BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 28 July, 2006, 14:03 GMT 19:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میرا شہر پوری طرح اجڑ گیا‘
لبنان اور اسرائیل میں عام لوگوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد خطے میں جاری جنگ سے پیدا ہونے والی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ ان میں سے کچھ کی کہانیاں ہیں۔



نادین آدی، طائر، لبنان
’میں اپنے خاندان کے ساتھ طائر کی سب سے اونچی عمارت کی پندرہویں منزل پر رہتی ہوں۔ ہم کسی بھی وقت اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن سکتے ہیں، مگر جو ہونا ہے وہ تو ہو کر رہے گا۔

یہ عمارت میرے والد کی ہے، اس لیے وہ یہاں سے جانا نہیں چاہتے۔ میرے والد اس عمارت میں فلیٹز لوگوں کو کرایہ پر دیتے ہیں۔ اس ہفتے اقوام متحدہ کے جن چار مبصرین کو اسرائیل نے ہلاک کر دیا ان میں سے ایک ہماری عمارت میں رہتے تھے۔ جارنو کا تعلق فِن لینڈ سے تھا۔ وہ ہماری عمارت کی دوسری منزل پر رہتے تھے۔

ہمارا شہر پوری طرح اجڑ گیا ہے۔

ہماری عمارت میں بمباری سے بچنے کے لیے ایک پناہ ہے مگر ہم نے اس میں ان لوگوں کو جگہ دے دی ہے جو جنوب سے بھاگ کر یہاں پہنچے ہیں۔ ہماری حالت پھر بھی بہت بہتر ہے۔

کل میں برآمدے پر بیٹھی تھی کہ ہماری عمارت سے کوئی سو میٹر دور دوسری عمارت پر اسرائیلی بمباری ہوئی۔ میں اپنے واک مین پر جان بان جووی کے گانے سن رہی تھی کہ دھماکے کے زور سے میں اچانک دور جا کر گری۔ وہ رہائشی عمارت تھی۔ نہ جانے اسے کیوں نشانہ بنایا گیا۔

میری ماں بہت پریشان ہیں۔ جوں ہی بمباری شروع ہوتی ہے وہ پہلی منزل کی سیڑھیوں پر جا کر بیٹھ جاتی ہیں۔ ہمارے پاس اگلے دو ماہ کے لیے کھانے پینے کی اشیا ہیں لیکن نہ جانے آگے کیا ہوگا۔

حزب اللہ کی حمایت
 میں اب حزب اللہ کی پوری حمایت کرتی ہوں۔ پہلے میں ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی تھی۔ بس اتنا کہ ان کی وجہ سے اسرائیل نے دو ہزار میں لبنانی علاقے خالی کر دیئے۔

میں اب حزب اللہ کی پوری حمایت کرتی ہوں۔ پہلے میں ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی تھی۔ بس اتنا کہ ان کی وجہ سے اسرائیل نے دو ہزار میں لبنانی علاقے خالی کر دیئے۔

حزب اللہ صرف اپنی زمین کا دفاع کر رہی ہے۔ اصل دہشت گرد اسرائیل ہے جو معصوم بچوں کا قتل کر رہا ہے۔‘


زیو پرل، سافید، شمالی اسرائیل
’میرا گاؤں سرحد سے تیرہ کیلو میٹر دور ہے۔ ساٹھ فیصد آبادی یہاں سے بھاگ گئی ہے، مگر میں اب بھی یہیں ہوں۔ جو لوگ چلے گئے انہوں نے اچھا کیا کیونکہ اب وہ کم از کم محفوط تو ہیں۔ مگر دوسرے کئی لوگ ایسے ہیں جن کے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔

ہماری معیشت پر بھی بہت برا اثر پڑا ہے۔ سب پیسے ختم ہو گئے ہیں۔ یہاں تک کہ بازار تک بند ہو گئے ہیں۔ سارا شہر بند ہے: بینک، پوسٹ آفس ، زیادہ تر دکانیں۔ ایک آدھ سپر مارکیٹ چند گھنٹوں کے لیے کھل جاتا ہے۔

میں کچھ رضاکاروں کے ساتھ کام کر رہا ہوں جو دوسرے حصوں سے امدادی سامان یہاں تک پہنچاتے ہیں۔ میرا چھوٹا بیٹا تل ابیب سے کھانے پینے کی اشیا لیے کچھ لوگوں کے ساتھ آیا۔ مجھے بہت فخر ہے اپنے بیٹے پر۔

میں شہر کا میئر ہوا کرتا تھا اس لیے میرے لیے اہم ہے کہ میں یہیں رہوں۔ اگر لوگوں نے دیکھ لیا کہ میں بھی چلا گیا ہوں تو انہیں لگے گا کہ حالات بہت خراب ہو گئے ہیں۔

میں نہیں مانتا کہ جب دو ہفتوں میں سولہ سو راکٹ آپ پر داغے جائیں تو ایسی صورت میں سب ٹھیک ہے۔ کل میرے گھر سے صرف سو میٹر دور ایک راکٹ گرا۔ اب تک سافید میں راکٹ حملوں میں ایک شخص ہلاک اور بیس زخمی ہو چکے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ سب لوگ ایک دن واپس آجائیں گے۔ لیکن اگر جنوبی لبنان میں حزب اللہ کا اثر برقرار رہا تو شاید لوگ یہاں خود کو محفوظ نہ سمجھیں۔

کوئی بھی مغربی طاقت حزب اللہ سے لڑنا نہیں چاہتی۔ یہ ہمیں خود ہی کرنا پڑے گا۔‘


جارج بتار، بیروت، لبنان
’میں آپ کے سامنے رونا نہیں چاہتا مگر جو ہو رہا ہے وہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ ہم جنوبی بیروت میں رہتے ہیں جو اب بالکل محفوظ نہیں۔ میں آج کل اپنی بیوی کے ساتھ اپنے والدین کے گھر آ گیا ہوں۔ میرے والدین شہر کے عیسائی علاقے میں رہتے ہیں۔

میں عیسائی تھا مگر شادی کے بعد میں نے اسلام قبول کر لیا۔

جو ہو رہا ہے اس سے ہم حزب اللہ کے اور بھی قریب ہو گئے ہیں۔ میری بیوی کی بہن بیوہ ہیں۔ ان کے شوہر حزب اللہ کے رکن تھے اور دس سال پہلے ملک کے جنوب میں ہلاک ہو گئے۔ آج تک حزب اللہ ان کا اور ان کے چار بچوں کا خیال رکھتی ہے۔ بچوں کے سکول کا خرچہ، کپڑے، دوا سب کا انتظام حزب اللہ کرتی ہے۔

ہر دو تین دن بعد
 میں ہر دو تین دن بعد اپنے فلیٹ کو دیکھنے جاتا ہوں۔ یہ دیکھنے کے وہ اب تک کھڑا ہے یا نہیں۔

اگر حزب اللہ کو ایران سے پیسے ملتے بھی ہیں تو کم از کم وہ یہ پیسے لوگوں تک تو پہنچاتی ہے۔ حزب اللہ ہمیں عزت دیتی ہے جو بہت اہم ہے۔

یہاں بیروت میں پھل اور سبزیاں بہت مہنگے ہو گئے ہیں۔ بجلی بھی کاٹ دی گئی ہے۔ حالات بہت دشوار ہیں۔ لیکن پیٹرول کی قیمت اب اتنی زیادہ نہیں۔ میں ہر دو تین دن بعد اپنے فلیٹ کو دیکھنے جاتا ہوں۔ یہ دیکھنے کے وہ اب تک کھڑا ہے یا نہیں۔‘

خط: ’جہاں تم رہتے ہو، وہاں ہمارا باغ تھا‘ڈئیرسلیم، ڈئیرگورڈن
’جہاں تم رہتے ہو، وہاں ہمارا باغ تھا‘
غاضہ متری’کوئی راستہ نہیں‘
غاضہ متری نے لبنان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔
لوگوں کی کہانیاںلوگوں کی کہانیاں
’کم از کم بیروت میں میرا گھر ابھی کھڑا ہے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد