امریکی اور ایرانی قیادت اسلام آباد آنے پر رضامند، مذاکرات کو کامیاب کرانے کی کوشش کریں گے: شہباز شریف

،تصویر کا ذریعہPID
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے رہنما سنیچر کے روز اسلام آباد آمد کے لیے راضی ہو چکے ہیں اور اب یہ دیرپا جنگ بندی کا ایک ’کٹھن مرحلہ‘ ہے۔
قوم سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’خلیج میں اب جنگ نہیں، امن کی باتیں ہو رہی ہیں۔ وہ فریق جو کل تک جنگ میں آمنے سامنے تھے اور خطہ تباہی کا منظر پیش کر رہا تھا، آج دونوں فریق بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے پر راضی ہو چکے ہیں۔‘
’میں اس اہم پیشرفت پر برادر ملک ایران اور امریکہ کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے میری تجویز قبول کرتے ہوئے نہ صرف عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا بلکہ میری دعوت پر دونوں ملکوں کی قیادت اسلام آباد تشریف لا رہی ہے، جہاں امن کے قیام کے لیے مذاکرات ہوں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ عالمِ اسلام کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔‘
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ان نازک لمحات میں پاکستان کی قیادت نے انتہائی محتاط انداز میں، مگر بڑے اعتماد کے ساتھ، دونوں فریق کو عارضی جنگ بندی پر راضی کیا اور اسلام آباد آنے کی دعوت دی۔ اس موقع پر میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔‘
’میں یہاں خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کی ٹیم کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنھوں نے محنت اور تدبر کے ذریعے جنگ کے شعلے بجھانے اور فریقین کو مذاکرات پر راضی کرنے میں کلیدی اور تاریخ ساز کردار ادا کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ان خدمات کو ’تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔‘
وزیرِ اعظم پاکستان نے تسلیم کیا کہ ’عارضی جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے مگر اب اس سے بھی زیادہ کٹھن مرحلہ دیرپا جنگ بندی کا ہے۔ یہ مرحلہ مذاکرات کے ذریعے الجھے ہوئے مسائل کو حل کرنے کا ہے جو ’میک اینڈ بریک‘ کے مترادف ہے۔‘
’میں سب سے درخواست کروں گا کہ دعا کریں کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں، انگنت معصوم زندگیاں بچ جائیں اور دنیا میں امن قائم ہو جائے۔‘
’سنیچر کو دونوں ممالک کی قیادت اسلام آباد میں موجود ہو گی اور پاکستانی قیادت ان مذاکرات کو کامیاب کرانے کے لیے پوری خلوص کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔‘













