 |  زیادہ تر اسرائیلی اس انخلا کے حق میں ہیں۔ |
غزہ کی اکیس میں سے سترہ یہودی بستیوں سے اسرائیلی انخلاء تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ باقی چار بستیاں اگلے ہفتے خالی کر دی جائیں گی۔ کئی علاقوں میں مخالفت کے باوجود اسرائیلی فوج سخت گیر آباد کاروں کو بھی بستیوں سے نکالنے میں کامیاب ہو گئی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی توقع سے زیادہ تیزی سے مکمل ہوئی ہے۔ زیادہ تر اسرائیلی اس انخلا کے حق میں ہیں تاہم کچھ کا خیال ہے کہ اس انخلاء سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینی شدت پسندوں کے سامنے ہار مان لی ہے۔ کئی اسرائیلیوں کو یہ تشویش بھی ہے کہ مزید یہودی بستیوں کو خالی کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ فلسطینی ناقدین کا کہنا ہے کہ انخلاء کے باوجود غزہ اسرائیلی کنٹرول میں ہی رہے گا۔ ان کا خیال ہے کہ اس انخلاء کا مقصد انہیں ایک دیر پا سیاسی حل سے محروم کرنا ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے،اب آگے کیا ہوگا؟ اس انخلاء سے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی روز مرہ کی زندگی کس طرح متاثر ہوگی؟ کیا اس سے خطے میں امن کے قیام کی کوششیں مضبوط ہو جائیں گی؟ کیا اس انخلاء کا خطے پر مثبت اثر پڑے گا؟ اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ آپ کی آراء سے ایک انتخاب نیچے درج ہے۔
راجہ یونس، دمام: ہمیں امید کا دامن نہیں ہاتھ سے چھوڑنا چاہیے۔ دنیا میں تبدیلی کی ہوا چل رہی ہے اور اتار چڑھاؤ تو آتے ہی رہتے ہیں۔ ویسے بھی خون کی قربانی اپنا رنگ تو لاتی ہی ہے۔ یہ ایک اچھی پیش رفت ہے اور اس کے بعر غربِ اردن سے بھی انخلاء ہوگا۔ یہ فلسطین کے ساتھ ساتھ خود اسرائیل کے حق میں بھی ہے۔ ساجد پردیسی، کینڈا: اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا کہ اسرائیل کتنا مخلص ہے اور فلسطینیوں کو کیا ملا؟ عامر خان، سعودی عریبیہ: بھائی جب یہودیوں کے کچھ لوگ گھر چھوڑ کر جارہے ہوں اور مظلوم بننے کی اداکاری کر رہے ہوں اور جاتے جاتے مسلمانوں کو بدنام بھی کرتے جائیں اور اس سارے ڈرامے کو آپ بڑھا چڑھا کر پیش کریں تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ بی بی سی کے متعلق ہم کیا نتیجہ اخذ کریں گے۔ اشرف خان، پیربابا بنر: عراق میں کامیابی کے لیے فلطین کو آگ کو فیالحال ٹھنڈا کرنا ہی پڑے گا ورنہ امریکہ کو شکست ہوجائے گی اور عراق سے نبٹنے کے بعد فلسطین تو گھر کی بکری ہی ہے۔ علی رضا علوی، اسلام آباد: غزہ سے یہودیوں کا انخلاء فلسطینیوں کی اخلاقی فتح ہے۔ ہمیں ہر اچھے قدم کو شک کی نگاہ سے دیکھنے سے اجتناب برتنا چاہیے۔ اس انخلاء سے خود اسرائیل نے تسلیم کر لیا ہے کہ وہ ایک غاصب حکومت ہے۔ بہرحال امن قائم ہونا چاہیے کیونکہ مسلمان مریں یا یہودی، بے گناہ کے مرنے برابر کا دکھ ہوتا ہے۔ امداد علی شاہ، سندھ: اسرائیلیوں کو نکالا نہیں جارہا بلکہ محفوظ مقام پر بھیجا جارہا ہے۔  | آزادی کا جشن منانے کے علاوہ  ایک طرف چند ہزار یہودیوں کو لاکھوں فلسطینیوں میں بحفاظت بسائے رکھنا ایک مشکل اور مہنگا عمل تھا اور دوسری طرف ہزاروں فلسطینیوں کا روزگار یہاں کے رہائشی یہودیوں سے وابستہ تھا۔  عبدالغفور، ٹورنٹو |
عبدالغفور، ٹورنٹو: اسے امن کی طرف پہلا قدم کہیں یا حماس کی جیت، مگر حقیقت یہی ہے کہ اسرائیل نے بستیاں خالی کرکے عقلمندی کا ثبوت دیا ہے۔ ایک طرف چند ہزار یہودیوں کو لاکھوں فلسطینیوں میں بحفاظت بسائے رکھنا ایک مشکل اور مہنگا عمل تھا اور دوسری طرف ہزاروں فلسطینیوں کا روزگار یہاں کے رہائشی یہودیوں سے وابستہ تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فلسطینی حکومت غزہ کے مسلمانوں کے لیے آزادی کا جشن منانے کے علاوہ کیا کرتی ہے۔ پٹھان خان، کراچی، پاکستان: اسرائیلی اور یہودی چاہتے ہیں کہ اپنے لوگوں کو غزہ سے نکال دیں تاکہ وہ فلسطینی مسلمانوں پر کھل کے بمباری کر سکیں۔ عبدا للہ جان، دالبندین، پاکستان: واہ واہ اسرائیل کی کیا بات ہے۔ بستیاں تو خالی ہو رہی ہیں لیکن دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ بیروزگار بابا، فرینکفرٹ، جرمنی: میرے خیال سے یہودی اور اسرائیلی کبھی اتنی آسانی سے جیتنے نہیں دیں گے۔ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کے فلسطینی آرام میں رہیں۔ کوئی نہ کوئی مطلب ضرور ہو گا۔ شیریارخان، سنگاپور: دنیا کے موجودہ حالات اور مسلمان ملکوں کی روایتی بے بسی کو دیکھتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ سے جو مراعات بھی مل جائیں مسلمان عوام کے لیے غنیمت سے کم نہیں۔ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔۔۔ سرمد خان، پاکستان: یہ بھی اسرائیل کی ایک سازش ہے۔ راحت ملک، راولپنڈی، پاکستان: کوئی فائدہ نہیں آپ سے بات کرنے کا، آپ بھی کسی کے زیرِاثر ہیں۔  | آگے آگے دیکھیے۔۔۔۔  جب ان سے پوری دنیا کہہ رہی تھی کہ بستیاں خالی کرو اس وقت تو اسرائیل کے کان پر جوں تک نہیں رینگی تھی۔  سعید احمد بیگانہ ملک، جاپان |
سعید احمد بیگانہ ملک، نماتا سٹی، جاپان: یہ یہودیوں کا سب سے بڑا ڈرامہ ہے اتنا بڑا معاوضہ دے کر بستیاں خالی کرانے کا۔ جب ان سے پوری دنیا کہہ رہی تھی کے بستیاں خالی کرو اس وقت تو اسرائیل کے کان پر جوں تک نہیں رینگی تھی۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔فیاض محمود خان، نوشہرہ، پاکستان: اس سے کچھ بھی نہیں ہوگا۔ یہودی کبھی بھی مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ یہ ایک سیاسی چال ہے جس کا مقصد ایک ایسی اسرائیلی ریاست کا قیام ہے جس کا دائرہ کار کبھی بھی بڑھایا جا سکتا ہو۔اسرائیلی فلسطین سے کبھی بھی ہار نہیں مان سکتے۔ علیم اختر، گجرات، پاکستان: اب تو یقین ہی نہیں آتا کہ اسرائیل ایسا کر بھی سکتا ہے۔ اس کے بارے میں وہاں رہنے والے یا جغرافیہ کے ماہرین ہی زیادہ بہتر بتا سکتے ہیں لیکن بظاہر تو یہ امن کی طرف ایک قدم ہے۔ آصف اچکزئی، چمن، پاکستان: آگے کیا ہوگا، فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ آگے جو بھی ہوگا مسلمانوں کے لیے برا ہی ہوگا۔ یہ بات یقینی ہے۔ محمد سعید شیخ، بحرین: یہ انخلاء بھی ایک چال ہے اور اس پر امریکی میڈیا کی یہ کوریج کہ جیسے اِن لوگوں سے زیادہ مظلوم کوئی ہے ہی نہیں۔ اگر اسرائیل واقعی امن چاہتا ہے تو اسے غرب اردن سے بھی نکلنا پڑے گا اور یرو شلم کو فلسطین کا دارالخلافہ بھی ماننا پڑے گا۔ دل کے بہلانے کوغالب ۔۔۔ جاوید، شکاگو، امریکہ: یہ انخلاء بہت بڑی کامیابی ہے امن کے لیے۔ اس کو بالکل بھی حماس کی جیت نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اگر اسرائیل امن کی جانب ایک قدم بڑھا رہا ہے تو ہمیں اس کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے۔ اگر اسرائیل کے ساتھ امن ہو جاتا ہے تو دہشت گردی اور جہادی تنظیموں کا کاروبار ختم کرنے کے لیے یہ سازگار ثابت ہوگا۔ ائیریل شیرون اور بُش کو فلسطینیوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔شیرون کو صرف اسرائیل کی بقا چاہیے کیونکہ وہ محب وطن ہیں۔ اب حماس کو بھی محب وطن ہونے کا ثبوت دینا چاہیے اور اس انخلاء کی تعریف کرنی چاہیے۔ عامر، ایڈمنٹن: کیا سچ ہے کیا جھوٹ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا، صرف مذہب کے نام پر ہم برا بھلا کہتے ہیں۔ غزل فاروق: اتنے سالوں کے بعد تو ہمیں امن کی طرف پہلا قدم دیکھنے کو ملا ہے۔ انشاءاللہ جو بھی ہوگا فلسطینیوں کے لیے اچھا ہوگا۔ بابر راجہ، ہیٹسو، جاپان: اس میں بھی مسلمانوں کے لیے کسی پریشانی کا سامان ہوگا مگر اس کا پتا کچھ ماہ چلے گا۔ شاید ایران پر امریکی چڑھائی کی صورت میں۔ مقبول بلوچ، کوئٹہ، پاکستان: یہ قدم ہر لحاظ سے قابل قدر ہے لیکن اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اسرائیل اس انخلاء سے فلسطینی مذاحمت کو کچلنا چاہتا ہے یا کچھ اور حاصل کرنا چاہتا ہے۔ میرا خیال ہے یہ سب کچھ دنیا کو بےوقوف بنانے کا ایک نیا حربہ ہے۔ محمد عمران، برطانیہ: ہم شیرون کے اس ڈرامے کی اگلی قسط جلد ہی دیکھ لیں گے۔ ندیم یونس راجہ، ڈنمارک: میرا خیال ہے کہ یہ اسرائئل کی ایک اور بڑی سازش ہے۔ اب وہ ایران پر حملہ کرنا چاہتے اس لیے دنیا کو یہ دکھانے کے لیے کہ ہم مظلوم ہیں، یہ چال چل رہے ہیں۔ بس اسلام کو ہر طریقے سے مٹانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اسحاق لیل ملک، بھکر: پہلے تو یہ بتائیے کہ میری آراء کا کب تک انخلاء جاری رہے گا۔ باقی اسرائیلی انخلاء سے کچھ بھی نہیں ہوگا۔ وہاں پر امن قائم کرنے کے لیے امریکہ کی سنجیدگی ضروری ہے اور اس کا واضح جھکاؤ اسرائیل کی طرف ہے۔  | امن کی طرف پہلا قدم  اگر ایسا ممکن ہو جائے کہ فلسطین کو بھی ایک مملکت تسلیم کر لیا جائے تو دنیا سے دہشت گردی کافی حد تک کم ہو سکتی ہے۔  ہارون رشید، سیالکوٹ |
ہارون رشید، سیالکوٹ: اگر ایسا ممکن ہو جائے کہ فلسطین کو بھی ایک مملکت تسلیم کر لیا جائے تو دنیا سے دہشت گردی کافی حد تک کم ہو سکتی ہے۔ ابھی اقوامِ متحدہ، یورپین یونین اور امریکہ کو بہت زیادہ کردار ادا کرنا ہوگا لیک یہ ایک اچھا قدم ہوگا، امن کی طرف پہلا قدم۔ قریشی قر، چاغی: میرے خیال میں یہ بستیوں کو خالی کرنے کی ایک اسرائیلی چال ہے۔ اسرائیل بستیوں کو خالی کرے گا لیکن اپنا قبضہ جمانے کے لیے کوئی دوسرا ہتھکنڈا استعمال کرے گا۔ آصف ججہ، ٹورنٹو: جی یہ ممکن ہے اگر امریکہ چاہے تو اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ چاہے گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ اسرائیل انہیں ان علاقوں پر مکمل کنٹرول دے گا اور یوں تشدد بڑھےگا۔ حماد بخاری: عیسائی اور یہودی اسلام کے ازلی دشمن ہیں جو کبھی بھی دوست نہیں بن سکتے۔ اس انخلا کے پیچھے بھی ان کی کوئی بڑی سازش ہے۔ ریاض فاروقی، دوبئی: یہ کسی کی ہار اور کسی کی جیت نہیں ہے۔ ان کا یہ فیصلہ اپنی قوم کے لیے ہے اور اس کو بہترین حل نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ اس کی طرف پہلا قدم ہے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: جب تک بیت المقدس پر ناجائز قبضہ ختم نہیں ہوجاتا، مسائل حل نہیں ہوں گے البتہ یہ امن کی جانب ایک مثبت قدم ہے اور اسی میں اسرائیل اور فلطین کی بقا ہے۔ نجیب اللہ مری، بلوچستان: فلسطین کے جاں بازوں کی قربانیاں رنگ لائی ہیں۔ آگے وہی ہوگا جو منظورِ خدا ہوگا۔ طلحہ مجید، لاس اینجلس: اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک اچھا قدم ہے۔ اگرچہ میں سمجھتا ہوں کہ اس قدم کے اٹھانے کی وجہ صرف یہ ڈر ہے کہ یہودی اس خطے میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے اقلیت میں رہ جائیں گی لیکن اس قدم کی حمایت کرنی چاہیے۔ کم از کم کچھ عرصہ تک تو امن رہے گا لیکن مستقل حل کے لیے اسرائیل کو تمام اسرائیلی علاقوں سے نکلنا ہوگا۔ امداد علی جوکھیو، لاڑکانہ: شدت پسند تو اسرائیلی ہیں۔ فلسطینیوں کے ساتھ تو عالمی سطح پر ظلم ہورہا ہے کہ انہیں اپنے ہی ملک میں رہنے نہیں دیا جا رہا۔ انہیں خالی ہاتھوں سے ٹینکوں سے مقابلہ کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ اسی لیے مسلمانوں میں اقوامِ متحدہ اور امریکہ سے نفرت بڑھی ہے۔  | کچھ نہیں ہوگا  یہ سب ایک کھیل ہے جسے اسرائیل پھر جیت لے گا۔  غلام فرید شیخ، گمبٹ، سندھ |
غلام فرید شیخ، گمبٹ، سندھ: کیا ہوگا، کچھ نہیں ہوگا، یہ سب ایک کھیل ہے جسے اسرائیل پھر جیت لے گا۔ اسرائیل ہمیشہ وہی کرتا ہے جس میں اس کا اپنا فائدہ ہوتا ہے۔ بھلا وہ اور امریکہ کیوں مسلمانوں کے حق میں فیصلہ دیں گے۔ اظہر ارائیں، کینیڈا: ارے بھائی امریکہ چوہدری ہے اور اسرائیل اس کا منظورِ نظر، آپ تو جانتے ہی ہیں۔ بشریً رحمان، امریکہ: یہ اسرائیل کی ایک بہت بڑی چال ہے۔ وہ فلسطین کی ریاست کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں وہ متحد نہ ہوسکے۔ عالمگیر بیگ، سویڈن: لگتا ہے آپ بی بی سی والوں کو کچھ زیادہ ہی یہودیوں سے ہمدردی ہے، کبھی کسی غریب آدمی کے مسائل پر بھی بات کر لیا کریں۔ ظہیرالدین راشدی، کراچی: اگر اسرائیل خطے میں امن کے لیے واقعی مخلص ہے تو اسے غربِ اردن سے بھی یودیوں کو انخلاء کرنا ہوگا۔ اسے فلسطینیوں اور یہودیوں کے لیے دو علیحدہ ریاستیں قائم کرنا ہوں گی۔ لیکن اگر غمہ سے انخلاء کا مقصد مغربی پٹی کو اسرائیل کا حصہ بنانے کی کوشش ہے تو یہ ایک خطرناک کھیل ثابت ہوگا۔ اس نے پہلے ہی فلسطینیوں کو اپنے علاقوں سے دور رکھنے کے لیے دیوار تعمیر کی ہے اور سیکیورٹی زون بنایا ہے۔ |