انگریزی زبان کے چار دور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچھلے مضامین میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ انگریزی زبان Indo European خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اس لحاظ سے اردو، ہندی، فارسی وغیرہ کے ساتھ اس کا ایک دور کا رشتہ بنتا ہے۔ آج ہم انگریزی زبان کی جدید تاریخ پر کچھ بات چیت کریں گے۔ پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی میں جزائر برطانیہ پر شمال کی جانب سے ’اینگل‘ اور ’سیکسن‘ قبائل حملہ آور ہوئے تھے اور انہوں نے Celtic زبانیں بولنے والے مقامی باشندوں کو سکاٹ لینڈ، آئرلینڈ اور ویلز کی طرف دھکیل دیا تھا۔ ( اسی طرح جیسے آریاؤں نے ہندوستان کے مقامی باشندوں کو جنوب کی طرف دھکیل دیا تھا۔) آٹھویں اور نویں صدی میں شمال سے Vikings اور Norse قبائل کے حملے بھی شروع ہوگئے اور اس طرح موجودہ انگلستان کا علاقہ کئی طرح کی زبانیں بولنے والوں کی آماج گاہ بن گیا اور کئی پرانے الفاظ کو نئے معنی مل گئے مثلاً Dream کا مطلب اس وقت تک ’مزہ کرنا‘ تھا لیکن شمال کے بحری قزاقوں (vikings ) نے اسے ’خواب‘ کے معانی پہنا دیے۔
اسی طرح skirt کا لفظ بھی شمالی حملہ آوروں کے ساتھ یہاں آیا لیکن اس کی شکل بدل کر shirt ہو گئی۔ بعد میں دونوں الفاظ الگ الگ معانی میں مستعمل ہو گئے اور آج تک ہو رہے ہیں۔ سن 500 سے لے کر 1100 تک کے زمانے کو پرانی انگریزی یا Old English کا دور کہا جاتا ہے۔ 1066 میں ڈیوک آف نارمنڈی نے انگلستان پر حملہ کیا اور یہاں کے Anglo - Saxon قبائل پر فتح پائی۔ اس طرح قدیم فرانسیسی زبان کے الفاظ مقامی زبان میں شامل ہونے لگے۔ انگریزی کا یہ دور 1100 سے 1500 تک جاری رہا اور اسے انگریزی کا وسطی دور کہا جاتا ہے (Middle English )۔ قانون اور جرم و سزا سے تعلق رکھنے والے بہت سے انگریزی الفاظ اسی زمانے میں وضع ہوئے۔ انگریزی ادب میں چاسر (Chaucer) کی شاعری کو اس زبان کی اہم مثال قرار دیا جاتا ہے۔ سن 1500 کے بعد انگریزی کا جدید دور شروع ہوتا ہے جب نشاۃ الثانیہ کی بدولت قدیم یونانی علوم و فنون کا احیاء ہوا اور یونانی کے الفاظ نے بھی انگریزی میں راہ پائی۔ اس دور کی ابتدا شیخصپئر جیسے عظیم نام سے ہوتی ہے اور یہ دور سن 1800 تک چلتا ہے۔ سن 1800 کے بعد کا دور انگریزی کا جدید تر دور کہلاتا ہے جس میں انگریزی کی گرامر سادہ ہو چکی ہے اور اس میں انگریزوں کی ایشیائی اور افریقی نو آبادیوں کی زبانوں کے بہت سے الفاظ شامل ہو چکے ہیں۔ عالمی سیاست، معیشت اور تجارت میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے باعث امریکی انگریزی (American English ) نے بھی خاص مقام پیدا کر لیا ہے۔ ہجوں (Spelling) کی سادگی اور بات کرنے کا براہ راست اور بے تکلفانہ انداز امریکی انگریزی کے خاص اوصاف ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||