رومانوی مشوروں سے مالیاتی مدد تک: امیر اور طاقتور لوگ سزا یافتہ مجرم ایپسٹین کو انکار کیوں نہیں کر پاتے تھے؟

A mugshot of Jeffrey Epstein for the New York State Division of Criminal Justice Services' sex offender registry March 28, 2017

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجیفری ایپسٹین کی 2017 کی تصویر
    • مصنف, ندا توفیق
    • مصنف, میڈلین ہالپرٹ
    • مقام, نیویارک

یہ 2019 میں واشنگٹن کے بڑے اہم واقعات میں سے ایک تھا۔

سب کی نظریں ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق وکیل، مائیکل کوہن پر تھیں، جو اپنے سابق باس کے بارے میں امریکی ایوانِ نمائندگان کی ایک کمیٹی کے سامنے گواہی دے رہے تھے۔

کمیٹی کی ایک ڈیموکریٹک رکن سٹیسی پلاسکیٹ، کوہن سے سوال کرنے کی تیاری کر رہی تھیں اور کیمرے میں دیکھا گیا کہ وہ اپنے فون پر کسی کو ٹیکسٹ کر رہی تھیں۔

اس ہفتے عوام کو معلوم ہوا کہ اس پیغام رسانی میں دوسرا شخص کون تھا۔۔۔ مجرم قرار دیا گیا جنسی مجرم جیفری ایپسٹین۔

ایک سمن کے تحت جاری کی گئی ای میلز سے پتہ چلتا ہے کہ وہ پلاسکیٹ کو ٹرمپ آرگنائزیشن کے ایک ملازم کے بارے میں سوال کرنے کی ترغیب دے رہا تھا۔

جب پلاسکیٹ نے ایسا کیا، تو ایپسٹین نے انھیں واپس پیغام بھیجا کہ ’گُڈ ورک‘۔

اثر و رسوخ کی حد

اس واقعے نے بہت سے لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا جو کہتے ہیں کہ یہ امریکہ کی اشرافیہ پر سابق مالیاتی ماہر کے اثر و رسوخ کی حد کو ظاہر کرتا ہے۔

پلاسکیٹ، جو امریکی ورجن آئی لینڈز کی نمائندہ ہیں، انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ وہ ایپسٹین سے مشورہ لینے کی کوشش کر رہی تھیں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ان کا کہنا ہے کہ وہ اُس دن کئی لوگوں سے ٹیکسٹ پر بات کر رہی تھیں، جن میں ایپسٹین بھی شامل تھے، جو ان کے ہی حلقے کے ووٹر تھے۔

ایک سابق وکیل کے طور پر وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے ہر ماخذ سے معلومات حاصل کرنا سیکھا حتیٰ کہ اُن لوگوں سے بھی جنھیں وہ پسند نہیں کرتیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا میں ایپسٹین کے بے راہ روی پر مبنی روّیے سے سخت نفرت کرتی ہوں۔ میں اس کی متاثرہ خواتین کی بھرپور حمایت کرتی ہوں اور ان کی ہمت کی معترف ہوں۔ میں طویل عرصے سے اس بات کی حامی رہی ہوں کہ ایپسٹین سے متعلق تمام فائلیں جاری کی جائیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ان کا آپس میں یہ تبادلۂ خیال ان کی جنسی سمگلنگ کے الزام میں گرفتاری سے پہلے ہوا تھا لیکن یہ 2008 میں جسم فروشی کی درخواست کرنے کے جرم میں ان کی سزا کے کافی بعد کی بات ہے۔

ان کے نجی جزیرے کا ذکر بھی ایک سال پہلے میامی ہییرلڈ کی ایک سخت رپورٹ میں کیا گیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ یہ ان مقامات میں سے ایک تھا جہاں انھوں نے کئی نابالغ لڑکیوں کا جنسی استحصال کیا تھا۔

جب پلاسکیٹ اور ایپسٹین میں گفتگو کا یہ تبادلہ ہوا اس کے صرف چھ ماہ بعد انھیں اپنی جیل کی کوٹھڑی میں مردہ پایا گیا۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ خودکشی تھی۔

ان کی موت اور اس کے گرد گھومنے والی سازشی نظریات، ایک ایسے احتساب کی وجہ بنے جس نے واشنگٹن اور وال سٹریٹ کو ہلا کر رکھ دیا اور ان کے کئی سابق دوستوں کا بھی زوال ہوا۔

Rep. Stacey Plaskett speaks at the Congressional Black Caucus Foundation Annual Legislative Conference National Town Hall on September 21, 2023 in Washington, DC

،تصویر کا ذریعہJemal Countess/Stringer/Getty

،تصویر کا کیپشنسٹیسی پلاسکٹ ان بہت سی اعلیٰ شخصیات میں سے ایک تھیں جنھوں نے ایپسٹین سے رابطہ رکھا

ان کے پیغامات کا تبادلہ صرف تازہ ترین 20 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ذاتی دستاویزات کے ذخیرے میں موجود بے شمار مثالوں میں سے ایک تھا، جنھوں نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا کہ کس طرح ایپسٹین اپنی مجرمانہ سزا اور ہییرلڈ کی تفتیش کے بعد بھی اعلیٰ طبقے کے سماجی حلقوں میں جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔

یہ تعلقات کیسے اور کیوں برقرار رہے جبکہ ان کے کچھ دوسرے دوستوں نے ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی، یہ ہمیں امریکہ کی معاشرتی سطح کے سماجی حلقوں کی حرکیات کے بارے میں اتنا ہی بتاتا ہے جتنا ایپسٹائن کے اثر و رسوخ کے بارے میں۔

بیری لیوین جو The Spider: Inside the Criminal Web of Jeffrey Epstein and Ghislaine Maxwell کے مصنف ہیں، کہتے ہیں ’وہ ایک شیطانی طاقت تھے لیکن ساتھ ہی ایک طرح سے ذہین بھی تھے کیونکہ وہ دنیا کے بااثر ترین افراد کے اس ناقابلِ یقین نیٹ ورک کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ ‘

’ان کے اندر ایک قسم کا کرشمہ موجود تھا جس کی وجہ سے لوگ ان کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔‘

’وہ معلومات کا استعمال کرتے‘

لیوین کا کہنا تھا کہ ایپسٹین خود کو ’لوگوں کو جمع کرنے والا‘ سمجھتے تھے جو لین دین کے مقاصد کے لیے تعلقات بناتا تھا۔

’وہ معلومات کا استعمال کرتے تھے جو بھی انھیں حاصل ہوتیں۔ اس نیت سے کہ بالآخر وہ ان سے یا تو کوئی فائدہ لے گیں یا مالی مدد، یا ایک تاریک معنی میں، میرا خیال ہے ان افراد میں سے کچھ کو بلیک میل کریں گے۔‘

ایپسٹین اور لارڈ پیٹر مینڈلسن کے درمیان تعلق خاص طور پر برطانیہ میں زیرِ بحث رہا، جہاں آخرکار مینڈلسن کو ستمبر میں امریکہ میں برطانیہ کے سفیر کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

کانگریس کی جانب سے جاری کی گئی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ لارڈ مینڈلسن نے 2016 کے آخر تک اس پیڈوفائل سے رابطہ برقرار رکھا ہوا تھا، جو ہییرلڈ کی تفتیش سے پہلے کی بات ہے۔

نومبر 2015 کی ایک ای میل میں، ان کی سالگرہ کے بعد ایپسٹین انھیں لکھتے ہیں کہ ’63 سال کی عمر۔ تم نے کر دکھایا۔‘

لارڈ مینڈلسن 90 منٹ سے بھی کم وقت میں جواب دیتے ہیں کہ ’بس۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنی زیادہ زندگی امریکہ میں گزار کر اپنی عمر کو طویل کروں۔‘

انھوں نے ایپسٹین کے جرائم یا کسی غلط کام کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا اور ان سے رابطے جاری رکھنے پر افسوس بھی ظاہر کیا۔

ایپسٹین کا متنوع حلقۂ احباب: دانشور، کاروباری شخصیات اور سیاست دان

Peter Mandelson in a white dressing gown laughing with Epstein

،تصویر کا ذریعہUS Committee on Oversight and Government Reform

،تصویر کا کیپشنلارڈ مینڈیلسن (بائیں) جیفری ایپسٹین کے ساتھ

ایپسٹین اسٹیٹ کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات ان کے مختلف النوع سماجی حلقے کو ظاہر کرتی ہیں، جن میں ممتاز دانشور، بڑے کاروباری رہنما اور سیاست دان شامل تھے۔

لیوین نے کہا کہ یہ کہنا بعید از قیاس نہیں کہ ایپسٹین کے کچھ سرسری واقف کار ان کے استحصال کے بارے میں نہیں جانتے تھے، یا پھر ان کے بااثر تعلقات سے اتنے متاثر تھے کہ اس پر آنکھ بند کر لی۔ ’لوگ چیزیں بھول جاتے ہیں‘

انھوں نے کہا کہ ’بااثر افراد کے درمیان ان کی ساکھ بہت بلند تھی اور میرا خیال ہے کہ بہت سے لوگوں نے ان کے خلاف سزا کو شاید محض نظرانداز کر دیا۔‘

صحافیوں اور ان کے قریب رہنے والوں نے بھی تجویز کیا کہ کچھ لوگ صرف ان کی دولت کے چمک دمک میں آ کر متاثر ہو گئے تھے۔

نیویارک سوشل ڈائری کے بانی ڈیوڈ پیٹرک کولمبیا نے ایپسٹین کی پہلی سزا کے بعد 2011 میں ڈیلی بیسٹ کو بتایا تھا کہ ’جیل کی سزا اب کوئی معنی نہیں رکھتی، نیویارک کی سوسائٹی میں آپ کو صرف ایک ہی چیز سب سے دور کر سکتی ہے اور وہ ہے غربت۔‘

امریکہ کے سابق وزیرِ خزانہ اور بعد میں ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر بننے والے لیری سمرز نے ایپسٹین سے رومانوی مشورے بھی مانگے تھے۔

نومبر 2018 میں گفتگو کے ایک تبادلے میں اسی مہینے جب ہییرلڈ کی تفتیش شائع ہوئی، سمرز نے بظاہر ایک خاتون کی بھیجی ہوئی ای میل ایپسٹین کو فارورڈ کی تاکہ پوچھ سکیں کہ انھیں اس کا کیا جواب دینا چاہیے۔

ایپسٹین نے جواب دیا کہ ’وہ پہلے ہی ضرورت مند لگنے لگی ہے۔ اچھا ہے۔‘

اپنے سابق مشیر کے ساتھ سمرز کی یہ پیغام رسانی پچھلے ہفتے انھیں دوبارہ نقصان پہنچانے لگی، جس کے بعد انھیں اعلان کرنا پڑا کہ وہ عوامی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں اور ہارورڈ میں تدریس بھی روک رہے ہیں۔

سمرز نے کہا کہ ’میں اپنی حرکات پر گہری شرمندگی محسوس کرتا ہوں اور اس تکلیف کو تسلیم کرتا ہوں جو ان سے پہنچی۔‘

Larry Summers, a former Harvard University president, wears a blue shirt as he walks to lunch during the Allen & Co. Media and Technology Conference in Sun Valley, Idaho, US

،تصویر کا ذریعہDavid Paul Morris/Bloomberg via Getty Images

،تصویر کا کیپشنہارورڈ یونیورسٹی کے سابق صدر لیری سمرز نے ایپسٹین سے رومانوی مشورہ طلب کیا

رپورٹس کے مطابق ایپسٹین نے اپنی مالی مہارتیں مشہور لسانیات دان نوام چومسکی کی مدد کے لیے بھی استعمال کیں، جن کے ساتھ انھوں نے برسوں تک متعدد پیغامات کا تبادلہ کیا اور انھیں اپنے گھر میں رہنے کی دعوت دی۔

یہ تعریف دونوں طرف سے تھی۔ ای میلز کے ذخیرے میں شامل ایک غیر تاریخ شدہ حمایتی خط میں، چومسکی نے ایپسٹین کی بہت تعریف کی اور کہا کہ دونوں نے ’کئی طویل اور اکثر گہرائی والے مباحثے‘ کیے ہیں۔

یہ 96 سالہ دانشور پہلے وال سٹریٹ جرنل کو بتا چکے ہیں کہ ایپسٹین نے ان کی مدد کی کہ وہ پیسے اکاؤنٹس کے درمیان منتقل کر سکیں اور یہ سب کچھ بغیر ’ایپسٹین کا ایک پیسہ خرچ کیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں انھیں جانتا تھا اور کبھی کبھار ملاقات کرتے تھے۔ جیفری ایپسٹین کے بارے میں جو معلوم تھا وہ یہ تھا کہ وہ مجرم ٹھہرے اور سزا پوری کر چکے تھے۔ امریکی قوانین اور معیار کے مطابق، اس کا مطلب ہے کہ ان کا ریکارڈ صاف ہو گیا۔‘

چومسکی نے بی بی سی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

لیوین کے مطابق چومسکی ایپسٹین کے مشہور مالیاتی کلائنٹس میں سے ایک تھے، جن میں سے بہت سے کے لیے ایپسٹین نے اربوں ڈالر بچانے میں مدد کی۔

لیوین نے کہا کہ وہ یہ اس لیے کر سکتے تھے کیونکہ وہ ’ٹیکس کوڈ اور مالیات کو اس حد تک سمجھتے تھے، شاید وال سٹریٹ کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے لوگوں سے بھی بہتر۔‘

American linguist and philosopher Noam Chomsky in conversation at the British Library, London, UK on 19th March 2013

،تصویر کا ذریعہDavid Corio/Getty Images

،تصویر کا کیپشنماہر لسانیات چومسکی نے ایپسٹین کے بارے میں طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں نے ’کئی بار طویل اور گہرائی سے بات چیت کی‘

جن لوگوں نے تعلقات ختم کیے

ایپسٹین کے 23,000 صفحات پر مشتمل دستاویزات میں ایک شخص کا نام شاید سب سے زیادہ ظاہر ہوتا ہے۔

ٹرمپ نے ایپسٹین کے ساتھ کسی بھی پیغام رسانی میں حصہ نہیں لیا کیونکہ انھوں نے ایپسٹین سے تعلق ختم کر لیا تھا۔

2002 میں ٹرمپ نے ایپسٹین کو ’زبردست آدمی‘ قرار دیا تھا۔

بعد میں ایپسٹین نے کہا ’میں ڈونلڈ کا سب سے قریبی دوست رہا 10 سال تک۔‘

لیکن یہ تعلق خراب ہو گیا۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں الگ ہو گئے، جوایپسٹین کی پہلی بار گرفتاری سے دو سال پہلے تھا۔ 2008 تک ٹرمپ کہہ رہے تھے کہ وہ ’ان کے مداح نہیں تھے۔‘

ٹرمپ نے ایپسٹین کی جنسی سمگلنگ کے بارے میں علم ہونے سے متعلق تردید کی۔

وائٹ ہاؤس نے بھی کہا کہ ٹرمپ نے ایپسٹین کو ’دہائیوں پہلے اپنے کلب سے نکال دیا تھا کیونکہ وہ ان کی خواتین ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کر رہے تھے۔‘

Jeffrey Epstein (left) and Donald Trump pose together at the Mar-a-Lago estate in 1997

،تصویر کا ذریعہDavidoff Studios/Getty Images

،تصویر کا کیپشنایپسٹین اور ٹرمپ کی 1980 کی دہائی کے آخر تک وابستگی رہی

لیوین نے کہا کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے ایپسٹین کے ساتھ اُس کی سزا کے بعد کے پیغامات انھیں شرمندہ کریں گے، اگرچہ اس کا یہ مطلب بالکل نہیں کہ وہ ان کے کسی جرم میں شریک تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’یقیناً ہر ایک شخص اس دن پر پچھتا رہا ہے جب اس نے جیفری ایپسٹین سے رابطہ کیا یا اس کے ساتھ وقت گزارا تھا۔ یہ ہمارے دور کی سب سے ناقابلِ یقین کہانیوں میں سے ایک ہے طاقت، مراعات، اور شکار بنانا۔‘

لیکن کم از کم ایک شخص ایسا تھا جس نے کہا کہ وہ فوراً سمجھ گیا تھا کہ ایپسٹین ’گھناؤنے‘ ہیں۔

ہاورڈ لٹنِک، جو صدر کے کامرس سیکریٹری ہیں، 10 سال تک ایپسٹین کے پڑوسی رہے۔ انھوں نے نیویارک پوسٹ کے پوڈکاسٹ کو بتایا کہ ایپسٹین کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات ہی ان کی آخری ملاقات تھی۔

Secretary of Commerce Howard Lutnick testifies before a House Appropriations Committee hearing

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنصدر کے کامرس سیکرٹری ہاورڈ لٹنک نے کہا کہ انھوں نے ایپسٹین کو ’غلیظ‘ پایا

لٹنِک کے مطابق 2005 میں جب وہ اپر ایسٹ سائیڈ میں اپنی نئی رہائش میں منتقل ہوئے تو کچھ ہی عرصے بعد ایپسٹین نے انھیں اور ان کی بیوی کو اپنے بڑے گھر کا دورہ کرایا۔

ایپسٹین کے ڈائننگ روم میں، موم بتیوں سے گھری ایک مساج ٹیبل دیکھ کر لٹنِک نے ان سے پوچھا کہ وہ اسے کتنی بار استعمال کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا ’ہر روز‘ اور پھر وہ عجیب طرح سے میرے بہت قریب آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’اور صحیح قسم کی مساج‘۔

لٹنِک نے بتایا کہ وہ اور ان کی بیوی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، معذرت کی اور فوراً وہاں سے چلے گئے۔

’میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ میں کبھی بھی دوبارہ اس گھٹیا انسان کے ساتھ ایک ہی کمرے میں نہیں رہوں گا۔‘