BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 March, 2004, 02:22 GMT 07:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بغاوت کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے‘
ہیتی
ہیتی
ہیٹی کے جلا وطن صدر یان برٹرینڈ ایرسٹیڈ نے امریکہ پر ملک میں بغاوت کروانے کا الزام لگایا ہے۔

انہوں نے سی این این کو انٹرویو میں کہا کہ ’مجھے کہا گیا تھا کہ خون خرابے سے بچنے کے لئے بہتر ہوگا کہ میں ملک چھوڑ جاؤں‘۔

جبکہ ہیٹی کے دارالحکومت پر باغیوں کا قبضہ ہے اس کے ہمسایہ ممالک نے ایک منتخب صدر کی ’برطرفی‘ پر تشویش ظاہر کی ہے۔

امریکہ اور فرانس نے ہیٹی کے صدر کی جلا وطنی کا خیرمقدم کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ ٹہیٹی میں فوج بھیجنے کے حق میں اقوام متحدہ کاووٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی برادری ضرورت کے وقت ہیٹی کے عوام کے ساتھ ہے۔

لیکن سب سن دو ہزار میں متنازعہ انتخباات کے ذریعہ اقتدار میں آنے والے ہیٹی کے صدر کی جلا وطنی پر خوش نہیں ہیں۔

علاقائی تنظیم کیریبین ریجنل گروپ کے سربراہ اور جمیکا کے وزیر اعظم پی جے پیٹرسن نے صدر ایرسٹیڈ کی جلا وطنی کو برطرفی قرار دیا اور سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’لوگ پوچھیں گے آیا صدر ایرسٹیڈ رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑ کر گئے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ صدر ایرسٹیڈ کی ’برطرفی‘ کہیں بھی منتخب حکومتوں کے لئے خطرناک مثال بن سکتی ہے۔

وینزویلا کے منتخب صدر ہیوگو شاویز نے جو خود بھی سخت داخلی مخالفت کا سامنا کر رہے ہیں صدر ایرسٹیڈ کی ’برطرفی‘ کو سانحہ قرار دیا۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کی تردید کی تھی کہ ہیٹی کے سابق صدر ارسٹیڈ کو اغوا کرکے امریکہ نے زبردستی ہیٹی سے باہر بھجوایا ہے۔ یہ الزام ایرسٹیڈ کے کچھ امریکی دوستوں نے لگایا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ کولن پاؤل نے اس کو بالکل فضول بات قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہیٹی کے سابق سربراہ خود ملک سے باہر گۓ ہیں جن کے ہمراہ ان کے محافظ تھے۔ ایرسٹیڈ اب وسط افریقی رپبلک میں ہیں جہاں وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ قیدی نہیں ہیں اور بالکل آزاد شخص ہیں۔

اطلاع ہے کہ امریکہ ہیٹی کا انتطام چلانے اور انتخابات کرانے کے لئے عمائدین کی ایک کونسل تشکیل دے رہا ہے ۔ امریکی وزیر حارجہ کولن پاؤل نے کہا کہ امن و قانون بحال کرنے میں امریکی فوجی اہم رول ادا کریں گے۔انہوں نے یہ واضح کیا کہ امریکہ اس مسلے میں ضرورت سے زیادہ شامل نہیں ہونا چاہتا۔

ایک مرتبہ پھر ہیٹی واشنگٹن کے سامنے ایک ایسا مسلہ بن کر ابھرا ہے جو وقت اور توجہ چاہتا ہے ۔

دس برس قبل امریکی صدر بل کلنٹن نے جین برٹرینڈ اریسٹیڈ کی حکومت بحال کرنے کے لئے بیس ہزار امریکی فوجی بھیجے تھے اب مسٹر بش نے جین اریسٹیڈ کی حمائت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اب بھی انہیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہیٹی میں استحکام پیدا کیا جائے یہ وہ ملک ہے امریکہ نظر انداز نہیں کر سکتا۔

وہائٹ ہاؤس عمائدین کی ایک کونسل تشکیل دے رہا ہے جس میں حزب اختلاف کے وہ اراکان ہوں گےجنہوں نے ارسٹیڈ کو اقتدار سے بے دخل کیا ،ان کی حکومت کے بچے کھچے اراکان اور بین الاقوامی برادری کے اراکان شامل ہوں گے۔

ہیٹی میں باغی لیڈر گائی فلیپ ایک بڑے کانواۓ اور ستر کے قریب بھاری اسلحہ سے لیس حامیوں کے ہمر اہ دارالحکومت پورٹ او پرنس میں داخل ہو گۓ ہیں ۔ ان کی مزاحمت نہیں ہوئی ۔ صدارتی محل کے سامنے ایک بڑا مجمع ان کے استقبال کے لۓ موجود تھا۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ صحافیوں نے مزاحمت کے آثار بھی دیکھے ہیں۔ایک صحافی کے مطابق اس نے چار افراد کی لاشیں دیکھی ہیں جن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور سر کے پیچھے گولیاں ماری گئی تھیں۔

امریکی میرین دستے اور فرانسیسی فوج کا ہراول دستہ بھی پورٹ او پرنس میں امن و امان بحال کرانے کے لۓ پہنچ گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد