یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
3 مارچ کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
برطانیہ میں یورپی ممالک کے رہنماؤں کے اہم اجلاس میں طے پایا کہ یوکرین کے لیے فوجی امداد کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ برطانوی وزیر اعظم کے مطابق ’یورپ کی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں کام کرے۔‘
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
3 مارچ کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
برطانیہ، فرانس اور دیگر یورپی ممالک نے یوکرین کی حمایت اور جنگ بندی کے حوالے سے برطانوی وزیر اعظم کی جانب سے پیش کیے گئے ایک منصوبے پر اتفاق کیا ہے جسے امریکہ کے ساتھ زیر بحث لایا جائے گا۔
لندن میں منعقد یورپی ممالک کے رہنماؤں کے اہم اجلاس میں یوکرین کی حمایت اور سلامتی کے حوالے سے جائزے کے بعد طے پایا کہ یوکرین کے لیے فوجی امداد کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
اجلاس میں طے پایا کہ یوکرین کے دفاع اور وہاں امن کی ضمانت کے لیے ’مرضی کے حامل ممالک کا اتحاد‘ قائم کیا جائے گا جبکہ برطانیہ یوکرین کو نئے میزائیلوں کی خریداری کے لیے 1.6 ارب پاؤنڈز دے گا ۔
لنکاسٹر ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کی میزبانی برطانوی وزیر اعظم کیئرسٹارمر نے کی جس کے اختتام پر یوکرین میں امن کے لیے چار نکات پر اتفاق ہوا۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ کسی بھی امن مذاکرات میں کیئو کو شامل کیا جائے گا جبکہ یورپی رہنما مستقبل میں روسی جارحیت کو روکنے کے لیے اقدامات کریں گے۔
کیئر سٹارمر نے کہا کہ کسی بھی امن معاہدے میں اہم کردار یورپ کو ادا کرنا ہوگا لیکن اس معاہدے کے لیے امریکہ کی حمایت ضروری ہوگی۔ یورپ کی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں کام کرے۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
اجلاس کے بعد صدرولادیمرزیلنسکی اور برطانوی بادشاہ چارلس کی ملاقات بھی ہوئی۔
یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ صدر زیلینسکی نے کنگ چارلس سے ملاقات کے دوران بھی سوٹ کے بجائے فوجی طرز کی سیاہ شرٹ زیبِ تن کی ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہReu
برطانیہ میں یورپی ممالک کے رہنماؤں پر مشتمل اہم اجلاس ہورہا ہے جس میں یوکرین کی حمایت اور سلامتی کے حوالے سے جائزہ لیا جائے گا۔
وسطی لندن کے لنکاسٹر ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کی میزبانی برطانوی وزیر اعظم سر کیرسٹارمر کر رہے ہیں۔
اجلاس سے قبل برطانوی وزیراعظم نے بی بی سی کو بتایا کہ برطانیہ اور فرانس جنگ روکنے کے لیے یوکرین کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور امریکہ کے ساتھ اس منصوبے پر بات چیت کریں گے۔
برطانوی وزیر اعظم نے اس اجلاس کو یورپ کی سلامتی کے لیے تاریخ ساز لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین میں امن پورے براعظم کی اقوام کی سلامتی کے لیے بھی ضروری ہے۔
سر کیر سٹارمر نے ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر کھڑے ان مظاہرین کا بھی حوالہ دیا جو صدر زیلنسکی کی آمد پر یوکرین کی حمایت میں خوشی سے نعرے لگا رہے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس سے ملک کے لیے موجود مکمل حمایت اور یکجہتی کا احساس نمایاں ہو رہا ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ ولادیمرزیلنسکی برطانوی بادشاہ چارلس سے بھی ملاقات کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
سربراہی اجلاس شروع ہونے سے پہلے نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ وہ اس اجلاس کے حوالے سے بھی پرامید ہیں۔
انھوں نے مزید لکھا کہ ’یوکرین کی حمایت میں یورپ کو مزید آگے آنا ہو گا۔¬
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم سب ایک امن معاہدہ چاہتے ہیں اور اسے قائم رہنا چاہیے۔ نیٹو کی مضبوطی کے لیے یورپ دفاعی اخراجات میں اضافہ کرے گا۔‘
اجلاس میں یوکرینی صدر زیلنسکی، فرانسیسی صدر میکخواں، نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے، پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک، کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو سمیت یورپی ممالک کے دیگر اہم رہنما شریک ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) کا ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اتحادی تنظیموں، بلوچ لبریشن آرمی، بلوچستان لبریشن فرنٹ، بلوچ ریپبلکن گارڈز، اور سندھی آزادی پسند تنظیم سندھو دیش ریولوشنری آرمی کے وفود نے شرکت کی۔
اس اجلاس کے بعد جاری کی گئی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس تین روز تک جاری رہا، جس میں بلوچ قومی تحریک کو ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل کرنے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
اس اجلاس کے بعد جاری پریس ریلیز میں جو کہا گیا ہے ہم یہاں ان فیصلوں کی تفصیلات لکھ رہے ہیں۔
اس اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ براس مستقبل قریب میں بلوچ قومی فوج کی شکل اختیار کرے گا اور مختلف تنظیموں کے جہدکاروں اور قیادت کو ایک متحدہ عسکری ڈھانچے کے تحت لانے کے لیے اعلیٰ سطح پر نئی کمیٹیوں اور محکموں کی تشکیلِ نو کی جائے گی، جبکہ نچلی سطح پر تمام علاقوں میں تنظیمی و عسکری بنیادوں کو مضبوط اور ازسرِنو منظم کرنے کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا۔
پاکستان اور چین کے خلاف جنگ میں مزید شدت اور جدت لانے کا عزم
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اس عمل کا بنیادی مقصد بلوچ مزاحمتی قوتوں کو منتشر کارروائیوں سے نکال کر ایک منظم، مربوط اور فیصلہ کن قوت میں تبدیل کرنا ہے، جو دشمن کے خلاف ایک ناقابلِ شکست دیوار ثابت ہو۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان اور چین کے خلاف جنگ میں مزید شدت اور جدت لائی جائے گی۔
گوریلا کارروائیوں کو جدید عسکری حکمت عملی کے مطابق منظم کیا جائے گا تاکہ دشمن کے لیے مزید نقصانات پیدا کیے جا سکیں، جبکہ جنگی محاذ پر ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے براس کی جنگی برتری کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔
بلوچ وسائل کی لوٹ مار، پاکستانی و چینی سرمایہ داروں کے استحصالی منصوبوں، اور قابض فوج کی موجودگی کے خلاف مزاحمت کو مزید مؤثر بنانے کے لیے فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان کی تمام اہم شاہراؤں پر ناکہ بندی میں شدت لائی جائے گی، تاکہ قابض ریاست کے لاجسٹک، معاشی اور عسکری مفادات کو تباہ کیا جا سکے۔
بلوچ قومی مسئلے کو عالمی سطح پر مزید اجاگر کرنے کے لیے سفارتی سطح پر بھی نئی حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے۔ پاکستانی و چینی ریاستوں کے مظالم، بلوچ نسل کشی، جبری گمشدگیوں، فوجی جارحیت اور استعماری منصوبوں کو عالمی فورمز پر مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے ایک مکمل سفارتی مہم کا آغاز کیا جائے گا۔
پریس ریلیز کے مطابق بلوچ میڈیا کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کے لیے بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ مزاحمتی میڈیا کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، عالمی صحافتی اداروں سے روابط کو مستحکم کرنے اور سوشل میڈیا پر بلوچ قومی بیانیے کو مزید مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے نئے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ’دشمن‘ کے پروپیگنڈے کو شکست دی جا سکے اور بلوچ تحریک کے حقیقی مقاصد کو دنیا کے سامنے واضح کیا جا سکے۔
براس کے تمام جہدکاروں کی نظریاتی، فکری اور عسکری تربیت کے لیے بھی ایک جامع منصوبہ تشکیل دیا جا چکا ہے۔
اس منصوبے کے تحت ہر سرمچار کو نہ صرف جنگی مہارتوں میں مزید تربیت دی جائے گی، بلکہ اسے قومی نظریے، انقلابی سیاست، اور دشمن کی استعماری سازشوں کے خلاف فکری اور عملی طور پر تیار کیا جائے گا۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بلوچ قومی مزاحمت کو مزید وسعت دینے اور ہر محاذ پر اسے مضبوط کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی گروہی سوچ کو ترک کر کے قومی جدوجہد کو اولین ترجیح دی جائے۔
پریس ریلیز کے مطابق براس کا مؤقف واضح ہے کہ بلوچ قومی آزادی کی ضمانت صرف اور صرف ایک متحدہ، منظم اور ناقابلِ تسخیر قومی فوج کے قیام میں ہے۔
براس اسی نظریے کو آگے بڑھا رہا ہے، تا کہ بلوچ قومی تحریک کو ایک ایسا ناقابلِ شکست ڈھانچہ دیا جا سکے جو دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنا دے اور بلوچ قومی آزادی کا حصول جلد ممکن بنائے۔
بلوچ وسائل پر قبضہ کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں، اور براس اس امر کو یقینی بنائے گا کہ چین سمیت کوئی بھی استعماری طاقت پاکستان کے ساتھ مل کر بلوچ وسائل کی لوٹ مار نہ کر سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل غزہ میں تمام انسانی امداد کا داخلہ بند کر دیا ہے اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ حماس جنگ بندی میں توسیع کے امریکی منصوبے پر اتفاق کرے۔
جنگ بندی کے پہلے مرحلے کا اختتام سنیچر کو ہوا تھا۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر کا کہنا تھا کہ حماس نے اب تک ڈونلڈ ٹرمپ کے مندوب سٹیو وٹکوف کی جانب سے تجویز کردہ جنگ بندی میں عارضی توسیع کے منصوبے کو ماننے سے انکار کیا ہے۔
حماس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کو روکنا ’بلیک میل‘ کرنے کا ایک بھونڈا طریقہ ہے جو جنگ بندی معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے اور انھوں نے مذاکرات کاروں سے مداخلت کرنے کی درخواست کی ہے۔
حماس جنگ بندی معاہدے کا دوسرا مرحلہ وہی چاہتے ہیں جیسے شروعات میں مذاکرات میں طے ہوا تھا۔ یعنی مزید یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوجیوں کا غزہ سے انخلا۔
حماس کی جانب سے اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ وہ پہلے مرحلے میں توسیع کے کسی بھی منصوبے پر تب تک اتفاق نہیں کرے گا جب تک امریکہ، قطر اور مصر کے مذاکرات کاروں کی جانب سے یہ یقین دہانی نہ کروائی جائے کہ دوسرا مرحلہ بالآخر شروع ہو گا۔
نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یرغمالیوں کے تبادلے کے پہلے مرحلے کے اختتام اور حماس کی جانب سے وٹکوف کے منصوبے سے پر اتفاق نہ کرنے پر جس پر اسرائیل اتفاق کر چکا ہے وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے فیصلہ کیا ہے کہ آج صبح غزہ میں امداد کی ترسیل ختم کر دی جائے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ میں مذہبِ اسلام کے مقدس مہینے رمضان کے پہلے روزے کی افطاری کی چند تصاویر موصول ہوئی ہیں۔
غزہ سے سامنے آنے والی ان تصاویر میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد تباہ شُدہ عمارتوں کی بیچوں بیچ دسترخوان لگائے دیکھا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ غزہ میں ماہِ رمضان کا آغاز یکم مارچ سے ہوا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ شب اسرائیلی حکومت نے غزہ کی جنگ بندی میں آئندہ چھ ہفتوں تک عارضی توسیع کی منظوری دے دی ہے۔ اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسا مسمانوں کے مقدس مہینے رمضان اور یہودی تہوار عید الفصح کی مناسبت سے کیا گیا ہے۔
آئیے غزہ سے ملنے والی ان تصاویر پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹامر نے اپنی رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ پر یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ہونے والی ملاقات میں انھیں اس بات کا یقین دلایا کہ ’برطانیہ بھر میں انھیں مکمل حمایت' حاصل ہے۔
یوکرین کے صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد برطانیہ پہنچنے پر برطانوی وزیر اعظم کو بتایا کہ انھیں خوشی ہے کہ ان کے ملک کے برطانیہ جیسے ’اچھے دوست‘ ہیں۔
زیلنسکی اور سر کیر نے یوکرین کی فوجی رسد کے لیے 2 اشاریہ دو چھ ارب پاؤنڈ کے قرض پر بھی دستخط کیے جنھیں منجمد روسی اثاثوں سے حاصل ہونے والے منافع سے ادا کیا جائے گا۔
وزیر اعظم اتوار کو یورپی رہنماؤں کے سربراہ اجلاس کی میزبانی کریں گے جس میں روس یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ وسیع تر یورپی دفاع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جبکہ زیلنسکی شاہ چارلس سوم سے بھی ملاقات کریں گے۔
تاہم ان اہم ملاقاتوں کے دوران واشنگٹن میں ہونے والی واقعات اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی سے متعلق خدشات کا احاطہ کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حالیہ ہفتوں میں برطانوی وزیر اعظم نے خود کو امریکہ اور یورپ کے درمیان ایک اہم شخصیت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
یوکرین کے صدر ویلادیمیر زیلنسکی کے ساتھ امریکی صدر کی ہونے والی ملاقات سے ایک روز قبل برطانوی وزیر اعظم کی صدر ٹرمپ کے ساتھ خوشگوار ملاقات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس ملاقات کے دوران برطانوی وزیر اعظم نے شاہ چارلس سوم کی جانب سے ایک خط پیش کیا جس میں ٹرمپ کو دوسرے سرکاری دورے پر مدعو کیا گیا تھا، جسے ایس این پی کے ارکان پارلیمنٹ نے اوول آفس کے جھگڑے کے بعد واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔
سنیچر کے روز 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کا دورہ برطانوی وزیر اعظم کے لئے ایک موقع تھا کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ عوام کے اختلافات کے بعد زیلنسکی کے لئے اپنی مسلسل حمایت کا اظہار کریں۔
10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر جمع لوگوں نے زیلنسکی کے وہاں پہنچنے پر خوشی کا اظہار کیا جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات دوران سر کیر نے یوکرین کے رہنما سے کہا کہ ’یہ برطانیہ کے لوگ ہیں جو یہ ظاہر کرنے کے لئے باہر آ رہے ہیں کہ وہ آپ کی کتنی حمایت کرتے ہیں اور یہ کہ وہ یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم آپ اور یوکرین کے ساتھ اس وقت تک کھڑے ہیں جب تک کہ آپ کو ہماری ضرورت ہوگی چاہے اس میں جتنا بھی وقت کیوں نہ لگ جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی حکومت نے غزہ کی جنگ بندی میں آئندہ چھ ہفتوں تک عارضی توسیع کی منظوری دے دی ہے۔ اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسا مسمانوں کے مقدس مہینے رمضان اور یہودی تہوار عید الفصح کی مناسبت سے کیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پہلے سے طے شدہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کی مدت کے سنیچر کے روز ختم ہو جانے کے بعد اس عارضی توسیع کی منظوری دی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز کے تحت غزہ میں حماس کے زیرِ حراست نصف یرغمالیوں کو پہلے دن رہا کر دیا جائے گا۔
باقی یرغمالیوں کو ’اگر مستقل جنگ بندی پر کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے‘ تو رہا کیا جائے گا۔
حماس نے اسرائیل کے تازہ ترین اقدام پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
نتن یاہو کی جانب سے بلائے گئے چار گھنٹے کے اجلاس کے بعد اسرائیلی حکومت نے جنگ بندی میں توسیع کی حمایت کی۔
وزیر اعظم کے دفتر نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے اب تک وٹکوف منصوبے کی حمایت کرنے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر گروپ اپنا موقف تبدیل کرتا ہے تو اسرائیل فوری طور پر مذاکرات شروع کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
چھ ہفتوں پر محیط غزہ میں جنگ بندی کا پہلا مرحلہ اپنے اختتام کو پہنچ چُکا ہے۔
19 جنوری سے لے کر اب تک بے یقینی اور اُمید سے بھرے ان 42 دنوں میں اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا گیا جن میں زندہ اور مردہ دونوں ہی شامل تھے اور یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کو رہائی ملی۔
تاہم دوسرے مرحلے پر بات چیت بشمول باقی تمام یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ سے اسرائیلی فوجیوں کے انخلاء کا عمل بمشکل شروع ہو چُکا ہے۔
جمعے کے روز قاہرہ میں مذاکرات کا آغاز تو ہوا مگر اسرائیلی وفد اسی روز شام کو وطن واپس روانہ ہو گیا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے قاہرہ جانے والے اس وفد، دیگر سینئر وزرا اور انٹیلی جنس سربراہان کے ساتھ رات گئے مشاورت کی۔
سبت کے دن دیر سے ہونے والی اس طرح کی میٹنگ کا ہونا انتہائی غیر معمولی تھا (کیونکہ اس روز یہودی مکمل چھٹی کرتے ہیں اور مذہبی طور پر اس روز کام نہیں کیا جاتا اور صرف عبادت کی جاتی ہے)۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واضح رہے کہ اسرائیلی حکومت اس بات پر بضد ہے کہ حماس جو 7 اکتوبر 2023 کے قتل عام اور 251 افراد کو یرغمال بنانے کا ذمہ دار ہے کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے اور غزہ کی پٹی میں کسی بھی قسم کے اختیار سے دستبردار ہونا پڑے گا۔
اسرائیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ مصر اور غزہ کی سرحد کے ساتھ فلاڈیلفی کوریڈور کو چھوڑنے کے لیے ابھی تیار نہیں ہے۔
ایک اسرائیلی عہدیدار نے جمعے کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ہم حماس کے مسلح جنگجوؤں کو دوبارہ اپنی سرحدوں پر گھومنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
واضح رہے کہ اس طرح کے بیانات کے بارے میں یہ خیال بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ براہ راست وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہوتے ہیں۔
جمعے کی شب حماس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ امریکہ، قطر اور مصر کے ثالثوں کی ضمانت کے بغیر پہلے مرحلے میں توسیع پر رضامند نہیں ہوں گے۔
اب ایسا لگتا ہے کہ حماس غزہ میں ایک قوت کے طور پر موجود رہیں گے، بھلے ہی وہ مغربی کنارے میں قائم فلسطینی اتھارٹی سمیت دیگر فلسطینی کرداروں کو حکمرانی سونپنے پر آمادہ ہو جائیں۔
مصر غزہ کی تعمیر نو کے اُن منصوبے پر کام کر رہا ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تجویز کے متبادل کے طور پر ہے کہ وہ اس علاقے پر قبضہ کر لے اور اس کی پوری شہری آبادی کو خالی کر دے۔
بلوچستان کے ضلع خضدار میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں وڈیرہ غلام سرور موسیانی سمیت جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے دو رہنما ہلاک ہو گئے ہیں۔
ان کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے زہری کے علاقے تراسانی میں سنیچر کی شب گھات لگا کر حملہ کیا تھا۔
وڈیرہ غلام سرور لاپتا افراد کے رشتہ داروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سوراب گئے تھے جو کہ زہری سے نو افراد کی جبری گمشدگی کے خلاف کوئٹہ، کراچی شاہراہ پر دھرنے پر بیٹھے ہیں۔
زہری کے اسسٹنٹ کمشنر خالد شمس نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ وڈیرہ غلام سرور ایک گاڑی میں تین افراد کے ہمراہ واپس اپنے گھر جارہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے تراسانی کے علاقے میں رات کو 9 بجے ان پر حملہ کر دیا۔
اس حملے میں وڈیرہ غلام سرور کے علاوہ جے یوآئی کے ایک اور مقامی رہنما مولوی امان اللہ ہلاک جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔
اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ واقعے کے بارے میں تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے، تاہم ابھی تک اس واقعے کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے ہیں۔
وڈیرہ غلام سرور جے یوآئی کے سابق رہنما اور وزیر وڈیرہ عبدالخالق کے صاحبزادے تھے۔
جے یو آئی کے مرکزی ترجمان اسلم غوری نے جے یو آئی بلوچستان کے رہنما وڈیرہ غلام سرور اور مولوی امان اللہ کے قتل کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک منصوبہ بندی کے تحت ان کی جماعت اور مذہبی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہدف بنا کر قتل کیا جا رہا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کو جمہوریت کا ساتھ دینے کی سزا دی جارہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ روز وائٹ ہاؤس میں امریکی اور یوکرینی صدور کے درمیان ہونے والی تکرار کے بعد نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ ولادیمیر زیلنسکی کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا ’راستہ ڈھونڈنا ہوگا۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس میں دونوں ممالک کے صدور کے درمیان ہونے والی بحث کے بعد وہ زیلنسکی سے دو مرتبہ بات کر چکے ہیں۔
صدر زیلنسکی سے ہونے والی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے درمیان جو بات ہوئی وہ میں بتا نہیں سکتا۔‘
مارک روٹے کا کہنا تھا کہ انھوں نے صدر زیلنسکی کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے جو یوکرین کے لیے ہے اس پر انھیں ’عزت دینی چاہیے۔‘
نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں امریکہ نے یوکرین کو جیولن اینٹی ٹینک میزائل سسٹم کی فروخت کی منظوری دی تھی جس کے سبب یوکرین کو روس کے خلاف لڑنے کا موقع ملا۔
’ہمیں ٹرمپ کو کریڈٹ دینا پڑے گا۔‘

کوئٹہ پولیس نے محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی خالی آسامیوں پر کامیاب ہونے والے امیدواروں کے احتجاج پر گرفتاریوں کا سلسلہ سنیچر کو دوسرے روز بھی جاری رکھا۔
پولیس حکام کے مطابق دو روز کے دوران دفعہ 144کی خلاف ورزی پرمجموعی طور پر 32 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
سنیچر کی صبح پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد پریس کلب کے باہر جمع تھی جنھوں نے پریس کلب کے باہر اور اندر سے امیدواروں کو گرفتار کیا۔
امیدواروں کے مطابق وہ گزشتہ روز ہونے والی گرفتاریوں کے خلاف ہنگامی پریس کانفرنس کرنے آئے تھے لیکن پولیس اہلکاروں نے انہیں پریس کلب کے باہر اور اندر سے گرفتار کرلیا۔
گزشتہ روز پولیس نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سبزہ زار سے مظاہرین کو گرفتار کیا تھا۔
ایس یس پی آپریشنز کوئٹہ محمد بلوچ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ کوئٹہ شہر میں دفعہ 144نافذ ہے جس کے تحت شاہراہوں پر احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شاہراہوں پر احتجاج کی وجہ سے ٹریفک جام ہونے سے عام لوگوں کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس پر ہم نے مظاہرین کو کہا کہ آپ لوگ کسی ایسے مقام پر احتجاج کریں جہاں عام لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے یہ بات نہیں مانی اور اسمبلی کے باہر احتجاج کرنے پر اصرار کیا جس کے بعد پولیس کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر 32 مظاہرین کو گرفتار کرنا پڑا۔
محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی خالی آسامیوں پر کامیاب قرار دیے جانے والے امیدوار کیوں احتجاج کررہے ہیں؟
بلوچستان میں محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی ہزاروں آسامیاں خالی ہیں۔ اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے صوبے بھر میں دو ہزار سے زائد اسکول بند ہیں۔

سابق حکومت کے دور میں اساتذہ کی 9 ہزار خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے ٹیسٹ اور انٹرویوز لیے گئے تھے۔
بعض امیدواروں نے ٹیسٹ اور انٹرویوز میں شفافیت نہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
بلوچستان ہائی کورٹ نے ٹیسٹ اور انٹرویوز کے نتائج کو منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے کامیاب قرار دیئے جانے والے امیدواروں کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے ان کی تعیناتی کا حکم جاری کر دیا تھا۔
لیکن ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی ٹیسٹ اور انٹرویو میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کی تقرری کے احکامات جاری نہیں کیے گئے ہیں۔
تقرری کے احکامات پر عمل میں تاخیر پر جمعرات کو کامیاب ہونے والے امیدواروں نے ایک مرتبہ پھر شدید بارش کے باوجود بلوچستان اسمبلی کے باہر احتجاج کیا تھا۔
وہ گزشتہ روز دوبارہ کوئٹہ میونسپل کارپوریشن کے احاطے سے اسمبلی کے باہر احتجاج کے لیے جانا چاہتے تھے لیکن پولیس نے ان کو جانے نہیں دیا اور کچھ مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔
سنیچر کو پریس کلب کے باہر دوبارہ جمع ہونے پر کچھ امیدواروں کو ایک بار پھر گرفتار کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
وائٹ ہاؤس میں جمعے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان ہونے والی تکرار کے بعد متعدد بین الاقوامی رہنماؤں کے بیانات سامنے آ چکے ہیں لیکن روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے بالکل خاموشی ہے۔
لیکن یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ کیا انھیں واقعی کچھ کہنے کی ضرورت ہے؟ صدر پوتن آرام سے بیٹھ کر یہ تمام واقعات کو دیکھنے کی آزادی رکھتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہی پیش گوئی کی تھی کہ صدر زیلنسکی کے ساتھ عوامی سطح پر تکرار ’ٹی وی کے لیے بہترین‘ (مواد) ہوگا اور یہاں اس بات میں زیادہ شک نہیں ہے کہ روسی صدر نے بھی اس کا لطف لیا ہوگا۔
پوتن کی طرف سے خاموشی کے باوجود کچھ روسی حکام کا واشنگٹن میں ہونے والی تکرار پرمؤقف سامنے آیا ہے۔
ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں سابق روسی صدر اور ملک کی سکیورٹی کونسل کے موجودہ نائب سربراہ دمیتری میدوی ایدوف کا کہنا تھا کہ صدر زیلنسکی کو ’اوول آفس میں ڈانٹ پڑی ہے۔‘
انھوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کی عسکری امداد بند کی جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’امریکہ کی مدد ہماری سالمیت کے لیے اہم رہی ہے اور میں اس بات کو مانتا ہوں۔‘
یوکرینی صدر کا اوول آفس میں ہونے والے غیرمعمولی مکالمے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’سخت مکالمے کے باوجود ہم اب بھی سٹریٹیجک شراکت دار ہیں۔
’لیکن ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ایمانداری کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور براہ راست بات کرنی ہو گی تاکہ ہم ایک دوسرے کو اور باہمی مقاصد کو سمجھ سکیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ یوکرین امریکہ کا تمام حمایت کے لیے ’بہت شکر گزار‘ ہے خاص طور پر گذشتہ تین سالوں کے دوران۔ تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’میں چاہتا ہوں کہ امریکہ ہماری طرفداری میں زیادہ مضبوطی سے کھڑا ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ بہت اہم ہے کہ ’یوکرین کو سنا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے، نہ تو جنگ کے دوران اور نہ اس کے بعد۔‘

،تصویر کا ذریعہPID
وزیراعظم شہباز شریف نے اکوڑہ خٹک میں جمعے کے روز ہونے والے دھماکے اور اس کے نتیجے میں مولانا حامد الحق سمیت دیگر افراد کی ہلاکتوں پر مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دہشت گردی کے اس ناسور کو دفن نہیں کر دیتے۔‘
اسلام آباد میں رمضان پیکیج 2025 کے اعلان کی تقریب سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ ’اکوڑہ خٹک میں خودکش دھماکے میں مولانا حامد الحق سمیت دیگر پاکستانیوں کی ہلاکت ایک المناک واقعہ ہے، یہ قدیم جامعہ ہے۔ جہاں اسلامی و عصری تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ اس واقعے پر قوم افسردہ ہے۔‘
انھوں نے خطاب میں کہا کہ ’ایسی قبر کھو دیں گے دوبارہ دیشت گردی کے ناسور کا نکلنا ممکن نہیں ہوگا۔امید ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت ان قاتلوں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دے گی۔‘
انھوں نے تقریب میں کہا کہ رمضان پیکیج کے ذریعے 40 لاکھ گھرانوں (تقریباً 2 کروڑ پاکستانیوں) کو ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے پانچ ہزار روپے فی خاندان فراہم کیے جائیں گے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس سال رمضان المبارک کے مہینے میں مہنگائی پہلے سے کم ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم یوٹیلیٹی سٹورز سے جان چھڑوا کر انھیں بہتر بنا کر ان کی نجکاری کی جائے گی، اس سال رمضان پیکیج کے لیے لائنیں نہیں لگیں گی بلکہ با عزت طور پر لوگوں کو ڈیجیٹل والٹ سے ریلیف مل جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ صدر زیلنسکی حد سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کی اور یہ معاملہ ہماری توقعات کے برعکس رہا۔
جمعے کے روز اوول آفس میں یوکرین کے صدر زیلنسکی کے ساتھ ہونے والی تلخ بحث کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے یہ دعویٰ دہرایا کہ ممکنہ امن مذاکرات میں زیلنسکی کے ہاتھ میں ’بہت کمزور پتے‘ ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر زیلنسکی امریکہ کی تجویز کردہ معدنیاتی وسائل کی ڈیل پر دستخط کر دیں تب ہی وہ ایک ’مضبوط‘ رہنما کی تعریف پر پورا اتر سکیں گے۔
صدر ٹرمپ نے صدر زیلنسکی پر الزام عائد کیا کہ ’وہ صرف جنگ جنگ اور جنگ چاہتے ہیں، جبکہ ہم اس خونریزی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔‘
جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ یوکرینی صدر کو مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’ انھیں یہ کہنا ہوگا کہ وہ امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘
اس گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکی حمایت واپس لینے کی دھمکی دہراتے ہوئے کہا کہ ’یا تو ہم اس جنگ کو ختم کریں گے یا پھر انھیں تنہا لڑنا ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
صدر ولادیمیر زیلنسکی کا سفارت دورہ جو امریکہ کے ساتھ نایاب معدنیات کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے طے شدہ تھا، وہ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں دونوں صدور کے درمیان ایک شدید ٹکراؤ میں بدل گیا۔
اس ٹکراؤ میں ایک طرف صدر زیلنسکی تھے اور دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب امریکی صدر جے ڈی وینس، اور ان کے سامنے میڈیا سے بھرا ہوا کمرہ تھا جو اس تکرار پر حیرت زدہ تھا۔
اس بحث و تکرار میں الجھے رہنے کے باعث نہ کوئی معدنیات کا معاہدہ طے پایا اور نہ ہی کوئی مثبت نتیجہ نکلا بلکہ اس سب کے برعکس صدر زیلنسکی کو وائٹ ہاؤس سے جانے کے لیے کہہ دیا گیا۔
بعد میں صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ یوکرینی صدر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے اور انھیں نہیں لگتا کہ صدر زیلنسکی امن چاہتے ہیں۔
تاہم کچھ دیر بعد صدرزیلنسکی امریکہ کے ٹی وی نیٹ ورک فاکس نیوز پر نمودار ہوئے اور اعتراف کیا کہ انھیں اس ملاقات کے نتیجے پر افسوس ہے۔
تاہم ساتھ ہی انھوں نے امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو ابھی بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
اس ملاقات میں ہونے والی تکرار اور اس کے اثرات کی تفصیل کے لیے بی بی سی کا تفصیلی آرٹیکل موجود ہے: وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور زیلنسکی کی ملاقات تکرار میں کیسے بدل گئی اور اس کے کیا اثرات ہوں گے؟
وائٹ ہاؤس میں ہونے والی صدر ٹرمپ اور صدر زیلینسکی کی ملاقات میں گرما گرمی کی خبروں کے سامنے آنے کے بعد سے جہاں دنیا بھر میں اس پر بات کی جا رہی ہے وہیں یوکرین میں بھی اس حوالے سخت ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار ولادیمیر فیسینکو نے یوکرینی ٹی وی پر کہا ہے کہ ’صدر زیلنسکی کے اعصاب شاید جواب دے گئے۔ انھیں خاص طور پر جے ڈی وینس کے ردعمل پرزیادہ تحمل اور لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ ٹرمپ سے بحث کرنا کبھی بھی اچھا نہیں ہوتا۔‘
یوکرینی صحافی ایلیا پونومارینکو نے بھی تبصرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’یہ انتہائی شرمناک ہے۔ وہ کسی بھی ممکنہ بات کو،کسی بھی معمولی نکتے کو زیلنسکی کے خلاف استعمال کرنے کے لیے بے تاب نظر آ رہے ہیں۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’اور یہ سب کچھ پوری دنیا کے سامنے، عالمی میڈیا کے سامنے براہِ راست نشریات میں ہو رہا ہے۔ وہ زیلنسکی کو توڑنے کے لیے ہر ممکن طریقہ اپنا رہے ہیں۔‘
یوکرین کے مغربی ریجن لویو کی ریجنل ایڈمنسٹریشن کے سربراہ میکسم کوزیتسکی نے ایکس پر لکھا کہ ’میں واشنگٹن کے واقعات کو بغور دیکھ رہا ہوں۔ انگلینڈ کے پاس رچرڈ دی لائن ہارٹ تھا اور ہمارے پاس وولودیمیر دی لائن ہارٹ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایک ڈیل میکر ہیں، یوکرینی صدر نے جو کچھ کہا اس پر انھیں معافی مانگنا چاہیے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے پروگرام ’دی سورس‘ سے بات کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا ہے کہ دونوں صدور کے درمیان ہونے والی ملاقات کا اختتام ایک ناکامی پر ہوا ہے تاہم یوکرینی صدر کو اپنے کہے پر معافی مانگنی چاہیے۔
مارکو روبیو نے صدر زیلنسکی کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’انھیں وہاں جا کر مخالفت مول لینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔‘
مارکو روبیو کے مطابق ’جب آپ جارحانہ انداز میں بات کرنا شروع کرتے ہیں اور دوسری جانب صدر ٹرمپ جو کہ ایک ڈیل میکر ہیں جنھوں نے اپنی پوری زندگی ایسے سودے کیے ہیں تو یہ جو کچھ ہوا وہ لوگوں کومزاکرات کی میز پر لانے میں مددگار نہیں۔‘
روبیو نے مزید کہا کہ ’آ پ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید صدر زیلنسکی امن معاہدہ نہیں چاہتے جبکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ایسا چاہتے ہیں مگر شاید وہ یہ ثابت نہ کر سکے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے امریکہ کی توہین کی ہے اور جب وہ امن کے لیے تیار ہوں واپس آ سکتے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں سخت جملوں کے تبادلے، اور صدر زیلنسکی کے وائٹ ہاؤس سے اٹھ کر چلے جانے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’آج ہماری بڑی وائٹ ہاؤس میں بڑی معنی خیز ملاقات ہوئی، اور اس تکرار اور تناؤ میں بہت کچھ ایسا جاننے اور سمجھنے کا موقع ملا جس کے بارے میں اس سخت تبادلے کے بنا جاننا مشکل تھا۔‘
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادمیر زیلنسکی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں اس وقت بدمزگی ہو گئی تھی جب یوکرینی صدر کی امریکی صدر اور نائب صدر سے معدنیات سے متعلق معاہدے پر بات چیت کے دوران تکرار ہوئی۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے دوران سخت جملوں کے تبادلے کے بعد یوکرینی صدر زیلنسکی وائٹ ہاؤس سے روانہ ہو گئے تھےاور وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ معدنیات سے متعلق معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے ہیں اور دونوں صدور کی طے شدہ مشترکہ پریس کانفرنس کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ’یہ بہت حیران کن ہے کہ ہم جذبات میں وہ سب کیسے کہہ گئے، اور مجھے یہ علم ہوا کہ اگر امریکہ ثالثی یا امن کی کوششوں میں شامل ہوتا ہے تو صدر زیلنسکی امن کے لیے تیار نہیں ہے کیونکہ انھیں لگتا ہے کہ ہماری شمولیت سے انھیں مذاکرات میں بہت فائدہ ہو گا۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’میں فائدہ نہیں امن چاہتا ہوں۔ انھوں نے اوول دفتر میں امریکہ کی توہین کی اور جب وہ امن کے لیے تیار ہوں واپس آ سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہG
دونوں صدور کی ملاقات کے دوران ماحول میں گرما گرمی کب شروع ہوئی
جمعے کو وائٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندوں کے سامنے ہونے والی بات چیت میں اس وقت ماحول گرم ہوا جب امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرینی صدر سے کہا کہ ’روس کے ساتھ معاہدہ کریں ورنہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے۔‘
جس کے جواب میں یوکرین کے صدر نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ’کوئی سمجھوتہ‘ نہیں ہونا چاہیے۔
تاہم ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کئیو کو روس کے ساتھ امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے رعایتیں دینا ہوں گی۔
ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے صدر زیلنسکی سے کہا کہ آپ کا ملک جنگ نہیں جیت رہا، آپ ہماری وجہ سے اس جنگ سے نکل سکتے ہیں۔ اگر آپ کی فوج کے پاس ہمارا دیا ہوا اسلحہ اور عسکری سازوسامان نہیں ہوتا تو یہ جنگ دو ہفتوں میں ہی ختم ہو جاتی۔
اس ملاقات کے دوران ٹرمپ نے زیلنسکی سے سوال کیا کہ کیا آپ نے ایک بار بھی امریکہ کا شکریہ ادا کیا؟ آپ کو امریکہ کا شکر گزار ہونا چاہیے، آپ کے پاس آپشز نہیں ہیں، آپ کے لوگ مر رہے ہیں، آپ کو فوجیوں کی کمی کاسامنا ہے۔
اس موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے زیلنسکی سے کہا کہ ’آپ کے الفاظ انتہائی غیر مناسب ہیں۔‘
اس پر زیلنسکی نے ان سے سوال پوچھا کہ کیا آپ نے ایک بار بھی یوکرین کا دورہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہمیں کن مشکلات کا سامنا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کو سکیورٹی کی ضمانت دینا امریکہ کی نہیں یورپ کی ذمہ داری ہے ، چاہتے ہیں امریکہ یوکرین کی مدد بند نہ کرے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایسی کیا گفتگو ہوئی جو تکرار تک جا پہنچی
یاد رہے کہ دونوں صدور کے درمیان اس ملاقات کا مقصد معدنیات کے معاہدے پر دستخط کرنے کے پیش نظر تھا جو آگے نہیں بڑھ سکا۔
مگر ان دونوں سربراہوں کے درمیان ایسی کیا گفتگو ہوئی جو تکرار تک جا پہنچی آئیے جانتے ہیں۔
تلخ جملوں کے تبادلے کے دوران دونوں رہنما ایک دوسرے کو بار بار اس انداز میں ٹوکا جو وائٹ ہاؤس میں شاذ و نادر ہی دیکھا گیا ہے۔
ملاقات کے آغاز پر معاملات اس وقت تلخی کی طرف بڑھے جب صدر ٹرمپ کو یہ کہتے سنا گیا کہ ’یہ بہت اچھا ہو گا اگر وہ اور زیلنسکی روس اور یوکرین کی جنگ کا خاتمہ کر سکیں۔‘
جس پر صدرزیلنسکی نے کہا کہ مذاکرات کی میز پر روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ’کوئی سمجھوتہ‘ نہیں ہونا چاہیے ،لیکن ٹرمپ نے کہا کہ روس کے ساتھ امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے کیئو کو رعایتیں دینا ہوں گی۔‘
اس پر صدر زیلنسکی نے ٹرمپ کو روس کے جنگی مظالم کی تصاویر دکھائیں اور کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ ہمارے ساتھ ہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے یوکرینی صدر سے کہا کہ وہ روس کے ساتھ معاہدے کریں ورنہ امریکہ پیچھے ہٹ جائے گا۔
اس موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر آپ کو ابھی جنگ بندی کا موقع ملے تو میں آپ سے کہوں کا کہ فوراً اس پر آمادہ ہو جائیں تاکہ گولیاں چلنے تو بند ہوں۔‘
زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ’یقیناً میں جنگ روکنا چاہتا ہوں‘، یہاں ٹرمپ نے انھیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے کہا کہ آپ جنگ بندی نہیں چاہتے۔‘ جس پر زیلنسکی نے جواب دیا کہ وہ جنگ بندی کا معاہدہ چاہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ کچھ شرائط اور ضمانتیں دی جائیں۔
انھوں نے صدر ٹرمپ سے کہا کہ یوکرینی عوام سے پوچھیں کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کے متعلق کیا سوچتے یا چاہتے ہیں۔‘
آپ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ مول لے رہے ہیں:صدر ٹرمپ
ایک موقع پر غصے میں نظر آنے والے صدر ٹرمپ نے کہا کہ زیلنسکی امریکہ کی فوجی اور سیاسی حمایت کے لیے کافی شکر گزار نہیں ہیں، اور یہ کہ وہ ’تیسری عالمی جنگ کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا کہ ’آپ کا ملک جنگ نہیں جیت رہا، آپ بہت مشکل میں ہیں۔ آپ کا ملک بہت بڑی مشکل میں ہے۔ آپ ہماری وجہ سے اس جنگ سے نکل سکتے ہیں۔‘
انھوں نے صدر بائیڈن پر تنقید کرتے ہوئے زیلنسکی سے کہا کہ ’ہم نے آپ کو 350 ارب ڈالر کی امداد دی، اگر آپ کی فوج کے پاس ہمارا دیا ہوا اسلحہ اور عسکری سازوسامان نہیں ہوتا تو یہ جنگ دو ہفتوں میں ہی ختم ہو جاتی۔‘
ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا کہ ’آپ کو امریکہ کا شکر گزار ہونا چاہیے، آپ کے پاس آپشز نہیں ہیں، آپ کے لوگ مر رہے ہیں، آپ کو فوجیوں کی کمی کاسامنا ہے۔‘
اس دوران یوکرینی صدر متعدد مرتبہ امریکی صدر کی بات کا جواب دینے کی کوشش کرتے رہے لیکن ٹرمپ نے یوکرینی صدر کو بولنے کا موقع ہی نہیں دیا۔
جس پر زیلنسکی نے کہا ’میں جانتا ہوں۔‘
ٹرمپ نے ملاقات میں میڈیا نمائندوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ضروری ہے کہ امریکی عوام کو صورتحال معلوم ہو اسی وجہ سے میں نے یہ ملاقات جاری رکھی ہے۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ ایسے آپ کے ساتھ چلنا یا معاہدہ کرنا بہت مشکل ہو گا۔ اس موقع پر ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا کہ ’آپ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ مول لے رہے ہیں، آپ امریکہ کی توہین کر رہے ہیں۔‘
اس موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ کیا آپ نے ایک بار بھی امریکہ کا شکریہ ادا کیا؟
جس پر زیلنسکی نے کہا بہت بار، جس پر جے ڈی وینس نے کہا کہ میں آج کی ملاقات کے دوران کی بات کر رہا ہوں۔‘
امریکی نائب صدر نے زیلنسکی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ آپ نے گذشتہ برس اکتوبر میں پنسلوینیا کا دورہ کیا اور اپوزیشن کے لیے مہم چلائی۔ امریکہ اور اس صدر کے لیے تعریفی الفاظ پیش کریں جو آپ کے ملک کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
زیلنسکی نے جواب دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ’براہ کرم، آپ کو لگتا ہے کہ اگر آپ جنگ کے بارے میں بہت اونچی آواز میں بات کریں گے...‘
یہاں پر صدر ٹرمپ نے ان کی بات کاٹی اور کہا کہ ’اگر میں روس اور یوکرین کی طرفداری نہ کروں تو آپ میں جنگ بندی کا معاہدہ نہیں ہو سکتا، میں پوتن یا کسی کی طرفداری نہیں کر رہا میں امریکہ کی طرفداری کر رہا ہوں۔‘
انھوں نے اس موقع پر کہا کہ ’زیلنسکی کے دل میں پوتن کے لیے بے پناہ نفرت ہے۔ جبکہ دوسری طرف انھیں بھی ان سے کوئی محبت نہیں ہے۔‘
آپ مجھے سختی کرنا چاہتے ہیں میں کسی بھی انسان سے زیادہ سخت ہو سکتا ہوں لیکن اس صورت میں آپ کا معاہدہ نہیں ہو گا۔‘
اس کے بعد یوکرین کے صدر اور ان کا سٹاف اوول دفتر سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا اور کچھ دیر بعد ہی صدر زیلنسکی کو غصے میں اپنی گاڑی میں وائٹ ہاؤس سے جاتے دیکھا گیا۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے پہلے گزشتہ روز کی اہم خبروں پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔