اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کی آمد کا انتظار جاری, کیری ڈیویز، بی بی سی نیوز

،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کی آمد کا انتظار کیا جا رہا ہے، اور شہر میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
جب بی بی سی کی ٹیم ڈی چوک کے علاقے میں، ایوانِ صدر اور پارلیمنٹ کے سامنے مرکزی چوراہے کے قریب فلم بندی کر رہی تھی تو پولیس نے میڈیا ٹیموں کو پیچھے ہٹانا شروع کر دیا۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ انھیں توقع ہے کہ وفود جلد پہنچ جائیں گے، تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سا وفد کب پہنچے گا۔
اسلام آباد کے ریڈ زون، جہاں زیادہ تر سرکاری عمارتیں اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں، کو خاردار تار لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ شہر میں چیک پوائنٹس کی تعداد بڑھا دی گئی ہے اور سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم ہے۔ پولیس، فوج اور نیم فوجی دستے سکیورٹی کے لیے تعینات ہیں جبکہ بین الاقوامی صحافی بھی شہر پہنچ رہے ہیں۔
ابھی تک اس بات کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی کہ دونوں میں سے کوئی وفد اسلام آباد پہنچا ہے۔ گذشتہ روز پاکستان میں ایران کے سفیر نے ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ان کا وفد رات کو پہنچے گا، لیکن ایک گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ حذف کر دی گئی۔
پاکستان کی جانب سے بھی مذاکرات کا کوئی باضابطہ شیڈول جاری نہیں کیا گیا، تاہم وائٹ ہاؤس پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ بات چیت سنیچر کی صبح ہوگی۔ اسلام آباد انتظار کی کیفیت میں ہے۔




















