ایمسٹرڈیم ڈائری: فلمی میلے سے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بارہ جون دو ہزار پانچ کل رات انٹرنیشنل انڈین فلم اکیڈمی کے ایوارڈ تھے۔ شروع تو رات کو آٹھ بجے ہونے تھے لیکن شروع ہوئے ساڑھے نو کے بعد۔ وقت کی پابندی شاید ہماری قوم کی سرشت ہی میں نہیں۔ بہرحال، ایوارڈ لیٹ ہونے کا مطلب یہ کہ میرا کام مشکل ہو گیا۔ اردو سروس اور ہندی سروس والے بار بار فون کر رہے تھے کہ کیا رپورٹ دے رہی ہو اور میں بار بار جواب دے رہی تھی کہ کچھ دیر بعد فون کریں، ابھی اہم ایوارڈز کا اعلان نہیں ہوا۔ ویسے تو تقریب کافی رنگین تھی لیکن میزبان شاہ رخ خان کا سکرپٹ کافی بورِنگ تھا۔ بہر حال رات کو کام ختم کرتے اور سوتے ساڑھے تین بج گئے۔ آج ایمسٹرڈیم میں میرا آخری دن ہے۔ کل شام مجھے یہاں سے واپس جانا ہے۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آج اور کل ہر حال میں یہاں کی وہ دو چیزیں ضرور دیکھی جائیں جن کے لیے ہالینڈ مشہور ہے۔ یعنی ہیروں کی فیکٹری اور وین خخ کا میوزیم۔ دس جون دو ہزار پانچ ایمسٹرڈیم کے سنٹرل ٹرین سٹیشن سے نکلتے ہی جس چیز نے سب سے پہلے میری توجہ اپنی طرف کھینچی وہ تھی یہاں بائیسکلوں کی ملٹی سٹوری پارکنگ۔ یورپ اور امریکہ کے کئی بڑے شہروں میں میں نے جگہ جگہ گاڑیوں کے کئی منزلہ بڑے بڑے گیراج تو دیکھے ہیں لیکن بائیسکل کی پارکنگ کا اتنا بڑا گیراج پہلی دفعہ نظر سے گزرا۔ جلد ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ ایمسٹرڈیم میں ہر شخص سائیکل چلاتا ہے جب مجھے مائیں اپنے بچوں کے ساتھ اور بزنس مین اپنے لیپ ٹاپ کمپیوٹر کا بیگ ٹانگے سائیکل پر نظر آئے۔ میں نے بھی ایک بائیسکل کرائے پر لی اور بہت سالوں بعد سائیکل چلاتے وقت جب ہوا جسم سے ٹکرائی تو آزادی اور خوشی کا وہ انوکھا احساس ہوا جس کا مزہ میں نے شاید بہت عرصے بعد چکھا تھا۔ یہاں تین دن میں میں نے اور کیا کیا دیکھا اور کیا یہ لکھنے کی اس وقت ہمت نہیں۔ رات کے تین بج رہے ہیں اور کل کام کرنا ہے۔ ڈیوٹی ٹور کا یہ نقصان ہے کہ کبھی کبھی تو سانس لینے کا وقت نہیں ملتا۔ بہر حال باقی کا حال کل صحیح۔ دنیا کے کسی بھی شہر سے آپ اپنی ڈائری لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||