آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ٹرمپ کا مذاکرات کے لیے وفد اسلام آباد بھیجنے کا اعلان، ایران کی طرف سے مکمل خاموشی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی ٹیم ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے سوموار کی شام پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ جائے گی لیکن ابھی تک کسی بھی ایرانی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ آیا ایران مذاکرات کے نئے دور میں حصہ لے گا۔

خلاصہ

  • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ان کی ٹیم پیر کی شام اسلام آباد پہنچ جائے گی۔
  • امریکی صدر کے مطابق ان کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق جے ڈی وینس بھی ان مذاکرات میں شامل ہوں گے
  • ابھی تک کسی بھی ایرانی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ آیا ایران مذاکرات کے نئے دور میں حصہ لے گا۔
  • پاسدران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم نیوز نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی جاری رہنے کے بعد ایران نے اتوار کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو آئل ٹینکرز کو واپس بھیج دیا۔
  • امریکہ کی مزید ایک ماہ کے لیے ممالک کو روسی تیل خریدنے کی اجازت

لائیو کوریج

  1. پاکستان میں مذاکرات کے دوسرے دور کی رپورٹس ’درست نہیں‘: ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے پاکستان میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ خبر درست نہیں‘ تاہم ایجنسی نے اس حوالے سے کسی سرکاری ادارے یا فرد کا حوالہ نہیں دیا۔

    ارنا کے مطابق امریکہ نے ’غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات‘ کیے ہیں، اپنے مؤقف کو بار بار تبدیل کیا ہے۔

    ارنا کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور دھمکی آمیز بیانات مذاکرات کی پیش رفت میں رکاوٹ کا سبب ہیں۔

    ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایسی صورتحال میں بامعنی مذاکرات کے امکانات روشن نظر نہیں آتے۔‘

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک دو میڈیا اداروں نے بھی ایران کی ممکنہ شرکت پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔

    ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ایرانی حکام مذاکرات میں شریک ہوں گے یا نہیں اور کسی نامزد اہلکار نے ایران کے مؤقف کی باضابطہ وضاحت نہیں کی۔

  2. بریکنگ, امریکی ریاست لوویزیانا میں فائرنگ کے واقعے میں آٹھ بچے ہلاک

    امریکی ریاست لوویزیانا کے شہر شریوپورٹ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں آٹھ بچے ہلاک ہو گئے ہیں جن کی عمریں ایک سے 14 برس کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔

    پولیس کا شبہ ہے کہ یہ واقعہ ’گھریلو ناچاقی‘ کی وجہ سے پیش آیا۔

    حکام کے مطابق ایک مسلح شخص نے 10 لوگوں پر فائرنگ کی تاہم پولیس نے فرار ہوتے حملہ آور کا پیچھا کیا اور اسے ہلاک کر ڈالا۔

    پولیس نے مسلح شخص کی شناخت ظاہر نہیں لیکن یہ کہا ہے کہ مرنے والے کچھ بچے مسلح شخص کے رشتہ دار تھے۔

  3. ایران نے ابھی تک پاکستان میں ہونے والے نئے مذاکرات میں شرکت کی تصدیق نہیں کی, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ٹرمپ کے اعلان کو تین گھنٹے سے زیادہ گزر چکے ہیں کہ امریکی نمائندے مذاکرات کے لیے پاکستان جا رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی بھی ایرانی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے کہ آیا ایران مذاکرات کے نئے دور میں حصہ لے گا۔

    دوسری جانب ایران کے پاسدران انقلاب سے منسلک دو ایرانی آؤٹ لیٹس نے ایران کی شرکت کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

    تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایرانی ٹیم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی برقرار ہے، وہ مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے۔

    فارس نیوز ایجنسی نے تسنیم اور ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے ابھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اگلے راؤنڈ میں شامل ہو گا یا نہیں تاہم فارس نے مجموعی صورتحال کو مثبت قرار نہیں دیا۔

    تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران ان مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا۔ ہم ابھی بھی کسی عہدیدار کی جانب سے ایران کی پوزیشن واضح کرنے کے منتظر ہیں۔

  4. اسلام آباد میں مذاکرات کی تیاری کے حوالے سے اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی ٹیم ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے کل شام یعنی پیر کے روز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ جائے گی۔

    اسلام آباد میں ان مذاکرات کی تیاری کے حوالے سے اب تک ہم کیا جانتے ہیں، دیکھیے ہماری اس ویڈیو میں۔۔۔

  5. پاکستان میں ایران امریکہ مذاکرات کے پہلے دور کے دوران کیا ہوا تھا؟

    سوموار کی شام یہ پہلی بار نہیں ہو گا کہ ایران اور امریکہ امن مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں ملیں گے۔

    صرف ایک ہفتہ پہلے ہی امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اعلان کیا تھا کہ وہ بغیر کسی ڈیل کے اسلام آباد سے واپس امریکہ جا رہے ہیں۔

    دونوں فریق چونکہ خالی ہاتھ لوٹے تھے تو دونوں نے ایک دوسرے پر مذاکرات کی ناکامی کا الزام عائد کیا۔

    21 گھنٹے کی بات چیت کے بعد وینس نے کہا کہ ’ہم کسی ایسی نتیجے پر نہیں پہنچے جہاں ایرانی ہماری شرائط مان لیں۔‘

    دوسری جانب ایرانی وفد کی سربراہی کرنے والے ایران کے سپیکر محد باقر قالیباف نے کہا تھا کہ ’امریکہ ایران کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔‘

    اس کے بعد ایک امریکی عہدیدار نے کہا تھا کہ ایران کے افزودہ یورینیئم کی وجہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہو پایا۔

    عہدیدار کے مطابق اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کی طرف سے حزب اللہ اور حماس جیسے پراکسی گروپوں کی فنڈنگ ​​روکنے کے حوالے سے یقین دہانی بھی نہیں مل سکی تھی۔

  6. بریکنگ, ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس بھی پاکستان جائیں گے: وائٹ ہاؤس عہدیدار, روحان احمد، بی بی سی اردو

    اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے کے ٹرمپ کے ایلچی برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جارڈ کشنر سوموار کے روز اسلام آباد جا رہے ہیں۔

    تاہم بی بی سی اردو کو وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس بھی پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جائیں گے۔

    واضح رہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے پہلے دور میں بھی یہ ہی شخصیات پاکستان آئیں تھی۔

  7. اسلام آباد میں مذاکرات کی تیاری جاری

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ سوموار کی رات اسلام آباد میں مشرق وسطیٰ کے حوالے سے مذاکرات ہوں گے، پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں تیاریاں جاری ہیں۔

    اسلام آباد میں تیاریوں کی کچھ تصاویر یہاں پیش کی جا رہی ہیں:

  8. ایران اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی بات چیت، آج ایرانی صدر اور وزیراعظم پاکستان بھی فون پر گفتگو کریں گے

    پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اساق ڈار نے آج ایران میں اپنے ہم منصب عباس عراقچی سے بات چیت کی ہے۔

    ایکس پر وزارت خارجہ نے اس حوالے سے تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ اسحاق ڈار نے خطے اور دنیا بھر میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے موجودہ مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے مسلسل بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔

    دونوں رہنماؤں نے اس حوالے سے قریبی رابطہ رکھنے اور آج ہی ایرانی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم کے درمیان فون کال پر اتفاق کیا۔

  9. سٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ اخبار کو بتایا ہے کہ ان کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ معاہدے پر دستخط کے لیے خود بھی اسلام آباد جا سکتے ہیں۔

    نیو یارک پوسٹ کی طرف سے اپنی پاکستان آمد کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ ’شاید میں بعد میں کسی اور تاریخ کو چلا جاؤں۔ ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ کل کیا ہوتا ہے۔‘

  10. بریکنگ, ڈیل قبول نہ کی تو ایران کے ہر پاور پلانٹ اور پل کو تباہ کر دیں گے: ٹرمپ کی دھمکی

    صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں ایران کو دھمکی دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کی ڈیل کو قبول کر لیں۔

    ٹرمپ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’ہم ایران کو ایک مناسب اور معقول ڈیل کی پیشکش کر رہے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اسے قبول کر لیں گے کیونکہ اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو امریکہ ایران کے ہر پاور پلانٹ اور ہر پل کو تباہ کر دے گا۔‘

    ٹرمپ نے یہ بھی لکھا کہ اگر ایران نے ان کی ڈیل قبول نہ کی تو وہ ایران کے ساتھ وہ کریں گے جو گذشتہ 47 برس میں امریکہ کے سابق صدور کو کر دینا چاہیے تھا۔

  11. بریکنگ, میرے نمائندے مذاکرات کے لیے کل شام اسلام آباد پہنچ جائیں گے، صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ان کی ٹیم کل اسلام آباد پہنچ رہی ہے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں ٹرمپ نے لکھا کہ ’میرے نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں جو کل شام تک وہاں ہوں گے۔‘

    امریکی صدر نے یہ بھی لکھا کہ ’ایران نے کل آبنائے ہرمز میں گولیاں چلانے کا فیصلہ کیا جو جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔‘

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’ایران نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کر رہے ہیں جو عجیب بات ہے کیونکہ ہماری ناکہ بندی کی وجہ سے وہ پہلے ہی بند ہے۔‘

    امریکی صدر نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے امریکہ کا کوئی نقصان نہیں ہو رہا۔

    انھوں نے لکھا کہ ’وہ انجانے میں ہماری مدد کر رہے ہیں، اور یہ گزرگاہ بند ہونے کی وجہ سے وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنا 500 ملین ڈالر کا نقصان کر رہے ہیں۔‘

  12. دو آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے واپس بھیج دیا گیا: ایرانی میڈیا, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    پاسدران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم نیوز نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی جاری رہنے کے بعد ایران کی مسلح افواج نے اتوار کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مزید دو آئل ٹینکرز کو واپس بھیج دیا۔

    تسنیم کے مطابق ان دو جہازوں پر بوٹسوانا اور انگولا کے جھنڈے تھے تاہم ایران کی مسلح افواج نے انھیں راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔

  13. امید ہے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں توسیع ہو جائے گی: ترک وزیر خارجہ

    ترکی نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں توسیع ہو جائے گی جو 21 اپریل یعنی بدھ کے روز تک ہے۔

    اتوار کے روز انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ ’کوئی بھی اگلے ہفتے جنگ بندی کے خاتمے پر ایک نئی جنگ نہیں دیکھنا چاہتا۔ ہمیں امید ہے کہ فریقین جنگ بندی میں توسیع کریں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ اس میں توسیع ہو گی۔ میں اس بارے میں مثبت سوچ رہا ہوں۔‘

  14. یورینیئم کی افزودگی ایران امریکہ مذاکرات کا اہم ترین نکتہ, فرینگ گارڈنر، سکیورٹی نامہ نگار

    ایران چاہتا ہے کہ اس پر عائد تمام پابندیاں ہٹا دی جائیں۔ ایران کی معیشت شدید مشکلات کا شکار اور اس قدر بدتر حالت میں ہے کہ وہ خلیج میں اپنی بندرگاہوں سے اپنی برآمدات بھی نہیں نکال سکتا۔

    یہ وقت ایران کے حق میں نہیں۔

    ایران اور امریکہ دو چیزوں پر مذاکرات کر رہے ہیں:

    • یورینیئم کی افزودگی
    • انتہائی افزودہ یورینیئم اب بھی اصفہان کے پہاڑوں کے نیچے سرنگوں میں پڑا ہے، جہاں گزشتہ سال امریکہ نے بمباری کی تھی۔

    اس بارے میں بہت بات چیت ہوئی کہ امریکی فوج کے ایک خصوصی آپریشن کے ذریعے اس یورینیئم کو وہاں سے نکالا جائے لیکن اسے بھول جائیں کیونکہ ایران اس مقام پر بڑی تعداد میں فوج تعینات کر دے گا۔

    آپ ایران کی اجازت کے بغیر ایسا نہیں کر سکتے۔ یہ بہت حساس آپریشن ہو گا۔

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی ایسا کرنے کو تیار ہے لیکن ایسے وقت میں نہیں جب جنگ جاری ہے۔ یہ امریکہ کے ساتھ مشترکہ آپریشن ہو سکتا ہے لیکن صرف اس وقت جب ایران رضا مند ہو۔

  15. تمام چینی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں: قونصلیٹ جنرل ایران

    ممبئی میں ایران کے قونصلیٹ جنرل نے کہا ہے کہ عام خیال کے برعکس ایران نے تمام چینی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دے رکھی۔

    ایکس پر اپنی پوسٹ میں قونصلیٹ جنرل نے لکھا کہ ’ایران نے چینی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی۔‘

    پوسٹ کے مطابق ’سن پروفٹ‘ جہاز جس کی ملکیت اور عملہ چینی شہریوں پر مشتمل ہے، اچانک راستہ بدلنے اور واپس جانے پر مجبور ہوا۔

  16. آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے گزرنے کا کوئی نشان نہیں

    جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا ہے۔

    جہازوں کی نقل و حمل پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق آبنائے ہرمز سے فی الحال کوئی جہاز نہیں گزر رہے، حالانکہ ایسا لگتا ہے کہ بہت سے جہاز خلیج کے اردگرد لنگر انداز ہیں۔

    یاد رہے کہ سنیچر کے روز آبنائے ہرمز میں چند جہازوں کو نشانہ بنانے اور ایک ٹینک پر آگ لگنے کے واقعات پیش آئے تھے۔

  17. ٹرمپ کے پاس ایران کو اس کے جوہری حقوق سے محروم کرنے کا کوئی جواز نہیں: مسعود پزشکیان

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اتوار کے روز کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران کو اس کے جوہری حقوق سے محروم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت جوہری معاملے پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری اختلافات میں یہ ایک اہم معاملہ ہے۔

    ایرانی سٹوڈنٹس نیوز ایجنسی نے مسعود پزشکیان کے حوالے سے کہا کہ ’ٹرمپ کہتے ہیں کہ ایران اپنے جوہری حقوق کا استعمال نہیں کر سکتا، لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ کیوں؟ وہ کون ہے جو کسی ملک کو اس کے حقوق سے محروم کرے؟‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ان کے ملک کو ایک ’سفاک، خونخوار دشمن‘ کا سامنا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایران جنگ کا مطالبہ نہیں کر رہا ہے بلکہ اپنا دفاع کر رہا ہے۔

  18. امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ایک ٹائم لائن

    28 فروری: امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد تنازع شروع ہو جاتا ہے، جبکہ سفارتی مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں۔

    6 مارچ: ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ ایران کی ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘‘ کے سوا کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

    21 مارچ: ٹرمپ ایک آخری تاریخ مقرر کرتے ہیں اور خبردار کرتے ہیں کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو اس کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    23 مارچ: ٹرمپ ’نتیجہ خیز بات چیت‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ڈیڈ لائن مؤخر کر دیتے ہیں، جس کے بعد مزید کئی بار توسیع کی جاتی ہے۔

    7 اپریل: ٹرمپ خبردار کرتے ہیں کہ اگر ایک نئی آخری تاریخ سے قبل آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ’ایک پوری تہذیب مٹ جائے گی‘۔

    8 اپریل: پاکستان ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان مزید مذاکرات کے لیے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کرتا ہے۔

    11 اپریل: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اعلیٰ حکام کی پاکستان میں ملاقات ہوتی ہے۔ 21 گھنٹوں کی طویل بات چیت کے باوجود، اہم نکات پر دونوں فریقین میں نمایاں اختلاف برقرار رہتا ہے۔

    12 اپریل: ٹرمپ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہیں۔

    17 اپریل: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیان دیا کہ جنگ بندی کی مدت کے دوران آبنائے ہرمز کھلی رہے گی۔ ٹرمپ نے اس کے باوجود یہ بیان دیا کہ امریکی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

    18 اپریل: ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی جائے گی جبکہ ٹرمپ کا یہ دعویٰ ہے کہ ’بہت اچھی بات چیت‘ ہو رہی ہے لیکن امریکہ اس آبی گزرگاہ کے معاملے پر ’بلیک میل‘ نہیں ہوگا۔

  19. مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے باوجود پاکستانی معیشت بحران سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت رکھتی ہے: گورنر سٹیٹ بینک, تنویر ملک، صحافی

    گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعے سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستانی معیشت نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ مالی سال کے آغاز کے بعد پاکستان کے کلیدی معاشی اشاریے توقع سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات نے نئے خطرات کو جنم دیا ہے اور مجموعی معاشی منظرنامے میں غیر یقینی کیفیت میں اضافہ کیا ہے، تاہم ان ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے معیشت گذشتہ بحرانی ادوار کے مقابلے میں بہتر حالت میں ہے۔

    گورنر جمیل احمد نے یہ خیالات معروف عالمی مالیاتی اور سرمایہ کاری اداروں، جن میں جے پی مورگن، بارکلیز، سٹی بینک، جیفریز اور فرینکلن ٹیمپلٹن شامل ہیں، کے علاوہ بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی گلوبل کے سینئر عہدیداروں سے ملاقاتوں کے دوران ظاہر کیے۔

    یہ ملاقاتیں 13 سے 18 اپریل 2026 کے دوران آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی اسپرنگ میٹنگز کے موقع پر ہوئیں۔ اس دوران گورنر اسٹیٹ بینک نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک گروپ کی قیادت کے ساتھ اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔

    گورنر نے شرکا کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کا تنازع شروع ہونے سے قبل ہی معیشت کے استحکام کی جانب نمایاں پیش رفت کر لی تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ محتاط زری اور مالیاتی پالیسیوں کے امتزاج سے مالیاتی اور بیرونی ذخائر کو مضبوط بنانے میں مدد ملی، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں کمی آئی اور اسے ہدف کی حد میں مستحکم رکھا جا سکا۔

    ان کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 5.7 فیصد رہی، بیرونی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا، جبکہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 16.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے انٹربینک مارکیٹ سے زرمبادلہ کی خریداری تھی۔

    گورنر جمیل احمد نے مزید بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی مسلسل خریداریوں اور سرکاری رقوم کی آمد، جن میں نئے دوطرفہ مالی انتظامات بھی شامل ہیں، کے باعث جون 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر کے تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بہتر معاشی استحکام نے بتدریج، پائیدار اور وسیع البنیاد معاشی بحالی میں کردار ادا کیا۔ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو بڑھ کر 3.8 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 1.8 فیصد تھی۔ ان کے مطابق محتاط پالیسی سمت کے باعث پاکستان کے ابتدائی حالات آج گزشتہ بیرونی دھچکوں، جیسے 2022 میں روس-یوکرین تنازع کے وقت، کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔

    تاہم گورنر نے واضح کیا کہ بہتر ابتدائی حالات کے باوجود معیشت کو اب مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ پیش رفت کے باعث پیدا ہونے والے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں، باربرداری اور بیمہ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسٹیٹ بینک اور حکومت قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھنے اور معاشی استحکام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات سے گریز نہیں کریں گے۔

    گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق زری پالیسی حقیقی پالیسی ریٹ کو بڑی حد تک مثبت رکھنے کے اصول پر محتاط انداز میں جاری رکھی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے ابتدائی مالیاتی سرپلس بھی حاصل کیے ہیں۔ موجودہ تنازعات کے تناظر میں حکومت نے ہدفی سبسڈیز متعارف کرائیں اور طلب کو قابو میں رکھنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات کیے ہیں۔

    انھوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ توسیعی فنڈ سہولت کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت کے دوسرے جائزے کے لیے عملے کی سطح کے معاہدے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ریٹنگ ایجنسی کی جانب سے کریڈٹ ریٹنگ کی توثیق کا بھی حوالہ دیا، جسے انہوں نے معاشی استحکام اور اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے حکومت اور اسٹیٹ بینک کے عزم کا اعتراف قرار دیا۔

    اپنے دورے کے دوران گورنر جمیل احمد نے ترسیلاتِ زر اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) روڈ شو کے موقع پر پاکستانی تارکینِ وطن اور متعلقہ عالمی فریقوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔ انہوں نے بتایا کہ 9 لاکھ 17 ہزار سے زائد آر ڈی اے اکاؤنٹس میں مجموعی رقوم 12.4 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے آر ڈی اے کے ضوابطی فریم ورک میں حالیہ بہتریوں کا خاکہ پیش کیا، جن میں غیر مقیم اداروں کی شمولیت بھی شامل ہے، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی مالی منڈیوں سے مزید مربوط کرنا اور ملک میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

  20. امریکہ اور ایران اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹے بغیر سخت بیانات دے رہے ہیں, نک بیک، بی بی سی

    ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک امریکی بحری ناکہ بندی برقرار ہے۔

    لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’صرف‘ ایک یا دو معاملات ہیں جن پر دونوں فریقین متفق نہیں ہیں۔ تاہم اُنھوں نے وضاحت نہیں کی کہ یہ معاملات کون سے ہیں۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ بھی صحافیوں سے گفتگو اور دیگر تقاریر میں مثبت اشارے دے رہے ہیں کہ ’ایک معاہدہ ہو گا اور ایران سے بہت اچھی بات چیت ہو رہی ہے۔‘

    صدر ترمپ کا یہ بیان آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر ایرانی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے فائرنگ کے چند گھنٹے بعد آیا تھا۔

    لیکن ساتھ ہی ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ’بلیک میلنگ‘ برداشت نہیں کریں گے۔