لائیو, امریکی اور ایرانی قیادت اسلام آباد آنے پر رضامند، مذاکرات کو کامیاب کرانے کی کوشش کریں گے: شہباز شریف

پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے رہنما سنیچر کے روز اسلام آباد آمد کے لیے راضی ہو چکے ہیں اور اب یہ دیرپا جنگ بندی کا ایک ’کٹھن مرحلہ‘ ہے۔ یاد رہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکے ہیں جس کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایرانیوں کے لیے زندہ رہنے کی واحد وجہ مذاکرات کرنا ہے۔‘

خلاصہ

  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ
  • ایران کا اسلام آباد مذاکرات سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ
  • لبنان کا اسرائیلی حملے میں 13 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ
  • پاکستان کا ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے آنے والے مندوبین اور صحافیوں کے لیے 'ویزا آن ارائیول' کا اعلان
  • عالمی آبی راستوں سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول نہیں کیا جا سکتا، برطانوی وزیرِ خارجہ
  • ایران آبنائے ہرمز کے معاملے میں 'بہت خراب کام' کر رہا ہے، یہ وہ معاہدہ نہیں جو طے ہوا تھا: ڈونلڈ ٹرمپ
  • صدر ٹرمپ اسلام آباد مذاکرات کے نتیجے میں ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے 'پُرامید'

لائیو کوریج

  1. امریکی اور ایرانی قیادت اسلام آباد آنے پر رضامند، مذاکرات کو کامیاب کرانے کی کوشش کریں گے: شہباز شریف

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPID

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے رہنما سنیچر کے روز اسلام آباد آمد کے لیے راضی ہو چکے ہیں اور اب یہ دیرپا جنگ بندی کا ایک ’کٹھن مرحلہ‘ ہے۔

    قوم سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’خلیج میں اب جنگ نہیں، امن کی باتیں ہو رہی ہیں۔ وہ فریق جو کل تک جنگ میں آمنے سامنے تھے اور خطہ تباہی کا منظر پیش کر رہا تھا، آج دونوں فریق بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے پر راضی ہو چکے ہیں۔‘

    ’میں اس اہم پیشرفت پر برادر ملک ایران اور امریکہ کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے میری تجویز قبول کرتے ہوئے نہ صرف عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا بلکہ میری دعوت پر دونوں ملکوں کی قیادت اسلام آباد تشریف لا رہی ہے، جہاں امن کے قیام کے لیے مذاکرات ہوں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ عالمِ اسلام کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ان نازک لمحات میں پاکستان کی قیادت نے انتہائی محتاط انداز میں، مگر بڑے اعتماد کے ساتھ، دونوں فریق کو عارضی جنگ بندی پر راضی کیا اور اسلام آباد آنے کی دعوت دی۔ اس موقع پر میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔‘

    ’میں یہاں خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کی ٹیم کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنھوں نے محنت اور تدبر کے ذریعے جنگ کے شعلے بجھانے اور فریقین کو مذاکرات پر راضی کرنے میں کلیدی اور تاریخ ساز کردار ادا کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ان خدمات کو ’تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔‘

    وزیرِ اعظم پاکستان نے تسلیم کیا کہ ’عارضی جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے مگر اب اس سے بھی زیادہ کٹھن مرحلہ دیرپا جنگ بندی کا ہے۔ یہ مرحلہ مذاکرات کے ذریعے الجھے ہوئے مسائل کو حل کرنے کا ہے جو ’میک اینڈ بریک‘ کے مترادف ہے۔‘

    ’میں سب سے درخواست کروں گا کہ دعا کریں کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں، انگنت معصوم زندگیاں بچ جائیں اور دنیا میں امن قائم ہو جائے۔‘

    ’سنیچر کو دونوں ممالک کی قیادت اسلام آباد میں موجود ہو گی اور پاکستانی قیادت ان مذاکرات کو کامیاب کرانے کے لیے پوری خلوص کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔‘

  2. پاکستانی وزیر اعظم کا ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

    پیٹرولیئم مصنوعات

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

    جمعے کی شب قوم سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت میں 135 روپے کی کمی جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے کی کمی کی گئی ہے۔ اس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ’ڈیزل جو 520 روپے فی لیٹر ہے، رات 12 بجے سے 385 رپے فی لیٹر مہیا ہو گا۔‘

    جبکہ پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

  3. کیئر سٹامر اور شہباز شریف کا ’جنگ بندی برقرار رکھنے‘ پر زور

    پاکستان اور برطانیہ کے وزرائے اعظم نے ایک ٹیلی فونک گفتگو میں اسلام آباد مذکرات کے ذریعے جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔

    وزیر اعظم پاکستان کے دفتر کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق شہباز شریف کو جمعے کی شب برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر سٹامر کی جانب سے ٹیلیفون کال موصول ہوئی۔ ’وزیرِ اعظم سٹامر نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں سہولت فراہم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان کی مؤثر سفارتی کاوشوں کو بے حد سراہا۔ انھوں نے اسلام آباد میں امن مذاکرات کی میزبانی پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کو مبارکباد دی اور اس عمل کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔‘

    اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مخلصانہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اہم یورپی اور بین الاقوامی رہنماؤں، بشمول وزیرِ اعظم سٹامر، کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان کا خیر مقدم کیا جس میں پاکستان کی امن کوششوں کی تائید کی گئی ہے۔‘

    ’دونوں رہنماؤں نے اس امر کی اہمیت پر زور دیا کہ جنگ بندی برقرار رہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔‘

    اس دوران شہباز شریف نے برطانوی وزیر اعظم کو ’پاکستان کے سرکاری دورے کی اپنی پُرتپاک دعوت کا اعادہ بھی کیا۔‘

  4. امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں لبنان کو شامل کیا جائے: عراقچی, بی بی سی مانیٹرنگ

    عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو اپنی ’ذمہ داریوں‘ کی پاسداری کرنی ہوگی۔

    وزارتِ خارجہ کے ٹیلی گرام چینل پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی نے یہ باتیں لبنان میں ایران کے سفیر سے ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی وفد کے سنیچر کے روز اسلام آباد میں امریکی نمائندوں سے مذاکرات ہوں گے۔ تاہم تہران نے اب تک اپنی شرکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر کیے گئے حملے مجوزہ منصوبے کی خلاف ورزی ہیں۔

    تہران اور واشنگٹن کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کے مؤقف میں گہرے اختلافات موجود ہیں۔

  5. امریکہ اپنے جہازوں پر 'بہترین ہتھیار' رکھ رہا ہے، اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو ہم انھیں استعمال کریں گے، ٹرمپ کا انتباہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اپنے بحری جہازوں کو بہترین ہتھیاروں سے لیس کر رہا ہے، اگر معاہدہ نہ ہوا تو انھیں استعمال کریں گے۔

    جمعے کے روز نیویارک پوسٹ کو دِیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں 24 گھنٹوں میں اس سے متعلق معلوم ہو جائے گا۔‘

    صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اپنے جہازوں پر بہترین ہتھیار لاد رہے ہیں، یہاں تک کہ اس سے بھی بہترین سطح کے ہتھیار جو ہم مکمل تباہی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر ہمارا معاہدہ نہ ہوا تو پھر ہم ان ہتھیاروں کو استعمال کریں گے اور بہت موثر طریقے سے استعمال کریں گے۔‘

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آپ ایرانی ایسے لوگ ہیں جنھیں آپ ’نہیں جانتے کہ وہ سچ کہتے ہیں یا نہیں۔‘

    بعدازاں ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ’ایرانیوں کے زندہ رہنے کی واحد وجہ مذاکرات کرنا ہے۔‘

    صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’ایرانیوں کے پاس بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر مختصر وقت کے لیے بھتہ وصولی کے علاوہ کوئی کارڈ نہیں ہے۔

  6. لبنان کا اسرائیلی حملے میں 13 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ

    لبنان کے صدارتی دفتر کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان کے شہر نباتیح میں اسرائیلی حملے میں 13 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں ملک کے صدارتی آفس نے لکھا کہ صدر جوزف نے ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اسرائیلی فوج نے تاحال اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

  7. مذاکرات سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی ضروری ہے: ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور اسلام آباد مذاکرات کے لیے نامزد کردہ ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ فریقین کے مابین باہمی طور پر طے پانے والے دو معاملات پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔

    ایکس پر جاری اپنے بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ لبنان میں جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز سے قبل ایران کے اثاثوں کی بحالی پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے یہ دونوں معاملات حل ہونے چاہییں۔

  8. ایران-امریکہ مذاکرات: اسلام آباد میں کیا ہو رہا ہے؟, روحان احمد، بی بی سی اُردو اسلام آباد

    تصویر

    امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد کے لیے روانہ چکے ہیں، جہاں وہ ایرانی وفد کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔

    ایرانی وفد کہاں ہے، کب اسلام آباد پہنچے گا اور مذاکرات کس نوعیت کے ہوں گے، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سرکاری اور غیر سرکاری طور پر موجود نہیں ہیں۔

    دارالحکومت کا ریڈ زون جو جمعے کی دوپہر تک صحافیوں کے لیے کھلا تھا اسے بھی تمام لوگوں اور ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

    ریڈ زون سے ملحقہ علاقوں میں جگہ جگہ پاکستانی اور غیرملکی صحافی کیمرے پکڑے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

    پاکستانی حکومت نے صحافیوں کے لیے جناح کنوینشن سینٹر کو مختص کر دیا ہے۔

  9. اسرائیل کا لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ راکٹ حملے کے جواب میں اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایسے وقت میں جب پاکستان میں مذاکرات ہونے والے ہیں، اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کی جانب سے داغے گئے میزائل حملوں کو روکا ہے۔ اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق راکٹ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

  10. پاکستان روانگی سے قبل جے ڈی وینس کی صحافیوں سے گفتگو

    ،ویڈیو کیپشن’ایران نے دھوکہ دینے کی کوشش کی تو امریکہ مثبت ردعمل نہیں دے گا‘
  11. اسلام آباد مذاکرات: جے ڈی وینس کو منصب سنبھالنے کے بعد سب سے مشکل چیلنج کا سامنا, ڈینئل بش

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    نائب صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جے ڈی وینس کو شاید اپنے سب سے مشکل چیلنج کا سامنا ہے۔ وہ ایران سے مذاکرات کے لیے پاکستان کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

    وینس اس ہفتے کے آخر میں توجہ کا مرکز ہوں گے کیونکہ وہ اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ مذاکرات فریقین کی جانب سے دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی پر رضا مندی کے بعد شروع ہو رہے ہیں۔

    وینس کو جنگ کے مستقل خاتمے کو یقینی بنانے کی کوشش میں تہران، اسرائیل اور امریکہ کے اتحادیوں کو مطمئن کرنے جیسے مشکل چیلنج کا سامنا ہو گا۔

    نائب صدر جے ڈی وینس کو یہ بھی یقینی بنانا ہو گا کہ مذاکرات کا نتیجہ امریکہ کے لیے ایک طرح سے ایک فتح ہو تاکہ وہ امریکہ میں اپنے حامیوں کو مطمئن کر سکیں۔

    یہ واضح نہیں کہ اس مسئلے کا کیا حل ہو گا، جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو یا جس کے ذریعے آبنائے ہرمز کھلنے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی توقع ہو۔

  12. تیل کی قیمتوں میں اضافہ، امریکہ میں مہنگائی دو برسوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    امریکہ میں مہنگائی گذشتہ ماہ تقریباً دو سالوں کی بلند ترین شرح تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجہ ایران جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور معیشت پر اس کا منفی اثر ہے۔

    امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق مارچ میں مہنگائی کی شرح گذشتہ 12 ماہ کے دوران بڑھ کر سب سے زیادہ 3.3 فیصد ہو گئی ہے جو فروری میں 2.4 فیصد تھی۔

    یہ سنہ 2022 کے بعد مہنگائی کی شرح میں ہونے والا سب سے زیادہ ماہانہ اضافہ ہے۔

    رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ اضافہ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے ہوا، کیونکہ اس سے تیل کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہوا ہے۔

  13. لبنانی حکومت اسرائیل کو کسی قسم کی کوئی رعایت نہ دے: حزب اللہ کی وارننگ

    حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم نے لبنانی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ آئندہ ہفتے واشنگٹن میں متوقع مذاکرات کے دوران اسرائیل کو رعایتیں دینے سے اجتناب کرے۔

    ’المنار ٹی وی‘ پر نشر ہونے والے بیان میں نعیم قاسم کا کہنا تھا کہ لبنانی حکومت کسی بھی ایسے معاہدے سے گریز کرے جس سے یہ تاثر ملے کہ اس نے اسرائیل کو بغیر کسی ازالے کے رعایت دی ہے۔

    اُنھوں نے اسرائیل کی جانب لبنان میں کی جانے والی بمباری کو مجرمانہ خونریزی قرار دیا، جس میں لبنانی حکام کے مطابق 300 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    دوسری جانب اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اُن کی حکومت لبنان کے ساتھ فوری طور پر مذاکرات شروع کرے گی، جس کا بنیادی نقطہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہو گا۔

  14. اسلام آباد ایران - امریکہ مذاکرات کے لیے تیار

    امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات سنیچر کو اسلام آباد میں ہونے والے ہیں۔ دونوں ملکوں کے مذاکراتی وفود سے قبل ایڈونس ٹیم پاکستان پہنچ چکی ہیں۔ اسلام آباد میں ان مذاکرات کے حوالے سے کیے جانے والی حفاظتی اقدامات کے بارے میں دیکھیے شہزاد ملک کی رپورٹ۔

    ،ویڈیو کیپشناسلام آباد ایران - امریکہ مذاکرات کے لیے تیار
  15. امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان روانہ: ’صدر ٹرمپ سے ہدایات لے کر مذاکرات کے لیے جا رہا ہوں‘

    USA

    ،تصویر کا ذریعہPOOL

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان میں امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے ایئر فورس ٹو میں سوار ہو گئے ہیں۔

    طیارے میں سوار ہونے سے قبل اُن کا کہنا تھا، ’ہم مذاکرات کے منتظر ہیں‘ اور مزید کہا کہ اگر ایران ’خیرسگالی‘ کا مظاہرہ کرتا ہے تو امریکہ ’کھلے دل سے آگے بڑھنے‘ کے لیے تیار ہے۔ تاہم اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران نے ’ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کی‘ تو امریکہ مثبت ردعمل نہیں دے گا۔

    اُن کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے انھیں ان مذاکرات کے لیے رہنما اصول فراہم کیے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ یہ مذاکرات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہوں گے اور سنیچر کے روز شروع ہونے کی توقع ہے۔

    ان مذاکرات میں جے ڈی وینس کے ہمراہ خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے، تاہم پاکستان میں ہمارے نمائندے کے مطابق ایرانی وفد کی آمد کا ابھی انتظار ہے۔

  16. اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کی آمد کا انتظار جاری, کیری ڈیویز، بی بی سی نیوز

    پاکستان، ایران، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کی آمد کا انتظار کیا جا رہا ہے، اور شہر میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    جب بی بی سی کی ٹیم ڈی چوک کے علاقے میں، ایوانِ صدر اور پارلیمنٹ کے سامنے مرکزی چوراہے کے قریب فلم بندی کر رہی تھی تو پولیس نے میڈیا ٹیموں کو پیچھے ہٹانا شروع کر دیا۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ انھیں توقع ہے کہ وفود جلد پہنچ جائیں گے، تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سا وفد کب پہنچے گا۔

    اسلام آباد کے ریڈ زون، جہاں زیادہ تر سرکاری عمارتیں اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں، کو خاردار تار لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ شہر میں چیک پوائنٹس کی تعداد بڑھا دی گئی ہے اور سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم ہے۔ پولیس، فوج اور نیم فوجی دستے سکیورٹی کے لیے تعینات ہیں جبکہ بین الاقوامی صحافی بھی شہر پہنچ رہے ہیں۔

    ابھی تک اس بات کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی کہ دونوں میں سے کوئی وفد اسلام آباد پہنچا ہے۔ گذشتہ روز پاکستان میں ایران کے سفیر نے ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ان کا وفد رات کو پہنچے گا، لیکن ایک گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ حذف کر دی گئی۔

    پاکستان کی جانب سے بھی مذاکرات کا کوئی باضابطہ شیڈول جاری نہیں کیا گیا، تاہم وائٹ ہاؤس پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ بات چیت سنیچر کی صبح ہوگی۔ اسلام آباد انتظار کی کیفیت میں ہے۔

  17. انڈیا کا لبنان میں اسرائیلی حملوں میں ہونے والی ’بڑی تعداد میں شہری ہلاکتوں‘ پر تشویش کا اظہار

    مودی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہونے والی ’بڑی تعداد میں شہری ہلاکتوں‘ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ انڈیا کے لیے موجودہ صورتحال ’انتہائی پریشان کن‘ ہے، خصوصاً اس لیے کہ انڈیا اقوامِ متحدہ کی امن فوج یونیفِل میں اپنے دستے تعینات کیے ہوئے ہے اور لبنان کے امن و استحکام میں براہِ راست دلچسپی رکھتا ہے۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ لبنان میں جاری صورتحال پر انڈیا گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ملک کی اولین ترجیح وہاں موجود شہریوں کا تحفظ ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ انڈیا لبنان میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے عالمی برادری کے ساتھ رابطے میں ہے۔

    ترجمان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جاری حملوں کے باعث صورتحال تشویشناک ہے، اور انڈیا نے زور دیا ہے کہ شہریوں اور سول تنصیبات کا تحفظ بین الاقوامی انسانی قوانین کے مطابق یقینی بنایا جانا چاہیے۔

    انڈیا نے یہ بھی کہا کہ وہ لبنان کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

  18. پاکستان کی تیاریوں کے باوجود امن مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے, بی بی سی نیوز کی چیف بین الاقوامی نامہ نگار لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ

    پاکستان، ایران، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسلام آباد میں سنیچر کے روز طے شدہ امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطح مذاکرات کے بارے میں اب بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ جب میں نے جمعے کی صبح تہران میں وزارتِ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار سے پوچھا تو ان کا جواب تھا کہ ’ابھی کچھ حتمی فیصلہ نہیں ہوا‘۔

    گذشتہ روز سوشل میڈیا پر یہ رپورٹس سامنے آئیں کہ ایرانی وفد پاکستان پہنچ چکا ہے، لیکن ان کی تردید کر دی گئی اور ایک پوسٹ بھی حذف کر دی گئی۔ اس کے باوجود پاکستان میں تیاریوں کی رفتار سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات طے شدہ منصوبے کے مطابق ہونے جا رہے ہیں۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم، جو پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھی جاتی ہے، نے کل رپورٹ کیا تھا کہ جب تک لبنان میں جنگ بندی نہیں ہوتی، مذاکرات معطل رہیں گے۔ ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ نے بھی بی بی سی کے پروگرام ٹوڈے میں یہی مؤقف دہرایا۔

    یہ صورتحال ایک مشکل انتخاب کی طرف اشارہ کرتی ہے: کیا ایران اپنے اہم ترین اتحادی حزب اللہ سے لاتعلقی اختیار کرے، یا اہم سفارتی کوششوں کو خطرے میں ڈال دے؟ جنگ بندی کے لیے ہونے والی ہنگامی کوششیں آخری لمحات تک جاری رہیں، اور بظاہر یہی کیفیت ان مذاکرات پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔

  19. آبنائے ہرمز میں ’ٹول ٹیکس یا گزرگاہ پر پابندیاں‘ قابلِ قبول نہیں ہوں گی، برطانوی وزیر اعظم کا خلیجی دورے کے اختتام پر بیان

    برطانوی وزیر اعظم

    ،تصویر کا ذریعہUK Pool

    خلیجی ممالک کے دورے کے اختتام پر برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ اس پورے دورے میں زیادہ تر گفتگو آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے ’عملی منصوبے‘ پر مرکوز رہی۔

    یہ اہم آبی راستہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل کا مرکز ہے، لیکن ایران کی جانب سے اجازت کے بغیر گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد یہاں سے گزرنے کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا کہ ’یہ تنازع ہماری آنے والی نسل کو متعین کرے گا اور ہمیں اس کا جواب دینا ہوگا، اور ہم مضبوطی سے جواب دیں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے خلیجی رہنماؤں کے ساتھ ’مشترکہ دفاع‘ کے موضوع پر بھی بات چیت کی۔

    جمعرات کی شب کیئر سٹارمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی گفتگو کی، اور ڈاؤننگ سٹریٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے موجودہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی کے لیے ’عملی منصوبے‘ کی ضرورت پر بات کی۔

    موجودہ صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے تسلیم کیا کہ موجودہ جنگ بندی ’نہایت نازک‘ ہے، اور انھوں نے نشریاتی اداروں کو بتایا کہ خطے میں کسی بھی طویل المدتی امن معاہدے کے حصے کے طور پر آبنائے ہرمز میں ’ٹول ٹیکس یا گزرگاہ پر پابندیاں‘ قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔

  20. جنگ بندی کی صورت میں اسرائیل سے مذاکرات کریں گے: لبنان

    Lebonan

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لبنان کے صدارتی دفتر کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ اگر پہلے جنگ بندی نافذ ہو جائے تو لبنان آئندہ ہفتے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں شرکت کرے گا۔ اہلکار کے مطابق ملاقات کی تاریخ اور وقت کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔

    لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات ماضی میں بھی کبھی کبھار ہوئے ہیں، لیکن یہ ایک غیر معمولی عمل سمجھا جاتا ہے۔ عموماً دونوں ممالک کے درمیان رابطہ امریکی ثالثی کے ذریعے ہوتا ہے۔

    نومبر 2024 میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے مذاکرات کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں، اور امریکی نمائندے اس دوران دونوں فریقوں کے درمیان بالواسطہ بات چیت کی سہولت فراہم کرتے رہے ہیں۔