آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ٹرمپ کا ایران کے ساتھ ’بہت اچھی بات چیت‘ کا دعویٰ، روس کی ایران سے افزودہ یورینیم منتقل کرنے کی پیشکش

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ 'بہت اچھی بات چیت' ہو رہی ہے۔ لیکن وہ تہران کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر 'بلیک میل' نہیں کرنے دیں گے۔ دوسری جانب روسی ریاستی جوہری توانائی ادارے روساٹم کے سربراہ الیکسی لیکاچیف کے مطابق، روس اس بات پر غور کر رہا ہے کہ وہ ایران سے افزودہ یورینیم کی منتقلی میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

خلاصہ

  • ایران کے ساتھ 'بہت اچھی بات چیت' ہو رہی ہے، لیکن آبنائے ہرمز پر اسے 'بلیک میلنگ' نہیں کرنے دیں گے: صدر ٹرمپ
  • امریکہ کے ساتھ حتمی معاہدے سے ابھی بہت دُور ہیں: ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف
  • روس کی ایران سے افزودہ یورینیم منتقل کرنے کی پیشکش
  • ٹرمپ نیتن یاہو کے دباؤ میں ایران جنگ کا حصہ بنے: کملا ہیرس
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ 'بہت اچھی بات چیت' جاری ہے تاہم امریکہ ایران کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر بلیک میل نہیں کرنے دے گا
  • ایران نے افزودہ یورینیم امریکہ منتقل کرنے کے ٹرمپ کے دعوے کی تردید کر دی
  • امریکہ کی مزید ایک ماہ کے لیے ممالک کو روسی تیل خریدنے کی اجازت

لائیو کوریج

  1. امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ایک ٹائم لائن

    28 فروری: امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد تنازع شروع ہو جاتا ہے، جبکہ سفارتی مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں۔

    6 مارچ: ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ ایران کی ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘‘ کے سوا کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

    21 مارچ: ٹرمپ ایک آخری تاریخ مقرر کرتے ہیں اور خبردار کرتے ہیں کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو اس کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    23 مارچ: ٹرمپ ’نتیجہ خیز بات چیت‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ڈیڈ لائن مؤخر کر دیتے ہیں، جس کے بعد مزید کئی بار توسیع کی جاتی ہے۔

    7 اپریل: ٹرمپ خبردار کرتے ہیں کہ اگر ایک نئی آخری تاریخ سے قبل آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ’ایک پوری تہذیب مٹ جائے گی‘۔

    8 اپریل: پاکستان ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان مزید مذاکرات کے لیے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کرتا ہے۔

    11 اپریل: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اعلیٰ حکام کی پاکستان میں ملاقات ہوتی ہے۔ 21 گھنٹوں کی طویل بات چیت کے باوجود، اہم نکات پر دونوں فریقین میں نمایاں اختلاف برقرار رہتا ہے۔

    12 اپریل: ٹرمپ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہیں۔

    17 اپریل: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیان دیا کہ جنگ بندی کی مدت کے دوران آبنائے ہرمز کھلی رہے گی۔ ٹرمپ نے اس کے باوجود یہ بیان دیا کہ امریکی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

    18 اپریل: ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی جائے گی جبکہ ٹرمپ کا یہ دعویٰ ہے کہ ’بہت اچھی بات چیت‘ ہو رہی ہے لیکن امریکہ اس آبی گزرگاہ کے معاملے پر ’بلیک میل‘ نہیں ہوگا۔

  2. مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے باوجود پاکستانی معیشت بحران سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت رکھتی ہے: گورنر سٹیٹ بینک, تنویر ملک، صحافی

    گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعے سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستانی معیشت نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ مالی سال کے آغاز کے بعد پاکستان کے کلیدی معاشی اشاریے توقع سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات نے نئے خطرات کو جنم دیا ہے اور مجموعی معاشی منظرنامے میں غیر یقینی کیفیت میں اضافہ کیا ہے، تاہم ان ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے معیشت گذشتہ بحرانی ادوار کے مقابلے میں بہتر حالت میں ہے۔

    گورنر جمیل احمد نے یہ خیالات معروف عالمی مالیاتی اور سرمایہ کاری اداروں، جن میں جے پی مورگن، بارکلیز، سٹی بینک، جیفریز اور فرینکلن ٹیمپلٹن شامل ہیں، کے علاوہ بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی گلوبل کے سینئر عہدیداروں سے ملاقاتوں کے دوران ظاہر کیے۔

    یہ ملاقاتیں 13 سے 18 اپریل 2026 کے دوران آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی اسپرنگ میٹنگز کے موقع پر ہوئیں۔ اس دوران گورنر اسٹیٹ بینک نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک گروپ کی قیادت کے ساتھ اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔

    گورنر نے شرکا کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کا تنازع شروع ہونے سے قبل ہی معیشت کے استحکام کی جانب نمایاں پیش رفت کر لی تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ محتاط زری اور مالیاتی پالیسیوں کے امتزاج سے مالیاتی اور بیرونی ذخائر کو مضبوط بنانے میں مدد ملی، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں کمی آئی اور اسے ہدف کی حد میں مستحکم رکھا جا سکا۔

    ان کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 5.7 فیصد رہی، بیرونی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا، جبکہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 16.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے انٹربینک مارکیٹ سے زرمبادلہ کی خریداری تھی۔

    گورنر جمیل احمد نے مزید بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی مسلسل خریداریوں اور سرکاری رقوم کی آمد، جن میں نئے دوطرفہ مالی انتظامات بھی شامل ہیں، کے باعث جون 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر کے تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بہتر معاشی استحکام نے بتدریج، پائیدار اور وسیع البنیاد معاشی بحالی میں کردار ادا کیا۔ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو بڑھ کر 3.8 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 1.8 فیصد تھی۔ ان کے مطابق محتاط پالیسی سمت کے باعث پاکستان کے ابتدائی حالات آج گزشتہ بیرونی دھچکوں، جیسے 2022 میں روس-یوکرین تنازع کے وقت، کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔

    تاہم گورنر نے واضح کیا کہ بہتر ابتدائی حالات کے باوجود معیشت کو اب مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ پیش رفت کے باعث پیدا ہونے والے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں، باربرداری اور بیمہ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسٹیٹ بینک اور حکومت قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھنے اور معاشی استحکام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات سے گریز نہیں کریں گے۔

    گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق زری پالیسی حقیقی پالیسی ریٹ کو بڑی حد تک مثبت رکھنے کے اصول پر محتاط انداز میں جاری رکھی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے ابتدائی مالیاتی سرپلس بھی حاصل کیے ہیں۔ موجودہ تنازعات کے تناظر میں حکومت نے ہدفی سبسڈیز متعارف کرائیں اور طلب کو قابو میں رکھنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات کیے ہیں۔

    انھوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ توسیعی فنڈ سہولت کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت کے دوسرے جائزے کے لیے عملے کی سطح کے معاہدے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ریٹنگ ایجنسی کی جانب سے کریڈٹ ریٹنگ کی توثیق کا بھی حوالہ دیا، جسے انہوں نے معاشی استحکام اور اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے حکومت اور اسٹیٹ بینک کے عزم کا اعتراف قرار دیا۔

    اپنے دورے کے دوران گورنر جمیل احمد نے ترسیلاتِ زر اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) روڈ شو کے موقع پر پاکستانی تارکینِ وطن اور متعلقہ عالمی فریقوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔ انہوں نے بتایا کہ 9 لاکھ 17 ہزار سے زائد آر ڈی اے اکاؤنٹس میں مجموعی رقوم 12.4 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے آر ڈی اے کے ضوابطی فریم ورک میں حالیہ بہتریوں کا خاکہ پیش کیا، جن میں غیر مقیم اداروں کی شمولیت بھی شامل ہے، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی مالی منڈیوں سے مزید مربوط کرنا اور ملک میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

  3. امریکہ اور ایران اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹے بغیر سخت بیانات دے رہے ہیں, نک بیک، بی بی سی

    ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک امریکی بحری ناکہ بندی برقرار ہے۔

    لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’صرف‘ ایک یا دو معاملات ہیں جن پر دونوں فریقین متفق نہیں ہیں۔ تاہم اُنھوں نے وضاحت نہیں کی کہ یہ معاملات کون سے ہیں۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ بھی صحافیوں سے گفتگو اور دیگر تقاریر میں مثبت اشارے دے رہے ہیں کہ ’ایک معاہدہ ہو گا اور ایران سے بہت اچھی بات چیت ہو رہی ہے۔‘

    صدر ترمپ کا یہ بیان آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر ایرانی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے فائرنگ کے چند گھنٹے بعد آیا تھا۔

    لیکن ساتھ ہی ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ’بلیک میلنگ‘ برداشت نہیں کریں گے۔

  4. ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جنگ بندی شرائط کی خلاف ورزی ہے: پاسدارانِ انقلاب

    اس سے قبل ایران کی بحریہ نے کہا تھا کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی جاری رکھنا ’جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی‘ ہے۔

    اس ماہ کے شروع میں ایران اور امریکہ نے دو ہفتے کی مشروط جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا جس کے دوران اُنھوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے راستے جہاز رانی کی اجازت دی جائے گی۔

    اہم شپنگ لین کو ایران نے دوبارہ بند کر دیا ہے اور ایران کی بحریہ کا کہنا ہے کہ یہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک کہ ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم نہیں ہو جاتی۔

    اپنے تازہ بیان میں اسلامی انقلابی گارڈ کور بحریہ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے آبنائے ہرمز پر دیے گئے بیانات کوئی جواز نہیں رکھتے۔‘

    ٹرمپ نے ہفتے کے روز اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے رہنما آبنائے کو بند کرنا چاہتے ہیں، لیکن امریکہ انھیں ’بلیک میلنگ‘ نہیں کرنے دے گا۔

  5. ایران کے ساتھ ’بہت اچھی بات چیت‘ ہو رہی ہے، لیکن آبنائے ہرمز پر اسے ’بلیک میلنگ‘ نہیں کرنے دیں گے: صدر ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ’بہت اچھی بات چیت‘ ہو رہی ہے۔ لیکن وہ تہران کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر ’بلیک میل‘ نہیں کرنے دیں گے۔

    سنیچر کو اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران گذشتہ 47 سال سے ایسا ہی کرتا آیا ہے۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ’ایران کے ساتھ ہمارا لین دین 100 فیصد مکمل نہیں ہو جاتا۔‘

  6. روس کی ایران سے افزودہ یورینیم منتقل کرنے کی پیشکش

    روس نے کہا ہے کہ وہ ایران سے افزودہ یورینیم کی منتقلی میں مدد کے لیے تیار ہے۔

    روسی ریاستی جوہری توانائی ادارے روساٹم کے سربراہ الیکسی لیکاچیف کے مطابق، روس اس بات پر غور کر رہا ہے کہ وہ ایران سے افزودہ یورینیم کی منتقلی میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

    یہ بیان روساٹم کی صنعتی اشاعت ’اسٹرانا روساٹم‘ کے ٹیلی گرام چینل پر شائع ہوا ہے۔

    الیکسی لیکاچیف نے کہا کہ اس معاملے میں تکنیکی مسائل کے ساتھ ساتھ امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے روس کو ایرانی فریق کے ساتھ تعاون کا مثبت تجربہ حاصل ہے۔ 2015 میں ایران کی درخواست پر روس نے پہلے ہی افزودہ یورینیم کی منتقلی میں مدد کی تھی، اور اب بھی ہم اس کے لیے تیار ہیں۔‘

    دوسری جانب دو روز قبل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک نیا معاہدہ ’بہت قریب‘ ہے اور تہران تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم فراہم کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔

    تاہم ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔

    ادھر مارچ کے آغاز میں روساٹم نے ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ سے اپنے عملے کو واپس بلانا شروع کر دیا تھا، جبکہ وہاں جاری تعمیراتی کام بھی روک دیا گیا تھا۔

  7. ٹرمپ نیتن یاہو کے دباؤ میں ایران جنگ کا حصہ بنے: کملا ہیرس

    سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ ​​کی طرف دھکیل دیا ہے۔

    انھوں نے اس دعوے کے لیے ثبوت فراہم نہیں کیے لیکن اس بات پر زور دیا کہ امریکی عوام اس جنگ کے حق میں نہیں ہیں۔

    کملا ہیرس نے یہ بھی کہا کہ ’ٹرمپ جنگ کو جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات کے اجرا سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘

    مشی گن میں ڈیموکریٹک ویمنز پارٹی کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے، انھوں نے مزید کہا کہ وہ دوبارہ صدر کے لیے انتخاب لڑنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ کملا ہیرس گذشتہ انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ہار گئی تھیں۔

  8. ناکہ بندی سے سمندر کے راستے ایرانی تجارت مفلوج ہو کر رہ گئی ہے: امریکی سینٹرل کمانڈ

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے ’سمندر کے راستے ایران کی تجارتی اور اقتصادی سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔‘

    ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام کا کہنا تھا کہ امریکہ یو ایس ایس پنکنی ناکہ بندی کی کارروائیوں میں شریک ہے اور مسلسل گشت کر رہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ بحری جہاز یو ایس ایس رشمور پر سوار ملاح اور میرینز بحیرہ عرب میں ناکہ بندی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

  9. امریکہ کے ساتھ حتمی معاہدے سے ابھی بہت دُور ہیں: ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں ’پیش رفت‘ ہوئی ہے، لیکن ابھی تک کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے ہیں۔

    اسلام آباد میں چند روز قبل ہونے والے مذاکرات میں شریک قالیباف نے مزید کہا کہ ’ہم ابھی تک کسی حتمی معاہدے سے بہت دور ہیں۔‘

    ایرانی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’ہم نے مذاکرات میں پیش رفت کی ہے لیکن ابھی بھی بہت سے خلا اور کچھ بنیادی مسائل ہیں جو حل طلب ہیں۔‘

    قالیباف کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوران، 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے یہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کی بات چیت تھی جس میں ہم نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ’امریکہ پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔‘

    اُنھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کو ایرانی عوام کا اعتماد حاصل کرنے کا فیصلہ کرنا ہو گا اور انھیں ڈکٹیشن مسلط کرنے کا اپنا طریقہ کار ترک کرنا ہو گا۔‘

    قالیباف نے امریکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’اگر ہم نے جنگ بندی کو قبول کیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اُنھوں نے ہمارے مطالبات کو تسلیم کیا ہے۔ کیونکہ ہم نے زمین پر فتح حاصل کی۔‘

    قالیباف کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ اپنے مفادات حاصل نہیں کر سکا اور یہ ایران ہی ہے جو آبنائے ہرمز پر اپنا سٹریٹجک کنٹرول رکھتا ہے۔

  10. بحرین کا ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ

    بحرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے اسے مکمل معاوضہ ادا کیا جائے۔

    اقوام متحدہ میں بحرین کے مستقل مشن کی طرف سے بین الاقوامی تنظیم کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ ایران نے ’سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی مسلسل خلاف ورزی کی، جس میں خلیجی ممالک میں حملے روکنے کا کہا گیا تھا۔‘

    بحرین کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ ’بحرین میں شہری اہداف اور اہم تنصیبات کو ایران کی جانب سے جان بوجھ کر نشانہ بنانہ تشویشناک ہے۔ کیونکہ ان حملوں سے شہریوں اور رہائشیوں کی زندگیوں کو براہ راست خطرہ لاحق ہے۔‘

  11. امریکی ناکہ بندی ’غلط اور غیر دانشمندانہ فیصلہ‘ ہے: قالیباف

    ایران کے سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کو ’غلط اور غیر دانشمندانہ فیصلہ‘ قرار دیا ہے۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں انھوں نے کہا: ’میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اگر ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو آبنائے ہرمز سے گزرنے کو یقینی طور پر محدود کر دیا جائے گا۔‘

    ایرانی عوام کے نام اپنے ویڈیو پیغام میں قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز ’ایران کے کنٹرول میں‘ ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ جب امریکہ نے آبنائے میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائی کی کوشش کی تو ایران نے ’ڈٹ کر مقابلہ کیا۔‘

    قالیباف نے کہا ’ہم نے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا اور کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو ہم حملہ کریں گے۔‘

    جنگ کے آغاز کے بعد سے قالیباف ایرانی قیادت کی اہم شخصیات میں شامل ہو کر ابھرے ہیں، اور انھوں نے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات میں وفد کی قیادت بھی کی۔

  12. مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ: اس وقت کون سی جنگ بندیاں نافذ ہیں؟

    امریکہ اور ایران

    • آغاز: 8 اپریل
    • مدت: 14 دن (22 اپریل تک)
    • ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ اس شرط پر ہوا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا۔
    • پاکستان، جس نے مذاکرات میں ثالثی کی، کا کہنا ہے کہ لبنان بھی اس میں شامل ہے، تاہم امریکہ اور اسرائیل اس سے اختلاف کرتے ہیں۔

    اسرائیل اور لبنان

    • آغاز: 16 اپریل
    • مدت: 10 دن (26 اپریل تک)
    • یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان طے پایا اور امریکہ نے اس کا اعلان کیا۔
    • ٹرمپ نے ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ سے اس پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا۔
    • دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود فوج جنوبی لبنان میں تقریباً 10 کلومیٹر اندر تک موجود رہے گی۔
  13. اب تک ایران میں 3468 افراد ہلاک ہو چکے ہیں, غنچہ حبیب زادہ، بی بی سی فارسی

    ایران کے فاؤنڈیشن آف شہدا و سابق فوجی امور کے سربراہ احمد موسوی نے کہا ہے کہ جنگ میں ہلاک ہونے والے 3468 افراد کے ریکارڈ درج کیے جا رہے ہیں۔

    یہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار ہیں جو 12 اپریل کو بتائے گئے اور ان کی تعداد پہلے بتائی گئی 3375 ہلاکتوں سے زیادہ ہے۔

  14. بریکنگ, ’ٹرمپ کے بیانات کی کوئی حیثیت نہیں، امریکی ناکہ بندی جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی ہے‘ ایرانی بحریہ

    ایرانی بحریہ کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر جاری امریکی ناکہ بندی ’جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی‘ ہے۔

    یاد رہے کہ اس ماہ کے آغاز میں ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جس کے دوران آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت کی اجازت دی گئی تھی۔

    تاہم آج ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ بند کر دیا ہے، اور ایرانی بحریہ کا کہنا ہے کہ یہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم نہیں کرتا۔

    اپنے تازہ بیان میں پاسدارانِ انقلاب بحریہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ٹرمپ کے بیانات ’کوئی حیثیت نہیں رکھتے‘۔

    یہ واضح نہیں کہ یہ بیان امریکی صدر کے کس مخصوص تبصرے کے حوالے سے دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے رہنما آبنائے کو بند کرنا چاہتے ہیں، لیکن امریکہ انھیں ’بلیک میل‘ نہیں کرنے دے گا۔

  15. بریکنگ, آبنائے ہرمز امریکی ناکہ بندی ختم ہونے تک بند رہے گی، قریب آنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا: ایرانی بحریہ کی تنبیہ

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آج شام سے آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے اور یہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم نہیں کرتا۔

    بیان میں آئی آر جی سی بحریہ نے خبردار کیا ہے کہ ’کوئی بھی جہاز خلیج فارس یا بحیرہ عمان میں اپنے موجودہ مقام سے حرکت نہ کرے۔‘

    اس کے مطابق کچھ جہاز گذشتہ رات سے اس کی نگرانی میں آبنائے سے گزرے تھے، تاہم اب یہ آبی گزرگاہ دوبارہ تب تک کے لیے بند کر دی جائے گی جب تک امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر اپنی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کے قریب آنا دشمن سے تعاون سمجھا جائے گا، اور خلاف ورزی کرنے والے جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔‘

  16. ’ہمیں امید ہے کہ ہم واپس اپنے گھروں کو جا سکیں گے‘ کیپٹن رمن کپور

    کیپٹن رمن کپور جنگ کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز کے قریب ایک خام تیل بردار جہاز پر اپنے 23 رکنی عملے کے ساتھ پھنسے ہوئے ہیں۔

    انھوں نے بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام ویک اینڈ کو بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ان کے عملے نے ’ملے جلے جذبات‘ کا سامنا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں انھوں نے متعدد میزائل اور اپنے جہاز کے قریب ایک دھماکہ بھی دیکھا ہے۔

    تاہم انھوں نے مزید کہا کہ وہ صبر اور پیشہ ورانہ انداز میں انتظار کر رہے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں، ’ہم امید کرتے ہیں کہ ہم واپس اپنے گھروں کو جا سکیں گے۔‘

  17. بریکنگ, ایران، امریکہ کے ساتھ مزید براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں، نائب وزیر خارجہ

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا ہے کہ ملک امریکہ کے ساتھ نئے دور کے آمنے سامنے مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے، کیونکہ ان کے بقول واشنگٹن اہم معاملات پر ’زیادہ سے زیادہ مطالبات‘ سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

    سعید خطیب زادہ نے کہا کہ تہران امریکہ کو افزودہ یورینیم دینے پر بھی تیار نہیں، اور اسے ’ناقابلِ قبول شرط‘ قرار دیا۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اس کے برعکس مؤقف اختیار کیا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ موجود ہے، تاہم ایران چاہتا ہے کہ براہِ راست مذاکرات سے پہلے ایک ’فریم ورک معاہدہ‘ طے پا جائے۔

    ان کے مطابق امریکہ کو ایران کے بنیادی خدشات کو سمجھنے اور انھیں حل کرنے کی ضرورت ہے، جن میں ایران پر عائد پابندیاں بھی شامل ہیں۔

    اس سے قبل آج ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ’بہت اچھی بات چیت جاری ہے۔‘

  18. آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت میں کمی آ رہی ہے

    ہم نے آج صبح تقریباً 07:40 بی ایس ٹی (06:40 جی ایم ٹی) پر آپ کو یہ تصویر دکھائی تھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ آبنائے کھلی ہوئی ہے۔

    اس کے بعد ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے کہا ہے کہ وہ آبنائے پر دوبارہ پابندیاں عائد کریں گے۔

    اس کے بعد تقریباً 17:00 بی ایس ٹی پر جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ مرین ٹریفک نے یہی صورتحال دکھائی۔

  19. انڈیا: آبنائے ہرمز میں انڈین جہازوں پر فائرنگ کر کے رستہ تبدیل کرنے پر ایرانی سفیر کی طلبی

    انڈیا نے آبنائے ہرمز میں دو انڈین جہازوں پر فائرنگ کر کے دو جہازوں کا رخ تبدیل کرنے کے واقعے پر ایران سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    انڈین وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز انڈیا میں تعینات ایرانی سفیر محمد فتحلی کو طلب کیا اور ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے فائرنگ کے واقعے کے بعد آبنائے ہرمز میں انڈین کے پرچم والے دو بحری جہازوں کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے بعد سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔

    انڈین وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ وکرم مصری نے اس واقعے پر اپنی ’گہری تشویش‘ سے آگاہ کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین خارجہ سیکریٹری نے ملاقات کے دوران سمندری راستوں کی سلامتی اور جہازرانی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ماضی میں ایران نے انڈیا سے آنے والے جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے میں تعاون کیا تھا۔

    انڈیا نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ انڈیا کی جانب آنے والے جہازوں کی آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا رکاوٹ گزرگاہ کو دوبارہ یقینی بنائے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق، ایرانی سفیر نے انڈیا کے مؤقف کو تہران تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

  20. پاکستان کے آرمی چیف نے تہران آمد پر امریکہ کی جانب سے نئی تجاویز پیش کیں جن کا جائزہ لے رہے ہیں: سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے امریکہ کے ساتھ جنگ اورمذاکرات کے حوالے سے تازہ پیش رفت کے حوالے سے تازہ بیان جاری کیا ہے۔

    ایران کی پاسداران انقلاب سے منسلک خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کے آرمی چیف کی تہران آمد کے بعد امریکہ کی جانب سے نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں جنھیں ایران ابھی تک جانچ رہا ہے اور ان پر کوئی حتمی جواب نہیں دیا گیا۔

    بیان کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ ایران خود کو جنگ میں کامیاب سمجھتا ہے اور امریکہ کو اپنے مطالبات اس حقیقت کے مطابق تبدیل کرنے چاہئیں۔

    تسنیم کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ عارضی جنگ بندی قبول کرنے کی اس کی ایک اہم شرط یہ تھی کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پرجنگ بندی ہو۔ ایرانی مؤقف کے مطابق، اسرائیل نے ابتدا میں لبنان اور حزب اللہ پر حملے کر کے اس شرط کی خلاف ورزی کی لیکن ایران کے دباؤ کے بعد اسرائیل نے لبنان میں جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔

    ’جنگ کے مکمل خاتمے تک آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی نگرانی کی جائے گی‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر دشمن تمام محاذوں پر جنگ بندی کی پابندی کرے تو ایران آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر صرف تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے پر تیار ہے۔ یہ اجازت بھی ایران کی نگرانی، اس کے مقرر کردہ راستے اور صرف غیر فوجی جہازوں تک محدود ہوگی، جبکہ مخالف ممالک کے فوجی جہازوں کو اس سے استثنا حاصل نہیں ہوگا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے خطے میں موجود فوجی اڈوں کی زیادہ تر سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے اور یہ صورتحال ایران اور خلیج فارس کے لیے سکیورٹی خطرہ سمجھی جاتی ہے۔

    بیان کے مطابق دشمن کی ناکامی اور ایرانی عوام و مسلح افواج کی مزاحمت کے بعد جنگ کے دسویں دن سے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کی درخواستیں موصول ہونا شروع ہوئیں۔ یہ وہی جنگ تھی جس کا آغاز خود امریکہ نے کیا تھا۔

    بیان میں ایرانی عوام اور مسلح افواج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذاکراتی ٹیم خدا پر بھروسے اور عوامی حمایت کے ساتھ سیاسی میدان میں داخل ہوئی ہے تاکہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔

    بیان کے مطابق، ایرانی وفد کسی قسم کی رعایت، پسپائی یا نرمی اختیار نہیں کرے گا اور پوری قوت کے ساتھ ایران کے مفادات، قومی عزت اور جنگ میں دی گئی قربانیوں کا دفاع کرے گا۔

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر مخالف فریق جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈالے یا بحری محاصرہ جیسی کارروائیاں کرے تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا، اور اس صورت میں آبنائے ہرمز کی مشروط اور محدود گشائش روک دی جائے گی۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سیاسی میدان میں مضبوط بنانے کے لیے عوام کی مسلسل موجودگی اور قومی اتحاد کا برقرار رہنا ضروری ہے۔ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹریٹ نے رہبرِ انقلاب کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکام، میڈیا اور سیاسی و سماجی کارکنوں کو اس اتحاد کے تحفظ میں کردار ادا کرنا چاہیے۔