میرا انڈیا: دیہاتوں میں ترقی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آزادی کے بعد انڈیا نے ترقی کی تیز رفتار منازل طے کی ہیں اور آج اس مقام پر کھڑا ہے جہاں سے وہ دنیا کے تمام ترقی پزیر ممالک کی قیادت کر رہا ہے۔ انڈیا میں ستر فیصد لوگ دیہات میں رہتے ہیں جن کی معیشت کا انحصار زراعت اور اس سے متعلق صنعتوں پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتداء سے ہی انڈیا میں دیہی ترقی پر زور رہا ہے اور حکومت گاہے بگاہے ایسے اقدامات کرتی رہی ہے جن کا مقصد یہ تھا کہ قومی ترقی کا یہ محاذ کسی طرح سے بھی کمزور نہ پڑے۔ گزشتہ پچپن برسوں میں دیہی اور صنعتی ترقی کے لیے جو اقدامات کیے ہیں ان سے دیہاتی لوگوں کو کافی فائدہ پہنچا اسی لیے ملک میں 1973 میں غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد چھپن فیصد تھی جو 2000 میں گھٹ کر ستائیس فیصد ہوگئی۔ تاہم اب بھی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے انڈین لوگوں کی تعداد پچیس کروڑ سے زائد ہے۔ انڈیا دنیا میں سب سے بڑا کیر (یا ناریل کا چھلکا) پیدا کرنے والا ملک ہے۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کی دنیا کی مجموعی کیر کی پیداوار کا اسی فیصد انڈیا میں پیدا ہوتا ہے۔ کیر صنعت میں ساڑھے پانچ لوگ لوگوں کو روزگار مل رہا ہے جن میں سماج کا معاشی طور پر بدحال طبقہ شامل ہے جن کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔ کیر کی کٹائی کا کام کرنے والوں کی تقریباً اسی فیصد تعداد عورتوں پر مشتمل ہے۔ کیر کی مصنوعات کو گھر گھر پہنچانے کے لیے تین سال پہلے پچاس سے زیادہ نمائشوں کا اہتمام کیا گیا۔ دیہی ترقی کے لیے حال ہی جو اہم قدم اٹھایا گیا ہے وہ ہے ’دیہی روزگار گارنٹی بِل‘ جو انڈین پالیمنٹ نے پاس کر دیا ہے۔ یہ ایک تاریخی اقدام ہے جو ملک میں غربت کو کم کرنے میں بہت مدد دے گا۔ اس پروگرام کے تحت دیہی علاقوں کے ہر غریب خاندان کو ایک سال میں کم از کم ایک سو دن یقینی روزگار ملے گا اور اگر حکومت روزگار مہیا نہیں کر سکتی تو وہ ہر ایسے خاندان کو چھ ہزار روپے سالانہ ادا کرے گی۔ دیہی ترقی کے لیے اٹھایا جانے والا تیسرا بڑا قدم ’وزیر اعظم روزگار منصوبہ‘ کا قیام ہے جس کا آغاز 1993 میں ہوا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار کے حصول میں مدد فراہم کرنا ہے۔ یہ پروگرام دیہی علاقوں میں کامیابی سے کام کر رہا ہے۔ اسی طرح ’کھادی گرام ادھیوگ‘ 1956 میں اپنے قیام سے لے کر اب تک دیہی علاقوں میں روزگار مہیا کرنے اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت جن صنعتوں کو خاص طور پر ترقی دی گئی ہے ان میں معدنیات سے متعلق صنعتیں، کیمیائی صنعتیں اور ہاتھوں سے بنے ہوئے کاغذ جیسی صنعتیں شامل ہیں۔ انڈیا کی ایک نہایت پیداوار بانس ہے۔ بانس کو کئی صنعتوں میں استعمال کیا جا رہا ہے جن میں تعمیراتی کاموں کے علاوہ کاغذ، آرائشی سامان، ڈیزل ایندھن، ہوائی جہاز، پانی کے گلٹر، موسیقی کے آلات جیسی صنعتیں شامل ہیں ۔ انڈیا میں افرادی قوت اور ہنر کی کمی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے دیہی علاقوں میں مزید صنعتیں لگائی جائیں تا کہ دیہاتوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کو روکا جا سکے۔ نوٹ: ان دنوں انڈیا میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی کیمپین ’اردو آن لائن‘ جاری ہے۔ عابد انور کا یہ مضمون ہمیں انڈیا سے موصول ہوا ہے۔ عابد انور انڈیا کے اردو اخبار اور رسائل میں لکھتے ہیں۔اگر آپ بھی انڈیا کے حوالے سے کسی موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہیں، آپ بیتی، تصاویر یا رائے بھیجنا چاہیں تو بائیں ہاتھ دیئے گئے ای میل فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔ آپکی آواز میں شائع کی جانے والی تحریریں لکھنے والوں کے اپنے خیالات کی ترجمانی کرتی ہیں اور ان سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||