ہیٹی: عالمی برادری کی ناکامی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیریبین ملک ہیٹی حالیہ دنوں میں خانہ جنگی کا شکار رہا ہے۔ اس خانہ جنگی کی وجہ دو ہزار میں ہونے والے انتخابات ہیں جن کے بارے میں حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ ان میں دھاندلی کی گئی تھی۔ سن انیس سو چورانوے اور سن دوہزار میں ہونے والے عام انتخابات کے باوجود بھی وہاں مستحکم جمہوریت قائم نہ ہوسکی۔ ملک میں بااثر لوگوں کی حمایت سے باغیوں نے گزشتہ چند ہفتوں کی لڑائی کے بعد صدر یان برٹرینڈ ایرسٹیڈ کو ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ ملک چھوڑنے پر برٹرینڈ ایرسٹیڈ نے کہا کہ امریکہ نے انہیں اقتدار چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری نے ہیٹی میں جاری برسوں کی لاقانونیت اور عدم استحکام کے خاتمے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ کیا آپ نے ہیٹی کی حالیہ خانہ جنگی کے بارے میں خبریں پڑھیں؟ آپ کی نظر میں کیا بین الاقوامی برادری کو ہیٹی میں فعال کردار ادا کرنا چاہئے تھا؟ کیا دوسرے ملکوں میں بین الاقوامی برادری حالات خراب ہونے پر مداخلت کرے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔ رانا نجم مشتاق، ہانگ کانگ: میرے خیال میں سب سے پہلے فلسطین میں بین الاقوامی فوج کی تعیناتی کی ضرورت ہے۔ رہی بات ہیٹی کی تو وہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ امریکہ کروا رہا ہے۔ ایک منتخب صدر کی حکومت ختم نہیں کرنی چاہئے تھی۔ صلاح الدین لنگا، جرمنی: یہ تو شروع سے ہوتا چلا آیا ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ عبدالہادی، کرغستان: بین اقوامی برادری ہیتی تو کیا کہیں بھی اپنا کردار صحیح طرح ادا نہیں کر رہی۔ دوسرے ممالک میں بین الاقوامی کردار ادا کرنے کے لئے اقوامِ متحدہ موجود ہے۔ ضرورت ہے تو اس اس کے قوانین بدل کے اس کو مثبت طور پر باعمل اور فعّال بنانے کی۔ کوکو، ہیٹی: ایک منتخب صدر کو ہٹانا غلط ہے اور ان تمام ممالک کی مذمت کرتا ہوں جنہوں نے اس کی حمایت کی۔ جن ممالک کا دعویٰ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ہیٹی کے لیے کیا اچھا وہ کچھ نہیں جانتے۔ وہ وہاں صرف اپنے مفادات کے لیے آئے ہیں، بحران صرف استحصال کا دروازہ کھولتا ہے۔ اگر اقوامِ متحدہ ابھی تک خود کو عالمی برادری کا جائز ادارہ سمجھتی ہے تو اسے دوسرے ممالک کے استحصال کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ دوسروں کے ساتھ وہی کرو جو تم بعد میں ان کے ہاتھوں اپنے ساتھ کروانا پسند کرو گے۔ عبدالغفور، ٹورنٹو: میں ہیٹی بحران کے متعلق خبریں پڑھتا رہا ہوں۔ یہ تیسری دنیا کے کسی بھی ملک کی کہانی ہوسکتی ہے جو بار بار دہرائی جاتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ بین الاقوامی فوج کو ہیٹی بھیجنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حقوقِ انسانی کا نہیں، جمہوریت کا بحران ہے۔ جو بھی اپنے گھر کو اس طرح رکھنا چاہتا ہے، اسی کو وہاں کے حالات، انتظام اور نظام پر عمل درآمد کی قیمت بھی ادا کرنی چاہئے۔ راجیو دت، برطانیہ: ہیٹی کی جمہوریت اپنے آغاز سے ہی غلط سمت میں چلی گئی تھی۔ اس پر کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہئے کہ ارسٹیڈ کا تختہ الٹ دیا گیا۔ میرے خیال میں اس سے عراق کے لئے سبق سیکھا جا سکتا ہے کہ جمہوریت کسی پر مسلط نہیں کی جا سکتی۔ اسے از خود پنپنے کا موقعہ دینا چاہئے۔ احمد نواز، مونٹریال: جی ہاں، بین الاقوامی برادری کو اس میں مداخلت کرنی چاہئے کیونکہ اس میں بے گناہ لوگوں پر ظلم ہورہا ہے۔ ایک بات تو واضح ہے کہ جہاں جہاں امریکہ یا یورپ کا مفاد نہ ہو، وہاں جو مرضی ہو جائے ان کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ اگر ہیٹی میں تیل کے کنویں ہوتے تو امریکہ کب کا آچکا ہوتا۔ امریکہ اپنے مفاد کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے، چاہے وہ کمسن افغان بچوں کا خون ہو یا ہیٹی کی بےگناہ عوام کا قتل۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||