برفباری اور سیف الملوک جھیل کا سفر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میری انگلش اچھی نہیں مگر ایک مسئلے کی طرف حکومتِ پاکستان کی توجہ دلانا چاہوں گا۔ اگر آپ کی پسند یا معیار کے مطابق ہو تو میرے لئے خوشی کا باعث ہوگا۔ یوں تو ہم ہر سال شمالی علاقہ جات میں کاغان ناران جاتے ہیں اور بہت خوش واپس آتے ہیں۔ اس بار بیس جون کو ہم لوگ ناران گئے۔ اس مرتبہ تو معمول سے زیادہ برف پڑی لیکن صحت فضا مقام پر کس کا دل نہیں چاہتا جانے کو، بہت راستے خراب تھے جن کو وقتا فوقتا بڑی مشینری سے کلیئر کیا گیا جاتا رہا۔ جب ہمیں سیف الملوک جھیل پر جانا پڑا تو آدھا راستہ تو ہمیں جیپ پر طے کرنا پڑا، باقی بہت بڑے گلیشیئر تھے جن سے گزرنے کے لئے صرف دو فِٹ کا راستہ تھا۔ اگر کوئی بھی غلطی کردے تو وہ سیدھا دو سو فِٹ نیچے ریور میں گرسکتا ہے۔ لیکن وہاں جاکر دیکھا کہ نیچے برف کے پہاڑ ہیں اور ان میں کریک یعنی شگاف ہیں، فوٹو تو میں لیتا رہا مگر ساتھ بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اگر یہ کریک والی اسنو گِر جائے تو گلیشیئر بہہ نکلے گا۔ یہ بات تئیس جون کی شام پانچ بجے کی ہے، مگر یہ سب سوچ کر آگے نکل گیا۔ رات گیارہ بجے ہم کھانا کھاکر اپنے ہوٹل آگئے۔ بچے باہر چلے گئے دوبارہ۔ میں اپنے روم میں رکا رہا، تھوڑی دیر بعد بچے بھاگے آئے، کہنے لگے بابا سب دنیا گاڑیوں میں اور ہم پیدل بھاگ رہے ہیں۔ اوپر والا بریج ٹوٹ گیا ہے گلیشیئر ٹوٹنے سے۔ جب باہر آئے تو افراتفری کا عالم تھا۔ میں بھاگا اپنے روم میں اور وڈیو کیم لیے وڈیو بنانا شروع کردی۔ میں لیٹ ضرور ہوگیا وڈیو بنانے میں، میری فیملی بھی مجھے کہتی رہی کہ چلیں بھاگ جاتے ہیں۔ میں نے مانا، اس لئے کہ جدھر ہمیں بھاگنا تھا وہ جگہ نیچی تھی اور راستے میں گلیشیئر بھی تھے جو ون وے تھے اور گاڑی بڑی مشکل سے گزرتی تھی۔ بہرحال وہ رات بہت مشکل اور خراب تھی جو سب نے گزاری، یہ تک ہوگیا کہ ناران کا جو بازار ہے اس میں بھی پانی آنا شروع ہوگیا۔ اس کو دیکھ کر باقی لوگ بھی بھاگنا شروع ہوگئے، میں اپنے گھر والوں کو تسلی دیتا رہا اور ساری رات دعاؤں میں گزاری اور اپنے اللہ پر بھروسہ تھا کہ ہمیں کچھ نہیں ہوگا۔ چوبیس جون صبح پانچ بجے دیکھا تو سیف الملوک جھیل جانے والی روڈ ختم ہوچکی تھی۔ اب مجھے یقین ہوگیا کہ اب گلیشیئر گرنے سے پانی رک گیا ہے اور جو پانی بہہ رہا ہے اس سے کہیں زیادہ آسکتا ہے۔ فوری ہم گاڑی میں بیٹھے اور واپس آگئے۔۔۔۔ مگر حکومتِ پاکستان سے یہ گزارش ہے کہ آنکھیں بندکرکے کیوں بیٹھی ہے؟ جتنے ہوٹل ہیں یہ سب اپنے پیسے لگاکر راستے بناتے ہیں اور وہ بھی انتہائی خطرناک، اور کسی کو یہ احساس نہیں کہ یہ گلیشیئر اگر گرجائے تو کتنی جانیں جاسکتی ہیں۔ حکومت صرف ایک بیان دے دیتی ہے کہ زیادہ برف باری ہونے کی وجہ عوام لیٹ سے جائیں اور اللہ سب کو اپنے امان میں رکھے۔۔۔ (ایک پِکچر سینڈ کررہا ہوں اور مجھے پورا یقین ہے کہ اس جگہ سے ہی سیلاب کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔) نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے لئے اگر آپ کسی بھی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||