BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 July, 2005, 13:54 GMT 18:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی کیوزین: تاریخ پر ایک نظر

بھارتی کیوزین
آج کل کی دنیا میں بھارتی کیوزین کو عالمی سطح پر سراہا جا ر ہا ہے۔
(مریدولا بالجیکر کی پیدائش بھارت کی مشرقی ریاست آسام میں ہوئی۔ مریدولا برطانیہ میں مقیم ہیں اور بھارتی کیوزین پر تقریباً ایک درجن کتابیں لکھ چکی ہیں۔ سری میں واقع ٹانٹے سکول آف کُکنگ میں طلبا کو بھارتی پکوانوں کی باریکیاں سکھانے کے علاوہ مریدولا بالجیکر ونڈسر میں اپنا ریستوران بھی چلاتی ہیں۔)

انڈین کیوزین کی تاریخ اس کے ذائقے کی ہی طرح رنگین اور انوکھی ہے۔ انڈین کیوزین کی خاص بات ہے اس میں استعمال ہونے والے مصالحے، جنہوں نے اسے دنیا بھر میں مشہور بنا دیا ہے۔ انہی مصالحوں کے پیچھے کئی غیر ملکی طاقتیں بھی بھارت آئیں۔ بھارت کے مصالحوں کا ذکر سن چھ سو انتیس عیسوی میں چینی مسافر ہیو سانگ کے سفر نامہ اور سن بارہ سو اٹھانوے میں مارکو پولو کی تحریروں میں بھی ملتا ہے۔

ملک کے شمال میں واقع خیبر پاس کے ذریعے کئی قبائل، زائرین اور تاجر بھارت میں داخل ہوئے اور اپنے ساتھ کھانے بنانے کے اپنے خاص طریقے ساتھ لائے۔ اس سے انڈین کھانے اور کیوزین کی ارتقاء پر بہت گہرا اثر پڑا۔ بھارت پر کئی صدیوں تک حکومت کرنے والے مغل بھی خیبر پاس کے ہی ذریعے ملک میں داخل ہوئے۔ مغل پکوان اب بھی انڈیا اور دنیا بھر میں نہایت ہی مقبول ہیں۔

مغربی بھارت پر قدیم فارسیوں کا کافی اثر رہا جو اپنے ملک میں مذہبی تعصب سے بھاگتے ہوئے بھارت کی مغربی ریاست گجرات پہنچے۔ یہاں انہیں پارسی کہہ کر بلایا گیا۔ بھارتی کھانے اور کیوزین پر ان کا بہت گہرا اثر ہے۔

اس کے علاوہ پرتگالیوں نے مصالحوں اور دیگر قیمتی اشیا کی تلاش میں بھارت کا رخ کیا اور ملک کے مغربی ساحل پر اپنا قبضہ جما لیا۔ انہوں نے گوا پر صدیوں تک حکومت کی اور اس علاقے کی دلکش اور رنگین کیوزین میں اب بھی پرتگالی کیوزین کی جھلک نظر آتی ہے۔

اس کے برعکس ملک کے مشرقی حصے کی کیوزین بالکل ہی مختلف ہے۔ یہاں کھانا بنانے کے طریقے تبتی طریقوں سے اثر انداز ہیں۔ اس کے علاوہ خاص ’اینگلو انڈین‘ کیوزین کی جھلک بھی یہاں ملتی ہے جو کہ اس دور کی نشانی ہے جب کلکتہ برطانوی راج کا دارالحکومت تھا۔ تاہم اس علاقے کی مقامی کیوزین بنگالی ہے جس کی الگ ہی بات ہے۔

جنوبی بھارت کی کیوزین میں بہت واضح علاقائی رنگ نظر آتے ہیں۔ آندھرا پردیش، تامل ناڈو، کرناٹک اور کیریلا جنوبی بھارتی ریاستیں ہیں اور ان تمام کی کیوزین کی اپنی الگ پہچان اور خصوصیات ہیں۔

بھارتی کیوزین
بھارتی کیوزین میں بہت واضح علاقائی رنگ نظر آتے ہیں۔

جنوب میں واقع مالابار کوسٹ عرب، رومن، چینی، پرتگالی اور انگریز تاجروں کو اپنی اور کھینچتا رہا۔ یہی لوگ بعد میں ملک بھر میں پھیل گئے اور مصالحوں کی تجارت میں ملوث ہو گئے۔ کیرالہ میں اب بھی کچھ پکوان ایسے ہیں جن پر یہودیوں کا صاف اثر نظر آتا ہے۔ یہ پکوان شام سے بھارت آنے والے یہودی اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔

صدیوں طویل اپنی تاریخ میں بھارت نے کئی مذاہب اور تہذیبوں کو اپنا حصہ بنایا ہے۔ ہر مذہبی فرقے اور برادری کا کھانا بنانے کا اپنا مخصوص طریقہ ہے۔

بھارت کے مختلف جغرافیائی علاقوں کا مطلب ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں موسم بالکل مختلف ہے اور اس وجہ سے وہاں اگنے والی فصلیں اور نتیجتاً وہاں بننے والا کھانا بھی مختلف ہے۔

اگر سوچا جائے تو اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے کہ بھارت جیسے بڑے اور مختلف پہلو رکھنے والے ملک کی کیوزین میں بھی اس کی عکاسی ہوتی ہے۔ بھارتی کھانے میں اتنے مختلف پہلو ہیں کہ بیان کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مختلف علاقوں میں طرح طرح کے پکوان سب سے بڑھ کر بھارت کے لوگوں کی تاریخ اور تہذیب کی عکاسی کرتے ہیں۔

مختلف علاقوں میں بننے والے مختلف پکوانوں کے پیچھے ایک ایسی چیز ضرور ہے جو ان سب کو ایک ہی دھاگے میں پروتی ہے اور وہ ہیں بھارت کے مصالحے۔ یہ مصالحے ہی تو ہیں جو بھارتی کھانے کو، چاہے وہ کسی بھی علاقے کا ہو، دل کش رنگ، ذائقہ اور خوشبو دیتے ہیں۔ مصالحے استعمال کرنا بھی ایک فن ہے، جو بھارتی کیوزین کو انوکھا بناتا ہے۔

آج کل کی دنیا میں بھارتی کیوزین کو عالمی سطح پر سراہا جا ر ہا ہے۔ بھارت میں جب اتنے طرح طرح کے پکوان بنتے ہیں تو آپ اندازہ لگا ہی سکتے ہیں کہ بھارت سے باہر نکل کر بھارتی کیوزین نے کتنے روپ دھارے ہوں گے۔ دنیا بھر میں بھارتی کھانے نئے اور الگ الگ ڈھنگ سے بنائے جا رہے ہیں۔ گھروں میں بنائے جانے کے ساتھ ساتھ بھارتی کھانا اب یورپ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، افریقہ اور دیگر کئی مملک کے سپر مارکیٹوں میں بھی دستیاب ہے۔ حالیہ سالوں میں مصالحوں کی تجارت میں وسیع اضافہ ہوا ہے۔ بھارت تقریباً پانچ لاکھ ٹن مصالحے، جن کی قیمت پندرہ سو ملین امریکی ڈالر ہے، درآمد کرتا ہے۔


برطانیہ میں دیسی کیوزین کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے بارے میں پڑھئیے گا مریدولا بالجیکر کے اگلے مضمون میں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66یہ کری کہاں سے آئی؟
دیس، پردیس اور ’دیسی کھانے‘: نیا سلسلہ
66کری کی کہانی۔۔۔
برطانیہ میں کری اور چکن تکہ مصالحہ
66امریکہ سےایک خط
میرا صفحہ: جہادی ٹوپی اور امریکی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد