BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 27 February, 2009, 08:20 GMT 13:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پردے کاخیال رکھو، برقعہ پہن کرآیا کرو
حجاب(فائل فوٹو)

سوات میں طالبان نے پندرہ جنوری سے لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی لگادی تھی مگر صوبائی حکومت اور کالعدم تحریکِ نفاذ شریعت محمدی کے درمیان ہونے والے ’امن معاہدے‘ کے بعد طالبان نے اپنا یہ فیصلہ صرف امتحانات کے انعقاد تک جزوی طور پر واپس لے لیا ہے۔مقامی طالبات کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی غیر یقینی کی صورتحال سے گزر رہی ہیں۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سوات سے تعلق رکھنے والی ساتویں جماعت کی ایک متاثرہ طالبہ کی کہانی ایک ڈائری کی صورت میں شائع کر رہی ہے۔ سکیورٹی کے خدشے کے پیش نظر وہ ’گل مکئی‘ کے فرضی نام سے اپنی ڈائری لکھ رہی ہیں۔ اس سلسلے کی آٹھویں کڑی:


سینیچر، اکیس فروری:’طالبان نے لڑکیوں کے سکولوں سے پابندی اٹھالی‘

سوات میں حالات رفتہ رفتہ صحیح ہو رہے ہیں۔ فائرنگ اور توپخانے کے استعمال بھی بہت حد تک کمی آئی ہے۔ لیکن لوگ اب بھی ڈرے ہوئے ہیں کہ کہیں امن معاہدہ ٹوٹ نہ جائے۔

لوگ ایسی افواہیں بھی پھیلارہے ہیں کہ طالبان کے کچھ کمانڈر اس معاہدے کو نہیں مان رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم آخری دم تک لڑیں گے۔ایسی افواہیں سن کر دل دھڑکنےلگتا ہے۔ آخر وہ ایسا کیوں کررہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم جامعہ حفصہ اور لال مسجد کا بدلہ لینا چاہتے ہیں لیکن اس میں ہمارا کیا قصور ہے جنہوں نے یہ آپریشن کیا تھا ان سے یہ لوگ کیوں انتقام نہیں لیتے۔

ابھی کچھ دیر پہلے مولانا فضل اللہ نے ایف ایم پر اعلان کیا کہ لڑکیوں کے سکول پر پابندی سے متعلق اپنا فیصلہ واپس لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لڑکیاں امتحانات تک جو سترہ مارچ سے شروع ہو رہے ہیں سکول جا سکتی ہیں مگر انہیں پردہ کرنا ہوگا۔

میں یہ سن کر بہت زیادہ خوش ہوئی۔میں یقین نہیں کر سکتی تھی کہ ایسا بھی کبھی ہوسکے گا۔


اتوار، بائیس فروری:’خواتین مارکیٹ سنسان پڑی تھی‘

آج ہم شاپنگ کرنے کے لیے خواتین مارکیٹ گئے۔ راستے میں ہمیں بہت زیادہ خوف محسوس ہو رہا تھا کیونکہ طالبان نے خواتین کی بازاروں میں شاپنگ کرنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ ہم مینگورہ کی چینہ مارکیٹ گئے جہاں پر صرف خواتین کی ضرورت کی چیزیں بکتی ہیں۔

مارکیٹ میں داخل ہوتے ہی حیران ہوگئے کہ وہاں پر چند ہی خواتین شاپنگ کرنے آئی تھیں۔پہلے جب ہم یہاں آتے تھےتو خواتین کا اتنا زیادہ رش ہوتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو دھکا دے کر اپنے لیے راستہ بناتی تھیں۔ مارکیٹ میں کچھ دکانیں بند تھیں اور بعض پر لکھا ہوا تھا’ دکان برائے فروخت‘۔ اور جو کھلی بھی تھیں تو ان میں سامان کم پڑا تھا اور وہ بھی بہت پرانا۔


پیر، تیئس فروی: ’سکول کھل گئے‘

میں آج اٹھتے ہی بہت زیادہ خوش تھی کہ آج سکول جاؤں گی۔سکول گئی تو دیکھا کچھ لڑکیاں یونیفارم اور بعض گھر کے کپڑوں میں آئی ہوئی تھیں۔اسمبلی میں زیادہ تر لڑکیاں ایک دوسرے سے گلے مل رہی تھیں اور بہت زیادہ خوش دکھائی دے رہی تھیں۔

اسمبلی ختم ہونے کے بعد ہیڈ مسٹرس نے بتایا کہ تم لوگ پردے کا خصوصی خیال رکھا کرو اور برقعہ پہن کر آیا کرو کیونکہ طالبان نے لڑکیوں کے سکول جانے کی اجازت دینے میں یہ شرط بھی رکھی ہے کہ لڑکیاں پردے کا خیال رکھیں۔

ہماری کلاس میں صرف بارہ لڑکیاں آئی تھیں کیونکہ کچھ سوات سے نقل مکانی کر چکی ہیں اور کچھ ایسی ہیں جنہیں اپنے والدین خوف کی وجہ سے سکول جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ میری چار سہیلیاں پہلے ہی سوات چھوڑ کر جا چکی ہیں اور آج ایک اور نے بھی کہا کہ وہ لوگ بھی راولپنڈی منتقل ہو رہے ہیں۔ میں بہت خفا ہوئی اور ان سے کہا بھی کہ اب تو وہ رک جائیں کیونکہ امن معاہدہ ہوگیا ہے اور حالات بھی آہستہ آہستہ ٹھیک ہورہے ہیں مگر وہ کہہ رہی تھی کہ نہیں حالات کا کوئی بھروسہ نہیں۔

مجھے بہت دکھ ہوا کہ میری چار سہیلیاں پہلے ہی جاچکی ہیں اور صرف ایک رہ گئی تھی اب وہ بھی چھوڑ کر جا رہی ہے۔


بدھ، پچیس فروری: ’مت اٹھاؤ تاکہ مولانا فضل اللہ کا کلیجہ ٹھنڈا ہو سکے‘

امی بیمار ہیں اور ابو کسی میٹنگ کے سلسلے میں سوات سے باہر گئے ہوئے ہیں اس لیے صبح میں نے ہی ناشتہ تیار کیا اور پھر سکول گئی۔ آج ہم نے کلاس میں بہت زیادہ مستی کی ویسے کھیلے جیسے پہلے کھیلا کرتے تھے۔

آج کل ہیلی کاپٹر بھی زیادہ نہیں آتے اور ہم نے بھی فوج اور طالبان کے بارے میں زیادہ باتیں کرنا چھوڑ دی ہیں۔ شام کو امی، میری کزن اور میں برقعہ پہن کر بازار گئے۔ ایک زمانے میں مجھے برقعہ پہننے کا بہت شوق تھا لیکن اب اس سے تنگ آئی ہوئی ہوں کیونکہ مجھ سے اس میں چلا نہیں جاسکتا۔

سوات میں آجکل ایک بات مشہور ہوگئی ہے کہ ایک دن ایک عورت شٹل کاک برقعہ پہن کر کہیں جا رہی تھی کہ راستے میں گر پڑی۔ ایک شخص نے آگے بڑھ کر جب اسے اٹھانا چاہا تو عورت نے منع کرتے ہوئے کہا ’رہنے دو بھائی مت اٹھاؤ تاکہ مولانا فضل اللہ کا کلیجہ ٹھنڈا ہوجائے‘۔

ہم جب مارکیٹ میں اس دکان میں داخل ہوئے جس سے ہم اکثر شاپنگ کرتے ہیں تو دکاندار نے ہنستے ہوئے کہا کہ میں تو ڈر گیا کہ کہیں تم لوگ خود کش حملہ تو کرنے نہیں آئے ہو۔وہ ایسا اس لیے کہہ رہے تھے کہ اس پہلے ایک آدھ واقعہ ایسا ہوا بھی ہے کہ خود کش حملہ آور نے برقعہ پہن کر حملہ کیا ہے۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
سوات سکولسوات کی طالبہ
’سوات میں لڑکوں کے سکول کھل چکے ہیں‘
سوات سکولسوات کی طالبہ
’ڈر ہے سکول ہمیشہ کے لیے بند نہ ہو جائے‘
سوات کی طالبہسوات کی طالبہ
’آنر بورڈ پر شاید اس سال کسی کا نام نہ آئے‘
 سوات میں فوج(فائل فوٹو)سوات کی طالبہ
’آخر یہ لوگ بلڈنگ کو کیوں سزا دے رہے ہیں‘
سوات کی طالبہ
دوسری قسط: ’شاید دوبارہ سکول نہ آسکوں‘
سوات کی طالبہ
’کل سکول جانا ہے، میرا دل دھڑک رہا ہے۔‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد