آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ٹرمپ کا مذاکرات کے لیے وفد اسلام آباد بھیجنے کا اعلان، پاکستان میں مذاکرات کے دوسرے دور کی رپورٹس ’درست نہیں‘: ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی ٹیم ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے سوموار کی شام پاکستان کی دارالحکومت اسلام آباد پہنچ جائے گا۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا ارنا نے بغیر کسی کا حوالہ دیے دعویٰ کیا ہے کہ ’پاکستان میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کی خبر درست نہیں۔‘

خلاصہ

  • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ان کی ٹیم پیر کی شام اسلام آباد پہنچ جائے گی۔
  • امریکی صدر کے مطابق ان کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق جے ڈی وینس بھی ان مذاکرات میں شامل ہوں گے
  • ابھی تک کسی بھی ایرانی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ آیا ایران مذاکرات کے نئے دور میں حصہ لے گا۔
  • پاسدران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم نیوز نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی جاری رہنے کے بعد ایران نے اتوار کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو آئل ٹینکرز کو واپس بھیج دیا۔
  • امریکہ کی مزید ایک ماہ کے لیے ممالک کو روسی تیل خریدنے کی اجازت

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, امریکی صدر کا ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز روک کر تحویل میں لینے کا دعویٰ

    امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ایرانی پرچم والے ایک کارگو جہاز کو روک کر اسے تحویل میں لے لیا ہے۔

    صدر کے بیان کے مطابق امریکی اہلکاروں نے جہاز کو وارننگ دی، پھر انجن روم کو نقصان پہنچا کر اسے روک دیا اور بعد میں اس پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

    تاہم اس بیان پر ایران کی جانب سے تاحال رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والی ایرانی کارگو جہاز امریکی میرینز کی مکمل تحویل میں ہے۔

    ان کے مطابق توسکا نامی یہ جہاز خلیجِ عمان میں روکا گیا اور اسے انتباہ جاری کیا گیا۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی عملے نے وارننگ پر توجہ نہیں دی لہٰذا ہماری نیوی کے جہاز نے انجن روم کو نقصان پہنچا کر اسے وہیں روک دیا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ یہ جہاز امریکی محکمۂ خزانہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے ’کیونکہ اس کا پہلے بھی غیر قانونی سرگرمیوں کا ریکارڈ ہے اور اب جہاز میں موجود اشیا کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ ایران نے تاحال اس واقعے کی تصدیق نہیں کی۔

  2. آبنائے ہرمز سے دو کروز جہاز گزر گئے: ٹریول کمپنی ٹوئی کا دعویٰ

    ٹریول کمپنی ٹوئی نے اپنے دو کروز جہاز بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزر جانے کی تصدیق کی ہے۔

    اتوار کو اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک تازہ بیان میں کمپنی نے کہا کہ ’مائن شف فور اور مائن شف فائیو نے آبنائے ہرمز کو کامیابی سے عبور کر لیا ہے تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ سفر کب مکمل ہوا۔

    یہ واضح نہیں کہ اس دوران جہازوں پر مسافر موجود تھے یا نہیں۔ کمپنی کے مطابق دونوں جہاز اب بحیرۂ روم کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ گزرگاہ متعلقہ حکام کی منظوری اور ہم آہنگی کے بعد مکمل کنٹرول اور سکیورٹی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے طے کی گئی۔‘

    ٹوئی نے اپنے کیپٹنز اور عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امھوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور احتیاط کے ساتھ محفوظ سفر ممکن بنایا۔

    جہازوں کے مقام شیئر کرنے پر انحصار کرنے والی میرین ٹریفک ٹریکر ویب سائٹس نے آج آبنائے ہرمز میں بہت کم نقل و حرکت دکھائی ہے جبکہ ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ آبی راستہ بدستور بند ہے۔

  3. ایران کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی: نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جو نہ صرف چیلنجز سے بھرپور ہے بلکہ اہم نتائج کا حامل بھی ہے۔ ہم امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کی بڑی آمریت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے بہت اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا اور کسی بھی لمحے نئی پیش رفت ہو سکتی ہے۔‘

  4. شہباز شریف کا مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ،’ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا‘

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران کہا ہے کہ پاکستان اپنے دوست ممالک کے تعاون سے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔

    وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق تقریباً پینتالیس منٹ جاری رہنے والی اس گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے 11 اور 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد بھیجنے پر صدر پزشکیان اور ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

    اعلامیے کے مطابق صدر پزشکیان نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا امن کی کوششوں میں پاکستان کے مضبوط عزم پر شکریہ ادا کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات آنے والے دنوں میں مزید مستحکم ہوں گے۔

    یاد رہے کہ اس اعلامیے میں پاکستان میں ایران امریکہ مذاکرات کے متوقع دوسرے دور سے متعلق تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی ٹیم ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے کل شام یعنی پیر کے روز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ جائے گی۔

    دوسری جانب کچھ دیر قبل ایران کے سرکاری میڈیا ارنا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مزاکرات کے دوسرے دور سے متعلق خبریں درست نہیں۔‘

    اتوار کے روز وزیر اعظم ہاؤں کی جانب سے علامیے میں بتایا گیا ہے کہ شہباز شریف نے ایرانی صدر کو سعودی عرب، قطر اور ترکی سمیت مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور کہا کہ یہ روابط خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کے عمل کے حق میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں نہایت معاون ثابت ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم نے اس ہفتے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ تہران کے دوران ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی تعمیری بات چیت پر بھی شکریہ ادا کیا۔

  5. پاکستان میں مذاکرات کے دوسرے دور کی رپورٹس ’درست نہیں‘: ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے پاکستان میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ خبر درست نہیں‘ تاہم ایجنسی نے اس حوالے سے کسی سرکاری ادارے یا فرد کا حوالہ نہیں دیا۔

    ارنا کے مطابق امریکہ نے ’غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات‘ کیے ہیں، اپنے مؤقف کو بار بار تبدیل کیا ہے۔

    ارنا کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور دھمکی آمیز بیانات مذاکرات کی پیش رفت میں رکاوٹ کا سبب ہیں۔

    ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایسی صورتحال میں بامعنی مذاکرات کے امکانات روشن نظر نہیں آتے۔‘

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک دو میڈیا اداروں نے بھی ایران کی ممکنہ شرکت پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔

    ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ایرانی حکام مذاکرات میں شریک ہوں گے یا نہیں اور کسی نامزد اہلکار نے ایران کے مؤقف کی باضابطہ وضاحت نہیں کی۔

  6. بریکنگ, امریکی ریاست لوویزیانا میں فائرنگ کے واقعے میں آٹھ بچے ہلاک

    امریکی ریاست لوویزیانا کے شہر شریوپورٹ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں آٹھ بچے ہلاک ہو گئے ہیں جن کی عمریں ایک سے 14 برس کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔

    پولیس کا شبہ ہے کہ یہ واقعہ ’گھریلو ناچاقی‘ کی وجہ سے پیش آیا۔

    حکام کے مطابق ایک مسلح شخص نے 10 لوگوں پر فائرنگ کی تاہم پولیس نے فرار ہوتے حملہ آور کا پیچھا کیا اور اسے ہلاک کر ڈالا۔

    پولیس نے مسلح شخص کی شناخت ظاہر نہیں لیکن یہ کہا ہے کہ مرنے والے کچھ بچے مسلح شخص کے رشتہ دار تھے۔

  7. ایران نے ابھی تک پاکستان میں ہونے والے نئے مذاکرات میں شرکت کی تصدیق نہیں کی, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ٹرمپ کے اعلان کو تین گھنٹے سے زیادہ گزر چکے ہیں کہ امریکی نمائندے مذاکرات کے لیے پاکستان جا رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی بھی ایرانی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے کہ آیا ایران مذاکرات کے نئے دور میں حصہ لے گا۔

    دوسری جانب ایران کے پاسدران انقلاب سے منسلک دو ایرانی آؤٹ لیٹس نے ایران کی شرکت کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

    تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایرانی ٹیم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی برقرار ہے، وہ مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے۔

    فارس نیوز ایجنسی نے تسنیم اور ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے ابھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اگلے راؤنڈ میں شامل ہو گا یا نہیں تاہم فارس نے مجموعی صورتحال کو مثبت قرار نہیں دیا۔

    تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران ان مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا۔ ہم ابھی بھی کسی عہدیدار کی جانب سے ایران کی پوزیشن واضح کرنے کے منتظر ہیں۔

  8. اسلام آباد میں مذاکرات کی تیاری کے حوالے سے اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی ٹیم ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے کل شام یعنی پیر کے روز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ جائے گی۔

    اسلام آباد میں ان مذاکرات کی تیاری کے حوالے سے اب تک ہم کیا جانتے ہیں، دیکھیے ہماری اس ویڈیو میں۔۔۔

  9. پاکستان میں ایران امریکہ مذاکرات کے پہلے دور کے دوران کیا ہوا تھا؟

    سوموار کی شام یہ پہلی بار نہیں ہو گا کہ ایران اور امریکہ امن مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں ملیں گے۔

    صرف ایک ہفتہ پہلے ہی امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اعلان کیا تھا کہ وہ بغیر کسی ڈیل کے اسلام آباد سے واپس امریکہ جا رہے ہیں۔

    دونوں فریق چونکہ خالی ہاتھ لوٹے تھے تو دونوں نے ایک دوسرے پر مذاکرات کی ناکامی کا الزام عائد کیا۔

    21 گھنٹے کی بات چیت کے بعد وینس نے کہا کہ ’ہم کسی ایسی نتیجے پر نہیں پہنچے جہاں ایرانی ہماری شرائط مان لیں۔‘

    دوسری جانب ایرانی وفد کی سربراہی کرنے والے ایران کے سپیکر محد باقر قالیباف نے کہا تھا کہ ’امریکہ ایران کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔‘

    اس کے بعد ایک امریکی عہدیدار نے کہا تھا کہ ایران کے افزودہ یورینیئم کی وجہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہو پایا۔

    عہدیدار کے مطابق اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کی طرف سے حزب اللہ اور حماس جیسے پراکسی گروپوں کی فنڈنگ ​​روکنے کے حوالے سے یقین دہانی بھی نہیں مل سکی تھی۔

  10. بریکنگ, ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس بھی پاکستان جائیں گے: وائٹ ہاؤس عہدیدار, روحان احمد، بی بی سی اردو

    اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے کے ٹرمپ کے ایلچی برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جارڈ کشنر سوموار کے روز اسلام آباد جا رہے ہیں۔

    تاہم بی بی سی اردو کو وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس بھی پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جائیں گے۔

    واضح رہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے پہلے دور میں بھی یہ ہی شخصیات پاکستان آئیں تھی۔

  11. اسلام آباد میں مذاکرات کی تیاری جاری

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ سوموار کی رات اسلام آباد میں مشرق وسطیٰ کے حوالے سے مذاکرات ہوں گے، پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں تیاریاں جاری ہیں۔

    اسلام آباد میں تیاریوں کی کچھ تصاویر یہاں پیش کی جا رہی ہیں:

  12. ایران اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی بات چیت، آج ایرانی صدر اور وزیراعظم پاکستان بھی فون پر گفتگو کریں گے

    پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اساق ڈار نے آج ایران میں اپنے ہم منصب عباس عراقچی سے بات چیت کی ہے۔

    ایکس پر وزارت خارجہ نے اس حوالے سے تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ اسحاق ڈار نے خطے اور دنیا بھر میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے موجودہ مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے مسلسل بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔

    دونوں رہنماؤں نے اس حوالے سے قریبی رابطہ رکھنے اور آج ہی ایرانی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم کے درمیان فون کال پر اتفاق کیا۔

  13. سٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ اخبار کو بتایا ہے کہ ان کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ معاہدے پر دستخط کے لیے خود بھی اسلام آباد جا سکتے ہیں۔

    نیو یارک پوسٹ کی طرف سے اپنی پاکستان آمد کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ ’شاید میں بعد میں کسی اور تاریخ کو چلا جاؤں۔ ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ کل کیا ہوتا ہے۔‘

  14. بریکنگ, ڈیل قبول نہ کی تو ایران کے ہر پاور پلانٹ اور پل کو تباہ کر دیں گے: ٹرمپ کی دھمکی

    صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں ایران کو دھمکی دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کی ڈیل کو قبول کر لیں۔

    ٹرمپ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’ہم ایران کو ایک مناسب اور معقول ڈیل کی پیشکش کر رہے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اسے قبول کر لیں گے کیونکہ اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو امریکہ ایران کے ہر پاور پلانٹ اور ہر پل کو تباہ کر دے گا۔‘

    ٹرمپ نے یہ بھی لکھا کہ اگر ایران نے ان کی ڈیل قبول نہ کی تو وہ ایران کے ساتھ وہ کریں گے جو گذشتہ 47 برس میں امریکہ کے سابق صدور کو کر دینا چاہیے تھا۔

  15. بریکنگ, میرے نمائندے مذاکرات کے لیے کل شام اسلام آباد پہنچ جائیں گے، صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ان کی ٹیم کل اسلام آباد پہنچ رہی ہے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں ٹرمپ نے لکھا کہ ’میرے نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں جو کل شام تک وہاں ہوں گے۔‘

    امریکی صدر نے یہ بھی لکھا کہ ’ایران نے کل آبنائے ہرمز میں گولیاں چلانے کا فیصلہ کیا جو جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔‘

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’ایران نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کر رہے ہیں جو عجیب بات ہے کیونکہ ہماری ناکہ بندی کی وجہ سے وہ پہلے ہی بند ہے۔‘

    امریکی صدر نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے امریکہ کا کوئی نقصان نہیں ہو رہا۔

    انھوں نے لکھا کہ ’وہ انجانے میں ہماری مدد کر رہے ہیں، اور یہ گزرگاہ بند ہونے کی وجہ سے وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنا 500 ملین ڈالر کا نقصان کر رہے ہیں۔‘

  16. دو آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے واپس بھیج دیا گیا: ایرانی میڈیا, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    پاسدران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم نیوز نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی جاری رہنے کے بعد ایران کی مسلح افواج نے اتوار کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مزید دو آئل ٹینکرز کو واپس بھیج دیا۔

    تسنیم کے مطابق ان دو جہازوں پر بوٹسوانا اور انگولا کے جھنڈے تھے تاہم ایران کی مسلح افواج نے انھیں راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔

  17. امید ہے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں توسیع ہو جائے گی: ترک وزیر خارجہ

    ترکی نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں توسیع ہو جائے گی جو 21 اپریل یعنی بدھ کے روز تک ہے۔

    اتوار کے روز انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ ’کوئی بھی اگلے ہفتے جنگ بندی کے خاتمے پر ایک نئی جنگ نہیں دیکھنا چاہتا۔ ہمیں امید ہے کہ فریقین جنگ بندی میں توسیع کریں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ اس میں توسیع ہو گی۔ میں اس بارے میں مثبت سوچ رہا ہوں۔‘

  18. یورینیئم کی افزودگی ایران امریکہ مذاکرات کا اہم ترین نکتہ, فرینگ گارڈنر، سکیورٹی نامہ نگار

    ایران چاہتا ہے کہ اس پر عائد تمام پابندیاں ہٹا دی جائیں۔ ایران کی معیشت شدید مشکلات کا شکار اور اس قدر بدتر حالت میں ہے کہ وہ خلیج میں اپنی بندرگاہوں سے اپنی برآمدات بھی نہیں نکال سکتا۔

    یہ وقت ایران کے حق میں نہیں۔

    ایران اور امریکہ دو چیزوں پر مذاکرات کر رہے ہیں:

    • یورینیئم کی افزودگی
    • انتہائی افزودہ یورینیئم اب بھی اصفہان کے پہاڑوں کے نیچے سرنگوں میں پڑا ہے، جہاں گزشتہ سال امریکہ نے بمباری کی تھی۔

    اس بارے میں بہت بات چیت ہوئی کہ امریکی فوج کے ایک خصوصی آپریشن کے ذریعے اس یورینیئم کو وہاں سے نکالا جائے لیکن اسے بھول جائیں کیونکہ ایران اس مقام پر بڑی تعداد میں فوج تعینات کر دے گا۔

    آپ ایران کی اجازت کے بغیر ایسا نہیں کر سکتے۔ یہ بہت حساس آپریشن ہو گا۔

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی ایسا کرنے کو تیار ہے لیکن ایسے وقت میں نہیں جب جنگ جاری ہے۔ یہ امریکہ کے ساتھ مشترکہ آپریشن ہو سکتا ہے لیکن صرف اس وقت جب ایران رضا مند ہو۔

  19. تمام چینی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں: قونصلیٹ جنرل ایران

    ممبئی میں ایران کے قونصلیٹ جنرل نے کہا ہے کہ عام خیال کے برعکس ایران نے تمام چینی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دے رکھی۔

    ایکس پر اپنی پوسٹ میں قونصلیٹ جنرل نے لکھا کہ ’ایران نے چینی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی۔‘

    پوسٹ کے مطابق ’سن پروفٹ‘ جہاز جس کی ملکیت اور عملہ چینی شہریوں پر مشتمل ہے، اچانک راستہ بدلنے اور واپس جانے پر مجبور ہوا۔

  20. آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے گزرنے کا کوئی نشان نہیں

    جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا ہے۔

    جہازوں کی نقل و حمل پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق آبنائے ہرمز سے فی الحال کوئی جہاز نہیں گزر رہے، حالانکہ ایسا لگتا ہے کہ بہت سے جہاز خلیج کے اردگرد لنگر انداز ہیں۔

    یاد رہے کہ سنیچر کے روز آبنائے ہرمز میں چند جہازوں کو نشانہ بنانے اور ایک ٹینک پر آگ لگنے کے واقعات پیش آئے تھے۔