پاکستان کی تیاریوں کے باوجود امن مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے, بی بی سی نیوز کی چیف بین الاقوامی نامہ نگار لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ

،تصویر کا ذریعہEPA
اسلام آباد میں سنیچر کے روز طے شدہ امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطح مذاکرات کے بارے میں اب بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ جب میں نے جمعے کی صبح تہران میں وزارتِ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار سے پوچھا تو ان کا جواب تھا کہ ’ابھی کچھ حتمی فیصلہ نہیں ہوا‘۔
گذشتہ روز سوشل میڈیا پر یہ رپورٹس سامنے آئیں کہ ایرانی وفد پاکستان پہنچ چکا ہے، لیکن ان کی تردید کر دی گئی اور ایک پوسٹ بھی حذف کر دی گئی۔ اس کے باوجود پاکستان میں تیاریوں کی رفتار سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات طے شدہ منصوبے کے مطابق ہونے جا رہے ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم، جو پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھی جاتی ہے، نے کل رپورٹ کیا تھا کہ جب تک لبنان میں جنگ بندی نہیں ہوتی، مذاکرات معطل رہیں گے۔ ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ نے بھی بی بی سی کے پروگرام ٹوڈے میں یہی مؤقف دہرایا۔
یہ صورتحال ایک مشکل انتخاب کی طرف اشارہ کرتی ہے: کیا ایران اپنے اہم ترین اتحادی حزب اللہ سے لاتعلقی اختیار کرے، یا اہم سفارتی کوششوں کو خطرے میں ڈال دے؟ جنگ بندی کے لیے ہونے والی ہنگامی کوششیں آخری لمحات تک جاری رہیں، اور بظاہر یہی کیفیت ان مذاکرات پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔



















