BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 July, 2005, 14:35 GMT 19:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی کیوزین، پاکستانیوں سے آزاد

دیسی کیوزین
دیسی کھانوں کی یہ کامیابی بیس سال سے زیادہ پرانی نہیں ہے۔
کسی بھی دن واشنگٹن کے نواح میں پاکستانی ریستوران ’راوی کباب‘ میں لنچ کھانے جائیے آپ کو باری کا انتظارکرنا پڑتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لنچ کے لیے لگی لائن میں ہسپانوی، امریکی، صومالیائی اور دوسرے ملکوں کے لوگ زیادہ ملیں گے اور پاکستانی کم۔اور یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ پاکستانی ریستورانوں میں کام کرنے والے بھی زیادہ تر ہسپانوی اور دوسرے ملکوں کے لوگ ملیں گے۔ اس لئے کسی حدتک کہا جاسکتا ہے کہ واشنگٹن میں پاکستانی کوزین پاکستانیوں سے آزاد ہوکر بین الاقوامی ہوتی جا رہی ہے۔

دیسی کھانوں کی یہ کامیابی بیس سال سے زیادہ پرانی نہیں ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ کسی دیسی دعوت میں کھانے کی تعریف کرتے ہوئے ڈر لگتا تھا کہ کہیں یہ ہماری تعریف سے متاثر ہو کر ریستوران ہی نہ کھول بیٹھیں اور اپنا نقصان کروابیٹھیں کیونکہ کئی مرتبہ ایسا ہو چکا تھا کہ شام کو کسی کے کھانے کی تعریف کی اور صبح پتہ چل کہ وہ تو ریستوران کھولنے جا رہے ہیں۔ ستر کی دہائی تک شاذ ہی دیسی ریسوران کامیاب ہوتا تھا۔ اسی کی دہائی کے بعد نئے تارکین وطن نے آکر نقشہ ہی بدل دیا: اب واشنگٹن کے علاقے میں شاذ دیسی ریستوران ناکام ہوتا ہے۔

واشنگٹن کے جانے پہچانے ایکٹر اور ڈائریکٹر (پچھلے دنوں ان کا ٹی وی سیرئیل امریکہ چلو اے آر وائی پر چل رہا تھا) نور نغمی کہتے ہیں کہ واشنگٹن کے علاقے میں پاکستانی ریستوران نہیں ہیں بلکہ کڑاہی اور کباب بنانے والے ڈھابے ہیں۔اس بارے میں ان سے بہتر کون جانتا ہوگا کیونکہ وہ خود بھی اوائل زمانے میں اس کاروبار میں کافی سال رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دیسی کھانوں کے ریستوران ہندوستانیوں کے ہیں جہاں جا کر آپ میز پوش اور چھری کانٹے کے ساتھ کھانا کھا سکتے ہیں۔

شاید بہت سے پاکستانی ریستوران ڈھابوں تک اس لئے بھی محدود رہ گئے ہیں کیونکہ وہ کسی بھی طرح کی شراب بیچنے سے اجتناب کرتے ہیں۔ عام مشاہدہ ہے کہ پاکستانی امریکن ایسے پاکستانی ریستورانوں پر جانے سے گھبراتے ہیں جن میں شراب بیچی جا رہی ہو۔ عجیب بات یہ ہے کہ وہ ایسے چینی یا امریکی ریستورانوں پر چلے جائیں گے جہاں شراب بکتی ہو لیکن پاکستانی ریستوران پر جاتے ہوئے معاملہ فرق ہے۔

چینی ریستورانوں کی بات چل نکلی تو یہ بھی بتاتے چلیں کہ واشنگٹن ایریا میں حلال چینی ریستوران یا ڈھابہ بھی پایا جاتا ہے۔ پاکستانی اور بہت سے مسلمان ملکوں کے تارکین وطن کھانے کے ڈبوں کے خورد بینوں سے لیبل پڑھنے کا مذہبی فریضہ بھی خوشی خوشی سر انجام دیتے ہیں، بلکہ پارٹیوں پر حلال کھانوں کی لسٹوں کا عام تبادلہ ہوتا ہے۔ اس لئے حلال پاکستانی چینی ڈھابہ کی حلال مچھلی کا لطیفہ حقیقت پر مبنی ہے۔ آپ لاکھ پوچھیں کہ حلال مچھلی کیسے ذبح ہوتی ہے لیکن ڈھونڈنے والوں کو نئی دنیا مل ہی جاتی ہے۔

News image
’حلال پاکستانی چینی ڈھابہ کی حلال مچھلی کا لطیفہ حقیقت پر مبنی ہے‘

ہندوستانی ریستورانوں نے شمالی ہندوستان کے کھانے کو امریکی ذائقے میں ڈھالنے کا بندوبست کر رکھا ہے۔ ان کا کھانا کم مصالحوں اور کم مرچ سے تیار ہو کر امریکی کشش کا باعث بن چکا ہے۔ پاکستانیوں کے الٹ ہندوستانی ریستوران امریکہ کے درمیانے اور اوپر والے طبقے کے لئے پر کشش ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ امریکنوں کی بہت بڑی تعداد کسی نہ کسی چکر میں ہندوستان میں کچھ وقت گذار چکی ہے۔ ان وقت گذارنے والوں میں صدر کلنٹن اور ان جیسے بہت سے لوگ ہیں۔ اسی لئے وائٹ ہاؤس کے عین سامنے واقع بمبئی کلب امریکی صدارتی محل کے مکینوں میں کافی مقبول ہے۔ صدر کلنٹن اس کلب کے مستقل ممبر تھے۔

ہندوستانی ریستورانوں نے نئی نئی ڈشوں کا بھی اختراع کیا ہے جیسا کہ دال مکھنی، بٹر چکن، ملائی کوفتہ، اور شاہی پنیر ہیں۔ ناریل کے امتزاج سے بننے والی بھی کافی ڈشیں ہیں لیکن واشنگٹن میں تین ہندوستانی ریستورانوں کے مالک جناب اشونی آہوجہ کہتے ہیں کہ یہ جنوبی ہندوستان کی ڈشیں ہیں، خاص طور پر کیرالہ کی جہاں ناریل عام پایا جاتا ہے۔ جنوبی ہندوستان کا منصالحہ ڈوسہ اور سامبر بھی امریکنوں میں کافی مقبول ہیں۔

ہندوستانی ریستورانوں کو وہ تمام لوگ بھی ترجیح دیتے ہیں جو محض سبزی خور ہیں کیونکہ پاکستانی ڈھابوں پر کڑاہی اور کباب کے علاوہ چھولے (چنے) ملتے ہیں اور باقی اللہ اللہ۔ اگر آپ پاکستانی ریستوران پر سبزی کھانا چاہیں تو آپ کی مالک سے دوستی لازمی شرط ہے۔اس بیان میں تھوڑا مبالغہ سہی کیونکہ ایک آدھ پاکستانی ریستوران پرانا پکا ہوئی سبزی گرم کرکے کھلا دیتے ہیں۔
پاکستانی ڈھابوں کی جو کمزوری ہے کئی ایک پہلووں سے وہی ان کی طاقت بھی ہے۔ نہ صرف بہت سے ہندوستانی گوشت خور پاکستانی ڈھابوں کا رخ کرتے ہیں بلکہ کم خرچ بالا نشین والے رنگا رنگ کے امریکی اور دوسری قومیتوں کے لوگ بھی ان کو ترجیح دیتے ہیں۔ہماری ایک عزیز ایک پاکستانی ڈھابے کے کے کامیاب کاروبار کا ثبوت اس مشاہدے پر مبنی کرتے ہیں کہ اس کے مالک کے گھر کے باہر تین چار نئی مرسڈیز کھڑی نظر آتی ہیں۔

ویسے جناب آہوجہ کو شکایت ہے کہ ہندوستانی ریستورانوں کا کاروبار اس لئے ماند پڑتا جا رہا ہے کہ ہر کس و ناکس ریستوران کھول رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ایک ریستوران کے ایک میل کے علاقے میں بیس ہندوستانی ریستوران ہیں۔ اتنی تعداد میں تو امریکی ڈھابے (میکڈونلڈ وغیرہ) بھی اس علاقے میں نہیں پائے جاتے۔

جناب آہوجہ کی شکایت بجا لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ ان سب کی روزی روٹی چل رہی ہے۔ اس سے یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ برصغیر کا کھانا امریکہ کے مقبول کھانوں میں شامل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ عمل ابھی شروع ہوا ہے اس لئے اس کے امکانات لا محدود ہیں۔



لال لال مرژوانگن کورما، مہکتا پلاؤ، ذائقےدار تبخ ماز۔۔۔سلسلہ ابھی جاری ہے۔ اگلی کڑی میں دیکھیے گا کشمیری وازوان پر ہمارا خصوصی فوٹو فیچر۔
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66لاہوریوں کا پیار
حاجی کی نہاری، گرم گرم پوڑیاں، پائے اور برگر
66کری کی کہانی۔۔۔
برطانیہ میں کری اور چکن تکہ مصالحہ
66یہ کری کہاں سے آئی؟
دیس، پردیس اور ’دیسی کھانے‘: نیا سلسلہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد