کرکٹ ورلڈ کپ، مراحل اور قوانین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیرہ مارچ سے ویسٹ انڈیز میں شروع ہونے والا کرکٹ ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا مقابلہ ہے۔اس مرتبہ کپ میں سولہ ٹیمیں شریک ہیں جبکہ 2003 میں یہ تعداد چودہ تھی۔
ٹورنامنٹ میں شریک سولہ ٹیموں کو چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور عالمی درجہ بندی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ گروپ اے ٭اس مرحلے میں ہر ٹیم اپنے گروپ میں شامل بقیہ تمام ٹیموں سے میچ کھیلے گی۔ جیت پر دو، مقابلہ بے نتیجہ رہنے یا برابری پر ایک جبکہ ہارنے پر کوئی پوائنٹ نہیں ملے گا۔ ٭ان مقابلوں کے بعد ہرگروپ میں پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں اگلے مرحلے میں پہنچ جائیں گی۔ ٭اس مرحلے کے اختتام پر کسی گروپ کی دو ٹیموں کے پوائنٹس برابر ہونے کی صورت میں ٹائی بریکر کا قانون لاگو ہوگا۔ اس قانون کے تحت زیادہ میچوں میں فتح، بہتر رن ریٹ، بہترین وکٹ اوسط یا باہمی مقابلے میں فتح کی بنیاد میں سے جو قانون مناسب ہو گا اس کی بنیاد پر پوزیشن کا فیصلہ کیا جائے گا۔
٭سپر 8 مرحلے میں چوبیس میچ کھیلے جائیں گے اور اس مرحلے میں پہنچنے والی ہر ٹیم اپنے پہلے مرحلے کی ساتھی ٹیم کے علاوہ بقیہ ٹیموں کے خلاف کھیلے گی۔ ٭ ہرگروپ سے آنے والی دونوں ٹیموں کے پہلے مرحلے میں باہمی میچ کے نتیجے میں حاصل کردہ پوائنٹس سپر ایٹ مرحلے میں ان کے حاصل کردہ پوائنٹس میں شامل کیے جائیں گے۔ ٭سپر ایٹ مرحلے کی چار بہترین ٹیمیں سیمی فائنل کھیلنے کی حقدار ہوں گی اور پوائنٹس کی برابری کی صورت میں پہلے مرحلے والا ٹائی بریکر قانون لاگو ہوگا۔ ٭سپر ایٹ مرحلے میں بھی سیڈنگ کا نظام پہلے مرحلےکی طرح عالمی درجہ بندی کے حوالے سے ہوگا۔ مثلاً اگر جنوبی افریقہ گروپ اے میں اول پوزیشن حاصل کرے اور آسٹریلیا دوسرے نمبر پر آئے تب بھی عالمی درجہ بندی کے لحاظ سے برتری کی بنیاد پر سپر ایٹ مرحلے میں آسٹریلیا اے1 کہلائے گی جبکہ جنوبی افریقہ اے 2 ہوگی۔
سپر ایٹ مرحلے کی فاتح ٹیم چوتھے نمبر پر آنے والی ٹیم سے جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں آپس میں سیمی فائنلز کھیلیں گی۔
٭اس ورلڈ کپ میں ہر میچ کے لیے ایک ریزرو دن رکھا گیا ہے۔ ٭ مقررہ دن پر ہی میچ کی تکمیل کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور اس حوالے سے اوورز کی تعداد میں کمی بھی کی جا سکے گی۔ ٭ریزرو دن پر میچ صرف اسی صورت میں ہوگا جب دونوں ٹیمیں کم از کم بیس اوورز نہ کھیل پائیں۔ ٭ کوئی بھی نامکمل میچ ریزرو دن میں وہیں سے شروع ہوگا جہاں پہلے دن روکا گیا تھا۔ ریزرو دن نیا میچ نہیں کھیلا جائےگا۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||