امیروں کا بجٹ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حال ہی میں پیش کیے گئے قومی بجٹ پر بی بی سی اردو کے قارئین کے تاثرات: میں اس بجٹ سے بہت خوش ہوں لیکن میرا یہ کہنا ہے کہ اگر اس بجٹ میں سے زیادہ سے زیادہ ایجوکیشن پر توجہ دی جائے تو بہتر ہے کیونکہ یہی تو ہمارے ملک کا اساسہ ہے اور اس میں بہتری ہو گی تو ہمارا ملک بہتر ہوگا۔ ہر آنے والی گورمینٹ یہی کہتی ہے کہ عوام دوست بجٹ ہوگا لیکن جب بجٹ آتا ہے تو صرف غریب عوام کو ہی پریشانی ہوتی ہے کیونکہ یہ بجٹ بنانے والے صرف اپنی ہی جیب دیکھتے ہیں۔ عوام کی کونسی گورمینٹ نے پرواہ کی ہے۔ تو اس سال بھی بجٹ کا اثر غریب عوام پر ہی ہوگا۔ سب سے بڑا مسئلہ روز مرہ کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ عوام کی بھلائی کے لیے حکومت کو ملازموں کی تنخواہیں اور پینشن بڑھانے چاہیئیں، بچت کی سکیموں پر انٹرسٹ ریٹ بڑھانا چاہیئے اور عام ضرورت کی اشیا کی قیمتوں میں کمی پیدا کرنی چاہیئے۔ اس حکومت نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی امیج بہتر بنائی ہے مگر عام پاکستانی کی حالت بہتر بنانے پر توجہ نہیں دی ہے۔ حکومت تو کہتی ہے کہ یہ بجٹ بہت اچھا ہے مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سچ نہیں۔ میرے خیال میں حکومت عام آدمی کی ضروریات پوری کرنے میں نا کام رہی ہے۔ حکومت نے حسب توقع غریب عوام کو لچھے دار باتوں کا پلندہ سنا کر بے وقوف بنا دیا۔ بجٹ سے مال داروں کو فائدہ ہوا ہو تو ہو، غریب کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ چھوٹے ملازموں کے لیے بھی کچھ خاص نہیں کیا گیا۔ وعدے تو بہت کیے جا رہے تھے، لیکن کھودا پہاڑ نکلا چوہا! میری کوئی رائے نہیں ہے، بس یہ کہ مہنگائی کے زمانے میں پیسہ زیادہ ہونا چاہیئے۔ پاکستان میں کثرت اولاد تمام مشکلات کی جڑ ہے۔ شرح پیدائش ہر دم ترقی کو نکلتی رہتی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے ماہر معیشت کسی بھی قسم کے بجٹ سے پاکستان میں خوش حالی نہیں لا سکتے۔ حکومت کہتی ہے کہ ترقی ہو رہی ہے جبکہ چیزیں دن بہ دن مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔ پتا نہیں کون سچ کہہ رہا ہے۔ اس بجٹ میں کم از کم پے تین ہزار رکھی گئی ہے۔ مجھے پرائم منسٹر سے صرف اتنا کہنا ہے کہ آپ ان تین ہزار روپے سے صرف ایک گھر کا بجٹ بنا کر دکھا دیں۔۔۔ یہ بجٹ صرف مال داروں کے لیے ہے۔ اس سے امیر لوگ اور بھی امیر ہو جائیں گے اور غریبوں کی حالت بد سے بدتر ہو جائے گی۔ جہاں تک دفینس بجٹ کا سوال ہے میری نظر میں یہ پیسے ضائع کرنے والی بات ہے۔ حکومت معیشت کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے جس کے لیے اسے شاباشی دینی چاہیئے، لیکن اب تک اس کا عام آدمی کی زندگی پر کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔ غربت کم ہونے کی جگہ بڑھ گئی ہے۔ پڑھے لکھے لوگ بھی بے کار بیٹھے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||