پرینکا کی والد کی قاتل سےملاقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے مقتول سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی بیٹی پرینکانے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نےاپنے والد کی ایک قاتل سے جیل میں ملاقات کی تھی۔ پرینکا وڈرا گاندھی نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے انیس مارچ کو تمل ناڈو کی ویلور جیل میں نلینی سری ہرن سے ملاقات کی جو راجیو گاندھی کے قتل کے سلسلے میں عمر قید کاٹ رہی ہیں۔ نلینی ان پانچ لوگوں میں شامل تھیں جہنوں نے اکیس مئی انیس سو اکیانوے کو سری پیرمبودور میں ایک انتخابی جلسے کے دوران راجیو گاندھی کو قتل کیا تھا۔ حملہ نلینی کی ساتھی دھنو نے کیا تھا جس نے اپنی کمر پر آتش گیر مادے سے بھری بیلٹ باندھ رکھی تھی۔
پرینکا نے کہا کہ انہوں نے’ تشدد اور غصے کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔‘ اس ’جذباتی‘ ملاقات کی خبر منگل کو انگریزی روزنامہ دی ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہوئی تھی۔ اخبار نے نلینی کے وکلاء کے حوالے سے کہا ہے کہ ملاقات نلینی سے پہلے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ پرینکا سے ملاقات کے لیے رضامند ہیں؟ اخبار کے مطابق نلینی ملاقات کے لیے نہ صرف کافی بے قرار تھیں بلکہ پرینکا کے لیے مٹھائی بھی بناکر لائی تھیں جسے سکیورٹی کی وجہ سے روک لیا گیا۔ اخبار کے مطابق پرینکا نے نلینی کو اپنے پاس بلایا اور ان سے کئی سوال پوچھے۔ راجیو گاندھی کو کیوں قتل کیا گیا؟ نلینی نے کیا کردار ادا کیا؟ نلینی نے آخری مرتبہ راجیو کو کب دیکھا تھا؟ قتل کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا؟ کیا سازش میں تمل باغی شامل تھے؟
پرینکا نے کہا: ’میرے والد اچھے انسان تھے۔ مسائل بات چیت کے ذریعہ حل ہوسکتے تھے۔ اگر تم میرے والد کے اچھے اخلاق کے بارے میں جانتیں، تو ایسا نہ کرتیں۔‘ نلینی کے مطابق وہ سونیا گاندھی کو باقاعدی کے ساتھ خط لکھتی ہیں۔ پرینکا نے نلینی کی بیٹی اور ماں کی خیریت بھی دریافت کی اور انہیں بتایا کہ وہ اپنے بچوں کو خود سکول چھوڑنے جاتی ہیں۔ نلینی کے مطابق ملاقات کے لیے پرینکا نے ہری ساڑی پہنی تھی اور وہ ’بہت سادہ اور بہت پیاری لگ رہی تھیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||