BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 July, 2005, 14:21 GMT 19:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راج کا ورثہ : برطانیہ میں بھارتی پکوان

بھارتی کیوزین
برطانیہ میں موجودہ دور کے بھارتی ریستوران پرانے زمانے کے کری ہاؤسس سے بالکل ہی مختلف ہیں۔
(مریدولا بالجیکر کی پیدائش بھارت کی مشرقی ریاست آسام میں ہوئی۔ مریدولا برطانیہ میں مقیم ہیں اور بھارتی کھانوں پر تقریباً ایک درجن کتابیں لکھ چکی ہیں۔ سری میں واقع ٹانٹے سکول آف کُکنگ میں طلبا کو بھارتی پکوانوں کی باریکیاں سکھانے کے علاوہ مریدولا بالجیکر ونڈسر میں اپنا ریستوران بھی چلاتی ہیں۔)

جہاں تک ’کری کریز‘ یعنی کری کی مقبولیت کا سوال ہے تو شاید برطانیہ کا نام سر فہرست ہوگا۔ پچھلے بیس سال میں برطانیہ میں ’کری‘ کی مقبولیت میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔ مگر یہ ’کری‘ آخر ہے کیا؟ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ لفظ در اصل تامل لفظ ’کڑی‘ سے نکلا ہے جس کا مطلب ایک مصالحے دار شوربہ ہوتا ہے۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ انگریزوں نے اسی لفظ کو کری کہنا شروع کیا۔

تاہم ’کری کلچر‘ نامی اپنی حالیہ کتاب میں پیٹر اور کولین گروو نے، جو کہ بھارتی کھانے کے ماہرین تصور کیے جاتے ہیں، کہا ہے کہ قدیم میسوپوٹیمیا میں بھی کری بنائی جاتی تھی۔

’کری کلچر‘ کے مطابق برطانیہ کا پہلا ’کری ہاؤس‘ سن اٹھارہ سو نو میں کھولا گیا۔ کتاب میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ بر صغیر میں مقیم برطانوی برادری لوٹتے وقت اپنے ساتھ مشرقی پاکستان، یعنی موجودہ بنگلہ دیش کے رہنے والوں کو گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے کے لیے ساتھ لے آیا کرتے تھے۔ اس طرح بنگلہ دیشی شہری برطانیہ پہنچ گئے اور ان میں سے کئی نے آگے چل کر ریستوران کھولنے شروع کر دیے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں بھارتی کھانے کی پہچان ان بنگلہ دیشیوں نے کروائی۔

انیس سو ستر کی دہائی میں بر صغیر کی کیوزین دیگر ریستورانوں میں شامل ہونے لگی۔ اب برطانیہ میں تقریباً نو ہزار انڈین ریستوران ہیں اور یہ سالانہ لگ بھگ تین بلین پاؤنڈ کا کاروبار کرتے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ملک کی تقریباً اسی فیصد آبادی ایک ماہ میں کم از کم دو مرتبہ بھارتی ریستوران میں کھانا کھاتے ہیں۔

برطانیہ میں موجودہ دور کے بھارتی ریستوران پزیر زمانے کے کری ہاؤسز سے بالکل ہی مختلف ہیں۔ یہ ریستوران نہایت ہی لزیز اور مخصوص پکوان ایک نہایت ہی انوکھے انداز میں پیش کرتے ہیں۔ یہ محض ریستوران ہی نہیں بلکہ برطانیہ میں بھارتی کیوزین کے سفیر ہیں جو بھارتی کھانے کی قدر کرنے میں لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔

آیئے اب نظر ڈالتے ہیں کچھ ایسے ناموں پر جو برطانیہ میں بھارتی کیوزین کے ساتھ جڑ گئے ہیں۔ اتُل کوچھر اور ونیت بھاٹیا جیسے شیف بھارتی کیوزین کو نئی بلندیوں تک پہنچا رہے ہیں۔ اتل کوچھر کا ریستوران ’بینارس‘ مے فئیر میں واقع ہے جبکہ ونیت بھاٹیا چلسی میں ’رسوئی‘ نامی اپنا ریستوران چلاتے ہیں۔

اس کے علاوہ سائیرس ٹوڈی والا بہت ہی جانے مانے شیف ہیں جن کی خدمات کے بدلے انہوں ’ایم بی ای‘ سے نوازا گیا ہے۔ ٹوڈی والا نہ صرف ’کیفے سپائس نمستے‘ نامی ایک نہایت ہی کامیاب ریستوران چلاتے ہیں، بلکہ انہوں نے حکومتی امداد کے سہارے لندن میں جنوبی اور مشرقی ایشیائی کیٹرنگ سکول بھی کھولا ہے۔

News image
برطانیہ میں تقریباً نو ہزار انڈین ریستوران ہیں

لندن کی گریٹ سمتھ سٹریٹ میں واقع ’دی سنمن کلب‘ ایک اور ریسٹورانٹ ہے جو روایت کو جدیدیت کے ساتھ ملانے میں نہایت ہی کامیاب رہا ہے۔ سابق صحافی اقبال وحاب نے سن دو ہزار ایک میں ’دی سنمن کلب‘ کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے بھارت سے بہترین شیفز پر مبنی ایک ٹیم بنائی جو روایتی پکوان کے علاوہ ’فیوجن فوڈ‘ بنانے میں بھی ماہر ہیں۔

میرا اپنا ریستوران ’سپائس روٹ‘ ونڈسر میں واقع ہے۔ میرا فلسفہ یہ ہے کہ کیوزین اور کلچر دونوں میں ارتقاء نہایت ہی ضروری ہے۔ وقت کے ساتھ چلنا بہت ہی اہم ہے۔ میرے ریستوران میں مقبول ترین پکوان ہے ’ہلومی ٹکا‘۔ ہلومی ایک قسم کی چیز ہے جو کہ سائپرس میں بنائی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ کچھ ایسے ریستوران بھی ہیں جو خالص روایتی بھارتی کھانا پیش کرتے ہیں، جیسے کہ ومبلڈن کے قریب واقع ’سارکھیلز‘۔ اس ریستوران کے شیف اُدِت سارکھیل کا خیال ہے کہ گھر میں بننے والے بھارتی کھانے کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔ اس ریستوران کو کئی ایوارڈ مل چکے ہیں۔

تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ چھ میں سے ایک برطانوی شہری بھارتی کھانے کا دیوانہ ہے اور باہر ملنے والے کھانے سے گھر پر بھارتی کھانا بنانے کے چلن کو فروغ ملا ہے۔ برطانیہ کی آبادی کا پچتھر فیصد حصہ گھر پر بھارتی کھانا بناتا ہے۔ اس میں آسانی سے مہیا ہونے والی’ کُک بُکس‘ نے بہت بڑا کردار نبھایا ہے۔ ساتھ ہی سپر مارکیٹس میں بھارتی کھانوں میں استعمال ہونے والی اشیا بھی آسانی سے دستیاب ہیں۔

بھارتی کھانے کے حوالے سے مدُھر جعفری کی کتابیں نہایت ہی مقبول ہیں۔ انہوں نے ٹی وی سیریز کے ذریعے بھی بھارتی کیوزین کو مقبول بنانے میں مدد کی ہے۔ پیٹ چیپمین نے بھارتی کیوزین پر تقریباً بیس کتابیں لکھیں ہیں اور بھارتی کیوزین کے شائقین کے لیے ’کری کلب‘ کی بنیاد بھی ڈالی ہے۔

میں نے بھی تقریباً ایک درجن کتابیں لکھی ہیں جن میں ’فیٹ فری انڈین فوڈ‘ اور ’فاسٹ انڈین فوڈ‘ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے سپر مارکیٹس تک بنا بنایا بھارتی کھانا پہنچانے میں بہت ہی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان میں سر فہرست جو نام ہے وہ ہے ’کری کِنگ‘ سر غلام نون ’ایم بی ای‘ کا۔ برطانوی سپر مارکیٹ سینسبری میں دستیاب بھارتی پکوان سے بے زار ہو کر غلام نون صاحب نے ان سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ انہیں بہتر پکوان مہیا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی فیکٹری کھولی اور اس وقت ان کی پچاس ملین پاؤنڈ سے زیادہ کی کمپنی ’نون پروڈکٹس‘ کا شمار برطانیہ کی سب سے بڑی کمپنیوں میں کیا جاتا ہے۔

پروین وارسی ’ایس اے فوڈس‘ کی مالک ہیں۔ ’ایس اے فوڈز‘ سپر مارکیٹ ’ایسڈا‘ کو بھارتی کھانا سپلائی کرتا ہے۔ انہوں نے شروعات اپنے کچن سے کی اور اب ان کی کمپنی کی قیمت تیس ملین پاؤنڈ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

’پاٹیک فوڈس‘ ایک دوسری ایسی کمپنی ہے جن کے کری پیسٹس اور دیگر پروڈکٹس کافی مقبول ہیں۔

برطانیہ میں بھارتی کھانے کی مقبولیت کا اندازہ آپ کو اس بات سے ہو جائے گا کہ یہاں آپ کو چکن ٹکہ پیتزا، چکن ٹکہ چپس اور چکن ٹکہ سینڈوچز سب آسانی سے مل سکتے ہیں۔

انیس سو نوے کی دہائی میں برطانوی رکن پارلیمان رابِن کُک نے کہا تھا کہ ’چکن ٹکہ مصالحہ‘ برطانیہ کا پسندیدہ قومی پکوان ہے۔ تو یہ چکن ٹکہ مصالحہ ہے کیا؟ بھارت میں آپ کو یہ شاید کہیں نہ ملے، لیکن برطانیہ میں ہر ریستوران میں یہ دستیاب ہے۔ روایتی چکن ٹکہ مصالحہ کو ایک ٹماٹر اور کریم سے بنے شوربے میں پکایا جاتا ہے۔

آخر میں بس یہی کہنا چاہوں گی کھانے کے بنا ہم کچھ نہیں۔


’حاجی کی نہاری، گرم گرم پوڑیاں، پائے اور برگر۔۔۔‘سلسلے کی اگلی کڑی میں پڑھئیے گا لاہوریوں کے کھانے کے ساتھ عشق کے بارے میں، عارف شمیم کے مضمون میں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66بھارتی کیوزین
تاریخ کی طرح ذائقے بھی انوکھے
66کری کی کہانی۔۔۔
برطانیہ میں کری اور چکن تکہ مصالحہ
66یہ کری کہاں سے آئی؟
دیس، پردیس اور ’دیسی کھانے‘: نیا سلسلہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد