ميری بہن اسلام آباد سروسزز ہسپتال ميں ماہر نفسيات ہيں۔ يہ کہانی ان کی ايک مريضہ کی ہے۔فرحت کا تعلق باغ کے قريب واقع ايک قصبے سے تھا۔ آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے پہلے وہ بہت ہنس مکھ تھی۔ جس دن زلزلہ آيا وہ کچن ميں کام کر رہی تھی۔ زلزلے کے باعث اس کا سارا گھر زمين بوس ہوگيا، سوائے باتھ روم کے جو کہ گھر کے بالکل سرے پر تھا۔ ايک پتھر لگنے کے باعث اس کی ايک ٹانگ شديد زخمی ہوگئی۔ تين دن وہ تڑپتی رہی مگر کوئی امداد نہ پہنچی۔ یہاں تک کہ وہ اور اس کے گھر والے باتھ روم کا پانی پينے پر مجبور ہوگئے۔ فرحت کي حالت جب بہت خراب ہوگئی تو اس کے گھر والوں نے اس کو چارپائی پر ڈالا اور پيدل سفر کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچے۔ تب تک اس کا زخم بگڑ چکا تھا۔ ڈاکڑوں نےمجبور ہو کر اس کی ٹانگ کاٹ ڈالی۔ شديد نفسياتی دباؤ اور دکھوں کی وجہ سے فرحت نے بولنا چھوڑ ديا۔ ميری بہن اور ان کی ساتھی ڈاکٹروں نے بہت لگن کے ساتھ اس کا علاج کيا اور اس کو واپس زندگی کی طرف لانے کی کوشش کی۔ وہ اپنے گاؤں جانے سے پہلے ميری بہن سے وعدہ کر کے گئی کہ وہ معذوری کو کھبی بھی اپنی کمزوری نہيں بننے دے گی۔ ميری اللہ سے دعا ہے کہ اب فرحت کی زندگی ميں اور کوئی دکھ نہ آئے۔
میں وہ لمحہ نہیں بھول سکتا جب رپورٹنگ کے سلسلے میں مظفرآباد جاتے ہوئے کھلے آسمان کے سائے، اس سانحے پر روتے بادلوں کے نیچے ایک ماں اپنی ٹوٹی ٹانگ اور گود میں اپنے ننھے بچے کو لیے امداد کی منتظر تھی۔ امداد کی منتطر وہ نگاہیں شاید میں ساری زندگی نہیں بھلا سکوں گا۔ نجانے ایسی کتنی مائیں، بہنیں، بیٹیاں آج بھی امداد کی منتظر ہیں۔ کتنے ہی معصوم بچے جو والدین کی شفقت سے محروم ہوگئے۔ میں ان کا درد محسوس کر سکتا ہوں لیکن چاہتے ہوئے بھی ان کے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ بس اللہ تعالٰی سے دعا گو ہوں کہ وہ ان کی آزمائشوں کو ختم کرے اور ان کی روٹھی ہوئی زندگی کو واپس لوٹائے۔
ميں براہ راست اس زلزلے سے متاثر نہیں ہوا، مگر نو اکتوبر کے دن ميرے عزيز ترين دوست کے اسلام آباد سے آنے والے فون کے بعد ميں بھی امدادی کاموں کا حصہ بن گيا۔ مجھےفخر ہے کہ ميں ان لوگوں ميں شامل رہا جوآٹھ اکتوبر کے بعد بڑھ چڑھ کے امدادی کاموں ميں حصہ لے رہے تھے۔ کشمير کا شايد ہی کوئی ايسا علاقہ ہو جہاں ہم نے وزٹ نہ کيا ہو۔ ميرا دوست خود متاثر ہونے کے باؤجود جس لگن سے کام کر رہا تھا اور ہے بيان سے باہر ہے۔ خير اس کے ساتھ جو ہوا وہ ہوا، ميں تو اس کو پاگل ديوانہ کہتا ہوں۔ ايسے بہت واقعات ہيں جن کا ذکر کروں تو صفحات بھر جائیں۔ ايک واقعہ ايسا ہے جس نے ميری نينديں اڑا دی تھیں۔ اکتوبر کے اواخر میں ہم نيلم وادی سے شديد زخمی ٹیٹنس سے متاثر بچوں کو مظفرآباد شفٹ کر رہے تھے۔ ايک بچے کو اس کی بہن نے ہمارے حوالے کيا اور ميرے دوست سے کہا کہ ’اس کو بچانا، ميرا اب اور کوئی نہيں بچا ہے۔‘ مگر افسوس کہ ہم چاہ کر بھی اس کو نہیں بچا سکے۔ دو دن بعد جب اس کی بہن مظفرآباد پہنچی تو ہم اس بچی سے نظریں نہیں ملا پائے۔۔۔
|