’انار، ٹماٹر خراب ہو گئے‘: پاکستانی سرحد کی بندش سے افغانستان میں تاجروں کو بھاری نقصان

افغانستان کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی راستے تقریباً ڈھائی ماہ تک بند رہنے کے بعد ملک کے پھل و سبزیوں کے شعبے کو براہِ راست اور بالواسطہ طور پر قریب پانچ کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

خلاصہ

  • سابق افغان حکومت کے دور میں صوبہ بغلان اور تخار میں پولیس کمانڈر اکرام الدین سری تہران میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہو گئے
  • بشریٰ بی بی کو جن حالات میں جیل میں رکھا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں، اقوامِ متحدہ کی عہدیدار کا بیان
  • 26 دسمبر کو متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں: دفترِ خارجہ
  • امریکہ کی ایران کو 'زیرو انرچمنٹ' کے بدلے مذاکرات کی پیشکش، تہران کا یورپ اور امریکہ سے اپنے رویے میں تبدیلی لانے کا مطالبہ
  • انڈیا کا 'بلو برڈ بلاک-2 سیٹلائٹ خلا میں چھوڑنے کا مشن مکمل، انڈیا خلائی دنیا کی بلندیاں مسلسل چھو رہا ہے: نریندر مودی

لائیو کوریج

  1. ترکی: نئے سال کی تقریبات پر ’حملوں کی منصوبہ بندی‘ کرنے والے دولت اسلامیہ کے 115 مبینہ ارکان گرفتار

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترک حکام کا کہنا ہے کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ سے تعلق کے شبے میں 100 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جو کہ مبینہ طور پر کرسمس اور نئے سال کی تقریبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

    استنبول کے چیف پراسیکیوٹر کے مطابق شہر کے 124 مقامات پر چھاپے مارے گئے جہاں سے اسلحہ، گولہ بارود اور ’تنظیمی دستاویزات‘ برآمد ہوئے۔

    حکام نے کہا کہ آئی ایس کے حامی اس ہفتے ترکی میں غیر مسلموں کو نشانہ بنانے کے لیے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

    سرکاری بیان میں کہا گیا کہ پولیس نے 115 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے جبکہ مزید 22 افراد کی تلاش جاری ہے۔ پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا کہ مشتبہ افراد ترکی سے باہر آئی ایس کے کارکنان سے رابطے میں تھے۔

    یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب دو روز قبل ترک انٹیلی جنس ایجنٹس نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پر گروپ کے خلاف چھاپہ مارا تھا۔

    گرفتار ہونے والے ترک شہری پر الزام ہے کہ وہ خطے میں سرگرم آئی ایس کے ونگ کے سینیئر کمانڈر تھے۔

  2. کراچی میں آن لائن دھوکہ دہی کے الزام میں 15 چینی شہریوں سمیت 34 افراد گرفتار, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام/کراچی

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) نے بعض غیر ملکیوں سمیت ایک ایسے گروہ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو لوگوں سے آن لائن فراڈ میں ملوث تھے۔

    سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار اور این سی سی آئی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کارروائی کے دوران 15 غیر ملکی اور 19 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ افراد پر آن لائن سرمایہ کاری کا جھانسہ دے کر شہریوں کو لوٹنے کا الزام ہے۔

    ضیا لنجار کا کہنا تھا کہ ملزمان سوشل میڈیا کے ذریعے کرپٹو کرنسی اور فاریکس میں سرمایہ کاری کا جھانسہ دیتے تھے اور سرمایہ کاری کے عوض بڑے منافع کا لالچ دیتے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ملزمان شہریوں کو جعلی لاگ اِن دکھا کر انھیں سرمایہ کاری کا جھانسہ دیتے تھے۔ جعلی لاگ اِن کے ذریعے متاثرین کو بڑے بڑے منافع دکھائے جاتے تھے۔‘

    صوبائی وزیر کے مطابق ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی گیٹ وے ایکسچینج اور ہزاروں انٹرنیشنل سمز برآمد ہوئی ہیں۔ یہ سمز ان کے بقول سوشل میڈیا اور ٹیلیگرام پر جعلی اکاؤنٹ بنانے میں استعمال کی جاتی تھیں۔ حکام کے مطابق ملزمان کے قبضے سے 37 کمپیوٹرز اور 40 موبائل فون بھی برآمد ہوئے ہیں۔

    این سی سی آئی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز نے بتایا کہ یہ گرفتاریاں کراچی کے ڈی ایچ اے فیز ون اور فیز سکس سے عمل میں آئی ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم تکنیکی بنیادوں پر مزید شواہد پر کام کر رہی ہے۔

    دوسری جانب ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ خفیہ اطلاع پر این سی سی آئی کی ٹیم خیابان اتحاد لین ون میں ایک چار منزلہ عمارت پر پہنچی تھی۔ ’ٹیم نے اپنا تعارف کرایا تو کچھ لوگ دیوار پھلانگ کر فرار ہونے لگے۔ ٹیم نے عمارت کا معائنہ کیا جہاں غیر ملکی شہری بھی موجود تھے جبکہ جائے وقوعہ پر لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیوائسز موجود تھیں۔‘

    حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ غیر ملکی اور مقامی شہری سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو سرمایہ کاری کے لیے راغب کرتے تھے۔ ’ابتدائی طور پر سرمایہ کاروں کو بینک اکاؤنٹس کے ذریعے چھوٹا منافع دیا جاتا تھا تاکہ ان کا اعتماد حاصل کیا جا سکے۔ دورانِ تفتیش چینی شہریوں نے تسلیم کیا کہ وہ پونزی اسکیم میں ملوث ہیں۔‘

    جب پریس کانفرنس میں صوبائی وزیر ضیا لنجار سے سوال کیا گیا کہ غیر ملکی کون ہیں تو انھوں نے اس کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔

  3. پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 73 کروڑ ڈالر کے منصوبوں پر دستخط, تنویر ملک، صحافی

    اے ڈی بی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے جمعرات کو دو منصوبوں پر دستخط کیے ہیں، جن میں 33 کروڑ ڈالر مالیت کا سیکنڈ پاور ٹرانسمیشن سٹرینتھننگ پراجیکٹ اور سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کی تبدیلی کے لیے 40 کروڑ ڈالر کا پروگرام شامل ہے۔

    پاکستان میں اقتصادی امور کی ڈویژن کے مطابق ٹرانسمیشن منصوبہ آنے والے پن بجلی کے منصوبوں سے 2,300 میگاواٹ بجلی کی قابلِ اعتماد ترسیل کو ممکن بنائے گا، موجودہ ٹرانسمیشن لائنوں پر اضافی بوجھ کو کم کرے گا اور ہنگامی حالات میں نظام کو مزید مضبوط بنائے گا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ایس او ایز کا تبدیلی پروگرام، ایس او ای ایکٹ 2023 اور ایس او ای پالیسی 2023 پر موثر عملدرآمد کو مضبوط بنائے گا، بالخصوص نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) پر توجہ دیتے ہوئے کارکردگی میں بہتری لائے گا۔

    اس موقع پر سیکریٹری اقتصادی امور محمد حمیر کریم نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے ایک قابلِ اعتماد ترقیاتی شراکت دار کے طور پر کردار اور پاکستان میں اہم بنیادی ڈھانچے اور حکمرانی کی اصلاحات کے فروغ کے لیے اس کی مسلسل معاونت کو سراہا۔

    سیکریٹری نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں اقدامات نوعیت کے اعتبار سے انقلابی ہیں۔ ’جہاں ٹرانسمیشن منصوبہ قومی گرڈ کی ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط بنا کر پاکستان کے توانائی کے مستقبل کو محفوظ بنائے گا، وہیں ایس او ای پروگرام ملک بھر میں سرکاری ملکیت کے اداروں میں شفافیت، کارکردگی اور پائیداری کو فروغ دے گا۔‘

    اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے ان اقدامات کے لیے حکومتِ پاکستان کے مضبوط عزم کو سراہا۔ انھوں نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں ٹرانسمیشن منصوبے کی اہمیت پر زور دیا۔

    انھوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ایس او ایز میں اصلاحات کا پروگرام پاکستان کے لیے نہایت اہم ہے اور یہ حکومتِ پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کو مزید تقویت فراہم کرے گا۔

    دونوں فریقوں نے فنانسنگ کو موثر طور پر استعمال کرنے اور دونوں منصوبوں کی کامیاب اور بروقت تکمیل کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا۔

  4. ’انار، ٹماٹر خراب ہو گئے‘: پاکستانی سرحد کی بندش سے افغانستان میں تاجروں کو بھاری نقصان

    انار

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    افغانستان کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی راستے تقریباً ڈھائی ماہ تک بند رہنے کے بعد ملک کے پھل و سبزیوں کے شعبے کو براہِ راست اور بالواسطہ طور پر قریب پانچ کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

    افغان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے نائب سربراہ خان جان الکوزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان حالات میں بہت سے لوگ، جن میں باغبان، ڈرائیور اور پھل و سبزیوں کے تاجر شامل ہیں، متاثر ہوئے ہیں۔

    الکوزئی کے مطابق تجارتی راستے اُس وقت بند ہوئے تھے جب افغانستان میں پھل اور سبزیوں کی فصل تیار تھی جس سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا: ’کچھ اشیا جیسے انار، سیب، تربوز، کھیرا اور ٹماٹر خراب ہو گئے۔ لیکن ان میں سے زیادہ تر کو پاکستانی سرحدی راستوں سے مکمل طور پر نکال کر کم قیمت پر فروخت کیا گیا۔‘

    الکوزئی نے یہ بھی کہا کہ پھل و سبزیوں کے علاوہ ہزاروں دیگر ٹرک، جو روانگی کے لیے تیار ہیں، دونوں طرف سرحدوں پر راستہ کھلنے کے منتظر ہیں۔

    افغان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے مطابق سرحدی راستے بند ہونے کی وجہ سے کابل میں پھل اور سبزیوں کی قیمتوں میں 60 فیصد تک کمی آئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تجارت بند ہونے سے افغانستان میں ہر ماہ 20 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

    پاکستان، افغانستان، تجارت

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    18 دسمبر کو افغانستان، پاکستان مشترکہ چیمبر آف کامرس نے اعلان کیا تھا کہ راستوں کی بندش نے پاکستان کی معیشت کو 4.5 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچایا ہے۔

    اکتوبر میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد سے پاکستان نے افغانستان کے لیے اپنے راستے بند کر دیے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت اس وقت سے معطل ہے۔

    نومبر میں طالبان حکومت نے افغان تاجروں کو ہدایت دی کہ وہ جلد از جلد متبادل تجارتی راستے تلاش کریں اور خاص طور پر پاکستان سے ادویات کی درآمد روک دیں۔

    افغانستان میں پاکستانی ملازمین مشکلات کا شکار

    چند روز قبل ایک پاکستانی کاروباری وفد بلوچستان کے شہر چمن سے اسلام آباد گیا تاکہ افغانستان میں پھنسے ہوئے ملازمین اور تاجروں کی حالت پر بات چیت کر سکے۔

    وفد کے ایک رکن حاجی عبدالباری اچکزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ سرحدوں کی بندش کی وجہ سے 4,000 سے زیادہ پاکستانی ورکرز اور تاجر افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    بی بی سی کے نمائندے محمد کاظم نے بتایا کہ ’پشتو نیشنل اسمبلی‘ نامی ایک وفد نے مقامی حکام کو 2,000 ورکرز اور تاجروں کی فہرست پیش کی ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔

  5. بلوچستان کے ضلع کیچ میں ’لاپتہ افراد‘ کے لواحقین کا دھرنا، سی پیک شاہراہ تین روز سے بند, محمد کاظم، بی بی سی اُردو، کوئٹہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہMajeed Shah

    بلوچستان کے ضلع کیچ میں دو خواتین سمیت چار افراد کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف دھرنے کے باعث گوادر اور کوئٹہ کے درمیان سی پیک شاہراہ جمعرات کو تیسرے روز بھی بند رہی۔

    ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے ان افراد کی بازیابی کے لیے خواتین اور بچوں نے کرکی تجابان کے علاقے میں دھرنا دے رکھا ہے جس کی وجہ سے شاہراہ پر بڑی تعداد میں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔

    تربت سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل مجید شاہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ان افراد کو دو الگ علاقوں سے ’لاپتہ‘ کیا گیا۔

    مقامی پولیس کے مطابق دھرنے کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

    مجید شاہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ خواتین سمیت چاروں افراد کو حب اور تربت سے لاپتہ کیا گیا، جن میں ہانی دلوش، حیرالنساء، مجاہد علی اور فرید اعجاز شامل ہیں۔

    ہانی دلوش کے بھائی علی جان نے فون پر بتایا کہ ’ان کی بہن ہانی دلوش 8 ماہ سے حاملہ ہیں جنھیں میری دوسری بہن خیر النساء کے ہمراہ 20 دسمبر کی شب حب میں گھر سے جبکہ مجاہد علی کو تربت شہر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ خواتین سمیت خاندان کے تمام افراد کو بازیاب کرایا جائے۔

    بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بھی ان افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

    مجید شاہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ سی پیک روڈ پر اس دھرنے کے خاتمے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر کیچ حنیف کبزئی نے دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کیے ہیں۔

    تربت میں صدر پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او داد بخش نے بتایا کہ دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

  6. پاک افغان سرحد سے ’داعش‘ کے ترک عہدیدار کی گرفتاری ہماری معلومات کی وجہ سے ممکن ہوئی: افغان طالبان کا دعویٰ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency

    افغانستان میں طالبان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاک-افغان سرحد پر ترکی کی قومی انٹیلیجنس آرگنائزیشن (ایم آئی ٹی) کی کارروائی میں داعش کے مبینہ عہدے دار کی گرفتاری ’عوامی سطح‘ پر طالبان کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کی بنیاد پر ممکن ہوئی۔

    افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ نے افغانستان کے نجی ٹی وی کو بتایا کہ ’ہمیں ڈیورنڈ لائن کے دوسری طرف داعش کے ٹھکانوں کے بارے میں معلومات ملی تھیں اور اس پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مختلف میٹنگز میں امارت اسلامیہ افغانستان نے بھی باضابطہ طور پر اعتراض کیا اور ان ٹھکانوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’داعش کے ارکان کی حالیہ گرفتاریاں ایک طرح سے ان انٹیلی جنس کا نتیجہ ہیں جو ہم نے عوامی طور پر شیئر کیں اور سب کو فراہم کیں۔‘

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’ان ٹھکانوں کو جلد بند کر دینا چاہیے اور داعش کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔‘

    واضح رہے کہ ترکی کے سرکاری میڈیا نے 22 دسمبر کو دعویٰ کیا تھا کہ ترکی کی قومی انٹیلیجنس آرگنائزیشن (ایم آئی ٹی) نے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ایک کارروائی کے دوران ایک ترک شہری کو گرفتار کیا ہے جس پر نام نہاد دولتِ اسلامیہ (داعش) کا اعلی عہدیدار ہونے کا الزام ہے۔

    ترکی کے سرکاری میڈیا نے گرفتار شخص کی شناخت مہمت گورین کے نام سے کی ہے۔ گورین مبینہ طور پر کالعدم داعش خراسان (آئی ایس کے پی) میں سرگرم تھا اور 'افغانستان، پاکستان، ترکی اور بعض یورپی ممالک میں خود کش حملوں کا ذمہ دار تھا۔'

    ترکی کے سرکاری میڈیا پر چلنے والی خبروں کے مطابق، قومی انٹیلیجنس آرگنائزیشن کو معلوم ہوا تھا کہ گورین نے ترکی سے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں کا سفر کیا اور وہ داعش کے کیمپوں میں سرگرم رہا جس کے بعد وہ آہستہ آہستہ اس گروہ کی قیادت کا حصہ بن گیا تھا۔

    گورین پر الزام ہے کہ اس نے داعش کے ارکان کو ترکی سے افغانستان اور پاکستان منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

    اطلاعات کے مطابق، گورین پاکستان میں داعش کے خلاف کیے گئے کئی فضائی حملوں میں بھی بچ گیا تھا۔

    خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کے مطابق، ترک انٹیلیجنس آرگنائزیشن افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں گورین کے ٹھکانے کی نشاندہی کے بعد اسے گرفتار کر کے ترکی لے آئی ہے۔

    پاکستانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    دریں اثنا طالبان کے حامی المرساد نیوز آؤٹ لیٹ نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ گورین نے بلوچستان میں داعش کے تربیتی کیمپ میں تربیت حاصل کی تھی۔

    اس نے نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’وہ [گورین] نے پہلے ترکی سے ایران، پھر ایران سے پاکستان کے بلوچستان کا سفر کیا، جہاں اُنھوں نے داعش کے تربیتی کیمپوں میں شمولیت اختیار کی اور تقریباً چھ ماہ کی تربیت حاصل کی۔‘

    پاکستان کی جانب سے ان الزامات کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا، تاہم اسلام آباد ماضی میں اس نوعیت کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

  7. پی ٹی آئی کا شہزاد اکبر پر برطانیہ میں قاتلانہ حملے کا دعویٰ

    شہزاد اکبر

    ،تصویر کا ذریعہPID

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان تحریک انصاف نے برطانیہ میں مقیم پی ٹی آئی رہنما شہزاد اکبر پر قاتلانہ حملے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ شہزاد اکبر زخمی حالت میں ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    اس معاملہ کی تصدیق کے لیے جب بی بی سی نے پی ٹی آئی کے ایک ترجمان سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’برطانیہ میں چند افراد شہزاد اکبر کے گھر پر آئے اور ان پر حملہ کیا۔‘

    ترجمان نے بتایا کہ اس حملے میں شہزاد اکبر زخمی ہوئے اور حملہ آور انھیں بے ہوش چھوڑ کر فرار ہو گئے جس کے بعد شہزاد اکبر کے اہل خانہ نے انھیں ہسپتال پہنچایا۔ ترجمان نے بتایا کہ ’شہزاد اکبر اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔‘

    یاد رہے کہ مرزا شہزاد اکبر سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور حکومت میں مشیر برائے احتساب اور امور داخلہ تھے اور اُن کے خلاف متعدد مقدمات پاکستانی عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔

    شہزاد اکبرکے حوالے سے پی ٹی آئی کی ٹوئیٹ

    ،تصویر کا ذریعہ@PTIofficial

    ،تصویر کا کیپشنسکرین گریب

    پی ٹی آئی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج صبح برطانیہ میں نامعلوم حملہ آور نے شہزاد اکبر کے گھر جاکر ان پر حملہ کیا ۔

    پی ٹی آئی کی پوسٹ کے مطابق ’25 سے 30 سال کی عمر کے حملہ آور نے شہزاد اکبر کے چہرے پر مکے برسائے جس کے باعث ان کی ناک اور جبڑا فریکچرہوگیا اور وہ ہسپتال میں ہیں۔‘

    تحریک انصاف کے مطابق مقامی پولیس نے تمام تفصیلات حاصل کرلی ہیں اور تفتیش جاری ہے۔

    شہزاد اکبر 2023 میں ’تیزاب سے حملہ‘ کرنے کا دعویٰ

    یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں بطور مشیر داخلہ خدمات انجام دینے والے شہزاد اکبر نے پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔

    عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے کچھ ہی روز بعد شہزاد اکبر اپریل 2022 میں پاکستان سے برطانیہ چلے گئے تھے۔

    اگرچہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا تھا تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک فیصلے کے نتیجے میں ان کا نام ای سی ایل سے خارج کر دیا گیا تھا جس کے بعد وہ پاکستان سے راونہ ہو گئے تھے۔

    نومبر 2023 میں مرزا شہزاد اکبر نے دعویٰ کیا تھا کہ برطانیہ میں ان پر ’تیزاب سے حملہ‘ کیا گیا تھا۔

    اس وقت ہرٹفورڈ پولیس نے کہا تھا کہ ان کا ’ماننا ہے کہ (حملے میں) تیزابی مرکب کا استعمال‘ کیا گیا تھا۔

  8. امریکی حکام کا جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین کیس میں مزید 10 لاکھ دستاویزات کو جلد سامنے لانے کا دعویٰ, میڈیلین ہیلپرٹ، بی بی سی نیوز

    جیفری ایپسٹین

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی حکام نے جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق تقریبا دس لاکھ سے زائد اضافی دستاویزات دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جلد ہی انھیں منظر عام پر لے کر آئیں گے۔

    ایف بی آئی اور نیویارک میں وفاقی پراسیکیوٹرز نے ان دستاویزات سے متعلق محکمہ انصاف کو آگاہ کیا ہے۔

    محکمۂ انصاف کی جانب سے بتایا گیا کہ ’ہمارے وکلا 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں تاکہ متاثرین کے تحفظ کے لیے قانونی طور پر ضروری ترامیم (ریڈیکشنز) کی جا سکیں اور ہم یہ دستاویزات جلد از جلد جاری کردیں گے۔‘

    یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین نے 2009 میں کم عمر افراد کو جسم فروشی پر مجبور کرنے کے جرم کا اقرار کیا تھا۔ ان پر سیکس ٹریفکنگ کے الزامات پر مبنی مقدمہ زیر التوا تھا جب 2019 میں ان کی موت واقع ہو گئی تھی۔

    نیو یارک کے میڈیکل ایگزیمینر نے 2019 میں ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا۔

    امریکی محکمہ انصاف کے مطابق تمام فائلیں جاری ہونے میں ’مزید چند ہفتے‘ لگ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ایپسٹین سے متعلق تمام فائلیں تاحال جاری نہ کرنے پر محکمۂ انصاف کو شدید تنقید کا سامنا ہے کیونکہ ایک نئے قانون کے تحت 19 دسمبر ہی آخری تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ ادارے نے کہا ہے کہ وہ ’وفاقی قانون اور صدر ٹرمپ کی ہدایت کے مطابق فائلیں جاری کرنے کی مکمل پابندی جاری رکھے گا۔‘

    تاہم بیان میں ایف بی آئی اور نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ کے امریکی اٹارنی کو ان اضافی دستاویزات سے ملنے سے متعلق وضاحت نہیں کی گئی۔

    ایپسٹین کوامریکی ریاست نیویارک میں نابالغوں کی جنسی سمگلنگ کے الزامات کا سامنا تھا تاہم مقدمے کے انتظار کے دوران ہی وہ نیویارک کی ایک جیل میں ہلاک ہو گئے۔

    محکمۂ انصاف جکی جانب سے ایپسٹین کی تحقیقات سے متعلق ہزاروں دستاویزات جاری کرنے کے بعد یہ خبر سامنے آئی۔

    محکمہہ انصاف دستاویزات کو مرحلہ وار جاری کر رہا ہے جبکہ اعلیٰ حکام کے مطابق اب بھی لاکھوں دستاویزات جاری ہونا باقی ہیں۔

    یہ فائلیں ایپسٹین فائلز شفافیت ایکٹ کے تحت جاری کی جا رہی ہیں جسے امریکی کانگریس سے منظوری کے بعد صدر ٹرمپ نے قانونی حیثیت دی۔

    اس قانون کے تحت ادارے کو متاثرین کی شناخت محفوظ رکھتے ہوئے تمام دستاویزات عوام کے سامنے لانے کا حکم دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ ویڈیوز، تصاویر، ای میلز اور تفتیشی مواد پر مشتمل بہت سی دستاویزات میں بھاری ترامیم کی گئی ہیں، جن میں ان افراد کے نام بھی شامل ہیں جنھیں ایف بی آئی ایپسٹین کیس میں ممکنہ شریکِ جرم کے طور پر دیکھتی ہے۔

    امریکی قانون کے مطابق ترامیم صرف متاثرین کی شناخت اور جاری فوجداری تحقیقات کے تحفظ کے لیے ہی کی جا سکتی ہیں اس لیے محکمہ انصاف کو قانون سازوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا رہا۔

    اضافی دستاویزات کی دریافت کے اعلان کے بعد ایوانِ نمائندگان کی اوور سائٹ کمیٹی میں شامل ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس رابرٹ گارسیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں وائٹ ہاؤس پر فائلیں ’غیر قانونی طور پر‘ روکنے کا الزام عائد کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہر دن ہم جھوٹ، نااہلی، ڈیڈ لائنز کی خلاف ورزی اور غیر قانونی ترامیم دیکھ رہے ہیں۔‘

    ایپسٹین

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنایپسٹین کوامریکی ریاست نیویارک میں نابالغوں کی جنسی سمگلنگ کے الزامات کا سامنا تھا تاہم مقدمے کے انتظار کے دوران ہی وہ نیویارک کی ایک جیل میں ہلاک ہو گئے

    نیا قانون کیا کہتا ہے؟

    کانگریس سے منظور ہو کر گزشتہ ماہ ٹرمپ کے دستخط سے نافذ ہونے والا نیا قانون واضح کرتا ہے کہ ایسے نام یا معلومات جن سے کسی کو شرمندگی ہو یا اس کی ساکھ کو نقصان پہنچے انھیں حذف (ریڈیکٹ) کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

    قانون میں خاص طور پر محکمۂ انصاف سے تحقیق میں شامل افراد، فیصلے کی بنیاد سے متعلق تفصیلات طلب کی گئی ہیں ساتھ ہی ایپسٹین یا اس کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ چلنے یا نہ چلانے سے جانے، تحقیقات ہونے یا مسترد کیے جانے کی تفصیل بھی مانگی گئی ہیں۔

    ان دستاویزات میں 2019 کی وہ ای میلز بھی شامل ہیں جن کا بظاہر ایف بی آئی کے عملے کے درمیان تبادلہ ہوا جن میں ایپسٹین کے دس ممکنہ شریکِ جرم کا ذکر کیا گیا ہے۔

    ای میلز کے مطابق، ان میں سے چھ افراد کو سمن جاری کیے گئے تھے۔

    ایپسٹین کے ممکنہ شریکِ جرم ان کے متاثرین کے لیے ایک بڑا سوال ہیں اور کئی قانون ساز بھی محکمۂ انصاف سے مزید شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ ایپسٹین سے متعلق سابقہ دستاویزات نےگہرے اثرات مرتب کیے تھے۔

    برطانیہ کے امریکہ میں سابق سفیر پیٹر مینڈلسن کو اس وقت عہدے سے ہٹا دیا گیا جب ایپسٹین سے ان کی دوستی کی تفصیلات سامنے آئیں، جن میں یہ بات بھی شامل تھی کہ جون 2008 میں ایک نابالغ سے جسم فروشی کے جرم میں سزا شروع ہونے سے ایک دن قبل انھوں نے ایپسٹین کو لکھا تھا کہ ’میں آپ کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔‘

  9. انڈیا: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں فائرنگ سے ایک استاد ہلاک

    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

    ،تصویر کا ذریعہIndiaPictures

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    انڈیا میں واقع تاریخی اہمیت کی حامل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں راؤ دانش علی نامی ایک استاد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے پراکٹر محمد وسیم علی نے بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کی رات تقریباً نو بجے پیش آیا۔

    میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’ہمیں اطلاع ملی کہ لائبریری کے قریب کہیں فائرنگ ہوئی ہے اور اس میں ایک شخص زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لیےہسپتال لے جایا جا رہا ہے۔‘

    ’جب ہم میڈیکل کالج پہنچے تو معلوم ہوا کہ گولی سے زخمی ہونے والے شخص راؤ دانش علی تھے جو یونیورسٹی کے ’اے بی کے‘ سکول میں پڑھانے کے فرائص سرانجام دیتے تھے۔

    جائے وقوع پر موجود لوگوں نے بتایا کہ اس دوران سات سے آٹھ گولیاں چلائی گئی ہیں۔

    وسیم علی نے بتایا کہ دانش علی کو سر میں گولی لگی تھی اور وہ دوران علاج دم توڑ گئے۔

  10. افغان پولیس کے سابق کمانڈر اکرام الدین سری تہران میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاک

    افغان پولیس افسر

    سابق افغان حکومت کے دور میں صوبہ بغلان اور تخار میں تعینات رہنے والے پولیس کمانڈر اکرام الدین سری تہران میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اس واقعے سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اکرام الدین سری کو مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 7:30 بجے اُس وقت گولیاں ماری گئیں جب وہ تہران میں اپنے دو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ دفتر سے نکل رہے تھے۔

    اکرام الدین سری کو ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن سر پر گہرے زخم آنے کے باعث ان کی موت واقع ہو گئی جبکہ ان کے ساتھ دیگر دو ساتھیوں میں سے بھی ایک ہلاک جبکہ دوسرا زخمی حالت میں ہے۔

    ایرانی پولیس نے تاحال اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا نہ ہی کسی گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ افغانستان کی طالبان حکومت کے مخالف عسکری گروہ ’نیشنل ریزسٹنس فرنٹ آف افغانستان‘ کے خارجہ تعلقات کے سربراہ علی میثم نظری نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر ایک پیغام میں اکرام سری کی موت کی تصدیق کی اور اس واقعے میں طالبان حکومت کے ملوث ہونے کا الزام لگایا۔

    دوسری جانب طالبان حکومت نے بھی اس معاملے پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم ماضی میں انھوں نے افغانستان کی سرحدوں سے باہر کسی بھی سکیورٹی یا فوجی سرگرمیوں کی تردید کی ہے۔

    یاد رہے کہ ایران میں حالیہ مہینوں میں طالبان مخالف دوسری شخصیت کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا ہے۔ چار ماہ قبل مشہد (ایران) میں مقیم ایک افغان جہادی کمانڈر معروف غلامی بھیں مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔

    اکرام الدین سری 2021 سے تہران میں مقیم تھے

    اکرام الدین سری نے 2017 سے 2019 تک سابق افغان صدر اشرف غنی کے دور حکومت میں صوبہ بغلان کے پولیس کمانڈر کے طور پر کام کیا اور بعد میں صوبہ تخار کے پولیس کمانڈر بن گئے۔

    طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد 2021 میں وہ ایران منتقل ہو گئے تب سے وہ تہران میں مقیم تھے۔

    بی بی سی کو زرائع نے بتایا کہ اکرام الدین سری سابق فوجیوں کے ساتھ سرگرم تھے تاکہ ایرانی حکومت سے رہائش کا اجازت نامہ حاصل کیا جا سکے۔ یہ اجازت نامہ سابق فوجیوں کو ایران سے افغانستان واپس بھیجے جانے سے روکتا ہے۔‘

    زرائع کے مطابق واقعے سے پہلے اکرام الدین سری کو ایک فون کال موصول ہوئی تھی جس میں کال کرنے والے نے اس مشکل حل کرنے میں تعاون کی درخواست کی تھی۔

    افغانستان میں جمہوری نظام کے خاتمے اور طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغان فوج اور پولیس کے ہزاروں سابق ارکان ایران میں پناہ گزین ہوئے اور اب بھی وہاں مقیم ہیں۔

    حالیہ مہینوں میں ایران سے افغان پناہ گزینوں کی ملک بدری میں اضافے کے بعد یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ ان میں ایسے سابق فوجی بھی شامل ہیں جن کی زندگیاں افغانستان واپس جانے پر خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

    تاہم طالبان حکومت نے کہا ہے کہ 2021 میں عام معافی کے اعلان کے بعد سابق افغان حکومت کے کسی بھی رکن کو اُن کی جانب سے باضابطہ طور پر مقدمے کا سامنا نہیں ہے۔

  11. اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے پہلے ایک نظر گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کی اہم خبروں پر ڈال لیتے ہیں۔

    • راولپنڈی میں 273 ویں کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران آرمی چیف کا کہنا تھا کہ فوج اور حکومت کی مشترکہ کوششوں اور پاکستانی عوام کی حمایت سے ملک یقینی طور پر استحکام اور عزت و وقار کی طرف بڑھ رہا ہے۔
    • متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زید النہیان 26 دسمبر 2025 کو سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے صدر کی حیثیت سے یہ ان کا پہلا دورہ پاکستان ہو گا۔ اماراتی وزرا اور حکام کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ان کے ہمراہ ہو گا۔ دوری جانب اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے 26 دسمبر (جمعہ) کو اسلام آباد کی حدود میں مقامی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔
    • اقوامِ متحدہ کے ایک خصوصی نمائندے کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جن حالات میں جیل میں رکھا گیا ہے وہ ان کی جسمانی اور ذہنی حالت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں اور حکام پر زور دیا کہ وہ اس حوالے سے فوری اقدامات کریں۔
    • انڈیا کے وزیر گریراج سنگھ نے بنگلہ دیش کے حالیہ پرتشدد واقعات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہونے والے تشدد پرمبنی واقعات افسوسناک ہیں تاہم بنگلہ دیش پاکستان کے راستے پر چل پڑا ہے۔‘
    • چین اور روس، کی مخالفت کے باوجود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایران کے جوہری پروگرام پر اجلاس نیویارک میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران امریکی نمائندے کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ ’زیرو انرچمنٹ‘ یا یورینیم افزودہ نہ کرنے کے بدلے میں براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ جواب میں ایرانی نمائندے کا کہنا تھا کہ سفارت کاری تب ہی ممکن ہے جب یورپ اور امریکہ اپنے رویے میں تبدیلی لائیں۔
    • بلوچستان کے ضلع کوہلو میں پوست کی کاشت کے الزام میں تین افغان شہریوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
    • یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے نئے مجوزہ امن منصوبے کو ’جنگ کے خاتمے کا بنیادی فریم ورک‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے میں تجویز دی گئی ہے کہ اگر مستقبل میں روس یوکرین پر دوبارہ حملہ کرتا ہے تو اس صورت میں امریکہ، نیٹو اور یورپی ممالک اس کے خلاف مربوط فوجی ردعمل کی سکیورٹی ضمانت دیں گے۔
  12. ضلع کوہلو میں پوست کی کاشت کے الزام میں تین افغان شہری گرفتار, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع کوہلو میں پوست کی کاشت کے الزام میں تین افغان شہریوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اعلامیہ کے مطابق ضلع کی تحصیل گرسنی میں غیر قانونی پوست کی کاشت کے خلاف آپریشن کیا گیا۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر کوہلو کیپٹن ریٹائرڈ کبیر مزاری کی قیادت میں گرسنی میں تین ایکڑ پر مشتمل پوست کی کاشت کو تلف کیا گیا۔

    اعلامیہ کے مطابق اس دوران تین افغان شہریوں کو گرفتار کرکے تین موٹر سائیکلیں بھی تحویل میں لی گئیں۔

    خیال رہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پوست کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق رواں سال 37 ہزار ایکڑ اراضی پر پوست کی کاشت کو تلف کیا گیا۔

  13. کسی کو بھی مسلح افواج اور عوام کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی: کور کمانڈرز کانفرس

    عاصم منیر

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency via Getty Images

    چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 273ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی۔

    جمعرات کے روز فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کانفرنس کے دوران آرمی چیف کا کہنا تھا کہ فوج اور حکومت کی مشترکہ کوششوں اور پاکستانی عوام کی حمایت سے ملک یقینی طور پر استحکام اور عزت و وقار کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    کانفرنس کے دوران اندرونی اور بیرونی سلامتی کے امور کا جامع جائزہ لیا گیا اور ابھرتے ہوئے خطرات اور آپریشنل تیاریوں پر زور دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق، فورم نے دہشت گردی، جرائم اور ذاتی سیاسی مفادات کے درمیان گٹھ جوڑ کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کسی بھی قسم کے عناصر کو قومی یکجہتی، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بیان کے مطابق، فورم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کسی کو بھی مسلح افواج اور پاکستانی عوام کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    بیان کے مطابق، کانفرنس کے شرکا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ انڈین سرپرستی میں کام کرنے والے تمام دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں اور مدد کرنے والوں سے کسی قسم کی رعات نہیں کی جائے گی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے اصولی موقف کی توثیق کی گئی اور غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی، بلا روک ٹوک امداد کی ترسیل رسائی، اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک قابل اعتماد راستے کا مطالبہ کیا۔

  14. امریکہ کی ایران کو ’زیرو انرچمنٹ‘ کے بدلے مذاکرات کی پیشکش، تہران کا یورپ اور امریکہ سے اپنے رویے میں تبدیلی لانے کا مطالبہ

    مشرق وسطیٰ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی نائب خصوصی ایلچی مورگن اورٹاگس (دائیں)، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایراوانی

    ،تصویر کا ذریعہAFP Via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنمشرق وسطیٰ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی نائب خصوصی ایلچی مورگن اورٹاگس (دائیں)، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایراوانی

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دو مستقل اراکین، چین اور روس، کی مخالفت کے باوجود ایران کے جوہری پروگرام پر کونسل کا اجلاس نیویارک میں منعقد ہوا۔

    اجلاس کے دوران امریکی نمائندے کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ ’زیرو انرچمنٹ‘ یا یورینیم افزودہ نہ کرنے کے بدلے میں براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ جواب میں ایرانی نمائندے کا کہنا تھا کہ سفارت کاری تب ہی ممکن ہے جب یورپ اور امریکہ اپنے رویے میں تبدیلی لائیں۔

    مشرق وسطیٰ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی نائب خصوصی ایلچی مورگن اورٹاگس نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ’امریکہ ایران کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب تہران بھی براہ راست اور بامعنی بات چیت کے لیے تیار ہو۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کسی بھی معاہدے کے بارے میں اپنے توقعات کے بارے میں واضح ہیں۔ ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران کے اندر کوئی افزودگی نہیں ہو سکتی، اور یہ ہمارا اصول ہے۔‘

    امریکی نمائندے تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ ’آگ سے دور ہو جائے‘ اور ٹرمپ کی سفارت کاری سے ہاتھ ملا لے۔

    اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایراوانی نے امریکی پیشکش کا جواب دیتے ہوئے کہا: ’ہم کسی بھی منصفانہ اور بامعنی مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہیں، تاہم نام نہاد صفر افزودگی کی پالیسی پر اصرار ان حقوق کے برعکس جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا رکن ہونے ناطے ایران کو حاصل ہے۔‘

    ایرانی نمائندے کا مزید کہنا تھا کہ ان کا ملک اصولی سفارت کاری اور حقیقی مذاکرات کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ ’اب یہ فرانس، برطانیہ اور امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا رویہ درست کریں اور بھروسے اور اعتماد کی بحالی کے لیے عملی اور قابل اعتماد اقدامات کریں۔‘

  15. 26 دسمبر کو متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں: دفترِ خارجہ

    شیخ محمد بن زید النہیان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشندفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے صدر کی حیثیت سے یہ شیخ محمد بن زید النہیان کا پہلا دورہ پاکستان ہو گا۔

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زید النہیان 26 دسمبر 2025 کو سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

    دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے صدر کی حیثیت سے یہ ان کا پہلا دورہ پاکستان ہو گا۔ اماراتی وزرا اور حکام کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ان کے ہمراہ ہو گا۔

    بیان کے مطابق، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انھیں اس دورے کی دعوت دی تھی۔

    دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران شیخ محمد بن زید النہیان پاکستان کے وزیر اعظم سے ملاقات کریں گے جس میں دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال ہو گا۔

  16. بشریٰ بی بی کو جن حالات میں رکھا گیا، اس سے ان کی جسمانی اور ذہنی حالت کو خطرہ ہو سکتا ہے، اقوامِ متحدہ کی عہدیدار کا بیان

    بشریٰ بی بی عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    اقوامِ متحدہ کے ایک خصوصی نمائندے کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جن حالات میں جیل میں رکھا گیا ہے وہ ان کی جسمانی اور ذہنی حالت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں اور حکام پر زور دیا کہ وہ اس حوالے سے فوری اقدامات کریں۔

    بدھ کے روز اقوام متحدہ کی تشدد سے متعلق خصوصی نمائندہ ایلس جل ایڈورڈز کا کہنا تھا کہ ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نظربندی کے دوران بشریٰ بی بی کی صحت کا تحفظ اور انسانی وقار کی ضمانت کو یقینی بنائے۔

    اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اطلاعات کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید بشریٰ بی بی کو مبینہ طور پر ایک چھوٹے سے سیل میں رکھا گیا ہے جہاں ہوا کا گزر بھی نہیں۔

    بیان کے مطابق اطلاعات ہیں کہ بشریٰ بی بی کی کوٹھری نہ صرف گندی اور انتہائی گرم ہے بلکہ وہاں کیڑے مکوڑے اور چوہے بھی ہیں جبکہ بجلی بند ہونے کی صورت میں سیل مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انھیں پینے کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے جبکہ کھانے میں ضرورت سے زیادہ مرچ کے استعمال کی وجہ سے کھانا کھانے کے قابل نہیں ہوتا۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ اطلاعات کے مطابق، ان تمام حالات کے باعث نہ صرف بشریٰ بی بی کا تقریباً 15 کلو وزن کم ہو گیا بلکہ اس سے انھیں بار بار انفیکشن اور بیہوشی کا بھی دورہ پڑ رہا ہے۔

    جل ایڈورڈز کا کہنا ہے کہ جن حالات میں بشریٰ بی بی کو رکھا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی معیار سے کہیں کم ہے۔ ’کسی بھی قیدی کو شدید گرمی، آلودہ خوراک یا پانی، یا ایسی حالتوں میں نہیں رکھا جانا چاہیے جس سے ان کے موجودہ طبی امراض میں اضافہ ہو۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو حراست کے حالات اور مقام کا تعین کرتے ہوئے قیدی کی عمر، جنس اور صحت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

    بیان میں کہا گیا کہ اطلاعات کے مطابق بشریٰ بی بی کو کو مبینہ طور پر حد سے زیادہ قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور انھیں کئی کئی دنوں تک دن میں 22 گھنٹے تک ان کے سیل میں رکھا جاتا ہے جبکہ بیرونی دنیا تک ان کی رسائی بھی انتہائی محدود ہے۔

    ایڈورڈز کا کہنا ہے کہ ’حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسز خان کے پاس اپنے وکلا سے رابطہ کر سکیں اور خاندان کے افراد سے ملاقاتیں کر سکیں اور حراست کے دوران بامعنی انسانی رابطہ برقرار رہے۔‘

    اس متعلق حکومت کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا تاہم ماضی میں بارہا حکومتی نمائندوں کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل میں دوسرے قیدیوں کی نسبت کہیں زیادہ سہولتیں دستیاب ہیں۔

    اس سے قبل انھوں نے پاکستانی حکومت سے عمران خان کی ’قیدِ تنہائی‘ فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    12 دسمبر کو جاری ایک بیان میں جل ایڈورڈز نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ حراست کے دوران غیر انسانی اور ناروا سلوک کی خبروں کے متعلق فوری اور موثر کارروائی کرے۔

    ’میں پاکستانی حکام سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ (عمران) خان کی نظر بندی پوری طرح سے بین الاقوامی اصولوں اور معیارات کے مطابق ہو۔‘

    یاد رہے کہ رواں سال ستمبر میں عمران خان کی قانونی ٹیم نے سابق وزیرِ اعظم اور ان کی اہلیہ کے ساتھ جیل میں ناروا سلوک کے خلاف اقوام متحدہ کے ایک خصوصی نمائندے سے رجوع کیا تھا۔

  17. امریکہ کی جانب سے تیل بردار جہازوں پر قبضے کا معاملہ، وینزویلا کا واشنگٹن پر ’بھتہ خوری‘ کا الزام

    وینزویلا کا تیل بردار جہاز

    ،تصویر کا ذریعہX/Sec_Noem

    نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں وینزویلا نے امریکہ پر ’سب سے بڑی بھتہ خوری‘ کا الزام لگایا ہے۔

    اقوام متحدہ میں وینزویلا کے سفیر کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے وینزویلا کے دو تیل بردار جہازوں کو قبضے میں لینا ’بحری قزاقی سے بھی بدتر‘ اقدام ہے۔

    یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں وینزویلا کے ساحل کے نزدیک سے ٹینکروں کو قبضے میں لینے کے معاملے پر بات چیت کے لیے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا تھا۔

    دوسری جانب پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی کوسٹ گارڈز وینزویلد کے نزدیک بین القوامی پانیوں میں تیسرے تیل بردار جہاز کا کر رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر منشیات کے کارٹل کی قیادت کرنے کا الزام عائد کرتے آئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ گروہ ایک لمبے عرصے سے آزادی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

    یاد رہے کہ 16 دسمبر کو، ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا آنے اور وہاں سے جانے والے تمام آئل ٹینکرز کی بحری ناکہ بندی کا حکم دیا تھا۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ امریکہ اپنے قبضے میں لیے گئے ٹینکروں کے ساتھ ساتھ جہازوں پر موجود خام تیل یا تو اپنے پاس رکھے گا یا بیچ دے گا۔

  18. 26 دسمبر کو اسلام آباد میں تعطیل کا اعلان

    اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے 26 دسمبر (جمعہ) کو اسلام آباد کی حدود میں مقامی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 26 دسمبر کو تمام ضروری خدمات بشمول ہسپتال، پولیس، اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری کی انتظامیہ، سی ڈی اے، اور یوٹیلیٹی سروسز سمیت تمام خدمات معمول کے مطابق کام کریں گی۔

    نوٹیفکیشن میں تعطیل کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ تاہم مقامی میڈیا کے مطابق، جمعہ کے روز متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، منگل کے روز پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے سفیر نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ وہ شیخ محمد بن زید النہیان کے پاکستان کے آئندہ دورے کا انتظار کر رہے ہیں۔

  19. نئے امن منصوبے کے تحت روسی حملے کی صورت میں امریکہ، نیٹو اور یورپی ممالک فوجی ردعمل کی سکیورٹی کی ضمانت دیں گے: زیلنسکی

    زیلنسکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے نئے مجوزہ امن منصوبے کو ’جنگ کے خاتمے کا بنیادی فریم ورک‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے میں تجویز دی گئی ہے کہ اگر مستقبل میں روس یوکرین پر دوبارہ حملہ کرتا ہے تو اس صورت میں امریکہ، نیٹو اور یورپی ممالک اس کے خلاف مربوط فوجی ردعمل کی سکیورٹی ضمانت دیں گے۔

    گذشتہ ہفتے فلوریڈا میں امریکی اور یوکرینی مذاکرات کاروں کے درمیان طے پانے والے 20 نکاتی منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے زیلنسکی کا کہنا ہے کہ امریکی مذاکرات کار روس سے رابطہ کریں گے جس کے بعد روس اس منصوبے کے متعلق اپنا ردِ عمل دے گا۔

    یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونباس کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اسے ایک ’فری اکنامک زون‘ بنانے کا آپشن موجود ہے۔

    انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ یوکرین ڈونباس سے انخلا کے خلاف تھا جبکہ امریکی مذاکرات کار اسے غیر فوجی زون یا آزاد اقتصادی زون قائم کرنے کے خواہاں تھے۔

    زیلنسکی کا کہنا ہے کہ دو ہی آپشنز ہیں، یا تو جنگ جاری رہے، یا اسے اقتصادی زونز بنانے کے حوالے سے کوئی فیصلہ لیا جائے۔