BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 24 May, 2004, 17:26 GMT 22:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عالمگیریت: تھامس فریڈ مین سے انٹرویو، دوسرا حصہ
عالمگیریت کے خلاف ردعمل بھی بہت وسیع پیمانے پر جاری ہے
عالمگیریت کے خلاف ردعمل بھی بہت وسیع پیمانے پر جاری ہے
چندا: یہ واضح ہے کہ اس سے امریکی ٹیکس کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا یا ٹیکس گزاروں کو مالی فائدہ ہو گا جنہیں اپنے کے قانونی گوشوارے بھروانے کے لئے کم قیمت ادا کرنا ہوگی لیکن انڈیا کی کمپنیوں کو کام دینے کے خلاف امریکہ میں بہت شور مچ رہا ہے اور لوگ اب عالمگیریت کو امریکہ کے لئے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ آپ ان لوگوں کے بارے میں کیا کہیں گے؟

فریڈمین: میں دو باتیں کہنا چاہوں گا۔ ایک تو یہ کہ میں آپ کا درد سمجھتا ہوں۔ اگر میں امریکہ میں ایک اکاؤنٹنٹ ہوتا، ریڈیولوجسٹ ہوتا یا کال سینٹر کا کارکن ہوتا یا میرے بچے یہ سب کچھ ہوتے تو مجھے کافی مایوسی ہوتی اور غصہ بھی آتا۔ یہ دنیا جو اتنی چھوٹی ہوگئی ہے، مجھ سے میری نوکری بھی چھین رہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں ان لوگوں کی بات سننی چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ عوامی مفاد میں ہم ایسی کون سی حکمت عملی اپنا سکتے ہیں جس سے ان لوگوں کو روزگار کا تحفظ دیا جا سکے یا تنخواہ کی انشورنس ہو یا صحت کے فوائد، تعلیم اور تربیت جیسے دوسرے مسائل، ہمیں ان کا حل تلاش کرنا چاہئے۔ تجارت میں ایک پرانا قانون ہے کہ وہ لوگ جنہیں آزاد تجارت سے نقصان ہوتا ہے، صرف وہی جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں؟ وہ لوگ جنہیں آزاد تجارت سے فائدہ ہوتا ہے، وہ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ جن لوگوں کو اس سے نقصان ہو رہا ہے ان میں سے بیشتر کا تعلق سفید پوش طبقے سے ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ووٹ دیتے ہیں اور نیویارک ٹائمز میں ایڈیٹر کے نام خطوط لکھتے ہیں۔ جوں جوں وہ منظم ہوں گے، ان کا سیاسی اثر بڑھتا جائےگا اور یہی آج کل ہم دیکھ رہے ہیں۔

اس لئے ہمیں ان لوگوں کی بات سننی چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں دیواریں نہیں کھڑی کردینی چاہئیں۔ یہ امریکی جدت پسندی ہے جس نے ماضی میں ہماری معیشت کو آگے بڑھایا۔ اس کی مثال گیارہ ستمبر کی تباہی کے باوجود گوگل، یاہو، ای بے اور ایمزون جیسی کمپنیاں ہیں جو امریکی جدت اور اختراع کی پیداوار ہیں۔ یہ کمپنیاں چین ، جرمنی یا انڈیا میں وجود میں نہیں آئیں بلکہ یہ ایک ایسی تہذیب اور معاشرے میں تخلیق ہوئیں جو انتہائی وسیع ا لنظر ہے ، جو پابندیوں میں یقین نہیں رکھتا، جو صحتمند مسابقت کا دعوے دار ہے، جہاں عمدہ اقتصادی بازار اور ایک ایسا سرمائے کے مقابلے کا نظام ہے جو جدت اور اختراع کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں مسلسل ناکامیوں کے بعد کامیاب ہو کر کروڑ پتی بننے کی مثالیں موجود ہیں۔ مجھے یقین ہےہ کہ جب تک ہم ان اقدار کو برقرار رکھیں گے اس وقت تک ہمارے پاس متاثرہ لوگوں کی مدد کے لئے وسائل بھی مہیا ہوتے رہیں گے۔

میری سہولت تو ہے لیکن۔۔۔۔
 ساؤتھ ویسٹ ائیرلائنز کے کاؤنٹر پر کام کرنے والے بہت سے لوگوں کی نوکریاں چھن گئی ہے کیونکہ اب میں انٹرنیٹ پر جا کر نہ صرف ساؤتھ ویسٹ ائیر لائن کا ٹکٹ خرید سکتا ہوں بلکہ اپنا بورڈنگ پاس بھی ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہوں۔

میرے دوست کانگریس کے قائم مقام سیکریٹری ڈیوڈ روتھ کوف کا قول ہے کہ روزگار کے مواقع انڈیا یا چین نہیں جا رہے بلکہ وہ ماضی کی طرف جا رہے ہیں۔ اگر آپ یاد کریں تو میں نے ساؤتھ ویسٹ ائیرلائنز پر یہاں آنے کی بات کی تھی۔ ساؤتھ ویسٹ ائیرلائنز کے کاؤنٹر پر کام کرنے والے بہت سے لوگوں کی نوکریاں چھن گئی ہے کیونکہ اب میں انٹرنیٹ پر جا کر نہ صرف ساؤتھ ویسٹ ائیر لائن کا ٹکٹ خرید سکتا ہوں بلکہ اپنا بورڈنگ پاس بھی ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہوں۔

چندا: میرے خیال میں دو مسئلے ہیں۔ ایک تو یہ کہ تبدیلیوں کی رفتار بہت تیز ہے اور حکومتیں اس کے ردعمل میں مناسب حکمت عملی بنانے میں بہت سست ہیں اور دوسرا سوال یہ کہ جدت کے لئے آپ کو تعلیم کی ضرورت ہے لیکن تعلیم کے لئے مختص بجٹ، خاص طور پر امریکہ، میں کمی ہو رہی ہے۔ یہ ایک لمبی مدت کا مسئلہ ہے۔

فریڈمین: مجھے ایک خوف یہ ہے کہ دنیا کے ’چھوٹے سائز‘ سے ’ بہت چھوٹے سائز‘ کی طرف سفر کے دوران کہیں ہم انسان اور حکومت کے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت کی آخری حد پر تو نہیں پہنچ گئے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب میرے پاس نہیں۔ ہاں تعلیم کے بارے میں آپ کے خیال سے متفق ہوں۔ میں یہ جانتا ہوں کہ جتنی زیادہ دنیا سکڑتی جا رہی ہے، اتنا ہی آپ کو بہتر بننا پڑے گا۔ مطلب یہ کہ آپ جتنے زیادہ تعلیم یافتہ ہوں گے، اتنا ہی آپ کو ایسی صلاحیتیں اور ہنر حاصل کرنے پڑیں گے جو دوسرے لوگ یا مشینیں آسانی سے مہیا نہ کر سکیں۔ اب ہم سے ہر کوئی دماغ کا سرجن نہیں ہو سکتا۔ ہم میں سے کچھ لوگ ریڈیولوجسٹ بھی ہوں گے۔ کچھ لوگ درمیانے درجے کی نوکریاں بھی کریں گے جس سے ان کے معیار زندگی میں کمی واقع ہو گی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں۔ مجھے امید ہے کہ کالمسٹ ان میں سے ایک نہیں ہوں گے۔ لیکن ایسا کوئی وقت آتا ہے تو مجھے اس کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور ہم سب کو دیکھنا چاہیے کہ موجودہ عالمی نظام ترسیل میں ہماری بقا کیسے ممکن ہے۔

چندا: میرے خیال میں جب لوگ ’وال مارٹ‘ جا کر چین کی بنی ہوئی ڈی وی ڈی سو ڈالرز میں خریدتے ہیں تو وہ عالمی نقطہِ نظر سے نہیں سوچ رہے ہوتے۔ بلکہ اس سارے عمل کا عالمگیریت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

فریڈمین: ان کا خیال ہوتا ہے کہ اس کا تعلق ’مال‘ سے ہے۔

چندا: لیکن جب ان کی تنخواہ کا چیک لینے کا وقت آتا ہے توانہیں عالمی نقطہ نظر سے سوچنا پڑتا ہے۔

فریڈمین: میرے خیال میں اصل نامعلوم سوال کچھ اور ہے۔ دیکھیں جب نوکریاں بیرون ملک مہیا کی جاتی ہیں تو یہ عمل برآمد کے مانند ہے۔ ایک وقت آئےگا کہ طلب اور رسد برابر ہو جائے گی۔ہم روزگار کے جو مواقع انڈیا اور چین کو برآمد کر رہے ہیں، یہ مواقع مستقبل میں ہمارے پاس امریکی مصنوعات کی طلب کی صورت میں واپس آئیں گے۔ تجارت کی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ آیا یہ ملازمت کے مواقع کی صورت میں واپس آئیں گے یا پھر باربرا سٹریس لینڈ اور بل گیٹس کی ’رائلٹیز‘ کی طلب کی صورت میں واپس آئیں گے؟ ہم جیسے باقی سب لوگوں کا کیا بنے گا؟ بقول لیری سمرز ’ہم باقی سب لوگ ان کے پول صاف کریں گے‘ ۔ یا یہ کہ ہونے والی تبدیلیوں کے بعد ملازمت کے مواقع کسی اور شکل میں پیدا ہوں گے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب مجھے معلوم نہیں۔

چندا: سوال یہ ہے کہ طلب کیسے پیدا ہوگی۔ دنیا کی آبادی کا بڑا حصہ مصائب کا شکار ہے اور وہ مارکیٹ سے باہر ہے۔ جب تک آپ ان لوگوں کو مارکیٹ کا حصہ نہیں بنائیں گے، اس وقت تک موجودہ مارکیٹ میں رسد زیادہ ہو گی، قیمتیں کم رہیں گی اور لوگوں کی ملازمتیں ختم ہوتی رہیں گی۔

فریڈمین: یہی وجہ ہے کہ ہمیں اس چیلنج سے عہدہ برا ہونے کے لئے اقدام کرنے پڑیں گے۔ ہم یہ کر سکتے ہیں کہ اپنی معاشی سروسز، انشورنس اور تفریح جیسے اچھے شعبے انڈیا کی مارکیٹ میں متعارف کرائیں۔ انڈیا، چین اور جاپان جیسے ممالک میں ابھی بھی تجارتی محصول کی پابندیاں ہیں۔ ہمیں ان مارکیٹوں کو زیادہ سے زیادہ رسائی کے قابل بنانا چاہیے اور ہر جگہ مجموعی طلب میں اضافہ کرنا چاہیے۔

میرے خیال میں دنیا کے اس سکڑنے کے عمل کا ایک نتیجہ یہ نکلے گا کہ سیاسی تبدیلیوں کو وجہ سے تجارتی پابندیوں میں برابری اور آخرکار کمی واقع ہو گی۔ انڈیا اور چین میں سفید پوش طبقے کے سیاسی دباؤ سے تجارتی پابندیوں میں کمی ہو کر رہے گی۔

چندا: ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت امریکہ میں زیرتعلیم انڈیا کے طلباء کی تعداد ریکارڈ کی حد تک زیادہ ہے۔ اور یہ وہی طالبعلم ہیں جو یہاں سے تعلیم مکمل کر کے انڈیا واپس جائیں گے اور وہاں پر ان امریکی کمپنیوں کے لیے کام کریں گے جو انڈیا میں روزگار کے مواقع مہیا کر رہی ہیں۔

فریڈمین: مگر میں انہیں کہوں گا کہ وہ یہیں ٹھہریں۔ میری زندگی کا ایک سادہ اصول ہے۔ ہمارے انڈینز ایک دن انڈیا کے انڈینز پر غالب آ جائیں گے۔ ہمارے چینی ایک دن چین کے چینیوں پر غالب آ جائیں گے۔ ہمارے جاپانی ایک دن جاپان کے جاپانیوں پر غالب آ جائیں گے۔ ہمارے یورپی ایک دن یورپ کے یورپیوں پر غالب آ جائیں گے۔ اس وقت صرف سلی کون ویلی میں چار لاکھ یورپی تکنیکی کارکنوں کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ مگر میں ایک ایسے نظام کے حق میں ہوں جس میں ہم ساری دنیا سے بہترین دماغ چنیں اور انہیں یہاں لا کر رکھیں۔ میرے خیال میں وہ ہمارے لئے بہت بڑا سرمایہ ثابت ہوں گے۔

چندا: لیکن اس کے لئے تو موجودہ سخت امیگریشن پالیسی میں نرمی کرنی پڑے گی۔

فریڈمین: بالکل درست۔

چندا: تو اس عالمگیریت 3.0 کے لئے بہت سی تبدیلیوں کی ضرورت ہو گی۔

فریڈمین: جی، بالکل۔

چندا: اور لوگوں کو ابھی تک علم نہیں کہ وہ تبدیلیاں کیا ہیں۔

فریڈمین: بالکل۔ یہ ابھی آغاز ہے۔ بیرونی وسائل کا استعمال کوئلے کی کان میں کینیری کی بولی کی مانند ہے جو یہ کوک رہی ہے کہ’ تم ایک نئی دنیا میں ہو، تم ایک نئی دنیا میں ہو‘

چندا: ٹام، آپکا بہت بہت شکریہ۔




نوٹ: انٹرویو کا یہ متن بی بی سی اردو آن لائن اور ییل سنٹر فار دی اسٹڈی آف گلوبلائزیشن کے درمیان پارٹنرشِپ کے تحت شائع کیا جارہا ہے اور یل گلوبل کی کائپ رائٹ ہے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد