہ کیا ہے دہشتگردوں کا مکمل بندوبست ہوگا۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں کسی آپریشن کی ضرورت نہیں ہے، یہ دہشت گرد ایک ایس ایچ او کی مار ہیں، بلوچستان میں جو ہوا اس پر ہمارے دل غمگین ہیں اور یہ ناقابل برداشت ہے۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے جو فیصلہ کریں گے، وفاقی حکومت اس کی حمایت کرے گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کو دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے جس بھی قسم کی مدد درکار ہوگی وہ انھیں فل فور فراہم کی جائے گی اور کی جاتی رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’جو لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ اس طرح کے واقعات سے وہ ہمیں ڈرا سکتے ہیں انھیں بہت جلد ایک سخت پیغام مل جائے گا۔

    محسن نقوی نے کہا کہ بلوچستان سب سے بڑا صوبہ ہے، دہشت گرد کسی چھوٹے علاقے میں کارروائی کرتے ہیں، اب اتنے بڑے علاقے میں جتنی بھی فورسز تعینات کر دی جائیں کام مُشکل ہوتا ہے۔

    اسی موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک سوال کے جواب میں کہ حکومت کی جانب سے تاخیر کی گئی پر کہنا تھا کہ ’حملے کے بعد جوابی کارروائی میں کسی بھی قسم کی تاخیر نہیں ہوئی دہشت گردوں کو جواب دیتے ہوئے ایک فوجی کیپٹین ہلاک ہوئے، انھوں نے بلوچستان کے لوگوں کے لیے اپنی جان دی ہے، متاثرہ تمام خاندان ہمارے خاندان ہیں، ہم ان کے ساتھ ہیں۔‘

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انھوں نے کہا کہ 4 ہزار کلو میٹر ہماری سڑکیں ہیں، ان میں سے کسی ایک انچ کو دہشت گرد ڈھونڈتے ہیں، وہ ہمارے اندر ہمارے ساتھ رہتے ہیں، ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ وہ سڑک کی ریکی کرنے آرہے ہیں یا کوئی عام شہری یا مسافر ہے، جب ہم ان کو روکتے ہیں تو بھی ہم پر تنقید ہوتی ہے، وہ ریکی کرکے آدھے گھنٹے کے لیے آتے ہیں، سب سے کمزور اہداف کو نشانہ بناتے ہیں، مسافروں کو بسوں سے اتار کر 100 میٹر دور لے جا کر ہلاک کر دیا جاتا ہے اور یہ دہشت گرد وہاں سے فرار ہو جاتے ہیں۔

    وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’جوابی کارروائی کے لیے طریقہ کار موجود ہے، اس وقت بھی ان دہشت گردوں کا پیچھا کیا جا رہا ہے، ان کے خلاف ہر قمیت پر کارروائی کی جا رہی ہیں اور یہ جاری رہی گے جب تک کہ یہاں سے دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

    واضح رہے پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں کی جانب سے یہ حملے 25 اور 26 اگست کی درمیانی شب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے حالیہ حملوں میں 39 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی جبکہ پاکستانی فوج کے مطابق جوابی کارروائی کے دوران 21 شدت پسند اور 14 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

  4. بریکنگ, ملک دشمنوں سے کوئی بات نہیں ہو گی، دہشت گردی کو ختم کرنے کا وقت آ پہنچا، شہباز شریف

    Shahbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک دشمنوں کےساتھ کوئی بات نہیں ہوگی، اس دہشت گردی کو ختم کرنےکا وقت آپہنچا ہے۔

    منگل کو وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک دشمنوں کےساتھ کوئی بات نہیں ہوگی، دہشت گرد پاکستان اور چین میں فاصلے پیدا کرنا چاہتے ہیں، دہشت گردوں کے لیے ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے، اس دہشت گردی کو ختم کرنےکا وقت آپہنچا ہے، اس سلسلے میں دی گئی قربانیاں رائیگاں نہیں جائے گی، اس سلسلے میں پاکستان کی فوج کے سربراہ سے بات ہوئی ہے اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے تمام وسائل مہیا کیے جائیں گے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گرد پاکستان میں خلفشار پیدا کرنا چاہتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں اس کی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں رخنہ ڈالا جائے، بہت جلد بلوچستان کادورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لوں گا، صوبائی حکومتوں کےساتھ مل کر اقدامات کر رہے ہیں، ہمیں دشمن کے مذموم عزائم کو پہچاننا ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنے دشمنوں کو پہچاننا ہوگا، کسی قسم کی کمزوری اور ضعف کا سوال نہیں پیدا ہوتا، بلوچستان میں جو لوگ پاکستان کے آئین، اس کے جھنڈے کو تسلیم کرتے ہیں، ان کے ساتھ بات چیت کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں، لیکن جو اس آڑ میں دوست نما دشمن ہیں، ان کے ساتھ نہ کوئی بات ہو سکتی ہے، نہ ان کے ساتھ کسی قسم کا نرم رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح پیغام ہے،اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی، کل کے واقعات سب کے لیے لمحہ فکریہ ہیں، ہم ان مشکلات کو عبور کریں گے۔

    پاکستان کے صوبے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 25 اگست کی شب شروع ہونے والے حملوں میں 10 فوجی اہلکاروں سمیت چار درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں، جس کے بعد بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ ’معصوم شہریوں کے قاتلوں سے بدلہ لیا جائے گا۔‘

    ان حملوں اور سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’معصوم شہریوں کے قاتلوں سے بدلہ لیا جائے گا اور انھیں قانون کے مطابق قرارواقعی سزا دی جائے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں شدت پسندوں کے حملے میں 38 شہری ہلاک ہوئے۔

    خیال رہے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے یہ حملے مقبول سیاسی رہنما نواب اکبر بگٹی کی 18ویں برسی کے موقع پر کیے گئے تھے اور کالعدم علیحدگی پسند تنظیم جانب سے ’آپریشن ھیروف‘ کا نام دیا گیا تھا۔

  5. روس کے یوکرین پر بیلسٹک میزائلوں سے حملوں میں کم از کم چار افراد ہلاک

    یوکرین

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روس کی جانب سے یوکرین پر رات گئے کیے جانے والے حملوں میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ روس کی جانب سے یہ حملے جنگ کے دوران اب تک کے سب سے بڑے فضائی حملے کے ایک دن بعد کیے گئے ہیں۔

    منگل کی صبح یوکرین کے مختلف شہروں میں سائرن کے ساتھ ساتھ زور دار دھماکے بھی سنائی دیے ہیں۔

    روس کا کہنا ہے کہ یوکرینی شہروں کیئو، لیویو، خارخیو اور اوڈیسا سمیت ملک بھر میں حملوں کے لیے طویل فاصلے سے مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ ملک کے بجلی گھر اور اس سے منسلک ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکے۔

    یوکرین کی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس وقت پورا ملک بیلسٹک میزائلوں کے حملے کے خطرے میں ہے۔

    ادھر کیئو کی فوجی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کی فضائیہ نے کیئو کے قریب 15 ڈرونز اور متعدد میزائل مار گرائے ہیں۔

  6. آبادی کا دباؤ یا بے روزگاری: کینیڈا کا کم آمدن والے غیر ملکی ’ورکرز‘ کی تعداد کم کرنے کا اعلان

    Canada

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے پیر کو کہا ہے کہ ان کی حکومت ملک میں کم اجرت والے عارضی طور پر مقیم غیر ملکی کارکنوں کی تعداد میں کمی کرنے جا رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ کینیڈا کے کاروبار گھریلو ملازمین اور نوجوانوں میں سرمایہ کاری کریں۔

    جسٹن ٹروڈو نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ اب ’لیبر مارکیٹ‘ بدل چکی ہے۔ ہم کینیڈا میں آنے والے کم اجرت والے، عارضی غیر ملکی کارکنوں کی تعداد کو کم کر رہے ہیں۔‘

    یہ قدم ایک ایسے وقت پر اٹھایا گیا ہے جب کینیڈا بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے سے نبرد آزما ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے نے ہاؤسنگ اور ہیلتھ کیئر جیسی عوامی خدمات پر دباؤ ڈالا ہے۔

    Trudeau

    ،تصویر کا ذریعہ@JustinTrudeau

    وفاقی اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس کینیڈا کی آبادی میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ امیگریشن تھی۔

    جسٹن ٹروڈو اور ان کی حکومت کو ملک میں خدمات اور مکانات کی تعمیر جیسی سہولیات میں اضافہ کیے بغیر امیگریشن کو فروغ دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جبکہ کینیڈا میں گذشتہ دو ماہ میں بے روزگاری کی شرح 6.4 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ پورے ملک میں ایک اندازے کے مطابق 14 لاکھ لوگ بے روزگار ہیں۔

  7. لسبیلہ میں سکیورٹی فورسز نے کیمپ کے گیٹ پر تمام شدت پسندوں کو ہلاک کر کے حملہ ناکام بنا دیا: وزیر اعلیٰ بلوچستان, محمد کاظم

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے موسیٰ خیل سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ’دہشت گردی‘ کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم شہریوں کے قاتلوں سے بدلہ لیا جائے گا اور انھیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

    پیر کی شام کوئٹہ میں دوسرے اتحادی جماعتوں کے رہنمائوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ یہاں ملک کو کمزور کرنے کے لیے ایک منظم دہشت گردی ہورہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ شرپسند معصوم اور بے گناہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور پھر بھاگ جاتے ہیں۔ اگر یہ بہادر ہیں تو اپنی بزدلانہ کاروائیوں کے بعد بھاگ نہیں جائیں بلکہ رک جائیں اور سکیورٹی فورسز کا مقابلہ کریں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمیشہ سافٹ ٹارگٹ دیکھتے ہیں اور پھر انہی پر حملہ کرتے ہیں کیونکہ یہ سکیورٹی فورسز کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’ان دہشت گردوں نے اپنا حشر لسبیلہ میں دیکھ لیا جہاں سکیورٹی فورسز نے کیمپ کے گیٹ پر سب کو ہلاک کردیا اور ان کے حملے کو ناکام بنا دیا۔‘

    میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’یہاں جو دہشت گردی ہورہی ہے اس کے بارے میں کبھی کبھار پاکستان کا سماج کنفیوزڈ لگتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ یہ سکیورٹی فورسز اور شرپسندوں کی لڑائی ہے حالانکہ یہ لڑائی پاکستان کی لڑائی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی صرف سکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ عدلیہ، میڈیا سمیت سب کی لڑائی ہے اور ہم سب نے مل کر اس کو لڑنا ہے۔ یہاں کی سیاسی جماعتوں اور باقی سب کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا اس کے مخالفین کے ساتھ۔ حکومت ظالم کے ساتھ نہیں بلکہ مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بعض لوگ مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور یہ بھی تاثر دیتے ہیں کہ میں مذاکرات کا حامی نہیں ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم مذاکرات کس سے کریں کیونکہ یہ تو صرف بندوق کے منہ سے بات کررہے ہیں اور دہشت گردی کا بازار گرم کررکھا ہے۔‘

    میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’جو بھی مذاکرات کرنا چاہتا ہے وہ اسلحہ پھینک دے تو ایسے لوگوں کے لیے مذاکرات کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں لیکن ہم دہشت گردی پر خاموش تماشائی نہیں بنیں گے اور اس کے خلاف جو بھی اقدامات کرنے پڑے وہ ہم کریں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جو لوگ اس طرح کی دہشت گردی کررہے ان کی صلاحیت بہت زیادہ نہیں ہے اس لیے آئی بی اوز کے ذریعے ان پر قابو پایا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان ایک طویل و عریض علاقہ ہے اور کبھی کبھار دہشت گردوں کو موقع ملتا ہے ورنہ ہمارے سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے کئی منصوبوں کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی ناکام بنایا ہے۔‘

  8. مُجھے مُلک کی فکر ہے میرا مرنا جینا پاکستان ہے، یہ جو کر رہے ہیں یہ خودکُشی ہے: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اڈیالہ جیل میں سماعت کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اپیل ہے کہ فوج ہم سب کی ہے ملک کو ایک مضبوط ادارے کی ضرورت ہے۔ یہ جو کر رہے ہیں یہ خودکشی ہے۔ مجھے ملک کی فکر ہے میرا جینا مرنا پاکستان ہے۔‘

    اڈیالہ جیل راولپنڈی میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی جس میں سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی نے کرکٹ سمیت مُلک کی مجموعی صورت حال پر بات کی۔

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اپیل ہے کہ فوج ہم سب کی ہے ملک کو ایک مضبوط ادارے کی ضرورت ہے۔ یہ جو کر رہے ہیں یہ خودکشی ہے۔ مجھے ملک کی فکر ہے میرا جینا مرنا پاکستان ہے۔ میرا ملک سے باہر کوئی پیسہ نہیں میں زرداری نواز شریف کی طرح ڈیل نہیں کرسکتا۔‘

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی پر تنقید کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ ’یہ (محسن نقوی) گندم سکینڈل میں ملوث ہیں، ملک کا سب سے بڑا فراڈ الیکشن انھوں نے کرایا ہے، ان کی قابلیت کیا ہے؟ کرکٹ تباہ کرچکے ہیں، بلوچستان اور ملک میں امن و امان کی صورتحال سب کے سامنے ہیں۔ ہر روز کے پی اور بلوچستان میں ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ پنجاب میں چوری، ڈکیتی بڑھ گئی اور 12 پولیس ملازموں کو بھی ڈاکوؤں نے ہلاک کردیا۔‘

    بانی پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک جانب تو یہ سفارشی ہیں اور دوسری جانب فار 47 والی حکومت مسلط کر دی گئی ہے، یہ اصلاحات نہیں کر سکتے، نہ خرچ کم کیے نہ ہی آمدن بڑھائی۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ یہ سارے کام مینڈیٹ والی حکوت کر سکتی ہے جو ان کے پاس نہیں۔ قرض لینے سے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور پروفیشنلز مُلک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔‘

    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے ایک سوال کے جواب میں بنگلہ دیش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’بنگلہ دیش میں کیا ہوا، آرمی چیف، چیف جسٹس اور پولیس چیف سب وزیراعظم کے ہی حامی اور مدد گار تھے، لیکن جب عوام نکلی تو اپنا حق لے کر گی۔‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک اور سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میرا اسٹیبلیشمینٹ سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہے، اگر اُن سے بات ہوگی تو صرف ملک اور آئین کے لیے ہوگی۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے کچھ ہوا تو ذمہ دار جنرل عاصم منیر اور ڈی جی آئی ایس آئی ہوں گے، کیونکہ میرے ساتھ تعینات عملے کو چوتھی مرتبہ تبدیل کردیا گیا، یہ مجھے فراہم کیے جانے والے کھانے کو چیک کرتے تھے کہ اس میں زہر تو نہیں ملا۔ یہ سب آئی آیس آئی کنٹرول کرتی ہے، دوبارہ کہہ رہا ہوں مجھے کچھ ہوا تو آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی ذمہ دار ہوں گے۔‘

    پاکستان کرکٹ ٹیم کی بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست سے متعلق بات کرتے ہوئے اُنھوں نے چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’پاکستان میں کرکٹ ہی واحد ایسا کھیل ہے کہ جسے ٹی وی پر سب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ محسن نقوی کی سرجری کے بعد ہم بنگلہ دیش سے بھی ہار گے۔ اڑھائی سال قبل ہماری ٹیم نے انڈیا کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی۔ اڑھائی سال میں ایسا کیا ہوا کہ ٹیم کی کار کردگی اتنی گر گئی ہے کہ اب ہم بنگلہ دیش سے بھی ہار گے۔‘

  9. بلوچستان میں تخریب کاری کے واقعات کا مقصد پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے: محسن نقوی

    محسن نقوی

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media/Mohsin Naqvi/Facebook

    پاکستان کے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں تخریب کاری کے واقعات پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازش ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے بعد حالیہ شدت پسندی کے واقعات کے بارے میں حقائق ثبوت کے ساتھ سامنے لائیں گے۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ وہ بلوچستان حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور امن کی فضا برقرار رکھنے کیلیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    وزیرِ داخلہ نے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرکے 12 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ دشمن سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک میں انارکی پیدا کرنا چاہتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کو مستقل بنیادوں پر مانیٹر کیا جارہا ہے۔

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ شب شروع ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں میں اب تک 39 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    یہ حملے بلوچستان کے دس سے زائد اضلاع میں کیے گئے جن میں سب سے زیادہ، 22 ہلاکتیں ضلع موسیٰ خیل میں ہوئیں۔

    سرکاری حکام نے اب تک قلات سے 11 افراد اور ضلع کچھی کے علاقے بولان میں 6 کے قتل کی تصدیق ہوئی ہے۔

    کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے ان حملوں کے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

  10. انڈیا کا لداخ میں پانچ نئے اضلاع بنانے کا اعلان

    لداخ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی حکومت نے لداخ میں پانچ نئے اضلاع بنانے کا اعلان کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائت ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کا کہنا تھا کہ انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ایک ترقی یافتہ اور خوشحال لداخ کی تعمیر کے وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے وزارت داخلہ نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں پانچ نئے اضلاع بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    نئے اضلاع کے نام زنسکار، دراس، شام، نوبرا اور چانگتھانگ ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت لداخ کے لوگوں کے لیے بڑے پیمانے پر مواقع پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

    وزیرِ داخلہ کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے نریندر مودی کا کہنا تھا کہ لداخ میں پانچ نئے اضلاع کا قیام بہتر انتظامیہ اور خوشحالی کی طرف ایک بڑا قدم ہےاور اس سے ان علاقوں کو زیادہ توجہ ملے گی۔

    لداخ اپنی قدرتی خوبصورتی اور پیچیدہ زمینی خدوخال کی وجہ سے مشہور ہے لیکن یہ خطہ انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی تنازع کا بھی باعث رہا ہے۔

    سنہ 2020 میں چین اور انڈیا کے درمیان لداخ کو لے کر سرحدی تنازع شدت اختیار کر گیا جو کئی مہینوں تک جاری رہا۔

  11. بلوچستان: سکیورٹی فورسز کا جوابی کارروائی میں 12 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    سکیورٹی فورسز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبے بلوچستان میں شدت پسندوں کی جانب سے کئی مقامات پر کیے جانے والے حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جوابی کارروائی میں اب تک 12 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    سرکاری میڈیا پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ان کارروائیوں میں متعدد شدت پسند زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔

    خیال رہے کہ سینیچر اور اتوار کی درمیانی شب بلوچستان میں شروع ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں میں اب تک درجنوں افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں شدت پسندوں نے 22 مسافروں کو شناخت کے بعد فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔

    اس سے قبل قلات شہر کے قریب ہونے والے حملوں میں اسسٹنٹ کمشنر قلات معمولی زخمی ہوئے جبکہ جیونی میں پولیس تھانے کے باہر تین گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔

    ضلع مستونگ کے علاقے میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے کھڈ کوچہ کے علاقے میں لیویز فورس کے ایک تھانے پر حملہ کیا تھا۔

  12. اسرائیل-حزب اللہ کشیدگی: ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

    اسراعل لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کا کہنا ہے کہ امریکہ اب بھی غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے قاہرہ میں کام کر رہا ہے-
    • اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے اپنے دفاع کے لیے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
    • اسرائیل نے ملک میں 48 گھنٹوں کے لیے ایمرجنسی نافذ کی ہے۔ شمالی اسرائیل میں سائرن بجائے گئے ہیں۔ تل ابیب سے آنے اور جانے والی بین الاقوامی پروازوں کو عارضی طور پر منسوخ کیا گیا تھا مگر اب انھیں بحال کر دیا گیا ہے۔
    • حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے اتوار کی صبح سے اسرائیل پر 320 راکٹ داغے ہیں۔ اس کے مطابق پہلے مرحلے میں فوجی بیرکس سمیت 11 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
    • حزب اللہ کے مطابق یہ کارروائی گذشتہ ماہ سینیئر کمانڈر فواد شکر کی ہلاکت کے جواب میں کی جا رہی ہے۔ لبنان کے عسکری گروہ کا کہنا تھا کہ اس نے اسرائیل میں آئرن ڈوم سمیت کئی فوجی اہداف کی نشاندہی کی ہے۔
    • امریکہ میں قومی سلامتی کے ترجمان کے مطابق صدر جو بائیڈن نے اپنے عملے کو ہدایت دی ہے کہ اسرائیل سے قریبی رابطے میں رہے اور اس کے حقِ دفاع کی حمایت جاری رکھے۔ پینٹاگون کا بھی یہی کہنا ہے کہ امریکہ دفاعی امور میں اسرائیل کی مدد کرے گا۔
  13. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں میں دو گروہوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔ کراچی پولیس کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ واقعہ دو مذہبی گروہوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کراچی کے علاقے گولیمار میں پیش آیا۔
    • راولپنڈی کے علاقے کہوٹہ میں ایک بس کھائی میں گِرنے سے 23 مسافر ہلاک ہوئے۔ یہ بس راولپنڈی سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پلندری کی جانب جا رہی تھی جب آزاد پتن کے قریب یہ بس کھائی میں جا گری۔
    • بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں ایک بس حادثے میں کم از کم 10 زائرین ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ پاکستانی زائرین کی بس ایران سے واپس آ رہی تھی۔
  14. بلوچستان میں شدت پسندوں نے 22 مسافر شناخت کے بعد قتل کر دیے, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں شدت پسندوں نے 22 مسافروں کو شناخت کے بعد فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر موسیِ خیل نجیب اللہ نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ واقعہ ضلع کے علاقے راڑہ ہاشم میں پیش آیا۔

    نجیب اللہ کا کہنا تھا کہ فائرنگ کا واقعہ گزشتہ شب موسی خیل میں پولیس کے زیرِ انظام علاقے کی حدود میں پیش آیا جب نامعلوم افراد نے پنجاب اور بلوچستان کے درمیان چلنے والی گاڑیوں کو روک کر مسافروں کو نیچے اتارا اور ان پر فائرنگ کر دی۔

    اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

    ان کا کہنا تھا شدید زخمی شخص کو علاج کے لیے ڈیرہ غازی خان منتقل کر دیا گیا ہے۔ نجیب اللہ نے بتایا کہ حملہ آوروں نے دس سے زائد گاڑیوں کو نقصان بھی پہنچایا ہے۔

    تاحال اس واقعے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

    موسیٰ خیل بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے شمال مشرق تقریباً ساڑھے چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔

    اس علاقے کی آبادی کی غالب اکثریت پشتونوں کے موسیٰ خیل قبیلے پر مشتمل ہے۔

    موسی خیل

    ’ملک میں کسی بھی قسم کی دہشتگردی قطعاً قبول نہیں‘

    وزیراعظم شہباز شریف نے موسی خیل واقعے کی مذمت کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واقعے کی فوری تحقیقات کی ہدایت کر دی ہے۔

    ان کا کہنا تھا،’ملک میں کسی بھی قسم کی دہشتگردی قطعاً قبول نہیں۔‘

    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں گی۔

    بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بھی موسیٰ خیل واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    وزیراعلیٰ نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر ایک ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا ہے۔

    دوسری جانب وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند اور ان کے سہولت کار عبرتناک انجام سے بچ نہیں پائیں گے۔

    وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں نے معصوم لوگوں کو نشانہ بناکر بربریت کا مظاہرہ کیا ہے۔

    اس سے قبل سینیچر اور اتوار کی درمیانی شب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح افراد کے حملوں کے علاوہ بم دھماکوں کے واقعات پیش آئے ہیں۔

    قلات شہر کے قریب ہونے والے حملوں میں اسسٹنٹ کمشنر قلات معمولی زخمی ہوئے جبکہ جیونی میں پولیس تھانے کے باہر تین گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔

    ضلع مستونگ کے علاقے میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے کھڈ کوچہ کے علاقے میں لیویز فورس کے ایک تھانے پر حملہ کیا ہے۔

    ایسی اطلاعات بھی تھیں کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شاہراہوں پر مسلح افراد کی موجودگی کے باعث ٹریفک معطل رہی ہے۔

  15. یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی مبینہ بندش کے خلاف ملازمین کا اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان، ڈی چوک سیل

    اسلام آباد ڈی چوک

    یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے خلاف ملازمین کے ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر اسلام آباد انتظامیہ نے کنٹینرز رکھ کر ڈی چوک سیل کر دیا۔

    یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے ملازمین نے سٹورز کی ممکنہ بندش کے خلاف آج (سوموار کے روز) احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے سکریٹری وزارت صنعت و پیداوار نے ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت ملک میں تمام یوٹیلٹی سٹورز کو بند کرنے پر غور کر رہی ہے۔

    تاہم سنیچر کے روز وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا تھا کہ حکومت کارپوریشن کی تنظیم نو کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

    یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن ملک بھر میں 4,000 سے زیادہ سٹورز چلا رہی ہے جن کا مقصد عوام کو کم نرخوں پر بنیادی اشیاء فراہم کرتا ہے۔

    یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن ان وزارتوں اور محکموں کی فہرست میں شامل ہے جن کی حکومت نجکاری کا ارادہ رکھتی ہے۔

    یاد رہے کہ رواں سال جون میں قومی اسمبلی کے دوران میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے نجکاری عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ حکومت 24 ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری کا ارادہ رکھتی ہے جن میں قومی ایئر لائن پی آئی اے، روزویلٹ ہوٹل، فرسٹ وومن بینک، یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن اور دیگر شامل ہیں۔

  16. بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح افراد کے حملے، متعدد شاہراہوں پر ٹریفک معطل, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    کوئٹہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سینیچر اور اتوار کی درمیانی شب مسلح افراد کے حملوں کے علاوہ بم دھماکوں کے واقعات پیش آئے ہیں۔

    قلات شہر کے قریب ہونے والے حملوں میں اسسٹنٹ کمشنر قلات معمولی زخمی ہوئے جبکہ جیونی میں پولیس تھانے کے باہر تین گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔

    قلات میں نامعلوم مسلح افراد نے مہلبی میں لویز فورس کے ایک تھانے پر حملے کے علاوہ شہر کے قریب ایک ہوٹل اور گھر پر حملہ کیا۔

    ایس ایس پی قلات دوستین ڈومکی نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر قلات آفتاب لاسی حملے میں معمولی زخمی ہوئے ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    فون پر رابطہ کرنے پر قلات پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے مہلبی کے علاقے میں حملہ کیا جس کے بعد سیکورٹی فورسز کی ایک بھاری نفری اس علاقے میں پہنچ گئی ہے جہاں مسلح افراد اور سیکورٹی فورسز کے درمیان رات گئے تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔

    قلات کے علاوہ ضلع مستونگ کے علاقے میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے کھڈ کوچہ کے علاقے میں لیویز فورس کے ایک تھانے پر حملہ کیا ہے۔

    مستونگ انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو اس حملے کی تصدیق کی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ رابطوں میں مشکلات کی وجہ سے نقصانات کی اطلاع نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ اسی علاقے میں 12 اگست کو نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ڈپٹی کمشنر پنجگور ذاکر بلوچ ہلاک ہو گئے تھے۔

    اس کے علاوہ ضلع لسبیلہ میں سیکورٹی فورسز کے کیمپ پر مسلح افراد نے حملہ کیا ہے۔

    مقامی حکام کے مطابق سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں پانچ حملہ آور مارے گئے ہیں لیکن تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حملے میں سیکورٹی فورسز کو کوئی نقصان پہنچا ہے کہ نہیں۔

    ادھر ضلع گوادر میں جیونی کے علاقے میں سنٹ سر پولیس سٹیشن پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔

    مکران پولیس کے ایک سینیئر پولیس اہلکار نے بی بی سی کو اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے فون پر بتایا کہ حملہ آوروں نے تھانے کے باہر تین گاڑیوں کو نذرآتش کیا جن میں سے دو پولیس کی تھیں جبکہ تیسری گاڑی ایک مقدمے کے حوالے سے پولیس کی تحویل میں تھی۔

    پولیس اہلکار نے بتایا کہ حملہ آور تھانے سے پولیس اہلکاروں کا اسلحہ بھی لے گئے ہیں۔

    کوئٹہ

    ،تصویر کا ذریعہAbdul Malik

    ان حملوں کے علاوہ کوئٹہ، مستونگ، سبی، پنجگور، تربت اور دیگر شہروں میں بھی بم دھماکوں کے واقعات پیش آئے ہیں۔

    ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شاہراہوں پر مسلح افراد کی موجودگی کے باعث ٹریفک معطل رہی ہے۔

    ان حملوں کے حوالے سے کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن کی جانب سے ایک بیان بھی جاری کیا گیا ہے۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے تنظیم کے مجید بریگیڈ کے حملہ آوروں نے فورسز کے کیمپ پر حملہ کیا ہے جبکہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شاہراہوں کو بھی بند کیا گیا ہے۔

  17. حزب اللہ نے ڈرون حملوں میں اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کے اڈے کو نشانہ بنایا: حسن نصراللہ

    حزب اللہ حسن نصراللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ اتوار کو ان کی تنظیم نے اسرائیلی سرزمین پر 110 کلومیٹر اندر واقع ملٹری انٹیلی جنس کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

    اپنی ایک تقریر میں حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ ملٹری انٹیلی جنس کا یہ اڈہ تلِ ابیب سے 105 کلومیٹر دور واقع ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر فواد شُکر کی موت کے جواب میں اسرائیل پر کیے گئے حملوں میں تاخیر کے پیچھے متعدد وجوہات تھیں، جن میں اسرائیلی اور امریکی افواج کا خطے میں متحرک ہونا بھی شامل ہے۔

    حسن نصراللہ کا مزید کہنا تھا کہ حزب اللہ فواد شُکر کی ہلاکت کا جواب عام لوگوں اور اسرائیلی انفراسٹکچر کو نشانہ بنا کر نہیں دینا چاہتی تھی۔

    خیال رہے اتوار کی صبح حزب اللہ اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر حملے کیے تھے۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے حملوں میں ان کا ’معمولی نقصان‘ ہوا ہے۔

    اسرائیل پر حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے حسن نصراللہ نے مزید کہا کہ حزب اللہ کے تمام ڈرونز کامیابی سے اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی تنظیم نے آج کے حملوں میں میزائلوں کا استعمال نہیں کیا، لیکن مستقبل میں ان میزائلوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    خیال رہے اس سے قبل حزب اللہ نے کہا تھا کہ انھوں نے اسرائیل پر 320 کاٹیوشا میزائل داغے ہیں، جبکہ حملوں میں ڈرونز کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس کے تقریباً 100 لڑاکا طیاروں نے تقریباً 40 مقامات پر ’حزب اللہ کے ہزاروں راکٹ لانچر بیرلز تباہ کیے ہیں۔‘

    حسن نصراللہ کون ہیں؟

    حسن نصراللہ ایک شعیہ رہنما ہیں جو کہ 1992 سے حزب اللہ کی قیادت کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس تنظیم کو ایک سیاسی اور عسکری قوت بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    ان کے ایران اور اس کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای سے قریبی روابط ہیں۔ حسن نصراللہ کو برسوں سے عوام کے درمیان نہیں دیکھا گیا ہے، شاید انھیں خود پر اسرائیلی حملے کا خدشہ ہے۔

    تاہم حزب اللہ میں انھیں ابھی بھی تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ہر ہفتے ان کی تقاریر نشر کی جاتی ہیں۔

  18. اسرائیل، حزب اللہ کشیدگی: متعدد ایئرلائنز نے تلِ ابیب اور بیروت کے لیے پروازیں معطل کر دیں

    اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی کے سبب برٹش ایئرویز نے تلِ ابیب اور ایئر فرانس نے بیروت اور تلِ ابیب آنے جانے والی تمام پروزایں منسوخ کردی ہیں۔

    برٹس ایئرویز کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ’مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں‘ اور انھوں نے اتوار اور بدھ کے درمیان اسرائیلی شہر تلِ ابیب آنے اور جانے والی تمام پراوزیں معطل کر دی ہیں۔

    ترجمان کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’کسٹمرز کی حفاظت ہماری پہلی ترجیح ہے اور ہم کسٹمرز کو ٹریول آپشنز کے بارے میں بتانے کے لیے رابطے کر رہے ہیں۔‘

    دوسری جانب ایئر فرانس کا کہنا ہے کہ وہ پیر تک بیروت اور تل ابیب آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر رہے ہیں۔

    خیال رہے اتوار کی صبح اسرائیل اور حزب اللہ نے ایک دوسرے پر حملے کیے تھے جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے تقریباً 100 لڑاکا طیاروں نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی کارروائی کے بعد حزب اللہ نے بھی شمالی اسرائیل پر میزائل اور راکٹ حملے کیے۔

    لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل فضائی حملوں سے جنوبی لبنان میں تین افراد ہلاک ہوئے۔

    دوسری جانب اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے حملوں سے اسرائیل میں ’بہت کم نقصان‘ ہوا ہے۔

  19. بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر خوش آمدید

    بی بی سی کے لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید

    پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں سے متعلق بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    25 اگست تک کی خبروں کو جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔